মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل قرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪১৩ টি
হাদীস নং: ৩০৮১১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہنا نا پسند کرے : فلاں کی قراءت
(٣٠٨١٢) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم یوں کہنا ناپسند کرتے تھے : فلاں کی قراءت ، یوں فرماتے ! جیسا کہ فلاں پڑھتا ہے۔
(۳۰۸۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن سُفْیَانَ، عَن مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ کَرِہَ أَنْ یَقُولَ: قرَائَۃُ فُلانٍ وَیَقُولُ: کَمَا یَقْرَأُ فُلانٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے بارے میں کہ کب نازل ہوا
(٣٠٨١٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : پورا قرآن اوپر والے آسمان سے آسمانِ دنیا تک رمضان میں اترا۔ پھر اللہ جب کسی چیز کو وجود میں لانے کا ارادہ فرماتے تو اس کو نازل فرما دیتے۔
(۳۰۸۱۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَن دَاوُد ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً مِنَ السَّمَائِ الْعُلْیَا إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فِی رَمَضَانَ ، فَکَانَ اللَّہُ إذَا أَرَادَ أَنْ یُحْدِثَ شَیْئًا أَحْدَثَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے بارے میں کہ کب نازل ہوا
(٣٠٨١٤) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوقلابہ نے ارشاد فرمایا : توراۃ رمضان کی چھ تاریخ کو نازل ہوئی۔ اور قرآن چوبیس رمضان کو اتارا گیا۔
(۳۰۸۱۴) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلابَۃَ ، قَالَ: نَزَلَتِ التَّوْرَاۃُ لِسِتٍّ خَلَوْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لأَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے بارے میں کہ کب نازل ہوا
(٣٠٨١٥) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا؛ ساری آسمانی کتابیں رمضان کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوئیں۔
(۳۰۸۱۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلابَۃَ ، قَالَ: نَزَلَتِ الْکُتُبُ کلہا لَیْلَۃَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ مِنْ رَمَضَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے بارے میں کہ کب نازل ہوا
(٣٠٨١٦) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اللہ کے قول۔ یقیناً ہم نے ہی نازل کیا ہے قرآن کو شب قدر میں۔ کے بارے میں ارشاد فرمایا : حضرت جبرائیل کو سارا قرآن شب قدر میں ہی سپرد کردیا گیا تھا۔ پس اس کو بیت العزہ میں رکھا گیا، پھر وہ اس کو تدریجاً نازل کرتے رہے۔
(۳۰۸۱۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن حَسَّانَ بْنِ أَبِی الأَشْرَسِ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ: إنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، قَالَ: دُفِعَ إِلَی جِبْرِیلَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ جُمْلَۃً ،فوضع فِی بَیْتِ الْعِزَّۃِ ثم جَعَلَ یَنْزِلُہ تَنْزِیلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے بارے میں کہ کب نازل ہوا
(٣٠٨١٧) حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الجلد نے ارشاد فرمایا : حضرت ابراہیم کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوئے ۔ اور زبور چھٹی رات میں اور انجیل اٹھارہویں رات میں ۔ اور قرآن چوبیسویں رات میں نازل ہوا۔
(۳۰۸۱۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن سُفْیَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا الْعَالِیَۃَ یَذْکُرُ ، عَنْ أَبِی الْجَلْدِ ، قَالَ: نَزَلَتْ صُحُفُ إبْرَاہِیمَ أَوَّلَ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَنَزَلَت الزَّبُورُ فِی سِتٍّ ، وَالإِنْجِیلُ فِی ، ثَمَانِ عَشْرَۃَ ، وَالْقُرْآنُ فِی أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے رات میں اٹھائے جانے کا بیان
(٣٠٨١٨) حضرت شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس حال میں ہو گے جب قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ قرآن کو اٹھا لیا جائے گا، راوی نے پوچھا : اے عبد الرحمن ! یہ کیسے ممکن ہوگا حالانکہ قرآن تو مردوں کے سینوں میں محفوظ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے پس تمام فوت ہوجائیں گے۔
(۳۰۸۱۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ ، عَن وَاصِلِ بْنِ حَیَّانَ ، عَن شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: کَیْفَ أَنْتُمْ إذَا أُسْرِیَ عَلَی کِتَابِ اللہِ فَذُہِبَ بِہِ ؟ قَالَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، کَیْفَ بِمَا فِی أَجَْوَافِ الرِّجَالِ ، قَالَ: یَبْعَثُ اللَّہُ رِیحًا طَیِّبَۃً فَتَکْفِتُ کُلَّ مُؤْمِنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے رات میں اٹھائے جانے کا بیان
(٣٠٨١٩) حضرت شداد بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ قرآن جو تمہارے سینوں میں محفوظ ہے۔ قریب ہے کہ یہ تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں ! میں نے عرض کیا : کیسے ہم سے اس کو چھین لیا جائے گا حالانکہ ہم نے اس کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا ہے اور اپنے صحیفوں میں اس کو ضبط کیا ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : پس اس پر ایک رات ایسی گزرے گی کہ جو کچھ دلوں میں محفوظ ہوگا اس کو چھین لیا جائے گا اور جو کچھ مصاحف میں ضبط ہوگا اے مٹا دیا جائے گا۔ اور لوگ صبح کریں گے اس حال میں کہ وہ اس سے خالی ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اور اگر ہم چاہیں تو چھین لے جائیں وہ سب جو ہم نے وحی کیا ہے تمہاری طرف۔
(۳۰۸۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَن شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: إنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ الَّذِی بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ یُوشِکُ أَنْ یُنْزَعَ مِنْکُمْ ، قَالَ: قُلْتُ: کَیْفَ یُنْزَعُ مِنَّا وَقَدْ أثْبَتَہُ اللَّہُ فِی قُلُوبِنَا وَأَثْبَتْنَاہُ فِی مَصَاحِفِنَا قَالَ: یُسْرَی عَلَیْہِ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَیَنْتزِعُ مَا فِی الْقُلُوبِ وَیَذْہَبُ مَا فِی الْمَصَاحِفِ وَیُصْبِحُ النَّاسُ مِنْہُ فُقَرَائَ ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنَا إلَیْک} ۔ (عبدالرزاق ۵۹۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٠) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سے کچھ لوگ ضرور قرآن پڑھیں گے اور وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسا کہ تیر شکار میں سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
(۳۰۸۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِی یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔ (ابن ماجہ ۱۷۱۔ احمد ۲۵۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢١) حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سھل بن حنیف سے سوال کیا : کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان خارجیوں کا ذکر کرتے ہوئے کبھی سنا تھا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کر کے فرمایا : یہاں سے ایک گروہ نکلے گا جو اپنی زبانوں سے قرآن کی تلاوت کریں گے اور قرآن ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے ایسے نکلیں گے جیسا کہ تیر شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
(۳۰۸۲۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَأَلْتُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ: مَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ ہَؤُلائِ الْخَوَارِجَ ؟ ، قَالَ: سَمِعْتُہُ وَأَشَارَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ: یَخْرُجُ مِنْہُ قَوْمٌ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِہِمْ لاَ یَعْدُو تَرَاقِیَہُمْ ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔ (بخاری ۶۹۳۴۔ مسلم ۷۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٢) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک قوم ایسی آئے گی جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلقوں سے کبھی تجاوز نہیں کرے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسا کہ تیر کا پھل شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
(۳۰۸۲۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حدَّثَنِی قرۃ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجِیئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ عَلَی فُوقِہِ۔ (مسلم ۱۴۲۔ احمد ۳۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٣) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آخری زمانے میں کچھ لوگ نکلیں گے جو نو عمر ہوں گے اور عقل کے بیوقوف ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے نرخروں سے متجاوز نہیں ہوگا۔
(۳۰۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَن زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَخْرُجُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ سُفَہَائُ الأَحْلامِ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ۔ (ترمذی ۲۱۸۸۔ احمد ۴۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٤) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ قرآن کو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے ، جیسا کہ تیر شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے ، پھر وہ اسلام کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے۔
(۳۰۸۲۴) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّد ٍحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ ، عَن شَرِیکِ بْنِ شِہَابٍ الْحَارِثِیِّ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ قبل الْمَشْرِقِ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ لاَ یَرْجِعُونَ إلَیْہِ۔ (احمد ۴۲۱۔ حاکم ۱۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٥) حضرت زیاد بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند فتنوں کا ذکر کیا : پھر فرمایا : یہ سب علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگا، راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یوں سلسلہ قیامت تک جاری رہے گاَ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے اے زیاد ! میں تو تجھے مدینہ میں سب سے سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا ! کیا یہ یہود و نصاریٰ توراۃ اور انجیل نہیں پڑھتے اور یہ لوگ ان میں پائی جانے والی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ؟
(۳۰۸۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَن زِیَادِ بْنِ لَبِیدٍ ، قَالَ: ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا فَقَالَ: وَذَاکَ عِنْدَ أَوانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَنَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَائَہُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ: ثَکِلَتْک أُمُّک زِیَادُ ، إِنْ کُنْت لأرَاک مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِینَۃِ ، أَو لَیْسَ ہَذِہِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالإِنْجِیلَ، لاَ یَعْمَلُونَ بِشَیْئٍ مِمَّا فِیہِمَا۔ (احمد ۱۶۰۔ طبرانی ۵۲۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٦) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہیں لایا جس نے اس کے محارم کو حلال سمجھا۔
(۳۰۸۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ أَبِی سِنَان ، عَنْ أَبِی الْمبَارکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہُ۔ (عبد بن حمدع ۱۰۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
(٣٠٨٢٧) حضرت صھیب فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر راوی نے ما قبل جیسی حدیث ذکر کی۔
(۳۰۸۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِی الْمبَارکِ ، عَن صُہَیْبٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔ (ترمذی ۲۹۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ معوّذتین کا بیان
(٣٠٨٢٨) حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی سے پوچھا ! حضرت ابن مسعود معوذتین کو صحیفہ میں نہیں لکھتے اور فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان دونوں سورتوں کی بابت سوال کیا تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو مجھے پڑھنے کے لیے دی گئی تھیں پس میں نے ان کو پڑھ لاِ ۔ تو حضرت ابی ّ نے جواباً ارشاد فرمایا : اور ہم ان کو پڑھتے ہیں جیسا کہ ہمیں کہا گیا ہے۔
(۳۰۸۲۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَن زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لأُبَیٍّ: إنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لاَ یَکْتُبُ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فِی مُصْحَفِہِ ، فَقَالَ: إنِّی سَأَلْت عَنْہُمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قِیلَ لِی ، فَقُلْتُ: فَقَالَ: أُبَیٌّ: وَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قِیلَ لَنَا۔ (بخاری ۴۹۷۶۔ ابن حبان ۴۴۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ معوّذتین کا بیان
(٣٠٨٢٩) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا : معوذتین قرآن کا حصہ ہیں۔
(۳۰۸۲۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَن حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ: الْمُعَوِّذَتَانِ مِنَ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ معوّذتین کا بیان
(٣٠٨٣٠) حضرت حصین سے امام شعبی کا ما قبل جیسا ارشاد اس سند سے مروی ہے۔
(۳۰۸۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৩০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ معوّذتین کا بیان
(٣٠٨٣١) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو دیکھا کہ وہ معوذتین کو اپنے صحیفوں میں سے کھرچ کر مٹا رہے تھے اور فرمایا : جو قرآن میں سے نہیں ہے اس کو اس میں خلط ملط مت کرو۔
(۳۰۸۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ اللہِ یَحک الْمُعَوِّذَتَیْنِ مِنْ مَصَاحِفِہِ ، وقال: لاَ تَخْلِطُوا فِیہِ مَا لَیْسَ مِنْہُ۔ (احمد ۱۲۹۔ طبرانی ۹۱۴۸)
তাহকীক: