মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৩৫৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کندھے ننگے کرنے کا حکم
(٣٥٣٣) حضرت محمد بن علی فرمایا کرتے تھے کہ آدمی کو کندھے ڈھانپ کر نماز پڑھنی چاہیے۔
(۳۵۳۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ کَانَ یَقُولُ: لاَ یُصَلِّی الرَّجُلُ، إِلاَّ وَہُوَ مُخَمِّرٌ عَاتِقَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اور امیر کو نماز کے کھڑے ہونے کی خبر دینے کا حکم
(٣٥٣٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرم کہ تشریف لائے تو حضرت ابومحذورہ اذان دینے کے بعد ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہوگیا، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تم پاگل ہو ؟ کیا ہمارے مسجد میں حاضر ہونے کے واسطے وہ پکار کافی نہیں جو تم دے چکے ہو۔
(۳۵۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ مَکَّۃَ أَتَاہُ أَبُو مَحْذُورَۃَ وَقَدْ أَذَّنَ، فَقَالَ: الصَّلاَۃَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، قَالَ: وَیْحَک، أَمَجْنُونٌ أَنْتَ ؟ أَمَا کَانَ فِی دُعَائِکَ الَّذِی دَعَوْتنَا مَا نَأْتِیک حَتَّی تَأْتِیَنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اور امیر کو نماز کے کھڑے ہونے کی خبر دینے کا حکم
(٣٥٣٥) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ نماز کے لیے آنے میں دیر کردیتے تو مؤذن یہ کلمات کہا کرتے تھے : أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ۔
(۳۵۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ، قَالَ: کَانَ الْمُؤَذِّنُ إذَا اسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ، قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آپ سفر میں ہوں اور آپ کو شک ہو جائے کہ سورج زائل ہوگیا یا نہیں تو کیا کریں ؟
(٣٥٣٦) حضرت انس بن مالک نے حضرت محمد بن عمرو سے فرمایا کہ جب آپ سفر میں ہوں اور آپ کو شک ہوجائے کہ سورج زائل ہوگیا یا نہیں، یا آدھا دن گذر گیا ہے یا نہیں گذرا تو کوچ کرنے سے پہلے ظہر کی نماز پڑھ لیں۔
(۳۵۳۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مِسْحَاجِ بْنِ مُوسَی الضَّبِّیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو: إذَا کُنْتَ فِی سَفَرٍ، فَقُلْتُ: أَزَالَتِ الشَّمْسُ، أَوْ لَمْ تَزُلْ، أَوِ انْتَصَفَ النَّہَارُ، أَوْ لَمْ یَنْتَصِفْ، فَصَلِّ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آپ سفر میں ہوں اور آپ کو شک ہو جائے کہ سورج زائل ہوگیا یا نہیں تو کیا کریں ؟
(٣٥٣٧) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب آپ سفر میں ہوں اور آپ کو شک ہوجائے کہ سورج زائل ہوگیا یا نہیں تو نماز پڑھ لیں۔
(۳۵۳۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ: إذَا کُنْتَ فِی سَفَرٍ ، فَقُلْتُ : زَالَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَزُلْ ، فَصَلِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آپ سفر میں ہوں اور آپ کو شک ہو جائے کہ سورج زائل ہوگیا یا نہیں تو کیا کریں ؟
(٣٥٣٨) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی جگہ قیام فرماتے تو وہاں اسے اس وقت تک کوچ نہیں کرتے تھے جب تک ظہر کی نماز نہ پڑھ لیں۔ یہ سن کر محمد بن عمرو نے عرض کیا خواہ ابھی آدھا دن گذرا ہوتا ؟ فرمایا ہاں، خواہ آدھا دن گذرا ہوتا۔
(۳۵۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ حَمْزَۃَ الضَّبِّیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا نَزَلَ مَنْزِلاً لَمْ یَرْتَحِلْ حَتَّی یُصَلِّیَ الظُّہْرَ، فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَإِنْ کَانَ نِصْفَ النَّہَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ کَانَ نِصْفَ النَّہَارِ۔ (ابوداؤد ۱۱۹۸۔ احمد ۳/۱۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
(٣٥٣٩) حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو کوئی بیماری تھی، وہ دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں آیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ اے ابو یزید ! آپ معذور ہیں، اگر چاہیں تو نماز کے لیے نہ آئیں۔ فرمایا کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن میں مؤذن کی آواز سنتا ہوں جب وہ کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ تو جو یہ سنے اسے نماز کے لیے آنا چاہیے خواہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آئے۔
(۳۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ بِہِ مَرَضٌ، فَکَانَ تُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ إلَی الصَّلاَۃِ، فَیُقَالُ لَہُ: یَا أَبَا زَیْدٍ، إنَّک إِنْ شَائَ اللَّہُ فِی عُذْرٍ، فَیَقُولُ: أَجَلْ، وَلَکِنِّی أَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ یَقُولُ: حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، فَمَنْ سَمِعَہَا فَلْیَأْتِہَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ زَحْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
(٣٥٤٠) حضرت سعد بن عبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن کو حالت مرض میں اٹھاکر مسجد کی طرف لایا جاتا تھا۔
(۳۵۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُحْمَلُ وَہُوَ مَرِیضٌ إلَی الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
(٣٥٤١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ مرض الوفات میں آپ دو آدمیوں کے سہارے چل کر گئے اور صف میں جاکر کھڑے ہوگئے۔
(۳۵۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ وَإِنَّہُ لیُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ حَتَّی دَخَلَ فِی الصَّفِّ۔
(بخاری ۷۱۳)
(بخاری ۷۱۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
(٣٥٤٢) حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ تیس سال سے جب بھی مؤذن اذان دیتا ہے میں مسجد میں ہوتا ہوں۔
(۳۵۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ شَیْخٍ یُکَنَّی أَبَا سَہْلٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، قَالَ: مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ مُنْذُ ثَلاَثِینَ سَنَۃً، إِلاَّ وَأَنَا فِی الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
(٣٥٤٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف جماعت چھوڑنے کی اجازت صرف مریض کو اور اس شخص کو دیتے تھے جسے دشمن کا خوف ہو۔
(۳۵۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: مَا کَانُوا یُرَخِّصُونَ فِی تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ، إِلاَّ لِخَائِفٍ، أَوْ مَرِیضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٤) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صفوں کے درمیان اعتدال رکھو اور جڑ جڑ کر کھڑے ہوجاؤ، میں تمہیں اپنی کمر کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہم اس طرح نماز میں کھڑے ہوتے تھے کہ ہمارا کندھا دوسرے کے کندھے سے اور ہمارا پاؤں دوسرے کے پاؤں سے جڑا ہوتا تھا، جب لوگوں نے اس احتیاط کو چھوڑ دیا تو وہ سرکش خچر کی طرح نظر آنے لگے۔
(۳۵۴۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اعْتَدِلُوا فِی صُفُوفِکُمْ وَتَراصَّوا، فَإِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی، قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَیْت أَحَدَنَا یُلْزِقُ مَنْکِبَہُ بِمَنْکِبِ صَاحِبِہِ، وَقَدَمَہُ بِقَدَمِہِ، وَلَوْ ذَھَبْتَ تَفْعَلَ ذَلِکَ لَتَرَی أَحَدَھُمْ کَأَنَّہُ بَغْلٌ شَمُوسٌ۔ (بخاری ۷۲۵۔ احمد ۳/۱۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٥) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اس طرح صفوں کو سیدھا کررہے تھے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایک دن ایک آدمی کا سینہ صف سے آگے بڑھا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا کرلو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت ڈال دے گا۔
(۳۵۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِنَّہُ لیقَوِّمُ الصُّفُوفَ کَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ، فَأَبْصَرَ یَوْمًا صَدْرَ رَجُلٍ خَارِجًا مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: لَتُقِیمُنَّ صُفُوفَکُمْ، أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللَّہُ بَیْنَ وُجُوہِکُمْ۔ (مسلم ۳۲۵۔ ابوداؤد ۶۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٦) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور حذف کے بچوں کی طرح آگے پیچھے نہ رہو۔ کسی نے پوچھا یارسول اللہ ! حذف کے بچے کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ حذف کالی اور بغیر بالوں کی بھیڑ ہے جو یمن میں ہوتی ہے۔
(۳۵۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ طَلْحَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ لاَ یَتَخَلَّلُکُمْ کَأَوْلاَدِ الْحَذَفِ، قِیلَ: یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَوْلاَدُ الْحَذَفِ ؟ قَالَ: ضَأْنٌ سُودٌ جُرْدٌ تَکُونُ بِأَرْضِ الْیَمَنِ۔ (ابوداؤد ۶۶۴۔ احمد ۴/۲۹۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٧) حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر صفیں درست کرتے اور فرماتے کہ صفیں سیدھی رکھو، آگے پیچھے مت کھڑے ہو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دے گا۔ تم میں سے عقل اور دانش والے لوگ نماز میں میرے قریب کھڑے ہوں اور ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو سمجھ میں ان سے کم ہیں۔ حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ آج تمہارا تنازیادہ اختلاف صفیں سیدھی نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔
(۳۵۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، وَوَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلاَۃِ وَیَقُولُ: اسْتَوُوا، وَلاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُکُمْ، لِیَلِیَنِّی مِنْکُمْ أُولُوا الأَحْلاَمِ وَالنُّہَی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْیَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلاَفًا۔
(مسلم ۱۲۲۔ ابوداؤد ۶۷۴)
(مسلم ۱۲۲۔ ابوداؤد ۶۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٨) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صفیں سیدھی رکھو، کیونکہ صفیں سیدھی رکھنا نماز کا حسن ہے۔
(۳۵۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ، فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلاَۃِ إقَامَۃَ الصف۔ (بخاری ۷۲۳۔ مسلم ۱۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٤٩) حضرت حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں ہمارے لیے دین کو بیان کیا اور ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا۔ اس بیان میں آپ نے فرمایا ” جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو “
(۳۵۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الرَّقَاشِیِّ، قَالَ: صَلَّی بِنَا أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ، فَلَمَّا انْفَتَلَ قَالَ: إِنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَیَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا، فَقَالَ: إذَا صَلَّیْتُمْ فَأَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٥٠) حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں حضرت عمرصفیں سیدھی کرنے کے لیے اپنے آگے کھڑا کیا کرتے تھے۔
(۳۵۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: کُنْتُ فِیمَنْ یُقِیمُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قُدَّامَہُ لإِقَامَۃِ الصَّفِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٥١) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے کسی آدمی کو صف میں آگے بڑھا ہوا دیکھا تو اسے ہاتھ کے اشارہ سے پیچھے کیا۔
(۳۵۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَہَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ رَأَی فِی الصَّفِّ شَیْئًا، فَقَالَ بِیَدِہِ ہَکَذَا، یَعْنِی وَکِیعٌ، فَعَدَّلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف کی درستگی کے بارے میں احکامات
(٣٥٥٢) حضرت مالک بن ابی عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان فرمایا کرتے تھے کہ برابر کھڑے ہو اور کندھوں کو بھی برابر رکھو۔ اس لیے کہ نماز کا کمال صفوں کے سیدھا ہونے میں ہے۔ حضرت عثمان اس وقت تک تکبیر تحریمہ نہیں کہتے تھے جب تک وہ آدمی آکر انھیں اطلاع نہ دے دیتے جنہیں آپ نے صفیں سیدھی کرنے پر مقرر کیا ہوتا تھا۔
(۳۵۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَہُوَ یَقُولُ: اسْتَوُوا وَحَاذُوا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ، فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَۃِ إقَامَۃَ الصَّفِّ، قَالَ: وَکَانَ لاَ یُکَبِّرُ حَتَّی یَأْتِیَہُ رِجَالٌ قَدْ وَکَّلَہُمْ بِإِقَامَۃِ الصُّفُوفِ۔
তাহকীক: