মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل قرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪১৩ টি

হাদীস নং: ৩০৭৯১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩٢) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قرآن کے بارے میں جھگڑے کو چھوڑ دو پس بیشک تم سے پہلی امتوں پر لعنت نہیں کی گئی یہاں تک کہ انھوں نے قرآن میں اختلاف کیا۔ بلاشبہ قرآن کے بارے میں جھگڑا کفر ہے۔
(۳۰۷۹۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: دَعُوا الْمِرَائَ فِی الْقُرْآنِ فَإِنَّ الأُمَمَ قَبْلَکُمْ لَمْ یُلْعَنُوا حَتَّی اخْتَلَفُوا فِی الْقُرْآنِ ، فَإِنَّ مِرَائً فِی الْقُرْآنِ کُفْرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩٣) حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قرآن کو پڑھو جب تک اس پر تمہارا دل مانوس رہے اور جب تم اس میں اختلاف کرو تو اٹھ جاؤ۔
(۳۰۷۹۳) حَدَّثَنَا مَالِکٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ ، عَن جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوبُکُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ فَقُومُوا۔

(بخاری ۵۰۶۱۔ مسلم ۲۰۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩٤) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : قرآن کے بعض حصہ کو بعض کے ساتھ خلط ملط مت کرو، اس لیے کہ یہ چیز دلوں میں شک پیدا کرتی ہے۔
(۳۰۷۹۴) حَدَّثَنَا حَفْص ، عَن لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لاَ تَضْرِبُوا الْقُرْآنَ بَعْضَہُ بِبَعْضٍ فَإِنَّ ذَلِکَ یُوقِعُ الشَّکَّ فِی الْقُلُوبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩٥) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
(۳۰۷۹۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جِدَالٌ فِی الْقُرْآنِ کُفْرٌ۔ (احمد ۴۷۸۔ ابویعلی ۵۹۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
(٣٠٧٩٦) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلاشبہ تم سے پہلے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے ان کو ہلاک و برباد کردیا۔ پس تم اس میں اختلاف مت کرو، یعنی قرآن میں۔
(۳۰۷۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ یَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: إنَّ مَنْ قَبْلَکُمُ اخْتَلَفُوا فِیہِ فَأَہْلَکَہُمْ فَلا تَخْتَلِفُوا فِیہِ یَعْنِی فی الْقُرْآنِ۔ (بخاری ۲۴۱۰۔ احمد ۳۹۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ مثال اس شخص کی جو ایمان اور قرآن کو جمع کرے
(٣٠٧٩٧) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : مثال اس شخص کی جو ایمان اور قرآن کو جمع کرنے والا ہو ترنج کی سی ہے اس کی خوشبو عمدہ ہے اور مزہ لذیذ۔ اور مثال اس شخص کی جو نہ ایمان جمع کرے اور نہ ہی قرآن جمع کرے حنظل کے پھل کی سی ہے جو بدمزہ اور بدبو والا ہوتا ہے۔
(۳۰۷۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِی جَمَعَ الإِیمَانَ وَجَمَعَ الْقُرْآنَ مِثْلُ الأُتْرُجَّۃِ الطَّیِّبَۃِ الطَّعْمِ ، وَمَثَلُ الَّذِی لَمْ یَجْمَعِ الإِیمَانَ وَلَمْ یَجْمَعِ الْقُرْآنَ مِثْلُ الْحَنْظَلَۃِ خَبِیثَۃُ الطَّعْمِ وَخَبِیثَۃُ الرِّیحِ۔ (دارمی ۳۳۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ مثال اس شخص کی جو ایمان اور قرآن کو جمع کرے
(٣٠٧٩٨) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مثال : اس مومن کی جو قرآن شریف نہ پڑھے کھجور کی سی ہے کہ مزہ شیریں ہوتا ہے مگر خوشبو کچھ نہیں اور مثال اس مومن کی جو قرآن شریف پڑھے ترنج کی سی ہے کہ مزہ لذیذ اور خوشبو بھی عمدہ۔ اور مثال اس گناہ گار کی جو قرآن نہ پڑھے حنظل کے پھل کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا اور خوشبو بھی عمدہ نہیں۔
(۳۰۷۹۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَی حَدَّثَہُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی لاَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ التَّمْرَۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ ، وَلا رِیحَ لَہَا ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الأُتْرُجَّۃِ طَیِّبَۃُ الطَّعْمِ طَیِّبَۃُ الرِّیحِ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِی لاَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ طَعْمُہَا مُرٌّ ، وَلا رِیحَ لَہَا۔ (بخاری ۵۰۲۰۔ ابن حبان ۷۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ناپسند کرنے آواز اونچی کرنے کو اور شور کرنے کو قرآن کے پڑھے جانے کے وقت
(٣٠٧٩٩) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن نے ارشاد فرمایا : قرآن تو اکیلا ہے اور یہ شور کے ساتھ پڑھے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
(۳۰۷۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: الْقُرْآنُ وَحْشِیٌّ، وَلا یَصْلُحُ مَعَ اللَّغَطِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭৯৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ناپسند کرنے آواز اونچی کرنے کو اور شور کرنے کو قرآن کے پڑھے جانے کے وقت
(٣٠٨٠٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ذکر کے وقت آواز بلند کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۳۰۸۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیّ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَن قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْرَہُونَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الذِّکْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ناپسند کرنے آواز اونچی کرنے کو اور شور کرنے کو قرآن کے پڑھے جانے کے وقت
(٣٠٨٠١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن پڑھتے وقت آواز بلند کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۳۰۸۰۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَکْرَہُ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ قِرَائَۃِ الْقُرْآنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٢) حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گیا تو وہ قرآن میں دیکھ رہے تھے : راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ! آپ قرآن میں کیا چیز پڑھ رہے ہیں ؟ فرمایا : اپنی تلاوت کا وہ حصہ جو میں رات میں پڑھتا ہوں۔
(۳۰۸۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن خَیْثَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: انْتَہَیْت إلَیْہِ وَہُوَ یَنْظُرُ فِی الْمُصْحَفِ ، قَالَ: قُلْتُ: أَیُّ شَیْئٍ تَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ ؟ قَالَ: حِزْبِی الَّذِی أَقُومُ بِہِ اللَّیْلَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٣) حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا : مصاحف قرآنی میں اپنی نظر مسلسل جما کے رکھو۔
(۳۰۸۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَن زِرٍّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: أَدِیمُوا النَّظَرَ فِی الْمَصَاحِفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٤) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا : بلوائی حضرت عثمان پر داخل ہوئے اس حال میں کہ قرآن ان کی گود میں تھا۔
(۳۰۸۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلُوا عَلَی عُثْمَانَ وَالْمُصْحَفُ فِی حِجْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٥) حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت یونس نے ارشاد فرمایا : پہلے لوگوں کے اچھے اخلاق میں سے تھا قرآن میں دیکھنا ، اور حضرت احنف بن قیس جب فارغ ہوتے تو قرآن میں دیکھتے رہتے۔
(۳۰۸۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُس ، قَالَ: کَانَ من خُلُقُ الأَوَّلِینَ النَّظَرَ فِی الْمَصَاحِفِ ، وَکَانَ الأَحْنَفُ بْنُ قَیْسٍ إذَا خَلا نَظَرَ فِی الْمُصْحَفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٦) حضرت سرّیہ الربیع فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع قرآن میں دیکھ کر پڑھتے رہتے تھے۔ پس جب کوئی انسان داخل ہوتا تو اس مصحف کو چھپالیتے۔ اور فرماتے : یہ شخص نہ دیکھے کہ میں ہر وقت قرآن میں ہی دیکھ کر پڑھتا ہوں۔
(۳۰۸۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن سُرِّیَّۃَ الرَّبِیعِ قَالَتْ: کَانَ الرَّبِیعُ یَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ ، فَإِذَا دَخَلَ إنْسَانٌ غَطَّاہُ ، وَقَالَ: لاَ یَرَی ہَذَا أَنِّی أَقْرَأُ فِیہِ کُلَّ سَاعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٧) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم قرآن میں دیکھ کر پڑھا کرتے تھے پس جب کوئی انسان داخل ہوتا تو آپ اس مصحف کو چھپالیتے اور فرماتے کوئی یہ نہ دیکھے کہ میں ہر وقت اس میں دیکھ کر پڑھتا ہوں۔
(۳۰۸۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ: کَانَ إبْرَاہِیمُ یَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ فَإِذَا دَخَلَ عَلَیْہِ إنْسَانٌ غَطَّاہُ ، وَقَالَ: لاَ یَرَی ہَذَا أَنِّی أَقْرَأُ فِیہِ کُلَّ سَاعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٨) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : میں اپنے سپارے یا اپنے قرآن کے حصہ کو پڑھتی تھی اس حال میں کہ میں اپنے بستر پر لیٹی ہوتی تھی۔
(۳۰۸۰۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: إنِّی لأَقْرَأُ جزئی ، أَوْ عَامَّۃَ جزئی ، وَأَنَا مُضْطَجِعَۃٌ عَلَی فِرَاشِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨٠٩) حضرت موسیٰ بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یوں فرماتے ہوئے سنا : میں نے حضرت فضالہ بن عبید کو قرآن سے روکا یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوئے۔
(۳۰۸۰۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی ، قَالَ: أَمْسَکْت عَلَی فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْقُرْآنَ حَتَّی فَرَغَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮০৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨١٠) حضرت ابو صالح العقیلی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العلاء یزید بن عبداللہ بن الشخّیر قرآن میں دیکھ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ ان پر بےہوشی طاری ہوجاتی۔
(۳۰۸۱۰) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو ہِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْعُقَیْلِیُّ ، قَالَ: کَانَ أَبُو الْعَلائِ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ یَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ حَتَّی یُغْشَی عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮১০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں دیکھنے کا بیان
(٣٠٨١١) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ کو دیکھا کہ وہ قرآن میں دیکھ کر تلاوت فرما رہے تھے۔
(۳۰۸۱۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَن لَیْثٍ ، قَالَ: رَأَیْتُ طَلْحَۃَ یَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ۔
tahqiq

তাহকীক: