মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০০৮ টি

হাদীস নং: ১০১৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٥) حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن میں لکھا : جس زمین کو آسمان یا جاری پانی سیراب کرے اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں کے ذریعہ یا ڈولوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی مُعَاذٍ بِالْیَمَنِ ، إِنَّ فِیمَا سَقَتِ السَّمَائُ ، أَوْ سُقِیَ غَیْلاً الْعُشْرَ ، وَفِیمَا سُقِیَ بِالْغُرْبِ وَالدَّالِیَۃِ نِصْفَ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٦) حضرت صالح بن ابو الخلیل سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو آسمان کا پانی، یا جاری چشمہ، اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِی الْخَلِیلِ ، قَالَ : سَنَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا سَقَت السَّمَائُ ، أَوِ الْعَیْنُ السَّائِحَۃُ وَمَائُ الْغَیْلِ ، أَوْ کَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ کَامِلاً ، وَمَا سُقِیَ بِالرِّشَائِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٧) حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس زمین کو آسمان کا پانی یا جاری پانی سیراب کرے اس پر عشر ہے اور جس زمین کو ڈول کے ساتھ سیراب کیا جائے اس پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : فِیمَا سقَت السَّمَائُ ، أَوْ کَانَ سَیْحًا الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِیَ بِالدَّالِیَۃِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٨) حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو بارش یا جاری چشمہ یا اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے اور حضرت قتادہ کہا کرتے تھے کہ جن پھلوں کو کیل کیا جاتا ہے ان میں عشر یا نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سَنَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا سَقَت السَّمَائُ ، أَوْ سَقَی الْغَیْلُ ، وَکَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ کَامِلاً ، وَمَا سُقِیَ بِالرِّشَائِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ . قَالَ : وَقَالَ قَتَادَۃُ : وَکَانَ یُقَالُ : فِیمَا یُکَالُ مِنَ الثَّمَرَۃِ الْعُشْرُ ، وَنِصْفُ الْعُشْرِ. (مسلم ۱۵۷۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٩) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ پھلوں پر زکوۃ اور کھیتی کی زکوۃ خواہ وہ کھجور ہو، گندم ہو یا جو ہو یا جو کی ہی کوئی نوع، یا پھر اس کو نہر سے سیراب کیا جاتا ہو یا چشمے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو یا اس کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو ان پر عشر ہے یعنی دس پر ایک، اور جس زمین کو ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس پر نصف عشر ہے یعنی بیس پر ایک، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حارث بن عبد کلال اور دوسرے حضرات کو یمن میں لکھ کر بھیجا تھا کہ مؤمنین کے وہ اموال (زمین) جن کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے یا آسمان کے پانی سے سیراب کیا جائے اس پر عشر ہے اور جس کو سیراب کیا جائے ڈول سے اس پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : صَدَقَۃُ الثمَّارِ ، وَالزَّرْعِ ، وَمَا کَانَ مِنْ نَخْلٍ ، أَوْ زَرْعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ ، أَوْ شَعِیرٍ ، أَوْ سُلْتٍ مِمَّا کَانَ بَعْلاً، أَوْ یُسْقَی بِنَہَرٍ ، أَوْ یُسْقَی بِالْعَیْنِ ، أَوْ عَثَرِیًّا یُسْقَی بِالْمَطَرِ فَفِیہِ الْعُشْرُ ، مِنْ کُلِّ عَشَرَۃٍ وَاحِدٌ ، وَمَا کَانَ مِنْہُ یُسْقَی بِالنَّضْحِ فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، فِی کُلِّ عِشْرِینَ وَاحِدٌ ، وَکَتَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی أَہْلِ الْیَمَنِ، إلَی الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ ، وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ مَعَافِرَ وَہَمْدَانَ : أَنَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ مِنْ صَدَقَۃِ أَمْوَالِہِمْ عُشُورَ ، مَا سَقَتِ الْعَیْنُ ، وَسَقَتِ السَّمَائُ الْعُشْرُ ، وَعَلَی مَا یُسْقَی بِالْغُرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ. (دارقطنی ۱۳۰۔ بیہقی ۱۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٠) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جس زمین کو کنوؤں کے پانی سے نالی نکال کر سیراب کیا جائے کھجور ہو، انگور ہو یا دوسری کھیتی (دانے) ہو اس کا ایک حکم ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا اس پر عشر ہے۔
(۱۰۱۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : فِیمَا یُسْقَی بِالْکَظَائِمِ مِنْ نَخْلٍ ، أَوْ عِنَبٍ ، أَوْ حَبٍّ ، قَالَ : الْعُشْرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨١) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر سے سنا ہے کہ اس میں عشر ہے۔
(۱۰۱۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ: فِیہَا الْعُشْرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٢) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ جس کھجور (کے باغ کو) کو بغیر مشقت کے سیراب کیا جائے یا کھیتی اور دانے کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جائے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ عشر۔ میں نے عرض کیا کہ کھجور، انگور اور دانے کو اگر جاری پانی سے سیراب کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ عشر ہے، میں نے عرض کیا کہ جس زمین کو ڈول اور اونٹوں سے سیراب کیا جائے اس کا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ نصف عشر۔
(۱۰۱۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : فَکَمْ فِیمَا کَانَ بَعْلاً مِنْ نَخْلٍ ، أَوْ عَثری مِن حَبٍّ ، أَوْ حَرْثٍ ؟ قَالَ : الْعُشْرُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَکَمْ فِیمَا یُسْقَی غَیْلاً مِنْ نَخْلٍ ، أَوْ عِنَبٍ ، أَوْ حَبٍّ ؟ قَالَ : الْعُشْرُ ، قُلْتُ : فِیمَا یُسْقَی بِالدَّلْوِ وَبِالْمَنَاضِحِ ؟ قَالَ : نِصْفُ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٣) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ابو زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُ قَالَ : نِصْفُ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٤) حضرت معمر سے مروی ہے کہ حضرت امام زہری پھلوں میں کوئی چیز موقت نہیں فرماتے۔ فرماتے ہیں کہ عشر یا نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یُوَقِّتُ فِی الثَّمَرَۃِ شَیْئًا ، وَیَقُولُ : الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٥) حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
(۱۰۱۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ مِثْلَہُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٦) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے یمن والوں کو بھی اسی طرح (کا حکم) لکھا تھا۔
(۱۰۱۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : کَتَبَ بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إلَی أَہْلِ الْیَمَنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ گندم، جو، کھجور اور انگور جب پانچ وسق ہوں، پانچ وسق تین سو صاع بنتے ہیں تو اگر ان کو خود سیراب کیا جاتا ہو تو ان پر نصف عشر ہے اور اگر آسمان یا چشمہ کے پانی سے سیراب ہوتے ہوں تو اس پر عشر ہے۔
(۱۰۱۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : فِی الْبُرِّ ، وَالشَّعِیرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعِنَبِ ، إذَا کَانَ خَمْسَۃَ أَوْسَاقٍ ، وَذَلِکَ ثَلاَثُ مِئَۃِ صَاعٍ فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، إذَا کَانَ یُسْقَی ، وَمَا سَقَت السَّمَائُ وَالْعَیْنُ فَفِیہِ الْعُشْرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٨٨) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ پھلوں اور کھیتی کی زکوۃ کے بارے میں فتوٰی دیا کرتے تھے کہ جس کو نہر یا چشمہ کے پانی یا بارش کے پانی سے یا اونٹ کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس پر زکوۃ عشر ہے یعنی ہر دس پر ایک اور جس کو تالاب کے ذریعہ سے سیراب کیا جائے (پانی اٹھا اٹھا کر لا کر سیراب کیا جائے) تو اس پر زکوۃ نصف عشر ہے یعنی ہر بیس پر ایک ہے۔
(۱۰۱۸۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ کَانَ یُفْتِی فِی صَدَقَۃِ الزَّرْعِ وَالثِّمَارِ، مَا کَانَ فِیہِمَا یَشْرَبُ بِالنَّہَرِ ، أَوْ بِالْعیون ، أَوْ عَثَرِیًّا ، أَوْ بَعْلٍ ، فَإِنَّ صَدَقَتَہُ الْعُشُورُ ، مِنْ کُلِّ عَشْرَۃٍ وَاحِدٌ، وَمَا کَانَ مِنْہَا یُسْقَی بِالأَنْضَاحِ ، فَإِنَّ صَدَقَتَہُ نِصْفُ الْعُشُورِ ، وَفِی کُلِّ عِشْرِینَ وَاحِدٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” جس زمین کو جاری پانی (آسمان کی بارش یا چشمہ) سے سیراب کیا یا ڈولوں سے سیراب کیا جائے اس پر زکوۃ کس حساب سے فرض ہے “
(١٠١٨٩) حضرت ابن جریج سے مروی ہے کہ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ جس کھیتی کو کچھ عرصہ جاری پانی سے سیراب کیا جائے پھر اس کو کنویں سے ڈول نکال نکال کر سیراب کیا جائے تو اس زمین پر زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ : جس طریقہ سے زیادہ مدت سرْاب کیا گیا ہے اسی کا اعتبار ہوگا۔
(۱۰۱۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الزَّرْعِ یَکُونُ عَلَی السَّیْحِ الزَّمَانِ ، ثُمَّ یُسْقَی بِالْبِئْرِ، یَعْنِی بِالدَّالِیَۃِ ؟ قَالَ : یُصَدَّقُ عَلَی أَکْثَرِ ذَلِکَ أَنْ یُسْقَی بِہِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” جس زمین کو جاری پانی (آسمان کی بارش یا چشمہ) سے سیراب کیا یا ڈولوں سے سیراب کیا جائے اس پر زکوۃ کس حساب سے فرض ہے “
(١٠١٩٠) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : کسی زمین کو کچھ عرصہ تک جاری (چشمہ وغیرہ) پانی سے سیراب کیا جائے پھر اس کے کسی حصہ کو کنویں کے پانی سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے پھر کسی دوسرے حصے کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے تو اس کی زکوۃ کس طرح نکالی جائے گی ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عشر ہے۔ فرمایا کہ جس طریقہ سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہے حکم اسی کے تابع ہوگا کہ اگر ڈول کی بجائے چشمہ کے پانی سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر عشر ہے۔ اور اگر چشمہ کی بجائے ڈول سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر نصف عشر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جس مال کو (زمین) کو کچھ عرصہ اونٹ اور آسمان کی بارش سے سیراب کیا جائے پھر کنویں سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ : جی ہاں۔ ابو زبیر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمیر کو بھی اسی طرح فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے سالم ابن عبداللہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے عبید کی طرح جواب دیا۔
(۱۰۱۹۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : إنَّمَا یَکُونُ عَلَی الْعَیْنِ عَامَّۃَ الزَّمَانِ ، ثُمَّ یَحْتَاجُ إلَی الْبِئْرِ فِی الْقِطعَۃِ یُسْقَی بِہَا ، ثُمَّ الْقِطْعَۃِ ، ثُمَّ یَصِیرُ إلَی الْعَیْنِ ، کَیْفَ صَدَقَتُہُ ؟ قَالَ : الْعُشْرُ ، قَالَ : یَکُونُ ذَلِکَ عَلَی أَکْثَرِ ذَلِکَ أَنْ یُسْقَی بِہِ ، إِنْ کَانَ یُسْقَی بِالْعَیْنِ أَکْثَرَ مِمَّا یُسْقَی بِالدَّلْوِ ، فَفِیہِ الْعُشْرُ، وَإِنْ کَانَ یُسْقَی بِالدَّلْوِ ، أَکْثَرَ مِمَّا یُسْقَی بِالنَّجْلِ ، فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، قُلْتُ : ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ ذَلِکَ أَیْضًا الْمَالُ یَکُونُ بَعْلاً ، أَوْ عَثَرِیًّا عَامَّۃَ الزَّمَانِ ، ثُمَّ یَحْتَاجُ إلَی الْبِئْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ : وَسَمِعْت ابْنَ عُمَیرَ یَقُولُ ہَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ؟ فَقَالَ : مِثْلَ قَوْلِ عُبَیدِِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی زمین میں ڈالنے کے بیج اور ہل چلانے والے جانور پر خرچ کرتا ہو تو کیا وہ زمینی پیداوار کی زکوۃ دے گا ؟
(١٠١٩١) حضرت حبیب بن معلم فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء فرمایا کرتے تھے کہ : کھیتی کا مالک جب بیچ ڈالنے والے اور کھیتی کا دیگر کام کرنے والوں کو اجرت دیتا ہے تو کیا اس اجرت پر بھی زکوۃ آئے گی ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں، زکوۃ تو اس پر ہے جو تیرے ہاتھ میں باقی بچا ہے (منافع بچا ہے) ۔
(۱۰۱۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ : کَانَ عَطَائٌ یَقُولُ : فِی الزَّرْعِ إذَا أَعْطَی صَاحِبُہُ أَجْرَ الْحَصَّادِینَ ، وَالَّذِینَ یَذُرُّونَ ، ہَلْ عَلَیْہِ فِیمَا أَعْطَاہُمْ صَدَقَۃٌ ؟ قَالَ : لاَ ، إنَّمَا الصَّدَقَۃُ فِیمَا حَصَلَ فِی یَدِک.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی زمین میں ڈالنے کے بیج اور ہل چلانے والے جانور پر خرچ کرتا ہو تو کیا وہ زمینی پیداوار کی زکوۃ دے گا ؟
(١٠١٩٢) حضرت جابر بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ : جو آدمی اپنے پھلوں پر خرچ کرتا ہے اس پر بھی زکوۃ ہے ؟ تو ایک نے ارشاد فرمایا کہ زکوۃ ہے۔ دوسرے نے ارشاد فرمایا کہ جو خرچ کیا ہے اس کو الگ کرے گا اور باقی پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُنْفِقُ عَلَی ثَمَرَتِہِ ؟ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یُزَکِّیہَا ، وَقَالَ الآخَرُ : یَرْفَعُ النَّفَقَۃَ ، وَیُزَکِّی مَا بَقِیَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی زمین میں ڈالنے کے بیج اور ہل چلانے والے جانور پر خرچ کرتا ہو تو کیا وہ زمینی پیداوار کی زکوۃ دے گا ؟
(١٠١٩٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بیج اور جو خرچ کیا ہے اس کو الگ کرلو اور باقی پر زکوۃ ادا کرو۔
(۱۰۱۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : اِرْفَعِ الْبذْرَ ، وَالنَّفَقَۃَ ، وَزَکِّ مَا بَقِیَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوۃ جلدی ادا کرنے کے بیان میں
(١٠١٩٤) حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ وصول کرنے والے کو زکوۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا۔ وہ حضرت عباس کے پاس آیا اور ان سے زکوۃ طلب کی۔ حضرت عباس نے ان سے فرمایا کہ میں تو اپنے مال کی دو سال کی زکوۃ پہلے ہی ادا کرچکا ہوں۔ وہ زکوۃ وصول کرنے والا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” میرے چچا نے سچ کہا ہے “۔
(۱۰۱۹۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَاعِیًا عَلَی الصَّدَقَۃِ فَأَتَی الْعَبَّاسَ یَسْتَسْلِفہُ ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : إنِّی أَسْلَفْتُ صَدَقَۃَ مَالِی إِلَی سَنَتَیْنِ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : صَدَقَ عَمِّی. (ترمذی ۶۷۸۔ ابوداؤد ۱۶۲۱)
tahqiq

তাহকীক: