মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭২ টি
হাদীস নং: ১৪৩১৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣٢٠) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ جمرات کی رمی کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھایا جائے گا۔
(۱۴۳۲۰) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تُرْفَعُ الأَیْدِی عِنْدَ الْجِمَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣٢١) حضرت عبداللہ کے اصحاب فرماتے ہیں کہ دونوں جمروں کی رمی کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھائیں گے۔
(۱۴۳۲۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ نَافِعٍ، قاَلَ: کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِاللہِ یَقُولُونَ: تُرْفَعُ الأَیْدِی عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣٢٢) حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جمرہ کی رمی کرتے وقت رفع یدین کیا جائے گا۔
(۱۴۳۲۲) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (ح) وَعَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالاَ : تُرْفَعُ الأَیْدِی عِنْدَ الْجِمَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور ابھی اس کے ذمے کچھ مناسک باقی ہوں
(١٤٣٢٣) حضرت حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو مناسک حج مکمل کرنے سے قبل فوت ہوجائے، فرماتے ہیں کہ اس کے جو مناسک باقی رہ گئے ہیں وہ اس کی طرف سے پورے کیے جائیں گے۔
(۱۴۳۲۳) حدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَحُجُّ فَیَمُوتُ قَبْلَ أَنْ یَقْضِیَ نُسُکَہُ ، قَالَ : یُقْضَی عَنْہُ مَا بَقِیَ مِنْ نُسُکِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور ابھی اس کے ذمے کچھ مناسک باقی ہوں
(١٤٣٢٤) حضرت ابو نھیک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے دریافت کیا کہ ایک عورت فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ ابھی حج کے کچھ مناسک باقی تھے ؟ آپ نے فرمایا اس کی طرف سے ادا کیے جائیں گے، میں نے حضرت قاسم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت طاؤس نے جو فرمایا ہے مجھے اس بارے میں تو کوئی علم نہیں ہے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی }۔
(۱۴۳۲۴) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی نَہِیکٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُوسًا عَنِ امْرَأَۃٍ تُوُفِّیَتْ وَقَدْ بَقِیَ عَلَیْہَا مِنْ نُسُکِہَا ؟ قَالَ : یُقْضَی عَنْہَا ، وَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ ؟ فَقَالَ : لاَ عِلْمَ لِی بِمَا قَالَ طَاوُوس ، قَالَ اللَّہُ : (لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی)۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٢٥) حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کی جگہ بکہ ہے اور جو جگہ اس کے علاوہ ہے وہ مکہ ہے۔
(۱۴۳۲۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، قَالَ : مَوْضِعُ الْبَیْتِ بَکَّۃُ ، وَمَا سِوَی ذَلِکَ مَکَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٢٦) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے اردگردوالی جگہ بکہ ہے اور جو اس سے ہٹ کر ہے وہ مکہ ہے۔
(۱۴۳۲۶) حدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ : بَکَّۃُ مَا حَوْلَ الْبَیْتِ ، وَمَکَّۃُ مَا وَرَائَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٢٧) حضرت ابن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ یہاں حج کرنے کے لیے آتے ہیں۔
(۱۴۳۲۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : إنَّمَا سُمِّیَتْ بَکَّۃَ لأَنَّ النَّاسَ یَجِیؤُنَہَا مِنْ کُلِّ جَانِبٍ حُجَّاجًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٢٨) حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ اس کا نام بکہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیونکہ لوگ یہاں پر ہجوم کرتے ہیں اور رش کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکے لگتے ہیں۔
(۱۴۳۲۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ وَسُئِلَ : لِمَ سُمِّیَتْ بَکَّۃَ ؟ قَالَ : لأَنَّہُمْ یَتَبَاکَّوْنَ فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٢٩) حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ یہاں پر ہجوم کرتے ہیں اور رش کی وجہ سے دھکے لگتے ہیں۔
(۱۴۳۲۹) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَیْمَونٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : إنَّمَا سُمِّیَتْ بَکَّۃَ لأَنَّ النَّاسَ یَتَبَاکَّوْنَ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٣٠) حضرت ابن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ ہجوم سے بھر دیا گیا ہے، اس نام میں مذکر اور مونث دونوں ہی استعمال ہوتے (یعنی یہ نام مذکر بھی اور مونث بھی دونوں طرح سے استعمال کیا سکتا ہے) ۔
(۱۴۳۳۰) حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ ابْنِ عمَرَ ، قَالَ : مَکَّۃَ بُکَّتْ بَکًا ، الذَّکَرُ فِیہَا کَالأُنْثَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٣١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہاں لوگ بعض بعض کو دھکیلتے ہیں، اور یہاں پر وہ چیزیں بھی حلال ہیں جو اس کے علاوہ حلال نہیں۔
(۱۴۳۳۱) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إنَّمَا سُمِّیَتْ بَکَّۃَ لأَنَّ النَّاسَ یَبُکَّ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، وَإِنَّہُ یَحِلُّ فِیہَا مَا لاَ یَحِلُّ فِی غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بکہ کون سی جگہ ہے اور مکہ کونسی جگہ ہے ؟
(١٤٣٣٢) حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی جگہ بکہ ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے وہ مکہ ہے۔
(۱۴۳۳۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : بَکَّۃُ مَوْضِعُ الْبَیْتِ ، وَمَا حَوْلَہُ مَکَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ نام کیوں رکھا گیا ہے ؟
(١٤٣٣٣) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم کے پاس عرفات میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کو معلوم ہوگیا ؟ انھوں نے فرمایا ہاں، اسی وجہ سے اس کا نام عرفات پڑگیا۔
(۱۴۳۳۳) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ أَنَّ جِبْرِیلَ أَتَی بِإِبْرَاہِیمَ عَرَفَاتٍ، فَقَالَ: عَرَفْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمِنْ ثَمَّ سُمِّیَتْ عَرَفَاتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ نام کیوں رکھا گیا ہے ؟
(١٤٣٣٤) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ اس جگہ کا نام عرفات اس لیے پڑا ہے کہ حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم کو مناسک حج سکھاتے اور پھر پوچھتے کہ آپ کو پتہ چل گیا ؟ پھر سکھاتے اور فرماتے معلوم ہوگیا ؟ اسی وجہ سے اس کا نام عرفات پڑگیا۔
(۱۴۳۳۴) حدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إنَّمَا سُمِّیَتْ عَرَفَاتٍ لأَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُرِی إبْرَاہِیمَ الْمَنَاسِکَ فَیَقُولُ : عَرَفْتَ ؟ ثُمَّ یُرِیہِ فَیَقُولُ : عَرَفْتَ ؟ فَسُمِّیَتْ عَرَفَاتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زم زم کی فضیلت
(١٤٣٣٥) حضرت ابو ذر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کھانے والے کے لیے خوراک ہے (یعنی اس سے بھوک بھی مٹ جاتی ہے) ۔
(۱۴۳۳۵) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ ، یَعْنِی زَمْزَمَ ، طَعَامُ مَنْ طَعِمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زم زم کی فضیلت
(١٤٣٣٦) حضرت ابن عباس آب زم زم کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ کھانے والے کے لیے خوراک ہے (یعنی اس سے بھوک بھی مٹ جاتی ہے) ۔
(۱۴۳۳۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی مَائِ زَمْزَمَ : طَعَامُ مَنْ طَعِمَ ، وَشِفَائُ مَنْ سَقِمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زم زم کی فضیلت
(١٤٣٣٧) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا نام شباعہ یعنی خوب سیر کرنے والا رکھا ہے اور ہم گمان کرتے ہیں کہ یہ بہترین مدد گار ہے مفلس اور اھل و عیال والے کے لیے۔
(۱۴۳۳۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ أَبِی الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کُنَّا نُسَمِّی زَمْزَمَ شَبَّاعَۃً ، وَنَزْعُمُ أَنَّہَا نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَی الْعِیَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زم زم کی فضیلت
(١٤٣٣٨) حضرت کعب ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک قرآن پاک میں ہے کہ آب زم زم کھانوں میں سے ایک کھانا ہے اور مریض کے لیے باعث شفاء ہے۔
(۱۴۳۳۸) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : إنَّ فِی کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ : أَنَّ مَائَ زَمْزَمَ طَعَامُ طُعْمٍ ، وَشِفَائُ سُقْمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زم زم کی فضیلت
(١٤٣٣٩) حضرت قیس بن کر کم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا کہ مجھے آب زم زم کے متعلق خبر دیں ؟ آپ نے فرمایا کہ میں تجھے علم کے ساتھ خبر دوں گا، اس کے کنواں کو بالکل خالی اور ختم نہ کرو اور اس کی مذمت بھی نہ کرو بیشک یہ کھانوں میں سے ایک کھانا ہے اور مریض کے لیے باعث شفاء ہے۔
(۱۴۳۳۹) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ کُرْکُمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِی عَنْ مَائِ زَمْزَمَ ؟ فَقَالَ : أُخْبِرُکَ بِعَلَمٍ ، لاَ تُنْزَحُ ، وَلاَ تُنْزَفُ ، وَلاَ تُذَمُّ طَعَامُ مَنْ طَعِمَ، وَشِفَائُ مَنْ سَقِمَ۔
তাহকীক: