মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০০৮ টি

হাদীস নং: ১০৪৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا
(١٠٤٧٥) حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے نصرانی غلام کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
(۱۰۴۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُد ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یُعْطِی عَنْ مَمْلُوکِہِ النَّصْرَانِیِّ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا
(١٠٤٧٦) حضرت بن موسیٰ سے مروی ہے کہ حضرت عطاء سے یہودی اور عیسائی غلاموں کے متعلق دریافت کیا گیا کہ کیا ان کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ” جی ہاں “۔
(۱۰۴۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی، قَالَ: کَتَبَ إلَی عَطَائٍ یَسْأَلُہُ عَنْ عَبِیدِ یَہُودٍ وَنَصَارَی، أُطْعِمُ عَنْہُمْ زَکَاۃَ الْفِطْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا
(١٠٤٧٧) حضرت ابراہیم سے بھی حضرت عمر بن عبد العزیز کے قول کے مثل منقول ہے۔
(۱۰۴۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا
(١٠٤٧٨) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ جب آپ کے کچھ نصرانی غلام جو تجارت کیلئے نہ ہوں تو ان کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرو۔
(۱۰۴۷۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَائٌ : إذَا کَانَ لَکَ عَبِیدٌ نَصَارَی لاَ یُدَارُونَ ، یَعْنِی لِلتِّجَارَۃِ ، فَزَکِّ عَنْہُمْ یَوْمَ الْفِطْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٧٩) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے ان غلاموں کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے جو حضرت عمر کی زمین میں تھے (یعنی ان سے غائب تھے) ۔
(۱۰۴۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُعْطِی عَنْ غِلْمَانٍ لَہُ فِی أَرْضِ عُمَرَ الصَّدَقَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٠) حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ حضرت اسمائ ان سب کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتی تھیں جو ان کی زیر کفالت تھے خواہ وہ حاضر ہوں یا غائب ہوں۔
(۱۰۴۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ؛ أَنَّہَا کَانَتْ تُعْطِی صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَمَّنْ تَمُونُ مِنْ أَہْلِہَا ؛ الشَّاہِدِ وَالْغَائِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨١) حضرت محمد بن عبد الرحمن، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عطاء بن یسار اور حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ : جس کے پاس غلام ہوں خواہ وہ کھیتی میں ہوں یا جانور کا دودھ نکال رہے ہوں (یعنی غائب ہوں) اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے۔
(۱۰۴۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَعَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، وَأَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : مَنْ کَانَ لَہُ عَبْدٌ فِی زَرْعٍ ، أَوْ ضَرْعٍ ، فَعَلَیْہِ صَدَقَۃُ الْفِطْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٢) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے تمام گھر والوں کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔ آزاد ہوں یا غلام، چھوٹے ہوں یا بڑے، مسلمان ہوں یا کافر۔
(۱۰۴۸۲) وَرُوِیَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی نَافِعٌ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُخْرِجُ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَنْ أَہْلِ بَیْتِہِ کُلِّہِمْ ؛ حُرِّہِمْ وَعَبْدِہِمْ ، صَغِیرِہِمْ وَکَبِیرِہِمْ ، وَمُسْلِمِہِمْ وَکَافِرِہِمْ مِنَ الرَّقِیقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٣) حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین میں کام کرنے والے غلاموں کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
(۱۰۴۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُعْطِی عَنْ عُمَّالِ أَرْضِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٤) حضر ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت فرمایا کہ وہ غلام جو مویشیوں کے پاس ہوں اور وہ غلام جو کھیتی میں ہوں کیا ان کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
(۱۰۴۸۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : ہَلْ عَلَی غُلاَمِ مَاشِیَۃٍ ، أَوْ حَرْثٍ زَکَاۃٌ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٥) حضرت ابو العالیہ، حضرت امام شعبی اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ : صدقۃ الفطر ہر حاضر اور غائب کی جانب سے ہے۔
(۱۰۴۸۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ، وَالشَّعْبِیِّ، وَابْنِ سِیرِینَ، قَالُوا: ہِیَ عَلَی الشَّاہِدِ وَالْغَائِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟
(١٠٤٨٦) حضرت امیہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن علقمہ نے عبد الملک بن مروان کو لکھا کہ کیا جو غلام باغ میں (کام کرتا ہو) اور جو غلام مویشوں کے ساتھ ہو اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ کیونکہ وہ غلام جو باغ میں ہو یا مویشوں کے ساتھ ہو تو نے ان کی زکوۃ تو ادا کر ہی دی ہے اس لیے اس پر صدقۃ الفطر نہیں ہے۔
(۱۰۴۸۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَلْقَمَۃَ کَتَبَ إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ یَسْأَلُہُ عَنِ الْعَبْدِ فِی الْحَائِطِ وَالْمَاشِیَۃِ ، عَلَیْہِ زَکَاۃُ یَوْمِ الْفِطْرِ ؟ قَالَ : لاَ ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ الْحَائِطَ وَالْمَاشِیَۃَ الَّذِی ہُوَ فِیہَا إنَّمَا صَدَّقْتَ بِہِ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا صدقۃ الفطر آقا ادا کرے گا کہ نہیں اس کا بیان
(١٠٤٨٧) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے دو مکاتب غلام تھے آپ ان کا صدقۃ الفطر نہ ادا فرماتے تھے۔
(۱۰۴۸۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: کَانَ لَہُ مُکَاتَبَانِ فَلَمْ یُعْطِ عَنْہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا صدقۃ الفطر آقا ادا کرے گا کہ نہیں اس کا بیان
(١٠٤٨٨) حضرت عمرو سے مروی ہے کہ حضرت حسن مکاتب پر صدقۃ الفطر ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔
(۱۰۴۸۸) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَرَی عَنِ الْمُکَاتَبِ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا صدقۃ الفطر آقا ادا کرے گا کہ نہیں اس کا بیان
(١٠٤٨٩) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ حضرت میمون مکاتب کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
(۱۰۴۸۹) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ مَیْمُونًا کَانَ یُؤَدِّی عَنِ الْمُکَاتَبِ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا صدقۃ الفطر آقا ادا کرے گا کہ نہیں اس کا بیان
(١٠٤٩٠) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ اگر تو مکاتب کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہو تو ہ اپنے نفس کا خود کفیل اور ذمہ دار ہے۔ اور اگر اس کو آزاد نہ چھوڑا گیا ہو تو پھر آقا اس کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کرے گا۔
(۱۰۴۹۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِنْ کَانَ مُکَاتَبًا وَطَرَحَ عَنْ نَفْسِہِ فَقَد کَفَی نَفْسَہُ ، وَإِنْ لَمْ یَطْرَحْ عَنْ نَفْسِہِ فَیُطْعِم عَنْہُ سَیِّدُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا صدقۃ الفطر آقا ادا کرے گا کہ نہیں اس کا بیان
(١٠٤٩١) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر مکاتب پر صدقۃ الفطر کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔
(۱۰۴۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِیِّ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی عَلَی الْمُکَاتَبِ زَکَاۃَ الْفِطْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقۃ الفطر کس صاع سے ادا کیا جائے گا
(١٠٤٩٢) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ہر قوم مدینہ منورہ کے صاع سے صدقۃ الفطر ادا کرے گی۔
(۱۰۴۹۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : یُعْطِی کُلَّ قَوْمٍ بِصَاعِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقۃ الفطر کس صاع سے ادا کیا جائے گا
(١٠٤٩٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس مد سے ادا کریں گے جس سے اپنے اہل و عیال کو خوراک وغذا دیتے ہو۔
(۱۰۴۹۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَد ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : بِالْمُدِّ الَّذِی تَقُوتُ بِہِ أَہْلَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقۃ الفطر کس صاع سے ادا کیا جائے گا
(١٠٤٩٤) حضرت خالد بن ابوبکر سے مروی ہے کہ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اس دن بازار میں جو صاع رائج ہے اس سے صدقۃ الفطر ناشتہ سے قبل ادا کیا جائے گا۔ اور صرف صدقۃ الفطر میں کھجور ہی ادا کی جائے گی۔
(۱۰۴۹۴) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : کَانَ سَالِمٌ یُخْرِجُ زَکَاۃَ الْفِطْرِ بِصَاعِ السُّوقِ یَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ یَغْدُوَ ، وَلاَ یُخْرِجُ إِلاَّ تَمْرًا۔
tahqiq

তাহকীক: