মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل قرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪১৩ টি

হাদীস নং: ৩০৭৭১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کا جو حصہ مکہ اور مدینہ میں نازل ہوا
(٣٠٧٧٢) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت شھر نے ارشاد فرمایا؛ سورة الانعام مکی سورت ہے۔
(۳۰۷۷۲) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن شَہْرٍ ، قَالَ: الأَنْعَامُ مَکِّیَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کا جو حصہ مکہ اور مدینہ میں نازل ہوا
(٣٠٧٧٣) حضرت نضر بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ آیت جس میں ( اے لوگو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے وہ مکہ میں نازل ہوئی اور ہر وہ آیت جس میں ( اے ایمان والو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے وہ مدینہ میں نازل ہوئی۔
(۳۰۷۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ مِسْعَر ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ قَیْسٍ ، عَن عُرْوَۃَ: مَا کَانَ {یَا أَیُّہَا النَّاسُ} بِمَکَّۃَ ، وَمَا کَانَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا} بِالْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کا جو حصہ مکہ اور مدینہ میں نازل ہوا
(٣٠٧٧٤) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے امام شعبی کے پاس آیت پڑھی : جبکہ گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے اسی جیسے کلام پر۔ پس کہا گیا : گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں تو آپ نے فرمایا : یہ ابن سلام کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ یہ سورت تو مکی ہے ؟ !۔
(۳۰۷۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: ذَکَرُوا عِنْدَ الشَّعْبِیِّ قَوْلَہُ: {وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ علی مثلہ} فَقِیلَ: عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلامٍ ، فَقَالَ: کَیْفَ یَکُونُ ابْنُ سَلامٍ وَہَذِہِ السُّورَۃُ مَکِّیَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کا جو حصہ مکہ اور مدینہ میں نازل ہوا
(٣٠٧٧٥) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں بہت اچھے طریقہ سے جانتا ہوں قرآن کا جو حصہ مکہ میں نازل ہوا اور جو حصہ مدینہ میں نازل ہوا۔ بہرحال جو حصہ مکہ میں نازل ہوا اس میں مثالوں کا بیان اور پچھلے واقعات کا ذکر ہے، اور باقی جو حصہ مدینہ میں نازل ہوا اس میں فرائض ، حدود اور جہاد کا بیان ہے۔
(۳۰۷۷۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ: إنِّی لأَعْلَمُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَکَّۃَ ، وَمَا أُنْزِلَ بِالْمَدِینَۃِ ، فَأَمَّا مَا نَزَلَ بِمَکَّۃَ فَضَرْبُ الأَمْثَالِ وَذِکْرُ الْقُرُونِ ، وَأَمَّا مَا نَزَلَ بِالْمَدِینَۃِ فَالْفَرَائِضُ وَالْحُدُودُ وَالْجِہَادُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٧٦) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قراءت کے بارے میں پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی آواز کو لمباکر کے پڑھتے تھے۔
(۳۰۷۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَن قَتَادَۃَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا ، عَن قِرَائَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ مَدًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٧٧) حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے ارشاد فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پڑھنا ایسے تھا : سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ پس آپ نے ایک ایک حرف ذکر فرمایا :
(۳۰۷۷۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَن أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: کَانَت قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} فَذَکَرَتْ حَرْفًا حَرْفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٧٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ حضرت عبداللہ بن مسعود پر پڑھا کرتے تھے تو آپ فرماتے ! ٹھہر کر پڑھ۔ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ پس یہی تو قرآن کی زیب وزینت ہے۔
(۳۰۷۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَن مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: کَانَ عَلْقَمَۃُ یَقْرَأُ عَلَی عَبْدِ اللہِ فَقَالَ: رَتِّلْ فِدَاک أَبِی وَأُمِّی فَإِنَّہُ زَیْنُ الْقُرْآنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٧٩) حضرت ابوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین جب پڑھتے تو اپنی قراءت میں جلدی کرتے تھے۔
(۳۰۷۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ: کَانَ ابْنُ سِیرِینَ إذَا قَرَأَ یَمْضِی فِی قِرَائَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৭৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٠) حضرت عثمان بن الاسود فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور حضرت عطائ جلدی جلدی قرآن پڑھتے تھے۔
(۳۰۷۸۰) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَن عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَن مُجَاہِدٍ، وَعَطَائٍ أَنَّہُمَا کَانَا یَہُذَّانِ الْقِرَائَۃَ ہَذًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨١) حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا : ولا الضالین اور نہ ہی بھٹکنے والے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : آمین اور اپنی آواز کو لمبا کیا۔
(۳۰۷۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن سُفْیَانَ، عَن سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ، عَن حُجْرِ بْنِ عَنْبَسَ، عَن وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: {وَلا الضَّالِّینَ} فَقَالَ: آمِینَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٢) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : قرآن کو جلدی جلدی مت پڑھو ، شعر کے جلدی پڑھنے کی طرح، اور نہ ہی غیر منظوم انداز میں پڑھو ردی کھجور بکھیرنے کی طرح۔
(۳۰۷۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن عِیسَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ لاَ تَہُذُّوا الْقُرْآنَ کَہَذِّ الشِّعْرِ ، وَلا تَنْثُرُوہُ نَثْرَ الدَّقَلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٣) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یعنی اس کے بعض حصہ کو بعض کے پیچھے پیچھے پڑھو۔
(۳۰۷۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن سُفْیَانَ، عَن مَنْصُورٍ، عَن مُجَاہِدٍ: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً} قَالَ: بَعْضُہُ عَلَی أَثَرِ بَعْضٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٤) حضرت مقسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یعنی اس کو واضح انداز میں پڑھو۔
(۳۰۷۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَن مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً} قَالَ بَیِّنْہُ تَبْیِینًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٥) حضرت عبید مکتب فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد سے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا جن میں سے ایک نے سورة بقرہ پڑھی اور دوسرے نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھی، اور ان دونوں کے رکوع اور سجدے اور ان دونوں کا بیٹھنا برابر تھا۔ ان دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس نے سورة بقرہ پڑھی، پھر مجاہد نے تائید میں یہ آیت پڑھی : اور نازل کیا ہے ہم نے اس قرآن کو واضح مضامین کے ساتھ تاکہ پڑھ کر سناؤ تم اسے انسانوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور نازل کیا ہے ہم نے اس کو بتدریج ( حسب موقع) ۔
(۳۰۷۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن عُبَیْدٍ الْمُکَتِّبِ ، قَالَ: سُئِلَ مُجَاہِدٌ ، عَن رَجُلَیْنِ قَرَأَ أَحَدُہُمَا الْبَقَرَۃَ وَقَرَأَ آخَرُ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ ، فَکَانَ رُکُوعُہُمَا وَسُجُودُہُمَا وَجُلُوسُہُمَا سَوَائً أَیُّہُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الَّذِی قَرَأَ الْبَقَرَۃَ ، ثُمَّ قَرَأَ مُجَاہِدٌ: {وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلَی مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیلاً}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٦) حضرت عبید اللہ بن عبد الرحمن بن موھب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن کعب القرظی کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ! میں ان سورتوں کو پڑھوں : اذا زلزلت الارض اور سورة القارعۃ کو۔ میں ان دونوں کو بار بار پڑھوں اور ان دونوں میں غور و فکر کروں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں قرآن کو جلدی جلدی پڑھوں۔
(۳۰۷۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنُ مَوْہَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ الْقُرَظِیَّ یَقُولُ: لأَنْ أَقْرَأَ: {إذَا زُلْزِلَتْ} وَ {الْقَارِعَۃُ} أُرَدِّدُہُمَا وَأَتَفَکَّرُ فِیہِمَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَہُذَّ الْقُرْآنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قراءت میں جلدی کرنے کا بیان
(٣٠٧٨٧) حضرت ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا : وہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔
(۳۰۷۸۷) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی، عَن ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیزِ إذَا قَرَأَ تَرَسَّلَ فِی قِرَائَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کہے : قرآن پر عمل کرو
(٣٠٧٨٨) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ کوفہ کے کچھ لوگ حضرت ابو الدردائ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ کے کوفہ کے بھائی آپ کو سلام کہہ رہے تھے اور آپ سے درخواست کر رہے تھے کہ آپ ان کے لیے کوئی وصیت کردیجیے۔ آپ نے فرمایا : پس تم ان کو سلام کہنا اور ان کو حکم دینا کہ وہ قرآن پر عمل کریں دل و جان سے وہ ان کو سہولت و آسانی دے گا۔ اور ان کو ظلم اور غم سے بچائے گا۔
(۳۰۷۸۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلابَۃَ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ أتوا أبَا الدَّرْدَائِ، فَقَالُوا: إنَّ إخْوَانًا لک مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ یُقْرِئُ وْنَک السَّلامَ وَیَأْمُرُونَک أَنْ تُوصِیَہُمْ ، قَالَ: فَأَقْرِئُ وْہُمُ السَّلامَ وَمُرُوہُمْ فَلْیُعْطُوا الْقُرْآنَ خَزَائِمَہُ ، فَإِنَّہُ یَحْمِلُہُمْ عَلَی الْقَصْدِ وَالسُّہُولَۃِ ، وَیُجَنِّبُہُمُ الْجَوْرَ وَالْحُزُونَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کہے : قرآن پر عمل کرو
(٣٠٧٨٩) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : تم سارا قرآن نہیں سمجھ سکتے یہاں تک کہ تم قرآن کی ساری عملی صورتیں نہ دیکھ لو۔
(۳۰۷۸۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلابَۃَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: لاَ تَفْقَہُ کُلَّ الْفِقْہِ حَتَّی تَرَی لِلْقُرْآنِ وُجُوہًا کَثِیرَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৮৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کہے : قرآن پر عمل کرو
(٣٠٧٩٠) حضرت ابو کنانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا : قرآن پر عمل کرو دل و جان سے، وہ تمہیں سہولت اور آسانی دے گا، اور تمہیں ظلم اور تکلیف سے بچائے گا۔
(۳۰۷۹۰) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃ ، قَالَ: حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَن زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ: أَعْطُوا الْقُرْآنَ خَزَائِمَہُ ، یَأْخُذْ بِکُمُ الْقَصْدَ وَالسُّہُولَۃَ وَیُجَنِّبْکُمُ الْجَوْرَ وَالْحُزُونَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩١) حضرت سعد جو کہ حضرت عمرو بن العاص کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ دو آدمی قرآن کی ایک آیت میں جھگڑ پڑے اور دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : تم اس میں جھگڑو مت۔ اس لیے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
(۳۰۷۹۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَن سَعْدٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: تَشَاجَرَ رَجُلانِ فِی آیَۃٍ فَارْتَفَعَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ تُمَاروا فِیہِ فَإِنَّ مراء فِیہِ کُفْرٌ۔ (احمد ۲۰۴۔ بیہقی ۲۲۶۶)
tahqiq

তাহকীক: