মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯৪৫৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اس نے اس پر تہمت لگا دی، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٥٥) حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے دی ہ پھر وہ اس پر تہمت لگائے آپ نے فرمایا : اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔
(۲۹۴۵۵) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ طَلاَقًا بَائِنًا ، ثُمَّ یَقْذِفُہَا ، قَالَ : یُضْرَبُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اس نے اس پر تہمت لگا دی، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٥٦) حضرت عثمان بتی فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد ایک آدمی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے۔ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی پھر اس نے اس سے کہا : تو نے زنا کیا حالانکہ تو میری بیوی ہے۔ آپ نے فرمایا : وہ لعان کرے گا۔
(۲۹۴۵۶) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِیُّ ، عَنْ عُثْمَانَ البَتِّی ، قَالَ : کَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَقُولُ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہَا : زَنَیْتِ وَأَنْتِ امْرَأَتِی ، قَالَ : یُلاَعِنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٥٧) حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے تہمت لگائی پھر اس نے تین طلاقیں دے دیں آپ نے فرمایا : وہ اپنی بیوی سے لعان کرے گا جب تک وہ عدت میں ہو۔
(۲۹۴۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ قَذَفَ ، ثُمَّ طَلَّقَ ثَلاَثًا ، قَالَ : یُلاَعِنُہَا مَا کَانَتْ فِی الْعِدَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٥٨) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب تک وہ حق رجعت کا مالک نہ ہو تو اسے کوڑے مارے جائیں گے۔
(۲۹۴۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِذَا کَانَ یَمْلِکُ الرَّجْعَۃَ لاَعَنَ ، وَإِذَا کَانَ لاَ یَمْلِکُ الرَّجْعَۃَ جُلِدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٥٩) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد کو یوں فرماتے ہوئے سنا نہ حد ہوگی اور نہ ہی لعان۔
(۲۹۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمَادًا ، یَقُولُ : لاَ حدَّ وَلاَ لِعَان۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٦٠) حضرت غیلان فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔
(۲۹۴۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ غَیْلاَنَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : یُضْرَبُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی ؟
(٢٩٤٦١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے ارشاد فرمایا : جب وہ تہمت لگائے پھر وہ طلاق دے تو وہ لعان کرے گا۔
(۲۹۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ؛ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا قَذَفَ ثُمَّ طَلَّقَ ، لاَعَنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی باندی کو گروی رکھے پھر وہ اس سے جماع کرلے
(٢٩٤٦٢) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری کی گروی کے معاملہ میں حد رائے نہیں تھی۔
(۲۹۴۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّہْنِ ، لَمْ یَرَ عَلَیْہِ حَدًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی باندی کو گروی رکھے پھر وہ اس سے جماع کرلے
(٢٩٤٦٣) حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنی باندی کو گروی رکھے تو ہرگز اس سے جماع مت کر یہاں تک کہ اس کو رہن سے آزاد کرا لے۔
(۲۹۴۶۳) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِذَا رَہَنْتَ وَلِیدَتَکَ ، فَلاَ تَقَعْنَّ عَلَیْہَا حَتَّی تَفْتَکَّہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں آدمی پر حد قائم کرنے کا بیان
(٢٩٤٦٤) حضرت حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے خط لکھا : خبردار ! ہرگز امرہ لشکر یا امیر گروہ کسی ایک کو حد کے کوڑے مت مارے یہاں تک کہ شہر کا راستہ ظاہر ہوجائے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان کی حمیت و غیرت اس پر حملہ کردے اور وہ کفار سے جا ملے۔
(۲۹۴۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَلاَ لاَ یَجْلِدَنَّ أَمِیرُ جَیْشٍ ، وَلاَ سَرِیَّۃٍ أَحَدًا الْحَدَّ ، حَتَّی یَطْلُعَ الدَّرْبِ ، لِئَلاَّ تَحْمِلَہُ حَمِیَّۃُ الشَّیْطَانِ أَنْ یَلْحَقَ بِالْکُفَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں آدمی پر حد قائم کرنے کا بیان
(٢٩٤٦٥) حضرت حمید بن فلان بن رومان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے کسی پر بھی دشمن کے علاقہ میں حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۹۴۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عنْ حُمَیْدِ بْنِ فُلاَنِ بْنِ رُومَانَ ؛ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ نَہَی أَنْ یُقَامَ عَلَی أَحَدٍ حَدٌّ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں آدمی پر حد قائم کرنے کا بیان
(٢٩٤٦٦) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ہم رومیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت حذیفہ بھی تھے۔ ایک قریشی ہمارا امیر تھا۔ اس نے شراب پی ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ نے کہا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد قائم کرو گے حالانکہ تم اپنے دشمن کے قریب ہو۔ اس طرح تو وہ تم پر حاوی ہوجائے گا۔ اس پر وہ امیر کہنے لگا کہ میں شراب پیوں گا ضراہ وہ حرام ہے۔
(۲۹۴۶۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَمَعَنا حُذَیْفَۃُ ، وَعَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَشَرِبَ الْخَمْرَ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَحُدَّہُ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : أَتَحُدُّونَ أَمِیرَکُمْ ، وَقَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ ، فَیَطْمَعُونَ فِیکُمْ ؟ فَقَالَ : لأَشْرَبَنَّہَا ، وَإِنْ کَانَتْ مُحَرَّمَۃً ، وَلأَشْرَبَنَّہَا عَلَی رَغْمِ مَنْ رَغِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٦٧) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید نے اس شخص کے بارے میں فرمایا : جو اپنی محرم سے وطی کرلے آپ نے فرمایا : گردن ماری جائے گی۔
(۲۹۴۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ؛ فِیمَنْ أَتَی ذَاتَ مَحْرَمٍ مِنْہُ ، قَالَ : ضَرْبَۃُ عُنُقٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٦٨) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : ہر اس شخص کو قتل کردو جو اپنی محرم سے وطی کرلے۔
(۲۹۴۶۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اقْتُلُوا کُلَّ مَنْ أَتَی ذَاتَ مَحْرَمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٦٩) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کی طرف قاصد بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کا سر لے کر آئے۔
(۲۹۴۶۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَدِیٍّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ أَبِیہِ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ بِرَأْسِہِ۔ (ترمذی ۱۳۶۲۔ ابن ماجہ ۲۶۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٧٠) حضرت عدی بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت برائ نے ارشاد فرمایا : کہ میں اپنے ماموں سے ملا اس حال میں کہ ان کے پاس جھنڈا تھا میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی ہے کہ میں اسے قتل کردوں یا اس کی گردن اڑادوں۔
(۲۹۴۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ السَّدِیِّ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : لَقِیت خَالِی وَمَعَہُ الرَّایَۃُ ، فَقُلْتُ لَہُ ؟ فَقَالَ : بَعَثَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ أَبِیہِ أَنْ أَقْتُلَہُ ، أَوْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ۔ (ابوداؤد ۴۴۵۱۔ احمد ۲۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٧١) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا جس نے اپنی بیٹی سے زنا کیا تھا تو حجاج کہنے لگا : مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں اس کو کس طریقہ سے قتل کروں ؟ اور اس نے اس کو سولی پر چڑھانے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت عبداللہ بن مطرف اور حضرت ابو بردہ نے اس سے فرمایا : اللہ نے اس امت کی ستر پوشی کی ہے۔ پسندیدہ بلاء وہ ہے جس کی اسلام نے ستر پوشی کی تم اسے قتل کردو اس نے کہا : تم دونوں نے سچ کہا تو اس کے حکم سے اس کو قتل کردیا گیا۔
(۲۹۴۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : رُفِعَ إِلَی الْحَجَّاجِ رَجُلٌ زَنَی بِابْنَتِہِ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِی بِأَیِّ قِتْلَۃٍ أَقْتُلُ ہَذَا ، وَہَمَّ أَنْ یَصْلُبَہُ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُطَرِّفٍ ، وَأَبُو بُرْدَۃَ : سَتَرَ اللَّہُ ہَذِہِ الأُمَّۃَ ، أَحَبَّ البَلاَئِ مَا سَتَرَ الإِسْلاَمَ ، اقْتُلْہُ ، قَالَ : صَدَقْتُمَا ، فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی محرم سے وطی کرلے
(٢٩٤٧٢) حضرت حفص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو سے دریافت کیا حضرت حسن بصری اس شخص کے بارے میں کیا فرمایا کرتے تھے جو جانتے ہوئے بھی اپنی محرم سے شادی کرلے ؟ آپ نے فرمایا : اس پر حد جاری ہوگی۔
(۲۹۴۷۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلْتُہُ : مَا کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ فِیمَنْ تَزَوَّجَ ذَاتَ مَحْرَمٍ مِنْہُ ، وَہُوَ یَعْلَمُ ؟ قَالَ : عَلَیْہِ الْحَدُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعزیر کا بیان کتنی سزا ہوگی ؟ اور کتنی حد تک پہنچائے جا سکتے ہیں ؟
(٢٩٤٧٣) حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا ؟ تعزیر میں تیس سے زیادہ مقدار میں کوڑے نہ ہوں۔
(۲۹۴۷۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَیْفِیٍّ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی : أَلاَ یُبْلَغُ فِی تَعْزِیرٍ أَکْثَرُ مِنْ ثَلاَثِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعزیر کا بیان کتنی سزا ہوگی ؟ اور کتنی حد تک پہنچائے جا سکتے ہیں ؟
(٢٩٤٧٤) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ام سلمہ کو خط لکھا اپنے قرض کے بارے میں جوان پر لازم تھا اس نے اس خط میں آپ کو پریشان کیا۔ تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس شخص کو تیس کوڑے مارے جائیں گے۔
(۲۹۴۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً کَتَبَ إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فِی دَیْنٍ لَہُ قِبَلَہَا ، یحرّجُ عَلَیْہَا فِیہِ ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُضْرَبَ ثَلاَثِینَ جَلْدَۃً۔ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : کُلُّہَا یُبْضِعُ وَیُحْدرُ۔
tahqiq

তাহকীক: