মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭২ টি
হাদীস নং: ১৩৮৫৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
(١٣٨٦٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے عرفہ یا جماعت کو نہ پایا اس کا حج فوت ہوگیا۔
(۱۳۸۶۰) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَنْ فَاتَتْہُ عَرَفَۃُ ، أَوْ جَمْعٌ فَاتَہُ الْحَجُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
(١٣٨٦١) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جو شخص طلوع فجر سے قبل وقوف عرفہ کو پالے اس نے حج کو پا لیا۔
(۱۳۸۶۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَکَ عَرَفَۃَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
(١٣٨٦٢) حضرت عروہ بن مضرس الطائی نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں حج کیا، وہ لوگوں کو نہ پا سکے مگر جبکہ وہ مزدلفہ میں تھے، پھر وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اپنے نفس کی پیروی کی اور اپنی سواری کو تھکا دیا، اور اللہ کی قسم میں نے کوئی پہاڑی نہیں چھوڑی مگر اس پر قیام کیا، کیا میرا حج مکمل ہوگیا ؟ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کی اور عرفات سے منیٰ کی طرف چلا اس سے پہلے دن یا رات میں تحقیق اس کی گندگی دور ہوگئی اور اس کا حج مکمل ہوگیا۔
(۱۳۸۶۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِیِّ ؛ أَنَّہُ حَجَّ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُدْرِکِ النَّاسَ إِلاَّ وَہُمْ بِجَمْعٍ ، قَالَ : فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْضَیْتُ رَاحِلَتِی ، وَاللَّہِ مَا تَرَکْتُ حَبْلاً مِنَ الْحِبَالِ إِلاَّ وَقَد وَقَفْت عَلَیْہِ ، فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّی مَعَنَا ہَذِہِ الصَّلاَۃَ ، وَقَدْ أفَاضَ قَبْلَ ذَلِکَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَیْلاً ، أَوْ نَہَارًا ، فَقَدْ قَضَی تَفَثَہُ وَتَمَّ حَجُّہُ۔ (ترمذی ۸۹۱۔ ابوداؤد ۱۹۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
(١٣٨٦٣) حضرت عبد الرحمن بن یعمر سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں مقیم تھے، اور اھل مکہ میں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہے تھے، انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حج کیسے ہوتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حج وقوف عرفہ کا نام ہے، پس جو شخص طلوع فجر سے قبل جماعت والی رات میں عرفہ آیا اس کا حج مکمل ہوگیا، منیٰ میں تین دن ہیں، پس جس نے دو دنوں سے جلدی کی اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اپنا ردیف بنایا جو ان کلمات کی آواز لگا رہا تھا۔
(۱۳۸۶۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْمُرَ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ ، وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ الْحَجُّ ؟ قَالَ : الْحَجُّ عَرَفَۃُ ، فَمَنْ جَائَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَیْلَۃَ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ ، مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَہُ یُنَادِی بہِنَّ۔
(ترمذی ۸۸۹۔ ابوداؤد ۱۹۴۴)
(ترمذی ۸۸۹۔ ابوداؤد ۱۹۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٤) حضرت اسود اور حضرت عمر اور حضرت زید اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس کا حج فوت ہوجائے کہ وہ عمرہ کے ساتھ احرام کھول دے اور آئندہ سال حج کی قضا کرے۔
(۱۳۸۶۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، وَزَیْدٍ ؛ قَالاَ : فِی الرَّجُلِ یَفُوتُہُ الْحَجُّ : یُحِلُّ بِعُمْرَۃٍ ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٥) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص حج نہ پائے تو اس پر دم ہے اور وہ اس کو عمرہ بنا دے، اور اس پر آئندہ سال حج کی قضا ہے۔
(۱۳۸۶۵) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ لَمْ یُدْرِکْ فَعَلَیْہِ دَمٌ ، وَیَجْعَلُہَا عُمْرَۃً ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٦) حضرت ابن عمر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۱۳۸۶۶) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٧) حضرت طاؤس اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس کا حج فوت ہوجائے، وہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دے۔
(۱۳۸۶۷) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ؛ فِی الَّذِی یَفُوتُہُ الْحَجُّ ، قَالَ : تَعُودُ حَجَّتُہُ عُمْرَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٨) حضرت قاسم اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کا حج فوت ہوجائے وہ اس کو عمرہ میں تبدیل کر دے اور اس پر آئندہ سال حج کی قضا ہے اور وہ قربانی کرے، اور اگر قربانی نہ پائے تو تین روزے ایام حج میں اور سات روزے واپس گھر جا کر رکھے۔
(۱۳۸۶۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ فِی الَّذِی یَفُوتُہُ الْحَجُّ ، قَالَ : یَجْعَلُہَا عُمْرَۃً ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنَ الْعَامِ التَّابِعِ وَیُہْدِی ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ ،وَسَبْعَۃً إذَا رَجَعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٦٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر حج فوت ہوجائے تو اس کو عمرہ میں تبدیل کر دے اور اس پر قربانی ہے، یہ مجھے دوسرے کاموں سے زیادہ پسند ہے۔
(۱۳۸۶۹) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْہَیْثُمِ ، عَنْ طلحۃ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہ قَالَ : إذَا فَاتَہ الْحَجُّ جَعَلَہا عُمْرَۃً، وَعَلَیْہِ الْہَدْیُ أَحَبُّ إِلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٧٠) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ وہ اس کو عمرہ میں تبدیل کر دے اور اس پر قربانی ہے اور آئندہ سال حج کی قضا ہے۔
(۱۳۸۷۰) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : یَجْعَلُہَا عُمْرَۃً ، وَعَلَیْہِ الْہَدْیُ والْحَجّ من قابل۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اگر حج فوت ہو جائے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٣٨٧١) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ کے ساتھ اپنا احرام کھول لے اور اس پر آئندہ سال حج کی قضا ہے۔
(۱۳۸۷۱) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : یُحِلُّ بِعُمْرَۃٍ ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٢) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ جلدی کرے۔
(۱۳۸۷۲) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مِہْرَانٍ أَبِی صَفْوَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَرَاْدَ مِنْکُمُ الْحَجَّ فَلْیَتَعَجَّلْ۔ (ابوداؤد ۱۷۲۹۔ احمد ۱/۲۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٣) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب اور اس کے ساتھی حج میں تاخیر کرتے تھے یہاں تک کہ ذوالقعدہ کا مہینہ داخل ہوجاتا، حضرت ابراہیم نے اس فعل کو ناپسند فرمایا۔
(۱۳۸۷۳) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : کَانَ حَبِیبٌ وَأَصْحَابُہُ یَتَأَخَّرُونَ حَتَّی یَدْخُلَ مِنْ ذِی الْقَعْدَۃِ مَا شَائَ اللَّہُ ، فَکَرِہَ ذَلِکَ إبْرَاہِیمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٤) حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس لوگوں میں سے سب سے پہلے حج کے لیے جانے والے ہوتے اور سب سے آخر میں واپس آنے والے۔
(۱۳۸۷۴) حدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّازِیّ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : کَانَ طَاوُوس یَقْدُمُ فِی أَوَّلِ النَّاسِ ، وَیَنْفِرُ فِی آخِرِ النَّاسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٥) حضرت محمد اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص اونٹ خریدے سفر حج کے لیے اور اس پر جلدی سفر کرے۔
(۱۳۸۷۵) حدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَشْتَرِیَ الرَّجُلُ الْبَعِیرَ یَتَعَجَّلُ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٦) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں نے ذی الحجہ کے مہینے میں کوفہ سے احرام باندھا پھر میں وقوف عرفہ کی شام میں لوگوں کے ساتھ ملا، لیکن ابو موسیٰ نے میرے اس فعل پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔
(۱۳۸۷۶) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ بُرَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ: أَہْلَلْتُ ہِلالَ ذِی الْحِجَّۃِ بِالْکُوفَۃِ، ثُمَّ وَافَیْتُ النَّاسَ بِالْمَوْقِفِ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ ، فَلَمْ یَعِبْ ذَلِکَ أَبُو مُوسَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٧) حضرت جابر بن زید بصرہ سے مکہ کے لیے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو چلے، راوی کہتے ہیں تاریخ میں شک میری طرف سے ہے۔
(۱۳۸۷۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بُرْجَانٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ؛ أَنَّہُ سَارَ مِنَ الْبَصْرَۃِ إلَی مَکَّۃَ فِی اثْنَتَیْ عَشَرَۃ ، أَوْ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ ۔ الشَّکُّ مِنِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٨) حضرت مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ مدینہ سے مکہ تشریف لائے سات تاریخ کو جب حضرت عمر شھید کیے گئے۔
(۱۳۸۷۸) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : سَارَ إلَیْنَا عَبْدُ اللہِ مِنَ الْمَدِینَۃِ حِینَ قُتِلَ عُمَرُ فِی سَبْعٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج کے سفر میں جلدی کرنا
(١٣٨٧٩) حضرت ابن عمر مکہ مکرمہ سے مدینہ کے لیے تشریف لے گئے تین دنوں میں جب حضرت صفیہ کی وفات ہوئی۔
(۱۳۸۷۹) حدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ سَارَ مِنْ مَکَّۃَ إلَی الْمَدِینَۃِ فِی ثَلاَثٍ ، حِینَ اُسْتُصْرِخَ عَلَی صَفِیَّۃَ۔
তাহকীক: