মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯০০ টি

হাদীস নং: ৩২৫৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٦) حضرت میمون (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : میں نے آپ (رض) جیسا کوئی نہیں دیکھا ! آپ (رض) نے فرمایا : تو نے حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : اگر تو کہتا : جی ہاں ! میں نے ان کو دیکھا ہے تو میں تجھے سزا دیتا۔
(۳۲۵۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : مَا رَأَیْت مِثْلَک ، قَالَ : رَأَیْتَ أَبَا بَکْرٍ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : لَوْ قُلْتَ نَعَمْ إنِّی رَأَیْتہ ، لأَوْجَعْتُکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر میرے آگے چلنے کی وجہ سے تم میری گردن اڑاؤ تو مجھے پسند ہے کہ میں ایسے لوگوں میں آگے نکلوں جن میں حضرت ابوبکر (رض) بھی ہوں۔
(۳۲۵۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَقَدَّمَ قَوْمًا فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کہا کرتے تھے : لوگوں میں سب سے بہترین حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ہیں۔
(۳۲۵۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِیدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کنا نَقُولُ فِی زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَیْرُ النَّاسِ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ۔ (احمد ۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٥٩٩) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کو بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ۔ پھر ہم خاموش ہوجاتے۔
(۳۲۵۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنَّا نَعُدُّ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ : أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، ثُمَّ نَسْکُتُ۔ (ابوداؤد ۴۶۰۳۔۔ احمد ۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) سے محبت کرنا اور ان دونوں کے افضل ہونے کو پہچاننا سنت میں سے ہے۔
(۳۲۶۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عن مسروق ، قَالَ : حبُّ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَمَعْرِفَۃُ فَضْلِہِمَا مِنَ السُّنَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠١) حضرت عبد العزیز بن سیاہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب بن ابی ثابت (رض) نے اللہ رب العزت کے اس قول { فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ } ترجمہ : پس اللہ نے اس پر اپنی سکینہ نازل فرمائی۔ کے بارے میں فرمایا : کہ حضرت ابوبکر (رض) مراد ہیں۔ فرمایا : باقی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تو سکینہ و رحمت اس سے قبل تھی ہی۔
(۳۲۶۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ سِیَاہٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ فِی قَوْلِہِ : {فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ} قَالَ : عَلَی أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : فَأَمَّا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ کَانَتِ السَّکِینَۃُ عَلَیْہِ قَبْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٢) حضرت ہشام بن عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ (رض) نے فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) نے ان سات لوگوں کو آزاد فرمایا : جن کو اللہ کے راستہ میں عذاب دیا جاتا تھا۔ وہ سات لوگ یہ ہیں : حضرت عامر بن فہیرہ (رض) ، حضرت بلال (رض) ، حضرت زنیرہ (رض) ، حضرت ام عبیس (رض) ، حضرت نھدیہ، اور ان کی بیٹی اور بنو عمرو بن مؤمل کی ایک باندی۔
(۳۲۶۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَعْتَقَ أَبُو بَکْرٍ مِمَّا کَانَ یُعَذَّبُ فِی اللہِ سَبْعَۃً : عَامِرَ بْنَ فُہَیْرَۃَ وَبِلاَلاً وَزِنِّیرَۃ وَأَمَّ عُبَیْسٍ وَالنَّہْدِیَّۃَ وابنتہا ، وَجَارِیَۃِ بنی عَمْرِو بْنِ مُؤَمِّلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٣) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں کسی کو بھی یوں نہ سنوں کہ اس نے مجھے حضرت ابوبکر (رض) پر فضیلت دی ہے ورنہ میں اسے چالیس ( 40) کوڑے ماروں گا۔
(۳۲۶۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ أَسْمَعُ بِأَحَدٍ فَضَّلَنِی عَلَی أَبِی بَکْرٍ إلاَّ جَلَدْتہ أَرْبَعِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! یہ دونوں اہل جنت میں سے بوڑھوں کے سردار ہیں، سوائے انبیاء کے۔ پس تم ان دونوں کو خبر مت دینا۔
(۳۲۶۰۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو مُعَاذٍ ، عَنْ خَطَّابٍ ، أَوْ أَبِی الْخَطَّابِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : بَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ أَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَقَالَ : یَا عَلِی ، ہَذَانِ سَیِّدَا کُہُولِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إلاَّ مَا کَانَ مِنَ الأَنْبِیَائِ فَلاَ تُخْبِرْہُمَا۔ (ترمذی ۳۶۶۔ ابن ماجہ ۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٥) حضرت ربعی بن حراش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا۔ تم لوگ میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی طرف اشارہ فرمایا۔
(۳۲۶۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مَوْلًی لِرِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنِّی لاَ أَدْرِی مَا قَدْرُ بَقَائِی فِیکُمْ ، اقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی وَأَشَارَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ۔ (ترمذی ۳۷۹۹۔ احمد ۳۹۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٦) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع (رض) نے ارشاد فرمایا : پہلی کتاب میں یوں لکھا ہوا تھا : ابوبکر کی مثال بارش کے قطرے کی سی ہے۔ جہاں بھی گرتا ہے فائدہ دیتا ہے۔
(۳۲۶۰۶) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، قَالَ : مَکْتُوبٌ فِی الْکِتَابِ الأَوَّلِ : مَثَلُ أَبِی بَکْرٍ مَثَلُ الْقَطْرِ حَیْثُمَا وَقَعَ نَفَعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٧) حضرت سھیل (رض) کے والد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اچھے آدمی ہیں۔ عمر اچھے آدمی ہیں، عمرو بن جموح اچھے آدمی ہیں، اور ابو عبیدہ بن جراح اچھے آدمی ہیں۔
(۳۲۶۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَکْرٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَنِعْمَ الرَّجُلُ عَمْرو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَنِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔ (ترمذی ۳۷۹۵۔ احمد ۴۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٨) حضرت ابن حنفیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علی (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون تھا ؟ انوہں نے فرمایا : ابوبکر تھے۔ میں نے پوچھا : پھر کون تھا ؟ انھوں نے فرمایا : عمر تھے۔ میں نے پوچھا : اور آپ ؟ انھوں نے فرمایا : تمہارا والد مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی تھا۔
(۳۲۶۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : قلْت لأَبِی : مَنْ خَیْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتَ، قَالَ : أَبُوک رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔ (بخاری ۳۶۷۱۔ ابوداؤد ۴۶۰۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٠٩) حضرت صدقہ بن مثنی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حضرت ریاح بن حارث (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے پاس حاضر تھا۔ اس حال میں کہ آپ (رض) کوفہ کی ایک بڑی مسجد میں تھے۔ اور سب لوگ آپ (رض) کے دائیں بائیں جمع تھے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص تشریف لائے جن کو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کے نام سے پکارا جا رہا تھا۔ پس حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ان کو خوش آمدید کہا۔ اور انھوں نے ان کو تخت پر اپنی ٹانگوں کے پاس بٹھا لیا۔ پس وہ اسی حالت میں تھے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کو قیس بن علقمہ کے نام سے پکارا جا رہا تھا داخل ہوا۔ تو حضرت مغیرہ (رض) نے اس کا استقبال کیا پس انھوں نے بھی سب و شتم کیا اور اس شخص نے بھی سب و شتم کیا ۔ تو اس مدنی شخص نے ان سے کہا : اے مغیرہ بن شعبہ ! یہ گالی دینے والا کس کو گالی دے رہا تھا ؟ مغیرہ (رض) نے فرمایا : علی (رض) کو گالیاں دے رہا تھا ! اس مدنی نے ان کو دو مرتبہ کہا : اے مغیرہ بن شعبہ ! اے مغیرہ بن شعبہ ! خبردار کہ میں سن رہا ہوں کہ تیرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو برا بھلا کہا جا رہا ہے نہ تو تعجب کررہا ہے اور نہ ہی تو غیرت کھا رہا ہے ! میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس بات کی کہ میرے دونوں کانوں نے سنا : اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا : یقیناً ہرگز میں روایت نہیں کرتا ان کے چلے جانے کے بعد جھوٹ کے ڈر سے۔ پس وہ مجھ سے پوچھیں گے جب وہ مجھے ملیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے فرمایا : ابوبکر جنت میں ہیں، اور عمر جنت میں ہیں ، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں۔ طلحہ جنت میں ہیں ، زبیر جنت میں ہیں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہیں ، اور سعد جنت میں ہیں۔ اور آخری نواں اگر میں اس کا نام لینا چاہوں تو میں اس کا نام لے سکتا ہوں۔

راوی کہتے ہیں : پھر مسجد والے نکلے ان کو قسمیں دے کر پوچھ رہے تھے : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! نواں کون تھا ؟ انھوں نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے قسم دی اور اللہ بہت عظیم ہے۔ میں مومنوں میں سے نواں شخص ہوں۔ اور اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دسویں ہیں۔ پھر اس کے بعد بیان کیا : اللہ کی قسم وہ مقام جس میں صحابہ میں سے ایک آدمی اللہ کے راستہ میں ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوا جہاں اس کا چہرہ خاک آلود ہوا ہو تو وہ تم میں سے ہر ایک کے عمل سے افضل ہوگا اگرچہ اس کو حضرت نوح (علیہ السلام) جتنی عمر دے دی گئی ہو۔
(۳۲۶۰۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ الْمُثَنَّی ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّی رِیَاحَ بْنَ الْحَارِثِ یَذْکُرُ ؛ أَنَّہُ شَہِدَ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ ، وَکَانَ بِالْکُوفَۃِ فِی الْمَسْجِدِ الأَکْبَرِ ، وَکَانُوا أَجْمَعَ مَا کَانُوا یَمِینًا وَشِمَالاً ، حَتَّی جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، یُدْعَی سَعِیدَ بْنَ زَیْدِ بْنِ عمرو بن نُفَیْلٍ ، فَرَحَّبَ بِہِ الْمُغِیرَۃُ ، وَأَجْلَسَہُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ عَلَی السَّرِیرِ ، فَبَیْنَا ہُوَ عَلَی ذَلِکَ ، إذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، یُدْعَی قَیْسَ بْنَ عَلْقَمَۃَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِیرَۃُ فَسَبَّ وَسَبَّ ، فَقَالَ لَہُ الْمَدَنِیُّ : یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ ، مَنْ یَسُبُّ ہَذَا السَّابُّ ؟ قَالَ : یَسُبُّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ لَہُ مَرَّتَیْنِ : یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ ، یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ ، أَلاَ أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَبُّونَ عِنْدَکَ لاَ تُنْکِرُ ، وَلاَ تُغَیِّرُ ، فَإِنِّی أَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَایَ ، وَبِمَا وَعَی قَلْبِی ، فَإِنِّی لَنْ أَرْوِیَ عَنْہُ مِنْ بَعْدِہِ کَذِبًا ، فَیَسْأَلُنِی عَنْہُ إذَا لَقِیتُہُ ، أَنَّہُ قَالَ : أَبُو بَکْرٍ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعُمَرُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعُثْمَان فِی الْجَنَّۃِ ، وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ ، وَطَلْحَۃُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَالزُّبَیْرُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِی الْجَنَّۃِ ، وَسَعْدٌ فِی الْجَنَّۃِ ، وَآخَرُ تَاسِعٌ ، لَوْ أَشَائُ أَنْ أُسَمِّیَہُ لَسَمَّیْتُہُ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ یُنَاشِدُونَہُ بِاللہِ : یَا صَاحِبَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَنِ التَّاسِعُ ؟ قَالَ : نَشَدْتُمُونِی بِاللہِ ، وَاللَّہُ عَظِیمٌ ، أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِینَ ، وَنَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ، ثُمَّ أَتْبَعَہَا ، وَاللہِ لَمَشْہَدٌ شَہِدَہُ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَوْمًا وَاحِدًا فِی سَبِیلِ اللہِ ، مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اغْبَرَّ فیہ وَجْہِہِ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ۔

(ابوداؤد ۴۶۱۸۔ ابن ماجہ ۱۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً جنت میں خراسانی اونٹ کی مانند ایک پرندہ ہوگا۔ ایک آدمی آئے گا اور اس کو کھائے گا ۔ پھر وہ پرندہ چلا جائے گا۔ گویا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی کم نہ ہوئی ہو، تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! بلاشبہ وہ پرندہ تو بہت موٹا ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور جو شخص اس سے کھائے گا وہ زیادہ خوشحال ہوگا۔ تم اس کے کھانے والوں میں سے ہوگے۔
(۳۲۶۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ فِی الْجَنَّۃِ طَیْرًا أَمْثَالَ الْبُخْتِ یَأْتِی الرَّجُلُ فَیُصِیبُ مِنْہَا ، ثُمَّ یَذْہَبُ کَأَنْ لَمْ یُنْقِصْ مِنْہَا شَیْئًا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ تِلْکَ الطَّیْرَ نَاعِمَۃٌ ، قَالَ : وَمَنْ یَأْکُلُہ أَنْعَمُ مِنْہُ ، أَمَا إنَّک مِمَّنْ یَأْکُلُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١١) حضرت عبداللہ بن ظالم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نو لوگوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً وہ جنت میں ہوں گے اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دوں تو یقیناً میں سچا ہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ! وہ کون ہے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑی پر تھے اور ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، اور عبد الرحمن بن عوف (رض) بھی ساتھ تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے حرائ ! ٹھہر جاؤ، نہیں تم پر مگر ایک نبی یا صدیق یا شہید۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا : دسواں شخص کون تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ میں ہوں۔
(۳۲۶۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : أَشْہَدُ عَلَی تِسْعَۃٍ أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَلَوْ شَہِدْت عَلَی الْعَاشِرِ لَصَدَقْت ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی حِرَائٍ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَعُثْمَان وَعَلِیٌّ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ حِرَائُ فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْک إلاَّ نَبِیٌّ ، أَوْ صِدِّیقٌ ، أَوْ شَہِیدٌ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنِ الْعَاشِرُ ، قَالَ : أَنَا۔ (ابوداؤد ۴۶۱۶۔ ابن حبان ۶۹۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٢) حضرت اسماعیل بن ابی خالد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے عرب کے سردار ! اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں پوری اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔ اور تیرے والد جنت کے بوڑھوں کے سردار ہوں گے۔
(۳۲۶۱۲) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، أَنَّ عَائِشَۃَ نَظَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ یَا سَیِّدَ الْعَرَبِ ، قَالَ : أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَلاَ فَخْرَ ، وَأَبُوک سَیِّدُ کُہُولِ الْعَرَبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٣) حضرت ابو حجیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت کے بہترین شخص حضرت ابوبکر (رض) ہیں اور حضرت ابوبکر (رض) کے بعد حضرت عمر (رض) ہیں ، اور اگر میں چاہوں کہ تیسرے شخص کے بارے میں بتاؤں تو میں ایسا کرسکتا ہوں۔
(۳۲۶۱۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: خَیْرُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُو بَکْرٍ، وَبَعْدَ أَبِی بَکْرٍ عُمَرُ ، وَلَوْ شِئْت أَنْ أُحَدِّثَکُمْ بِالثَّالِثِ فَعَلْت۔ (احمد ۱۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٤) حضرت ابو حجیفہ (رض) سے حضرت علی (رض) کا ما قبل والا فرمان اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۲۶۱۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔ (ابن ابی عاصم ۱۲۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک انصاری آدمی کی بیوی کے پاس گیا تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھجور کی چھال سے بنی ہوئی دری بچھائی اور ہمارے لیے ایک بکری ذبح کی ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت ابوبکر (رض) داخل ہوئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت عمر (رض) داخل ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو یہ آدمی علی کو بنا دے۔ پس حضرت علی (رض) داخل ہوئے۔
(۳۲۶۱۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَشَیْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : فَرَشَّتْ لَہُ أُصُولَ نَخْلٍ ، وَذَبَحَتْ لَنَا شَاۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَیَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، فَدَخَلَ عُمَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَیَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَہُ عَلِیًّا ، فَدَخَلَ عَلِیٌّ۔
tahqiq

তাহকীক: