মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৫৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کے بارے میں روایات کا ذکر
(٣٢٥٧٦) ابو طفیل حضرت علی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ آپ نیک آدمی تھے ، آپ نے اللہ سے خیر خواہی کا اظہار کیا تو اللہ نے آپ کی دستگیری فرمائی، چنانچہ ان کے سر کی دائیں جانب مارا گیا اور وہ فوت ہوگئے تو اللہ نے ان کو زندگی دے دی، پھر ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا اور وہ فوت ہوئے تو اللہ نے پھر ان کو زندگی دے دی، اور تم میں ان جیسے موجود ہیں۔
(۳۲۵۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ بَسَّامٍ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: کَانَ رَجُلاً صَالِحًا، نَاصَحَ اللَّہَ فَنَصَحَہُ فَضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْمَنِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ ، ثُمَّ ضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْسَرِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ ، وَفِیکُمْ مِثْلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کے بارے میں روایات کا ذکر
(٣٢٥٧٧) ابو طفیل ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ نبی تھے نہ بادشاہ ، بلکہ وہ ایک نیک بندے تھے جنہوں نے اللہ سے خیرخواہی کی تو اللہ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی، چنانچہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی، اور آپ کے سر کے دائیں جانب مارا گیا اور وہ مرگئے تو اللہ نے ان کو پھر زندہ کردیا، اور پھر انھوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، اور دوبارہ ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا تو وہ دوبارہ مرگئے ، چنانچہ اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا، اس لیے ان کا نام ” ذوالقرنین “ مشہور ہوگیا۔
(۳۲۵۷۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ؟ فَقَالَ : لَمْ یَکُنْ نَبِیًّا ، وَلاَ مَلِکًا ، وَلَکِنَّہُ کَانَ عَابِدًا نَاصَحَ اللَّہَ فَنَصَحَہُ ، فَدَعَا قَوْمَہُ إلَی اللہِ فَضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْمَنِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ ، ثُمَّ دَعَا قَوْمَہُ إلَی اللہِ فَضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْسَرِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ فَسُمِّیَ ذَا الْقَرْنَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کے بارے میں روایات کا ذکر
(٣٢٥٧٨) حبیب بن حماز کہتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کہ ذوالقرنین مشرق اور مغرب تک کیسے پہنچے ؟ آپ نے فرمایا کہ آپ کے لیے بادل کو مسخر کردیا گیا، اور آپ کے لیے نور کو بچھا دیا گیا اور اسباب وسیع کردیے گئے ، پھر آپ نے فرمایا کہ اور بتاؤں ؟ اس نے کہا بس کافی ہے۔
(۳۲۵۷۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ حِمَازٍ ، قَالَ : قیلَ لِعَلِیٍّ : کَیْفَ بَلَغَ ذُو الْقَرْنَیْنِ الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ ؟ قَالَ : سُخِّرَ لَہُ السَّحَابُ ، وَبُسِطَ لَہُ النُّورُ ، وَمُدَّ لَہُ الأَسْبَابُ ، ثُمَّ قَالَ : أَزِیدُک ؟ قَالَ : حَسْبِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کے بارے میں روایات کا ذکر
(٣٢٥٧٩) مجاہد فرماتے ہیں کہ پوری سر زمین کے بادشاہ صرف چار ہوئے ہیں، دو مسلمان اور دو کافر، مسلمان تو حضرت سلیمان بن داؤد اور ذوالقرنین ہیں، اور کافر ایک تو بخت نصر اور دوسرا وہ ہے جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔
(۳۲۵۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمْ یَمْلِکَ الأَرْضَ کُلَّہَا إلاَّ أَرْبَعَۃٌ : مُسْلِمَانِ وَکَافِرَانِ ، فَأَمَّا الْمُسْلِمَانِ : فَسُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُد ، وَذُو الْقَرْنَیْنِ ، وَأَمَّا الْکَافِرَانِ فَبُخْتَ نُصَّرَ ، وَالَّذِی حَاجَّ إبْرَاہِیمَ فِی رَبِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سترہ برس کی عمر میں کنویں میں ڈالے گئے، اور آپ نے غلامی اور قید اور بادشاہت میں اسّی سال کا عرصہ گزارا ، پھر آپ کا خاندان مجتمع ہوا تو اس کے بعد آپ اسّی سال زندہ رہے۔
(۳۲۵۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أُلْقِیَ یُوسُفُ فِی الْجُبِّ وَہُوَ ابْنُ سَبْعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً، وَکَانَ فِی الْعُبُودِیَّۃِ وَفِی السِّجْنِ وَفِی الْمُلْکِ ثَمَانِینَ سَنَۃً ، ثُمَّ جُمِعَ شَمْلُہُ فَعَاشَ بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثًا وَعِشْرِینَ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨١) ربیعہ جرشی سے روایت ہے کہ حسن کے دو حصّے کئے گئے، چنانچہ حضرت یوسف اور ان کی والدہ کو آدھا حسن عطا کیا گیا، اور باقی تمام مخلوق کو آدھا عطا کیا گیا۔
(۳۲۵۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ رَبِیعَۃَ الْجُرَشِیِّ ، قَالَ : قسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَیْنِ ، فَأُعْطِیَ یُوسُفُ وَأُمُّہُ نِصْفَ حُسْنِ الْخَلْقِ ، وَسَائِرُ الْخَلْقِ نِصْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کریم کون ہے ؟ فرمایا جو سب سے زیادہ متقی ہو، اس نے کہا کہ ہم آپ سے یہ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر سب سے کریم اللہ کے نبی یوسف (علیہ السلام) ہیں جو اللہ کے نبی کے بیٹے اور ان کے والد اللہ کے نبی کے بیٹے اور ان کے والد اللہ کے خلیل کے بیٹے ہیں۔ علیھم السلام۔
(۳۲۵۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَتْقَاہُمْ لِلَّہِ ، قَالُوا : لَیْسَ ، عَنْ ہَذَا نَسْأَلُک ، قَالَ : فَأَکْرَمُ النَّاسِ یُوسُفُ نَبِیُّ اللہِ ، بْنُ نَبِیِّ اللہِ ، بْنِ نَبِیِّ اللہِ ، بْنِ خَلِیلِ اللہِ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْہِمْ۔
(بخاری ۳۳۷۴۔ مسلم ۱۸۴۶)
(بخاری ۳۳۷۴۔ مسلم ۱۸۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨٣) حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کو آدھا حسن عطا کیا گیا۔
(۳۲۵۸۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِیَ یُوسُفُ شَطْرَ الْحُسْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو مخلوق کے حسن کے ایک تہائی حصّہ عطا کیا گیا۔
(۳۲۵۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أُعْطِیَ یُوسُفُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَأُمُّہُ ثُلُثَ حُسْنِ الْخَلْقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں روایات
(٣٢٥٨٥) ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبداللہ بن سلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ سے تین باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا کہ آپ مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ آپ خود قرآن پڑھتے ہیں، انھوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت نے فرمایا پوچھیے، فرمایا کہ ایک تُبَّع کے بارے میں کہ کون تھے ؟ اور عزیر کے بارے میں کہ کون تھے ؟ اور سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں کو انھوں نے ہد ہد کو کیوں تلاش کیا ؟
انھوں نے فرمایا کہ تُبَّع عرب کے ایک آدمی تھے، لوگوں پر غالب آگئے اور بہت سے عیسائی علماء کو پکڑ لیا اور ان سے بات چیت کرتے، ان کی قوم کہنے لگی کہ تبّع نے تمہارا دین چھوڑ دیا اور غلاموں کی اتباع کرلی، چنانچہ تُبَّع نے ان غلاموں سے کہا کہ تم سن رہے ہو کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان آگ فیصلہ کرے گی اور وہ جھوٹے کو جلا دے گی اور سچا نجات پا جائے گا، وہ کہنے لگے ٹھیک ہے، چنانچہ تبّع نے ان غلاموں سے کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ اس میں داخل ہوئے تو آگ نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا ، اور وہ واپس پلٹ گئے، وہ کہنے لگا کہ تمہیں داخل ہونا پڑے گا، چنانچہ وہ اس میں داخل ہوئے ، جب اس کے درمیان پہنچ گئے تو آگ نے ان کو گھیر کر جلا دیا، اس پر تُبَّع اسلام لے آئے اور وہ نیک آدمی تھے۔
اور عزیر تو ان کا قصہ یہ ہے کہ جب بیت المقدس ویران ہوگیا اور علم مٹ گیا اور توراۃ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، تو وہ پہاڑوں میں اکیلے رہتے تھے، اور ایک چشمے پر جا کر اس سے پانی پیا کرتے تھے، ایک دن اس پر آئے تو ایک عورت ان کو دکھائی دی، جب آپ نے اس کو دیکھا تو واپس پلٹ گئے ، جب آپ کو پیاس نے تکلیف میں ڈالا تو آپ دوبارہ آئے ، دیکھا کہ عورت رو رہی ہے، آپ نے فرمایا کہ تم کس پر رو رہی ہو ؟ کہنے لگی میں اپنے بیٹے پر رو رہی ہوں ، آپ نے فرمایا کیا وہ تمہیں رزق دیتا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فرمایا کیا اس نے کچھ پیدا کیا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فریایا کہ پھر تم اس پر مت رو، وہ کہنے لگی آپ کون ہیں ؟ کیا آپ اپنی قوم کے پاس جانا چاہتے ہیں ؟ اس چشمے میں داخل ہوجائیے آپ ان کے پاس پہنچ جائیں گے، چنانچہ آپ اس میں داخل ہوگئے، آپ جتنا داخل ہوتے جاتے آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا، یہاں تک کہ آپ اپنی قوم کے پاس پہنچ گئے ، اور اللہ نے آپ کا علم آپ پر لوٹا دیا پھر آپ نے توراۃ کا احیاء کیا، اور علم کو زندہ کیا، اس کے بعد عبداللہ بن سلام نے فرمایا یہ حضرت عزیر کا قصہ ہے۔
رہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، تو وہ ایک جگہ سفر میں ٹھہرے اور ان کو پانی کی دوری کا علم نہ تھا، آپ نے پوچھا کہ اس کا کس کو علم ہے ؟ لوگوں نے بتادیا کہ ہد ہد کو، اس وقت آپ نے اس کو تلاش کیا۔
انھوں نے فرمایا کہ تُبَّع عرب کے ایک آدمی تھے، لوگوں پر غالب آگئے اور بہت سے عیسائی علماء کو پکڑ لیا اور ان سے بات چیت کرتے، ان کی قوم کہنے لگی کہ تبّع نے تمہارا دین چھوڑ دیا اور غلاموں کی اتباع کرلی، چنانچہ تُبَّع نے ان غلاموں سے کہا کہ تم سن رہے ہو کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان آگ فیصلہ کرے گی اور وہ جھوٹے کو جلا دے گی اور سچا نجات پا جائے گا، وہ کہنے لگے ٹھیک ہے، چنانچہ تبّع نے ان غلاموں سے کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ اس میں داخل ہوئے تو آگ نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا ، اور وہ واپس پلٹ گئے، وہ کہنے لگا کہ تمہیں داخل ہونا پڑے گا، چنانچہ وہ اس میں داخل ہوئے ، جب اس کے درمیان پہنچ گئے تو آگ نے ان کو گھیر کر جلا دیا، اس پر تُبَّع اسلام لے آئے اور وہ نیک آدمی تھے۔
اور عزیر تو ان کا قصہ یہ ہے کہ جب بیت المقدس ویران ہوگیا اور علم مٹ گیا اور توراۃ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، تو وہ پہاڑوں میں اکیلے رہتے تھے، اور ایک چشمے پر جا کر اس سے پانی پیا کرتے تھے، ایک دن اس پر آئے تو ایک عورت ان کو دکھائی دی، جب آپ نے اس کو دیکھا تو واپس پلٹ گئے ، جب آپ کو پیاس نے تکلیف میں ڈالا تو آپ دوبارہ آئے ، دیکھا کہ عورت رو رہی ہے، آپ نے فرمایا کہ تم کس پر رو رہی ہو ؟ کہنے لگی میں اپنے بیٹے پر رو رہی ہوں ، آپ نے فرمایا کیا وہ تمہیں رزق دیتا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فرمایا کیا اس نے کچھ پیدا کیا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فریایا کہ پھر تم اس پر مت رو، وہ کہنے لگی آپ کون ہیں ؟ کیا آپ اپنی قوم کے پاس جانا چاہتے ہیں ؟ اس چشمے میں داخل ہوجائیے آپ ان کے پاس پہنچ جائیں گے، چنانچہ آپ اس میں داخل ہوگئے، آپ جتنا داخل ہوتے جاتے آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا، یہاں تک کہ آپ اپنی قوم کے پاس پہنچ گئے ، اور اللہ نے آپ کا علم آپ پر لوٹا دیا پھر آپ نے توراۃ کا احیاء کیا، اور علم کو زندہ کیا، اس کے بعد عبداللہ بن سلام نے فرمایا یہ حضرت عزیر کا قصہ ہے۔
رہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، تو وہ ایک جگہ سفر میں ٹھہرے اور ان کو پانی کی دوری کا علم نہ تھا، آپ نے پوچھا کہ اس کا کس کو علم ہے ؟ لوگوں نے بتادیا کہ ہد ہد کو، اس وقت آپ نے اس کو تلاش کیا۔
(۳۲۵۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیع ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : جَائَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ إلَی ابْنِ سَلاَمٍ ، فَقَالَ : إنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَک عَنْ ثَلاَثٍ ، قَالَ : تَسْأَلُنِی وَأَنْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَلْ ، قَالَ أَخْبِرْنِی عَنْ تُبَّعٍ مَا کَانَ ؟ وَعَنْ عُزَیْرٍ مَا کَانَ ؟ وَعَنْ سُلَیْمَانَ لِمَ تَفَقَّدَ الْہُدْہُدَ ؟۔
فَقَالَ : أَمَّا تُبَّعٌ : فَکَانَ رَجُلاً مِنَ الْعَرَبِ ، فَظَہَرَ عَلَی النَّاسِ وسبی فِتْیَۃً مِنَ الأَحْبَارِ فَاسْتَدْخَلَہُمْ ، وَکَانَ یُحَدِّثُہُمْ وَیُحَدِّثُونَہُ ، فَقَالَ قَوْمُہُ : إنَّ تُبَّعًا قَدْ تَرَکَ دِینَکُمْ وتَابَعَ الْفِتْیَۃَ ، فَقَالَ تُبَّعٌ لِلْفِتْیَۃِ : قَدْ تَسْمَعُونَ مَا قَالَ ہَؤُلاَئِ ، قَالُوا : بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمَ النَّارُ الَّتِی تُحْرِقُ الْکَاذِبَ وَیَنْجُو مِنْہَا الصَّادِقُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ تُبَّعٌ لِلْفِتْیَۃِ : اُدْخُلُوہَا ، قَالَ : فَتَقَلَّدُوا مَصَاحِفَہُمْ فَدَخَلُوہَا ، فَانْفَرَجَتْ لَہُمْ حَتَّی قَطَعُوہَا ، ثُمَّ قَالَ لِقَوْمِہِ : اُدْخُلُوہَا ، فَلَمَّا دَخَلُوہَا سَفَعَتِ النَّارُ وُجُوہَہُمْ فَنَکَصُوا ! فَقَالَ : لَتَدْخُلُنَّہَا ، قَالَ : فَدَخَلُوہَا فَانْفَرَجَتْ لَہُمْ ، حَتَّی إذَا تَوَسَّطُوہَا أَحَاطَتْ بِہِمْ فَأَحْرَقَتْہُمْ۔ قَالَ : فَأَسْلَمَ تُبَّعٌ وَکَانَ رَجُلاً صَالِحًا۔
وَأَمَّا عُزَیْرٌ : فَإِنَّ بَیْتَ الْمَقْدِسِ لَمَّا خَرِبَ وَدَرَسَ الْعِلْمُ وَمُزِّقَت التَّوْرَاۃُ ، کَانَ یَتَوَحَّشُ فِی الْجِبَالِ ، فَکَانَ یَرِدُ عَیْنًا یَشْرَبُ مِنْہَا ، قَالَ : فَوَرَدَہَا یَوْمًا فَإِذَا امْرَأَۃٌ قَدْ تَمَثَّلَتْ لَہُ ، فَلَمَّا رَآہَا نَکَصَ ، فَلَمَّا أَجْہَدَہُ الْعَطَشُ أَتَاہَا فَإِذَا ہِیَ تَبْکِی ، قَالَ : مَا یُبْکِیک ؟ قَالَتْ : أَبْکِی عَلَی ابْنِی ، قَالَ : کَانَ ابْنُک یَرْزُقُ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : کَانَ یَخْلُقُ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَلاَ تَبْکِینَ عَلَیْہِ ، قَالَتْ : فَمَنْ أَنْتَ ؟ أَتُرِیدُ قَوْمَک ؟ اُدْخُلْ ہَذَہ الْعَیْنَ فَإِنَّک سَتَجِدُہُمْ ، قَالَ : فَدَخَلَہَا ، قَالَ : فَکَانَ کُلَّمَا دَخَلَہَا زِیدَ فِی عِلْمِہِ حَتَّی انْتَہَی إلَی قَوْمِہِ ، وَقَدْ رَدَّ اللَّہُ إلَیْہِ عِلْمَہُ ، فَأَحْیَا لَہُمَ التَّوْرَاۃَ وَأَحْیَا لَہُمَ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَہَذَا عُزَیْرٌ۔
وَأَمَّا سُلَیْمَانُ : فَإِنَّہُ نَزَلَ مَنْزِلاً فِی سَفَرٍ فَلَمْ یَدْرِ مَا بُعْدُ الْمَائِ مِنْہُ ، فَسَأَلَ مَنْ یَعْلَمُ عِلْمَہُ ؟ فَقَالُوا : الْہُدْہُدُ ، فَہُنَاکَ تَفَقَّدَہُ۔
فَقَالَ : أَمَّا تُبَّعٌ : فَکَانَ رَجُلاً مِنَ الْعَرَبِ ، فَظَہَرَ عَلَی النَّاسِ وسبی فِتْیَۃً مِنَ الأَحْبَارِ فَاسْتَدْخَلَہُمْ ، وَکَانَ یُحَدِّثُہُمْ وَیُحَدِّثُونَہُ ، فَقَالَ قَوْمُہُ : إنَّ تُبَّعًا قَدْ تَرَکَ دِینَکُمْ وتَابَعَ الْفِتْیَۃَ ، فَقَالَ تُبَّعٌ لِلْفِتْیَۃِ : قَدْ تَسْمَعُونَ مَا قَالَ ہَؤُلاَئِ ، قَالُوا : بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمَ النَّارُ الَّتِی تُحْرِقُ الْکَاذِبَ وَیَنْجُو مِنْہَا الصَّادِقُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ تُبَّعٌ لِلْفِتْیَۃِ : اُدْخُلُوہَا ، قَالَ : فَتَقَلَّدُوا مَصَاحِفَہُمْ فَدَخَلُوہَا ، فَانْفَرَجَتْ لَہُمْ حَتَّی قَطَعُوہَا ، ثُمَّ قَالَ لِقَوْمِہِ : اُدْخُلُوہَا ، فَلَمَّا دَخَلُوہَا سَفَعَتِ النَّارُ وُجُوہَہُمْ فَنَکَصُوا ! فَقَالَ : لَتَدْخُلُنَّہَا ، قَالَ : فَدَخَلُوہَا فَانْفَرَجَتْ لَہُمْ ، حَتَّی إذَا تَوَسَّطُوہَا أَحَاطَتْ بِہِمْ فَأَحْرَقَتْہُمْ۔ قَالَ : فَأَسْلَمَ تُبَّعٌ وَکَانَ رَجُلاً صَالِحًا۔
وَأَمَّا عُزَیْرٌ : فَإِنَّ بَیْتَ الْمَقْدِسِ لَمَّا خَرِبَ وَدَرَسَ الْعِلْمُ وَمُزِّقَت التَّوْرَاۃُ ، کَانَ یَتَوَحَّشُ فِی الْجِبَالِ ، فَکَانَ یَرِدُ عَیْنًا یَشْرَبُ مِنْہَا ، قَالَ : فَوَرَدَہَا یَوْمًا فَإِذَا امْرَأَۃٌ قَدْ تَمَثَّلَتْ لَہُ ، فَلَمَّا رَآہَا نَکَصَ ، فَلَمَّا أَجْہَدَہُ الْعَطَشُ أَتَاہَا فَإِذَا ہِیَ تَبْکِی ، قَالَ : مَا یُبْکِیک ؟ قَالَتْ : أَبْکِی عَلَی ابْنِی ، قَالَ : کَانَ ابْنُک یَرْزُقُ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : کَانَ یَخْلُقُ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَلاَ تَبْکِینَ عَلَیْہِ ، قَالَتْ : فَمَنْ أَنْتَ ؟ أَتُرِیدُ قَوْمَک ؟ اُدْخُلْ ہَذَہ الْعَیْنَ فَإِنَّک سَتَجِدُہُمْ ، قَالَ : فَدَخَلَہَا ، قَالَ : فَکَانَ کُلَّمَا دَخَلَہَا زِیدَ فِی عِلْمِہِ حَتَّی انْتَہَی إلَی قَوْمِہِ ، وَقَدْ رَدَّ اللَّہُ إلَیْہِ عِلْمَہُ ، فَأَحْیَا لَہُمَ التَّوْرَاۃَ وَأَحْیَا لَہُمَ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَہَذَا عُزَیْرٌ۔
وَأَمَّا سُلَیْمَانُ : فَإِنَّہُ نَزَلَ مَنْزِلاً فِی سَفَرٍ فَلَمْ یَدْرِ مَا بُعْدُ الْمَائِ مِنْہُ ، فَسَأَلَ مَنْ یَعْلَمُ عِلْمَہُ ؟ فَقَالُوا : الْہُدْہُدُ ، فَہُنَاکَ تَفَقَّدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٨٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً میں ہر دوست کی دوستی سے بیزار ہوں مگر یہ کہ بلاشبہ اللہ نے تمہارے ساتھی کو دوست بنایا ہے۔ اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر (رض) کو دوست بنایا۔ اور حضرت وکیع (رض) نے من خلہ کے الفاظ نقل فرمائے ہیں۔
(۳۲۵۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خَلِیلٍ مِنْ خُلَّتِہِ غَیْرَ أَنَّ اللَّہَ اتَّخَذَ صَاحِبَکُمْ خَلِیلاً ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً لاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلاً ، إلاَّ أَنَّ وَکِیعًا قَالَ : مِنْ خِلِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٨٧) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے جَدْ کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ وہ شخص جس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر میں اس امت میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ پس حضرت ابوبکر (رض) نے باپ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔
(۳۲۵۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی الجد : أَمَّا الَّذِی قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ خَلِیلاً لاتَّخَذْتُہُ ، فَقَضَاہُ أَبًا۔
(بخاری ۳۶۵۶۔ دارمی ۲۹۱۰)
(بخاری ۳۶۵۶۔ دارمی ۲۹۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٨٨) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک جنت میں بلند درجے والے لوگوں کو ان سے نچلے طبقہ والے لوگ ایسے ہیں دیکھیں گے جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو ۔ اور بلاشبہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ان لوگوں میں سے ہوں گے اور اچھی زندگی میں ہوں گے۔
(۳۲۵۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إنَّ أَہْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَی لَیَرَوْنَ مَنْ ہُوَ أَسْفَلُ مِنْہُمْ کَمَا تَرَوْنَ الْکَوْکَبَ الطَّالِعَ فِی الأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْہُمْ وَأَنْعَمَا۔ (ترمذی ۳۶۵۸۔ احمد ۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٨٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب فرمایا : اور کہا : یقیناً لوگوں میں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے اپنی محبت اور مال کے اعتبار سے ابوبکر ہیں۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن ان سے اسلامی اخوت اور محبت ہے۔ اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔
(۳۲۵۸۹) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حُنَیْنٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعیدٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ : إنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ فِی صُحْبَتِہِ وَمَالِہِ أَبُو بَکْرٍ ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِیلاً لاتَّخَذْت أَبَا بَکْرٍ ، وَلَکِنْ أُخُوَّۃُ الإسْلاَمِ وَمَوَدَّتُہُ ، لاَ یَبْقَی فِی الْمَسْجِدِ بَابٌ إلاَّ سُدَّ إلاَّ بَابَ أَبِی بَکْرٍ۔
(بخاری ۳۹۰۴۔ مسلم ۱۸۵۵)
(بخاری ۳۹۰۴۔ مسلم ۱۸۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا۔ راوی فرماتے ہیں : یہ بات سن کر حضرت ابوبکر (رض) رو پڑے۔ پھر فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! میں اور میرا مال تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہی ہے !
(۳۲۵۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا نَفَعَنِی مَالٌ مَا نَفَعَنِی مَالُ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ ، فَقَالَ : ہَلْ أَنَا وَمَالِی إلاَّ لَکَ یَا رَسُولَ اللہِ۔ (ترمذی ۳۶۶۱۔ احمد ۲۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩١) حضرت اسود بن ھلال (رض) فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے ان کو بیان کیا ! کہ میں نے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرہ کے ساتھ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں نے گزشتہ رات دیکھا کہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا گیا ۔ پس ابوبکر (رض) کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ وزن دار ہوگیا اور حضرت عمر (رض) کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ بھی وزن دار ہوگیا۔
(۳۲۵۹۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بن أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا لَہُمْ قَالَ : شَہِدْتُ صَلاَۃَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : رَأَیْت أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی الْبَارِحَۃَ وُزِنُوا ، فَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ۔ (احمد ۶۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے بیان کیا کہ : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اس حال میں کہ ہم غار میں تھے۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو وہ ہمیں اپنے پیروں کے نیچے دیکھ لے گا ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! تمہارا کیا گمان ہے ان دو کے بارے میں جن کا تیسرا اللہ ہو ؟ !
(۳۲۵۹۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَہُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِی الْغَارِ : لَوْ أَنَّ أَحَدَہُمْ یَنْظُرُ إِلَی قَدَمَیْہِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَیْہِ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، مَا ظَنُّک بِاثْنَیْنِ اللَّہُ ثَالِثُہُمَا۔ (ترمذی ۳۰۹۶۔ احمد ۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٣) حضرت سالم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ (رض) سے پوچھا : کیا حضرت ابوبکر (رض) لوگوں میں سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں ! میں نے عرض کیا ! کیوں پھر حضرت ابوبکر (رض) بلند درجہ والے اور شہرت یافتہ ہوگئے یہاں تک کہ ابوبکر (رض) کے علاوہ کسی اور ذکر ہی نہیں ہوتا ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : جب آپ (رض) اسلام لائے تو آپ (رض) لوگوں میں سب سے افضل تھے اسلام کے اعتبار سے یہاں تک کہ آپ (رض) اللہ سے جا ملے۔
(۳۲۵۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قلْت لابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : أَبُو بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إسْلاَمًا ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ مِمَّ عَلاَ أَبُو بَکْرٍ ، وَبَسَقَ حَتَّی لاَ یُذْکَرَ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ : کَانَ أَفْضَلَہُمْ إسْلاَمًا حِینَ أَسْلَمَ حَتَّی لَحِقَ بِاللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٤) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں۔
(۳۲۵۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَرْحَمُ أُمَّتِی أَبُو بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن جنت میں اور اس میں پائی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا : بلاشبہ اس میں پائے جانے والے پرندے خراسانی اونٹ کے مانند ہوں گے۔ پس ابوبکر (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ پرندے موٹے بھی ہوں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! جو ان کو کھائے گا تو وہ اس سے خوش ہوگا۔ اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! میں امید کرتا ہوں کہ تم ان پرندوں کے کھانے والوں میں سے ہو گے۔
(۳۲۵۹۵) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعَتَ یَوْمًا الْجَنَّۃَ ، وَمَا فِیہَا مِنَ الْکَرَامَۃِ ، فَقَالَ فِیمَا یَقُولُ : إنَّ فِیہَا لَطَیْرًا أَمْثَالَ الْبُخْتِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ تِلْکَ الطَّیْرَ نَاعِمَۃٌ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، مَنْ یَأْکُلُ مِنْہَا أَنْعَمُ مِنْہَا ، وَاللہِ یَا أَبَا بَکْرٍ ، إنِّی لأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِمَّنْ یَأْکُلُ مِنْہَا۔ (احمد ۲۲۱)
তাহকীক: