মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭২ টি

হাদীস নং: ১৪১৫৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم کے جن پودوں اور درختوں کے کاٹنے کی اجازت دی گئی ہے
(١٤١٦٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حرم کے جو در خت خود گرجائیں ان کے اٹھانے اور کاٹنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۴۱۶۰) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِمَا سَقَطَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ أَنْ یُلْتَقَطَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم کے جن پودوں اور درختوں کے کاٹنے کی اجازت دی گئی ہے
(١٤١٦١) حضرت عطائ اور حضرت اسود فرماتے ہیں حرم کے جو درخت خود بخود گرجائیں ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۴۱۶۱) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَابْنِ الأَسْوَدِ ؛ قَالاَ : لاَ بَأْسَ بِمَا سَقَطَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٢) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات تشریف لائے، جب سورج زائل ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصواء اونٹنی کا حکم فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس پر کجاوا ڈالا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطن وادی میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔
(۱۴۱۶۲) حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَابِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَی عَرَفَاتٍ حَتی إذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَہُ ، فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِی فَخَطَبَ النَّاسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٣) حضرت محمد بن قیس ابن المطلب سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ میں خطبہ ارشاد فرمایا۔
(۱۴۱۶۳) حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ بِعَرَفَۃَ۔ (طبرانی ۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٤) حضرت زہری سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم نحر میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ بعد میں امراء کو مشغولیت درپیش ہوئی تو انھوں نے خطبہ کو اگلے دن تک موخر کردیا۔
(۱۴۱۶۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَخْطُبُ یَوْمَ النَّحْرِ ، فَشُغِلَت الأُمَرَائُ فَأَخَّرُوہُ إلَی الْغَدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٥) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم النحر میں لوگوں کو دو جمروں کے درمیان خطبہ دیا۔
(۱۴۱۶۵) حدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ النَّحْرِ النَّاسَ بَیْنَ الْجَمْرَتَیْنِ أَیَّامَ التَّشْرِیقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٦) حضرت عمر بن عبد العزیز لوگوں کو یوم الترویہ سے پہلے خطبہ دے دیتے اور حضرت ابن زبیر پورے دس دن خطبہ دیتے۔
(۱۴۱۶۶) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ خَطَبَہُمْ قَبْلَ التَّرْوِیَۃِ بِیَوْمٍ ضُحًی ، وَأَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَخْطُبُ الْعَشْرَ کُلَّہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٧) حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا وہ منبر پر حضرت ابن زبیر کے پاس گئے، جب وہ واپس اترے تو حضرت ابن زبیر نے تلبیہ پڑھا، میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ نے ان سے کیا کہا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سنا حضرت عمر یہاں منبر پر تلبیہ پڑھا کرتے تھے۔
(۱۴۱۶۷) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِجْلاَنَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبِی صَعِدَ إلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ بِعَرَفَۃَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَلَمَّا نَزَلَ لَبَّی ابْنُ الزُّبَیْرِ ، فَقُلْتُ لأَبِی : مَا قُلْتَ لَہُ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَہُ : سَمِعْت عُمَرَ یُلَبِّی ہَاہُنَا عَلَی الْمِنْبَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن خطبہ ارشاد فرمایا ؟
(١٤١٦٨) حضرت مسروق سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم النحر میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔
(۱۴۱۶۸) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : خَطَبَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ النَّحْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٦٩) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، میں نے حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ حج کیا آپ مدینہ واپس جانے تک دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، میں نے حضرت عمر کے ساتھ کئی حج کیے آپ مدینہ واپس جانے تک دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، میں نے حضرت عثمان کے ساتھ ان کی امارت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو رکعتیں ادا کرتے تھے، پھر انھوں نے منیٰ میں چار رکعتیں ادا کیں۔
حدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :

(۱۴۱۶۹) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی رَجَعَ إلَی الْمَدِینَۃِ ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ فَلَمْ یُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی رَجَعَ إلَی الْمَدِینَۃِ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَجَّاتٍ ، فَلَمْ یُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی رَجَعَ إلَی الْمَدِینَۃِ ، وَحَجَّ عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِینَ مِنْ إمَارَتِہِ لاَ یُصَلِّی إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ صَلاَّہَا بِمِنًی أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٠) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ میں دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت صدیق اکبر نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر صدیق اکبر کے بعد حضرت عمر نے دو رکعتیں ادا کیں، اور حضرت عثمان نے اپنی خلافت کے شروع کے سالوں میں دو رکعتیں ادا کیں، پھر حضرت عثمان نے چار رکعتیں پڑھنا شروع کردیں، حضرت ابن عمر جب امام کے ساتھ ادا کرتے تو چار رکعتیں ادا کرتے اور اگر اکیلے پڑھتے تو دو رکعتیں ادا کرتے۔
(۱۴۱۷۰) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَیْن ، وَأَبُو بَکْرٍ بَعْدَہُ ، وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِی بَکْرٍ ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِہِ ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّی بَعْدُ أَرْبَعًا ، فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا صَلَّی مَعَ الإِمَامِ صَلَّی أَرْبَعًا ، وَإِذَا صَلاَہَا وَحْدَہُ صَلاَہَا رَکْعَتَیْنِ۔

(بخاری ۱۰۸۲۔ مسلم ۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧١) حضرت حارثہ بن وھب فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منٰی میں اس زمانے میں دو رکعتیں پڑھیں جب لوگ سب سے زیادہ پرامن اور تعداد میں سب سے زیادہ تھے۔
(۱۴۱۷۱) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی حَارِثَۃُ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِنًی أَکْثَرَ مَا کَانَ النَّاسُ ، وَآمنہ رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٢) حضرت انس ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ، حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ، حضرت عمر کے ساتھ اور حضرت عثمان کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعتیں ادا کیں۔
(۱۴۱۷۲) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ ، وَمَعَ عُمَرَ ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إمَارَتِہِ۔ (احمد ۳/۱۴۴۔ ابویعلی ۴۲۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٣) حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں ادا کیں۔
(۱۴۱۷۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٤) حضرت عثمان منیٰ میں چار رکعتیں ادا کیں، حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں ادا کیں، اور حضرات شیخین کے ساتھ بھی دو رکعتیں ادا کیں، پھر لوگوں کے راستے الگ اور جدا ہوگئے تو میری خواہش تھی کہ میں دو کی بجائے چار رکعتیں ادا کروں، حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ اس کے بعد چار رکعتیں ادا فرماتے تھے، آپ سے کہا گیا کہ آپ نے حضرت عثمان پر اعتراض کیا اور آپ خود چار رکعتیں پڑھتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا : اختلاف (مخالفت) شر کا سبب بنتی ہے۔
(۱۴۱۷۴) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : صَلَّی عُثْمَانَ بِمِنًی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ رَکْعَتَیْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِکُمَ الطُّرُقُ ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ لِی مِنْ أَرْبَعِ رَکَعَاتٍ رَکْعَتَیْنِ مُتَقَبَّلَتَیْنِ ۔ قَالَ الأَعْمَش : فَحَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ صَلَّی بَعْدُ أَرْبَعًا ، فَقِیلَ لَہُ : عِبْتَ عَلَی عُثْمَانَ ، ثُمَّ تُصَلِی أَرْبَعًا ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : الْخِلاَفُ شَرّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٥) حضرت ابن عمر نے منیٰ میں حضرت ابن زبیر کی امامت میں دو رکعتیں ادا کیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کو حجاج کے پیچھے چار پڑھتے ہوئے دیکھا۔
(۱۴۱۷۵) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، وَہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : صَحِبَنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ ، فَحدَّثَنَا ؛أَنَّہُ رَأَی ابْنَ عُمَرَ صَلَّی خَلْفَ ابْنِ الزُّبَیْرِ بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ ، قَالَ : وَرَأَیْتُہُ صَلَّی خَلْفَ الْحَجَّاجِ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٦) حضرت قاسم، حضرت طاؤس اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ منیٰ میں نماز قصر ادا کرو۔
(۱۴۱۷۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَسَالِمٍ ، وَطَاوُوسٍ ؛ قَالُوا : اقصُر بِمِنًی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار ؟
(١٤١٧٧) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ ایام تشریق میں منیٰ میں نمازیں دو رکعتیں ہیں۔
(۱۴۱۷۷) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : الصَّلَوَاتُ بِمِنًی رَکْعَتَانِ ، أَیَّامَ التَّشْرِیقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم تلبیہ کہنا کب بند کرے گا ؟
(١٤١٧٨) حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ سفر حج میں، میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف تھا، میں مسلسل حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تلبیہ سنتا رہا، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلبیہ کہنا چھوڑ دیا۔
(۱۴۱۷۸) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ : کُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُہُ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ ، فَلَمَّا رَمَاہَا قَطَعَ۔

(بخاری ۱۶۸۵۔ مسلم ۲۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم تلبیہ کہنا کب بند کرے گا ؟
(١٤١٧٩) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسین بن علی کے ساتھ مزدلفہ سے روانہ ہوا، میں آپ سے مسلسل تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، میں نے آپ سے دریافت کیا اے ابو عبداللہ ! تلبیہ کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے والد حضرت علی سے تلبیہ سنا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، اور انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہتے تھے۔
(۱۴۱۷۹) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : دَفَعْتُ مَعَ حُسَیْنٍ بْنِ عَلِیِّ مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُہُ یُلَبِّی یَقُولُ : لَبَّیْکَ حَتَّی انْتَہَی إلَی الْجَمْرَۃِ ، فَقُلْتُ لَہُ : مَا ہَذَا الإِہْلاَلُ ، یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ یُہِلُّ حَتَّی انْتَہَی إلَی الْجَمْرَۃِ ، وَحَدَّثَنِی : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہَلَّ حَتَّی انْتَہَی إلَیْہَا۔ (احمد ۱/۱۱۴۔ بزار ۵۰۰)
tahqiq

তাহকীক: