মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭২ টি
হাদীস নং: ১৪২৯৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا ؟
(١٤٣٠٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن زبیر نے کعبہ کو گرانے کے لیے لوگوں کو جمع کیا تو ہم لوگ تین دن کے لیے منیٰ چلے گئے اور اللہ کے عذاب کا انتظار کرتے رہے۔
(۱۴۳۰۰) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَجْمَعَ ابْنُ الزُّبَیْرِ عَلَی ہَدْمِہَا ، خَرَجْنَا إلَی مِنًی ثَلاَثًا نَنْتَظِرُ الْعَذَابَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا ؟
(١٤٣٠١) حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ آل زبیر کے ایک شخص کے ہاتھ سے کعبہ منہدم کیا جائے گا۔
(۱۴۳۰۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی صَادِقٍ ، عَنْ حَنشٍ الْکِنَانِیِّ ، عَنْ عَلِیمٍ الْکِنْدِیِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : لَیُحْرَقَنَّ ہَذَا الْبَیْتُ عَلَی یَدَیْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الزُّبَیْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا ؟
(١٤٣٠٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کو گرایا گیا تو ایک پتھر ملا جس پر یہ تحریر تھا : میں خدا ہوں مکہ شہر کا مالک، میں نے اس کو اس دن بنایا تھا جس دن میں نے چاند وسورج کو بنایا تھا، میں نے اس کو سات سیدھی املاک سے ڈھانپا ہے۔ میں نے ان کے رہنے والوں کے لیے گھی اور سالن میں برکت رکھی ہے، اور یہ نہیں زائل ہوگا یہاں تک کہ یہ دو پہاڑ زائل اور ختم ہوجائیں اور سب سے پہلے اس حرمت کا حلال سمجھنے والے اس کے رہائشی ہوں گے۔
(۱۴۳۰۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمَّا ہُدِمَ الْبَیْتُ ، وُجِدَ فِیہِ صَخْرَۃٌ مَکْتُوبٌ فِیہَا : أَنَا اللَّہُ ذُو بَکَّۃَ ، صُغْتُہُ یَوْمَ صُغْتُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، حَفَفْتُہُ بِسَبْعَۃِ أَمْلاَکٍ حُنَفَائَ ، بَارَکْتُ لأَہْلِہِ فِی السَّمْنِ وَالسَّمِینِ ، لاَ یَزُولُ حَتَّی یَزُولَ الأَخْشَبَانِ ، یَعْنِی الْجَبَلَیْنِ ، وَأَوَّلُ مَنْ یَحِلُّہَا أَہْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا ؟
(١٤٣٠٣) حضرت ضحاک بن مزاحم فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کو منہدم کیا گیا تو ایک سیلاب نما پانی کا ریلا آیا جس نے بیت اللہ کے ایک پتھر کو الٹ دیا تو اس پر تحریر تھا : میں بیت اللہ والا خدا ہوں، میں نے اس کو اس دن بنایا جس دن میں نے پہاڑوں کو بنایا اور میں نے اس کو سات سیدھی املاک کے سامنے بنایا جو یہودی اور عیسائی نہ تھے۔
(۱۴۳۰۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ نُبَیْطٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : لَمَّا کُسِرَ الْبَیْتُ ، جَائَ سَیْلٌ فَقَلَبَ حَجَرًا مِنْ حِجَارَۃِ الْبَیْتِ ، فَإِذَا مَکْتُوبٌ فِیہِ : أَنَا اللَّہُ ذُو بَکَّۃَ ، صُغْتُہُ یَوْمَ صُغْتُ الْجَبَلَیْنِ ، بَنَیْتُہُ عَلَی وَجْہِ سَبْعَۃِ أَمْلاَکٍ حُنَفَائَ ، لَیْسُوا یَہُودًا ، وَلاَ نَصَارَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا ؟
(١٤٣٠٤) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جس نے وہ مکتوب پڑھا جو بیت اللہ کی چھت کی دیواروں سے یا مقام ابراہیم کے نیچے سے ملا تھا (اس میں تحریر تھا) میں بیت اللہ والا خدا ہوں، میں نے اس کو سات املاک کے سامنے بنایا ہے، میں نے اس کے رہنے والوں کے لیے کھانے پینے (گوشت اور پانی) کی چیزوں میں برکت رکھی، اور اس کے رہنے والے کے رزق کو تین راستوں سے بنایا اور سب سے پہلے اس کی حرمت کو حلال سمجھنے والے اس کے اھل ہیں۔
(۱۴۳۰۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مَنْ قَرَأَ کِتَابًا فِی بحتخہ فِی سَقْفِ الْبَیْتِ، أَوْ أَسْفَلَ مَقَامِ إبْرَاہِیمَ : أَنَا اللَّہُ ذُو بَکَّۃَ ، بَنَیْتُہُ عَلَی وُجُوہِ سَبْعَۃِ أَمْلاَکٍ حُنَفَائَ ، بَارَکْتُ لأَہْلِہِ فِی اللَّحْمِ وَالْمَائِ ، وَجَعَلْت رِزْقَ أَہْلِہِ مِنْ ثَلاَثَۃِ سُبُلٍ ، وَلاَ یَسْتَحِلَّ حُرْمَتَہُ أَوَّلُ مَنْ أَہَلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے بیت اللہ کے گرانے کو ناپسند سمجھا
(١٤٣٠٥) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب تم قریش کو دیکھو کہ وہ بیت اللہ کو منہدم کر کے اس کی دوبارہ تعمیر اور نقش ونگار کر رہے ہیں، تو اگر تم طاقت رکھتے ہو تو ان کو اس سے روکو اگر اس معاملہ میں تمہاری جان چلی جاتی ہے تو جان قربان کرنے سے دریغ نہ کرو۔
(۱۴۳۰۵) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مِینَائَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ : إذَا رَأَیْتُمْ قُرَیْشًا قَدْ ہَدَمُوا الْبَیْتَ ، ثُمَّ بَنُوہُ فَزَوَّقُوہُ ، فَإِنَ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے بیت اللہ کے گرانے کو ناپسند سمجھا
(١٤٣٠٦) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو کے گھوڑے کی لگام کو پکڑا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگ اس بیت اللہ کو منہدم کرو گے اور کوئی پتھر کسی پتھر پر نہیں چھوڑو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : (ہاں) اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ایسا کیوں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : پھر اس کو اس سے اچھی تعمیر پر بنایا جائے گا، جب تم دیکھو کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی چھوٹی نہریں نکل پڑی ہیں اور تم دیکھو کہ عمارتیں پہاڑوں سے بلند ہیں تو جان لینا کہ معاملہ تمہارے قریب آگیا ہے (قیامت قریب ہے) ۔
(۱۴۳۰۶) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ آخُذًا بِلِجَامِ دَابَّۃِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: کَیْفَ أَنْتُمْ إذَا ہَدَمْتُمْ ہَذَا الْبَیْتَ، فَلَمْ تَدَعُوا حَجَرًا عَلَی حَجَرٍ؟ قَالُوا: وَنَحْنُ عَلَی الإِسْلاَمِ؟ قَالَ: وَنَحْنُ عَلَی الإِسْلاَمِ ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ یُبْنَی أَحْسَنَ مَا کَانَ ، فَإِذَا رَأَیْتَ مَکَّۃَ قَدْ بُعِجَتْ کَظَائِم ، وَرَأَیْتَ الْبِنَائَ یَعْلُو رُؤُوسَ الْجِبَالِ ، فَاعْلَمْ أَنَّ الأَمْرَ قَدْ أَظَلَّک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے بیت اللہ کے گرانے کو ناپسند سمجھا
(١٤٣٠٧) حضرت عبداللہ بن عمرو ارشاد فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کے اٹھائے جانے سے قبل اس سے فائدہ حاصل کرلو، بیشک عنقریب یہ اٹھایا جائے گا اور منہدم ہوگا دو بار، اور پھر اٹھایا جائے گا تیسری بار۔
(۱۴۳۰۷) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ ، عنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : تَمَتَّعُوا مِنْ ہَذَا الْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ ، فَإِنَّہُ سَیُرْفَعُ وَیُہْدَمُ مَرَّتَیْنِ ، وَیُرْفَعُ فِی الثَّالِثَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے بیت اللہ کے گرانے کو ناپسند سمجھا
(١٤٣٠٨) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس نے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس گنجائش (اور طاقت) ہو تو میں کعبہ گراؤں اور اس کی دوبارہ تعمیر اس طرح کروں کہ اس میں دو دروازے بناؤں، ایک دروازہ لوگوں کے داخل ہونے کے لیے اور دوسرا دروازہ جس سے وہ باہر نکلیں، راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر امیر بنے تو آپ نے کعبہ کو گرایا اور آپ نے اس کے دو دروازے بنائے، پھر یہ اسی طرح رہا، جب حجاج بن یوسف آپ پر غالب آیا تو اس نے خانہ کعبہ کو گرا کر اس کو پہلی طرز پر دوبارہ تعمیر کردیا۔
(۱۴۳۰۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ کَانَ عِنْدَنَا سَعَۃٌ لَہَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ ، وَلَبَنَیْتُہَا وَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ ؛ بَابًا یَدْخُلُ مِنْہُ النَّاسُ ، وَبَابًا یَخْرُجُونَ مِنْہُ ، قَالَ : فَلَمَّا وَلِیَ ابْنُ الزُّبَیْرِ ہَدَمَہَا ، فَجَعَلَ لَہَا بَابَیْنِ ، فَکَانَتْ کَذَلِکَ ، فَلَمَّا ظَہَرَ الْحَجَّاجُ عَلَیْہِ ہَدَمَہَا وَأَعَادَ بِنَائَہَا الأَوَّلَ۔ (بخاری ۱۵۸۳۔ مسلم ۹۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ چرواہے کس طرح رمی کریں ؟
(١٤٣٠٩) حضرت ابو البداح بن عدی کے والد سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن رمی کو چھوڑ دیں۔
(۱۴۳۰۹) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَرْمُوا یَوْمًا ، وَیَدَعُوا یَوْمًا۔ (ابوداؤد ۱۹۷۰۔ ابن ماجہ ۳۰۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ چرواہے کس طرح رمی کریں ؟
(١٤٣١٠) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ وہ رات میں رمی کرلیں۔
(۱۴۳۱۰) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَرْمُوا لَیْلاً۔ (بیہقی ۱۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ چرواہے کس طرح رمی کریں ؟
(١٤٣١١) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے چرواہوں کو رخصت دی تھی کہ وہ رات منیٰ میں گزار لیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے اس کا ذکر کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ چرواہے رات میں رمی تو کرتے تھے لیکن رات وہاں نہیں گزارتے تھے۔
(۱۴۳۱۱) حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَبِیتُوا عَنْ مِنًی ، قَالَ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلزُّہْرِیِّ ؟ فَقَالَ : الرِّعَائُ یَرْمُونَ لَیْلاً ، وَلاَ یَبِیتُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ چرواہے کس طرح رمی کریں ؟
(١٤٣١٢) حضرت ابن عمر نے جمرات کی رمی کو ایک مرتبہ اونٹوں کے چرواہوں کے درمیان اس طرح بنایا کہ آپ نے حکم فرمایا جو ان کے پاس تھے، تو انھوں نے سورج کے زائد ہونے پر رمی کی پھر وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلے گئے، اور وہ چرواہے آگئے جو اونٹوں کے پاس تھے، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ اگلی صبح زوال شمس کے بعد انھوں نے رمی کی۔
(۱۴۳۱۲) حدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَجْعَلُ رَمْیَ الْجِمَارِ نَوَائِبَ بَیْنَ رِعَائِ الإِبِلِ ، یَأْمُرُ الَّذِینَ عِنْدَہُ فَیَرْمُونَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ یَذْہَبُونَ إلَی الإِبِلِ ، وَیَأْتِی الَّذِینَ فِی الإِبِلِ فَیَرْمُونَ ، ثُمَّ یَمْکُثُونَ حَتَّی یَرْمُوہَا مِنَ الْغَدِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ پیدل چلنے والا سوار ہو جائے
(١٤٣١٣) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ جب جمرات کی رمی کرے تو پیدل چلنے والا سوار ہوجائے۔
(۱۴۳۱۳) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إسْمَاعِیلَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : یَرْکَبُ الْمَاشِی إذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ پیدل چلنے والا سوار ہو جائے
(١٤٣١٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب تک مناسک حج مکمل نہ ہوجائیں پیدل چلنے والا سوار نہ ہو۔
(۱۴۳۱۴) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لاَ یَرْکَبُ الْمَاشِی حَتَّی یَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ پیدل چلنے والا سوار ہو جائے
(١٤٣١٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب تک مناسک حج مکمل نہ ہوجائیں پیدل سوار نہ ہو۔
(۱۴۳۱۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ یَرْکَبُ الْمَاشِی حَتَّی یَصْدُرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ پیدل چلنے والا سوار ہو جائے
(١٤٣١٦) حضرت عطائ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۱۴۳۱۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُثَنَّی ، عَنْ عَطَائٍ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣١٧) حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس نے رمی کی تو ہم نے آپ کو دیکھا آپ نے ہاتھ اٹھائے، یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ آپ کے سر کے برابر آگئے، اور آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، اور آپ کی کنکری موٹے کارتوس کے برابر تھی۔
(۱۴۳۱۷) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ الطَّائِفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا ، وَسَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولاَنِ : کُنَّا نَرَی عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ إِذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتَّی یُسَاوِیَ رَأْسَہُ ، وَیُرَی بَیَاضُ إبْطَیْہِ ، وَکَانَ حَصَاہُ مِثْلَ البُنْدُقَۃِ الْحَادِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣١٨) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب جمرات کی رمی کرے تو چاہیے کہ اپنے ہاتھوں کو اتنا اٹھائے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔
(۱۴۳۱۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ فَلْیَرْفَعْ یَدَیْہِ حَتَّی یُرَی بَیَاضُ إبْطَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جمرات کی رمی کرتے وقت رفع یدین کرنا
(١٤٣١٩) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر جب رمی فرمائی تو جمرہ کو اپنے سامنے رکھا اور اللہ پاک سے دعا کی اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ہم نے بھی اپنے ہاتوں کو آپ کے ساتھ اٹھایا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو نیچے نہیں کیا یہاں تک کہ اژدہام کی وجہ سے دھکم پیل شروع ہوگئی تو ہم نے اپنے ہاتھ نیچے کرلیے لیکن وہ جس طرح تھے اسی طرح رہے۔
(۱۴۳۱۹) حدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الْوَلِیدُ بْنُ دِینَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ إذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ تَقَدَّمَ أَمَامَہَا ، فَدَعَا اللَّہَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَرَفَعْنَا مَعَہُ ، فَمَا یَضَعُ یَدَیْہِ حَتَّی نَمَلَّ وَنَضَعَ أَیْدِینَا ، وَہُوَ کَمَا ہُوَ۔
তাহকীক: