মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৩৩৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٣) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عشاء کی نماز کا سب سے زیادہ واقف ہوں، آپ عشاء کی نماز مہینے کے شروع میں دوسری رات کے چاند کے سقو ط کے بعد عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۳۳۵۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ : أَنَا مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ ، أَوْ کَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلاَۃِ ) رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعِشَائَ ، کَانَ یُصَلِّیہَا بَعْدَ سُقُوطِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الثَّانِیَۃِ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ۔ (ترمذی ۱۶۵۔ احمد ۴/۲۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٤) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پسند تھی کہ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے۔
(۳۳۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ مِنَ الْعِشَائِ الَّتِی یَدْعُونَہَا النَّاسُ الْعَتَمَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٥) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز کو کبھی جلدی پڑھتے تھے اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
(۳۳۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَجِّلُ الْعِشَائَ وَیُؤَخِّرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٦) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز کو اس وقت ادا فرماتے تھے جبکہ افق سیاہ ہوجاتا اور بعض اوقات اس کو دیر سے پڑھتے تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔
(۳۳۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کان یُصَلِّی الْعِشَائَ حِینَ یَسْوَدُّ الأَفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حَتَّی یَجْتَمِعَ النَّاسُ۔

(ابوداؤد ۳۹۷۔ ابن خزیمۃ ۳۵۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٧) حضرت ابن لبیبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے فرمایا کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھو جب شفق غائب ہوجائے اور آدھی رات سے پہلے رات کی تاریکی زیادہ ہوجائے۔ افق کے سفید ہونے کے بعد تم جتنی جلدی پڑھ لو اتنا ہی افضل ہے۔
(۳۳۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ لَبِیبَۃَ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ : صَلِّ الْعِشَائَ إذَا ذَہَبَ الشَّفَقُ وَادْلاَمَّ اللَّیْلُ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَمَا عَجَّلْتَ بَعْدَ ذَہَابِ بَیَاضِ الأُفُقِ فَہُوَ أَفْضَلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٨) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک ادا کرلو یا زیادہ دیر کرنی ہو تو آدھی رات تک ادا کرلو اور غافلین میں سے مت ہوجانا۔
(۳۳۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إلَی أَبِی مُوسَی أَنْ صَلِّ الْعِشَائَ إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَإِنْ أَخَّرْت فَإِلَی الشَّطْرِ ، وَلاَ تَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٥٩) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودعشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔
(۳۳۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ یُؤَخِّرُ الْعِشَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز کا وقت چوتھائی رات ہے۔
(۳۳۶۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : وَقْتُ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ رُبْعُ اللَّیْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦١) حضرت عمرو بن مروان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نے حضرت علی کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ عشاء کی نماز کس وقت پڑھا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جب شفق غائب ہوجاتا۔
(۳۳۶۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْوَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبِی ، قُلْتُ : صَلَّیْتَ مَعَ عَلِیٍّ ، فَأَخْبِرْنِی کَیْفَ کَانَ یُصَلِّی الْعِشَائَ ؟ قَالَ : إذَا غَابَ الشَّفَقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٢) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عشاء کا وقت ایک تہائی رات تک ہے، اس میں کسی قسم کی نیند یاغفلت نہیں ہے۔
(۳۳۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : وَقْتُ الْعِشَائِ إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَلاَ نَوْمَ ، وَلاَ غَفلَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٣) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے عشاء کی نماز کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کیا۔ جب تہائی رات یا اس سے کچھ زیادہ وقت گذر گیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، میں نہیں جانتا کہ آپ کو کسی کام نے روکا تھا یا آپ کو گھر والوں میں کوئی حاجت تھی۔ آپ نے فرمایا ” میں تمہارے علاوہ کسی ایسے دین کے پیروکاروں کو نہیں جانتا جو اس نما زکا انتظار کرتے ہوں۔ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں یہ نماز انھیں اس وقت میں پڑھنے کا حکم دیتا۔
(۳۳۶۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : انْتَظَرْنَا لَیْلَۃً رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، حَتَّی کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ، أَوْ بَعْدُ ، ثُمَّ خَرَجَ إلَیْنَا ، فَلاَ أَدْرِی أَشَیْئٌ شَغَلَہُ أَوْ حَاجَۃٌ کَانَتْ لَہُ فِی أَہْلِہِ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ أَہْلَ دِینٍ یَنْتَظِرُونَ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ غَیْرَکُمْ ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لَصَلَّیْتُ بِہِمْ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ ہَذِہِ السَّاعَۃَ۔ (بخاری ۵۷۰۔ ابوداؤد ۴۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٤) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات یا آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔
(۳۳۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لأَخَّرْتُ صَلاَۃَ الْعِشَائِ إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، أَوْ نِصْفِ اللَّیْلِ۔ (ابن ماجہ ۶۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٥) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کردی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس رات کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
(۳۳۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَرِیزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدِ السَّکُونِیِّ ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : بَقَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ حَتَّی أَبْطَأَ ، حَتَّی قَالَ الْقَائِلُ : قَدْ صَلَّی وَلَمْ یَخْرُجْ ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ظَنَنَّا أَنَّک صَلَّیْت وَلَمْ تَخْرُجْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃِ ، فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔

(ابوداؤد ۴۲۴۔ احمد ۵/۲۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا، جب آپ تشریف لائے تو آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اس نماز کے لیے اس وقت کو مقرر کردیتا۔
(۳۳۶۶) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْعِشَائِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لَجَعَلْتُ وَقْتَ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ ہَذَا الْحِینَ۔ (دارمی ۱۲۱۵۔ ابن حبان ۱۵۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٧) ایک جہینی شخص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا کہ جب رات ہر وادی کے اندر تک پہنچ جائے تو اس وقت پڑھو۔
(۳۳۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ ، قَالَ : قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَتَی أُصَلِّی الْعِشَائَ ؟ قَالَ : إذَا مَلأَ اللَّیْلُ بَطْنَ کُلِّ وَادٍ۔ (احمد ۵/۳۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٨) حضرت عبد الرحمن بن عبید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت نعمان بن بشیر کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کرتے، ہمارا آخری آدمی ابھی مسجد سے باہر نہیں نکلتا تھا کہ عشاء کا وقت ہوجاتا تھا۔
(۳۳۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی مَعَ النُّعْمَانِ ، یَعْنِی ابْنَ بَشِیرٍ ، الْمَغْرِبَ فَمَا یَخْرُجُ آخرُنَا حَتَّی یَبْدَأَ بِالْعِشَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
(٣٣٦٩) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز جلدی پڑھو ، قبل اس کے کہ کام کاج کرنے والا سستی کرنے لگے اور مریض سو جائے۔
(۳۳۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ: عَجِّلُوا الْعِشَائَ قَبْلَ أَنْ یَکْسَلَ الْعَامِلُ ، وَیَنَامَ الْمَرِیضُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
(٣٣٧٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ منافقین پر سب سے بھاری نماز فجر اور عشاء کی نماز ہے۔ اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ عشاء اور فجر میں کیا ثواب ہے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آئیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں نماز کھڑی کرنے کا حکم دو پھر کسی سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے پھر میں کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں نہیں پہنچتے، پھر ان کے گھروں کو جلا دوں۔
(۳۳۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ أَثْقَلَ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمُنَافِقِینَ صَلاَۃُ الْعِشَائِ وَصَلاَۃُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ ہَمَمْت أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ ، فَتُقَامَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً ، فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ ، مَعَہُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إلَی قَوْمٍ لاَ یَشْہَدُونَ الصَّلاَۃَ ، فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ بِالنَّارِ۔

(بخاری ۶۵۷۔ ابوداؤد ۵۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
(٣٣٧١) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو مسجد میں لوگوں کی کچھ کمی دیکھی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ فلاں حاضر ہے ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ یہاں تک کہ آپ نے تین آدمیوں کا نام لیا۔ پھر فرمایا کہ منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے زیادہ بوجھل نماز کوئی نہیں۔ اگر وہ اس کا ثواب جان لیں تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر مسجد میں آئیں۔
(۳۳۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ ، عَنْ أَبِی بَصِیرٍ ، قَالَ : قَالَ أُبَیّ بْنُ کَعْبٍ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ ، رَأَی مِنْ أَہْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّۃً ، قَالَ : شَاہِدٌ فُلاَنٌ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، حَتَّی عَدَّ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ صَلاَۃٍ أَثْقَلُ عَلَی الْمُنَافِقِینَ مِنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، وَمِنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔(ابوداؤد ۵۵۵۔ احمد ۵/۱۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
(٣٣٧٢) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی آدمی کو عشاء یا فجر کی نماز میں نہ دیکھتے تو اس کے بارے میں برا گمان رکھا کرتے تھے۔
(۳۳۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنق سَعِیدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنَّا إذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ وَصَلاَۃِ الْفَجْرِ ، أَسَأْنَا بِہِ الظَّنَّ۔
tahqiq

তাহকীক: