মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০০৮ টি

হাদীস নং: ১০১৯৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ زکوۃ جلدی ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۰۱۹۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدَۃَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعَجِّلَہَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٦) حضرت سعید بن جبیر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۱۰۱۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِتَعْجِیلِ الزَّکَاۃِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تو اپنے مال کی زکوۃ جلدی (پہلے ہی) ادا کر دے اور اس میں مستقبل کا حساب کرلے۔
(۱۰۱۹۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَوْ عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ تُعَجِّلَ زَکَاۃَ مَالِکَ ، وَتَحْتَسِبَ بِہَا فِیمَا یَسْتَقْبِلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب تو ساری زکوۃ ہی جلدی ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۰۱۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لاَ بَأْسَ بِتَعْجِیلِ الزَّکَاۃِ إذَا أَخْرَجہَا جَمِیعًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٩) حضرت حفص بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے پوچھا کہ ایک شخص نے تین سالوں کی زکوۃ اکٹھی ایک ساتھ نکال دی ہے (تو کیا ٹھیک ہے) ؟ آپ نے فرمایا : اس کیلئے یہ کافی ہے (اس طرح کرنا جائز ہے)
(۱۰۱۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ رَجُلٍ أَخْرَجَ زَکَاۃَ ثَلاَثَ سِنِینَ ضَرْبَۃً ؟ قَالَ : یُجْزِیہِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠٢٠٠) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ سال مکمل ہونے سے قبل ہی زکوۃ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۰۲۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعَجِّلَہَا قَبْلَ مَحِلِّہَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠٢٠١) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ زکوۃ جلدی ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۰۲۰۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعَجِّلَہَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠٢٠٢) حضرت عمر بن یونس فرماتے ہیں کہ کوئی شخص سال مکمل ہونے سے پہلے ہی زکوۃ ادا کر دے تو حضرت زہری اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۰۲۰۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُعَجِّلَ الرَّجُلُ زَکَاتَہُ قَبْلَ الْحِلِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠٢٠٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے ؟ زکوۃ فرض ہونے سے پہلے ہی زکوۃ ادا کردینا ایک مہینہ یا دو مہینے پہلے۔
(۱۰۲۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : مَا أَدْرِی مَا ہَذَا ، فِی تَعْجِیلِ الزَّکَاۃِ قَبْلَ الْحِلِّ بِشَہْرٍ ، أَوْ شَہْرَیْنِ ؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی زکوۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
(١٠٢٠٤) حضرت ابن طاوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زمین کی کھیتی جب نکالی جاتی تو وہ اس میں سے زکوۃ ادا کردیتے پھر اس کے بعد دو تین سال تک اس کو فروخت کرنے کے ارادے سے زکوۃ نہ نکالتے بلکہ ٹھہرے رہتے۔
(۱۰۲۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَک ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُخْرِجُ لَہُ الطَّعَامَ مِنْ أَرْضِہِ فَیُزَکِّیہِ ، ثُمَّ یَمْکُثُ عِنْدَہُ السَّنَتَیْنِ وَالثَّلاَثَ فَلاَ یُزَکِّیہ ، وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَبِیعَہُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی زکوۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
(١٠٢٠٥) حضرت عبداللہ بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے (زکوۃ وصول کرنے والوں کو) لکھا جب کھیتی سے عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوۃ نہیں ہے اگرچہ وہ دس سال تک ٹھہری رہے (باقی رہے) ۔
(۱۰۲۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ: إذَا أُخِذَ مِنَ الزَّرْعِ الْعُشْرُ ، فَلَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ ، وَإنْ مَکَثَ عَشْرَ سِنِینَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی زکوۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
(١٠٢٠٦) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب کھیتی، کھجور اور ہر وہ چیز جو زمین اگاتی ہے اس پر عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر سال گذر جائے۔
(۱۰۲۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا أَخْرَجَ صَدَقَۃَ الزَّرْعِ ، وَالتَّمْرِ ، وَکُلِّ شَیْئٍ أَنْبَتَتِ الأَرْضُ ، فَلَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی زکوۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
(١٠٢٠٧) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : ہم کھانا اپنے پاس جمع رکھتے ہیں کھانے کی نیت سے اس پر سال گذر جاتا ہے (اس کا کیا حکم ہے) ؟ آپ نے فرمایا اس کا آپ پر زکوۃ نہیں ہے پھر فرمایا میری زندگی کی قسم ہم لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ کھانا خریدتے ہیں اور اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتے، جب آپ کھانا فروخت کرنے کی نیت سے خریدو تو اس پر زکوۃ ادا کرو۔
(۱۰۲۰۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : طَعَامٌ أُمْسِکُہُ أُرِیدُ أَکْلَہُ ، فَیَحُولُ عَلَیْہِ الْحَوْلُ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْک فِیہِ صَدَقَۃٌ ، لَعَمْرِی إنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِکَ ، نَبْتَاعُ الطَّعَامَ ، وَمَا نُزَکِّیہِ ، فَإِنْ کُنْت تُرِیدُ بَیْعَہُ فَزَکِّہِ إذَا بِعْتَہُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی زکوۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
(١٠٢٠٨) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الکریم نے فرمایا : جب تم کھیتی کی زکوۃ ایک بار ادا کردو پھر تمہارے پاس پڑی پڑی اس پر سال گذر جائے تو اس پر دوبارہ زکوۃ ادا مت کرنا بلکہ وہ پہلی زکوۃ ہی آپ کیلئے کافی ہے۔
(۱۰۲۰۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ لِی عَبْدُ الْکَرِیمِ فِی الْحَرْثِ : إذَا أَعْطَیْت زَکَاتَہُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَحَالَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ عِنْدَکَ ، فَلاَ تُزَکِّہِ حَسْبُک الأُولَی.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢٠٩) حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے ابو رافع کے یتیم بیٹے جو ان کی پرورش میں تھے ان کے مال کی زکوۃ نکالی اور فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اپنی اولاد کو ایسا مال کھلاؤں گا جسے پاک نہیں کروں گا۔
(۱۰۲۰۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی الْیَقْظَانِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّ عَلِیًّا زَکَّی أمْوَالَ بَنِی أَبِی رَافِعٍ ، أَیْتَامٍ فِی حِجْرِہِ ، وَقَالَ : تُرَوْنَ کُنْتُ أَلِی مَالاً لاَ أُزَکِّیہِ ؟!.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢١٠) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ہم یتیم تھے اور حضرت عائشہ کی پرورش میں تھے آپ ہمارے مال کی زکوۃ نکالا کرتی تھیں اور اس مال کو سمندر میں تجارت میں لگایا کرتی تھیں۔
(۱۰۲۱۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : کُنَّا أَیْتَامًا فِی حِجْرِ عَائِشَۃَ ، فَکَانَتْ تُزَکِّی أَمْوَالَنَا وَنُبْضِعُہَا فِی الْبَحْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢١١) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۲۱۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : فِی مَالِ الْیَتِیمِ زَکَاۃٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢١٢) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر یتیم کے مال زکوۃ نکالا کرتے تھے۔
(۱۰۲۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُزَکِّی مَالَ الْیَتِیمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢١٣) حضرت امام زہری سے مروی ہے حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا : کوشش کر کے یتیموں کے مال کی زکوۃ اس طرح ادا کرو کہ زکوۃ ان کے مال کا پورا احاطہ ہی نہ کرے (زکوۃ میں ان کا سارا مال ہی ادا نہ کردو) ۔
(۱۰۲۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : ابْتَغُوْا لِلْیَتَامَی فِی أَمْوَالِہِمْ، لاَ تَسْتَغْرِقُہَا الزَّکَاۃُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا ؟
(١٠٢١٤) حضرت قاسم سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ یتیموں کے مال کو تجارت پر لگایا کرتی تھیں اور اس پر زکوۃ ادا فرمایا کرتی تھیں۔
(۱۰۲۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی ، وَحَنْظَلَۃَ ، وَحُمَیْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تُبْضِعُ أَمْوَالَہُمْ فِی الْبَحْرِ ، وَتُزَکِّیہَا.
tahqiq

তাহকীক: