মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০০৮ টি

হাদীস নং: ১০২৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٧٥) حضرت ابو زبیر سے مروی ہے کہ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر وہ ہزار دینار ہوں تو ؟ آپ نے فرمایا : اس کو عاریت پر دیا جائے گا اور پہنا جائے گا ۔
(۱۰۲۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لاَ زَکَاۃَ فِی الْحُلِیِّ ، قُلْتُ : إِنَّہ یَکُونُ فِیہِ أَلْفُ دِینَارٍ ، قَالَ : یُعَارُ وَیُلْبَسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৭৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٧٦) حضرت فاطمہ بنت المنذر فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء زیورات پر زکوۃ ادا نہیں فرمایا کرتی تھیں۔
(۱۰۲۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَائَ ؛ أَنَّہَا کَانَتْ لاَ تُزَکِّی الْحُلِیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৭৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٧٧) حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء اپنی بیٹیوں کو سونے کا زیور پہناتی تھیں، لیکن وہ اس پر زکوۃ ادا نہ فرمایا کرتی تھیں۔
(۱۰۲۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ؛ أَنَّہَا کَانَتْ تُحَلِّی بَنََاتہَا الذَّہَبَ ، وَلاَ تُزَکِّیہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৭৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٧٨) حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرہ سے زیورات پر زکوۃ سے متعلق دریافت کیا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو زیورات پر زکوۃ کا قائل ہو۔
(۱۰۲۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَمْرَۃَ عَنْ زَکَاۃِ الْحُلِیِّ ؟ فَقَالَتْ : مَا رَأَیْت أَحَدًا یُزَکِّیِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৭৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٧٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ میں خلفائے راشدین میں کسی کو بھی جانتا کہ وہ زیورات پر زکوۃ کا قائل ہو۔
(۱۰۲۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْخُلَفَائِ قَالَ فِی الْحُلِیِّ زَکَاۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے ان کو عاریۃ دیا جائے گا اور خود بھی پہنا جائے گا۔
(۱۰۲۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْحُلِیِّ زَکَاۃٌ ، یُعَارُ وَیَلْبَسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨١) حضرت حسن اور حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۲۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَخِلاسٍ ، قَالَ : لاَ زَکَاۃَ فِی الْحُلِیّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٢) حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ زیورات کی زکوۃ اس کو عاریت پر دینا ہے۔
(۱۰۲۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ (ح) وَأَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : زَکَاۃُ الْحُلِیِّ عَارِیَّتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٣) حضرت اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا }۔
(۱۰۲۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ یَقُولُ : لَیْسَ فِی الْحُلِیِّ زَکَاۃٌ ، ثُمَّ قَرَأَ : {وَتَسْتَخْرِجُونَ مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُونَہَا}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٤) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۲۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حُسَیْنٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْحُلِیِّ زَکَاۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٥) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ زیورات کی زکوۃ ان کا عاریت پر دینا اور خود پہننا ہے۔
(۱۰۲۸۵) وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : زَکَاۃُ الْحُلِیِّ یُعَارُ وَیُلْبَسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٢٨٦) حضرت عمرہ فرماتی ہیں کہ ہم یتیم تھے اور حضرت عائشہ کی پرورش میں تھی اور ہمارا زیور آپ کے پاس تھا۔ آپ اس میں سے زکوۃ نہ نکالا کرتی تھیں۔
(۱۰۲۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتْ : کُنَّا أَیْتَامًا فِی حِجْرِ عَائِشَۃَ ، وَکَانَ لَنَا حُلِیٌّ ، فَکَانَتْ لاَ تُزَکِّیہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٨٧) حضرت سہیل سے مروی ہے کہ ان کے والد نے حضرت سعد، حضرت ابن عمر حضرت ابوہریرہ اور حضرت سعید سے سوال کیا کہ میرے پاس مال ہے اور میں اس کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کوئی جگہ نہیں پا رہا جہاں زکوۃ ادا کروں، اور یہ سب لوگ اس میں جو کام کرتے ہیں وہ تو آپ جانتے ہیں۔ آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟ سب حضرات نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو ادا کروں۔
(۱۰۲۸۷) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدًا ، وَابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ ، وَأَبَا سَعِیدٍ ، فَقُلْتُ : إنَّ لِی مَالاً ، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أُعْطِیَ زَکَاتَہُ ، وَلاَ أَجِدُ لَہُ مَوْضِعًا ، وَہَؤُلاَئِ یَصْنَعُونَ فِیہَا مَا تَرَوْنَ ؟ فَقَالَ : کُلُّہُمْ أَمَرُونِی أَنْ أَدْفَعَہَا إلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٨٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے ولی (بادشاہ) بنانے کا تمہیں حکم دیا ہے، پس جو شخص نیکی کرے گا اس کا ثواب اسی کیلئے ہے اور جو گناہ کا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔
(۱۰۲۸۸) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : ادْفَعُوا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ إلَی مَنْ وَلاَّہُ اللَّہُ أَمْرَکُمْ ، فَمَنْ بَرَّ فَلِنَفْسِہِ ، وَمِنْ أَثِمَ فَعَلَیْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٨٩) حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے عرض کیا : میرے پاس مال ہے میں زکوۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس قوم کو یعنی امراء کو (بادشاہوں کو) میں نے عرض کیا پھر تو وہ اس کے کپڑے اور خوشبو بنالیں گے (اور خود استعمال کریں گے) آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کپڑے اور خوشبو بنالیں، اے قزعہ تیرے مال پر زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔
(۱۰۲۸۹) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی رِیَاحُ بْنُ عَبِیْدَۃَ ، عَنْ قَزَعَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ : إنَّ لِی مَالاً ، فَإِلَی مَنْ أَدْفَعُ زَکَاتَہُ ؟ قَالَ : ادْفَعْہَا إلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ، یَعْنِی الأُمَرَائَ ، قُلْتُ : إذًا یَتَّخِذُونَ بِہَا ثِیَابًا وَطِیبًا ، قَالَ : وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِیَابًا وَطِیبًا ، وَلَکِنْ فِی مَالِکَ حَقٌّ سِوَی الزَّکَاۃِ ، یَا قَزَعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٩٠) حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے (اس بارے میں) سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا ان کو دیدو۔ اگرچہ وہ اس سے کتے کا گوشت کھائیں جب لوگوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان کو دیدو۔
(۱۰۲۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ؟ فَقَالَ : ادْفَعْہَا إلَیْہِمْ ، وَإِنْ أَکَلُوا بِہَا لُحُومَ الْکِلاَبِ ، فَلَمَّا عَادُوا عَلَیْہِ ، قَالَ : ادْفَعْہَا إلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٩١) حضرت نعیم بن مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا ان کو (بادشاہوں) ادا کردو اگرچہ وہ اس سے لذیذ چیز کھائیں۔ (البیشیار جات : وہ چیز جو مہمان کو کھانے سے پہلے پیش کی جائے۔ )
(۱۰۲۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُثَنَّی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ نُعَیْمٍ بن مُجَالِدٍ ؛ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْہَا ؟ فَقَالَ: ادْفَعْہَا إلَیْہِمْ وَإِنْ أَکَلُوا بِہَا البَیْشِیَارَجات۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٩٢) حضرت داؤد بن عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ اپنی زکوۃ امراء (بادشاہوں) کی طرف بھیجا کرتے تھے۔
(۱۰۲۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَبْعَثُ بِصَدَقَتِہِ إلَی الأُمَرَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٩٣) حضرت یحییٰ بن ابو کثیر سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ اور حضرت سعید بن عمیر فرمایا کرتے تھے کہ زکوۃ نکال کر بادشاہوں کو دینی چاہیے۔
(۱۰۲۹۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ ، وَسَعِیدَ بْنَ عُمَیْرٍ کَانُوا یَرَوْنَ أَنْ تُدْفَعَ الزَّکَاۃُ إلَی السُّلْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوۃ بادشاہ کو دی جائے گی
(١٠٢٩٤) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ زکوۃ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی جاتی تھی اور جس کو آپ نے وصول کرنے کا حکم دیا تھا اس کو پھر حضرت ابوبکر کو اور جن کو انھوں نے حکم دیا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عمر کو اور جن کو انھوں نے حکم فرمایا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عثمان کو اور جن کو آپ نے حکم فرمایا تھا ان کو، جب حضرت عثمان شہید ہوگئے تو لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ اب بھی ان کو دی جائے (امراء کو) اور بعض حضرات کی رائے تھی کہ خود تقسیم کی جائے۔ حضرت محمد نے فرمایا : جو لوگ زکوۃ خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور نہ عیب لگائیں ان پر کسی چیز کا مثل اس کے جو وہ عیب وہ ان پر لگاتے ہیں۔
(۱۰۲۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَتِ الصَّدَقَۃُ تُدْفَعُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی أَبِی بَکْرٍ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی عُمَرَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی عُثْمَانَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ اخْتَلَفُوا ، فَمِنْہُمْ مَنْ رَأَی أَنْ یَدْفَعَہَا إلَیْہِمْ ، وَمِنْہُمْ مِنْ رَأَی أَنْ یَقْسِمَہَا ہُوَ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَلْیَتَّقِ اللَّہَ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یَقْسِمَہَا ہُوَ ، وَلاَ یَکُونَ یَعِیبُ عَلَیْہِمْ شَیْئًا ، یَأْتِی مِثْلُ الَّذِی یَعِیبُ عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক: