মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৪১৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٣) حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا : وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور وہ امام جس سے لوگ خوش نہ ہوں۔
(۴۱۳۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، قَالَ: کَانَ یُقَالُ: أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا؛ امْرَأَۃٌ تَعْصِی زَوْجَہَا، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ۔(ترمذی ۳۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٤) حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ آدمی جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہو یہاں تک کہ وہ واپس آجائے۔ وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور ناراض ہو کر اس سے الگ رہے۔
(۴۱۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاَثَۃٌ لاَ تُقْبَلُ لَہُمْ صَلاَۃٌ ؛ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ ، وَالْعَبْدُ إذَا أَبَقَ حَتَّی یَرْجِعَ إلَی مَوْلاَہُ ، وَامْرَأَۃٌ إذَا بَاتَتْ مُہَاجِرَۃً لِزَوْجِہَا ، عَاصِیَۃً لَہُ۔ (ابن ماجہ ۹۷۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٥) حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لیے آگے کیا ، انھوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انھیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو ؟ انھوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہر جائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔
(۴۱۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَیْمِرَۃَ یَذْکُرُ ؛ أَنَّ سَلْمَانَ قَدَّمَہُ قَوْمٌ یُصَلِّی بِہِمْ ، فَأَبَی حَتَّی دَفَعُوہُ ، فَلَمَّا صَلَّی بِہِمْ قَالَ : کُلّکُمْ رَاضٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، إنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : ثَلاَثَۃٌ لاَ تُقْبَلُ صَلاَتُہُمُ ؛ الْمَرْأَۃُ تَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہَا بِیْرِ ، إذْنِہِ ، وَالْعَبْدُ الآبِقُ ، وَالرَّجُلُ یَؤُمُّ الْقَوْمَ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٦) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی : ایک وہ غلام جوا پنے مالک سے بھاگا ہو، دوسری وہ عورت جو اس حال میں رات گذارے کے اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور تیسرا وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن لوگ اس سے راضی نہ ہو۔
(۴۱۳۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِی غَالِبٍ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ثَلاَثَۃٌ لاَ تُجَاوِزُ صَلاَتُہُمْ رُؤُوسَہُمْ حَتَّی یَرْجِعُوا ؛ الْعَبْدُ الآبِقُ ، وَامْرَأَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَیْہَا سَاخِطٌ ، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ۔ (ترمذی ۳۶۰۔ طبرانی ۸۰۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٣٧) حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ایک سفر میں تھے، انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا کہ یا تو تم کوئی دوسرا امام ڈھونڈ لو یا الگ الگ نماز پڑھ لیا کرو۔
(۴۱۳۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : خَرَجَ فِی سَفَرٍ فَتَقَدَّمَ فَأَمَّہُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَتَلْتَمِسُنَّ إمَامًا غَیْرِی ، أَوْ لَتُصَلُّنَّ وُحْدَانًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٣٨) حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ یا تو تم کوئی دوسرا امام ڈھونڈ لو یا الگ الگ نماز پڑھ لیا کرو۔
(۴۱۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَشْیَاخِ مُحَارِبٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : لَتَبْتَغُنَّ إمَامًا غَیْرِی ، أَوْ لَتُصَلُّنَّ وُحْدَانًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٣٩) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اذان کے لیے آگے بڑھ کر کوشش کیا کرو لیکن امامت کے لیے آگے مت بڑھو۔
(۴۱۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ابْتَدِرُوا الأَذَانَ ، وَلاَ تَبْتَدِرُوا الإِمَامَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٤٠) حضرت حسن بن عقبہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ضحاک کے ساتھ تھے انھوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا ہے جو آگے بڑھ کر اذان دے اور نماز پڑھائے۔ سب لوگوں نے انکار کیا تو ہم نے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھ لی۔
(۴۱۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عُقْبَۃَ أبِی کِبْرَانَ ، أَنَّہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ الضَّحَّاکِ فَقَالَ : إِنْ کَانَ مِنْکُمْ مَنْ یَتَقَدَّمُ فَلْیُؤَذِّنْ وَلْیُصَلِّ ، قَالَ : فَأَبَوْا ، فَصَلَّیْنَا وُحْدَانًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٤١) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ شیطان مسلسل میرے دل میں یہ بات ڈالتا رہا کہ میں اپنے پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں سے افضل ہوں۔ لہٰذا اب میں کبھی نماز نہیں ر پڑھاؤں گا۔
(۴۱۴۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَمَّ أَبُو عُبَیْدَۃَ قَوْمًا مَرَّۃً ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : مَا زَالَ عَلَیَّ الشَّیْطَانُ آنِفًا حَتَّی رَأَیْت أَنَّ الْفَضْلَ لِی عَلَی مَنْ خَلْفِی ، لاَ أَؤُمّ أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٤٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ امامت سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو حضرت عبداللہ پیچھے ہوگئے اور حضرت حذیفہ کو نماز کے لیے آگے ہونا پڑا۔ جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ یا تو تم کسی اور کو امام بنا لو یا ا کے لم اکیلے نماز پڑھ لیا کرو۔
(۴۱۴۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ حُذَیْفَۃُ یَتَخَلَّفُ عَنِ الإِمَامَۃِ ، قَالَ : فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ذَاتَ یَوْمٍ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ عَبْدُ اللہِ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ حُذَیْفَۃُ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ لَہُم : لَتَبْتَغُنَّ، أَوْ کَلِمَۃً غَیْرَہَا ، إمَامًا غَیْرِی ، أَوْ لَتُصَلُّنَّ فُرَادَی ۔ قَالَ : فَقَالَ مُجَاہِدٌ : قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ قَالَ : أَوْ لَتُصَلُّنَّ وُحْدَانًا ، قَالَ : فَقَالَ إبْرَاہِیمُ : أَوْ قَالَ : لَتُصَلُّنَّ وُحْدَانًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٤٣) حضرت عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے صاحب لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے پھر انھوں نے نماز پڑھانی چھوڑ دی۔ ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نماز پڑھانی کیوں چھوڑ دی ؟ انھوں نے فرمایا کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کوئی شخص مجھے نماز پڑھاتے ہوئے دیکھے اور کہے کہ اس آدمی کو اس لیے آگے کیا گیا ہے کہ یہ سب سے افضل ہے۔ خدا کی قسم ! میں آئندہ نماز نہیں پڑھاؤں گا۔
(۴۱۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ شَیْخٌ مِنْ تِلْکَ الشُّیُوخِ یَؤُمُّ قَوْمَہُ ثُمَّ تَرَکَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَلَقِیَہُ بَعْضُ إِخْوَانِہِ ، فَقَالَ لَہُ : لِمَ تَرَکْت إمَامَۃَ قَوْمِکَ ؟ قَالَ : کَرِہْتُ أَنْ یَمُرَّ الْمَارُّ فَیَرَانِی أُصَلِّی فَیَقُولُ : مَا قَدَّمَ ہَؤُلاَء ہَذَا الرَّجُلَ إِلاَّ وَہُوَ خَیْرُہُمْ ، وَاللَّہِ لاَ أَؤُمُّہُمْ أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
(٤١٤٤) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں حضرت ابن سیرین کے ساتھ تھا۔ جب ہم جنازے سے فارغ ہوئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ جب نماز کی اقامت کہی گئی تو حضرت ابن سیرین سے کہا گیا کہ آگے ہوجائیں ! انھوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے ہوجائے، اور آگے وہی ہو جس نے قرآن مجید پڑھا ہو۔ پس میں آگے ہوگیا اور میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب میں نماز پڑھا کر فارغ ہوا تو میں نے اپنے دل میں کہا میں نے یہ کیا کیا ؟ جس کام کو ابن سیرین نے اپنے لیے ناپسند کیا میں وہ کر بیٹھا اور آگے بڑھ گیا ! چنانچہ میں نے حضرت ابن سیرین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے مجھے ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جسے اپنے لیے ناپسند فرمایا ؟ وہ کہنے لگے کہ میں اس بات کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کوئی گذرنے والا گذرے اور کہے یہ ابن سیرین ہیں جو نماز پڑھا رہے ہیں !
(۴۱۴۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ سِیرِینَ فِی جِنَازَۃٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا حضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، قَالَ : فَلَمَّا أُقِیمَتْ قِیلَ لابْنِ سِیرِینَ : تَقَدَّمْ ، قَالَ : فَقَالَ : لِیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ ، وَلاَ یَتَقَدَّمْ إِلاَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، قَالَ ، ثُمَّ قَالَ لِی : تَقَدَّمْ ، فَتَقَدَّمْتُ فَصَلَّیْتُ بِہِمْ ، فَلَمَّا فَرَغْت قُلْتُ فِی نَفْسِی : مَاذَا صَنَعْت ؟ شَیْئًا کَرِہَہُ ابْنُ سِیرِینَ لِنَفْسِہِ تَقَدَّمْت عَلَیْہِ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، أَمَرْتَنِی بِشَیْئٍ کَرِہْتَہُ لِنَفْسِکَ ؟ فَقَالَ : إنِّی کَرِہْتُ أَنْ یَمُرَّ الْمَارُّ فَیَقُولَ : ہَذَا ابْنُ سِیرِینَ یَؤُمّ النَّاسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی دو رکعتوں میں قراءت بھول جائے تو دوسری دو رکعتوں میں کرے گا
(٤١٤٥) حضرت عبداللہ بن حنظلہ راہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ پہلی رکعت میں قراءت کرنا بھول گئے، جب وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو انھوں نے سورة الفاتحہ اور سورت کو دو مرتبہ پڑھا۔ جب انھوں نے اپنی نماز مکمل کرلی تو دو سجدے کئے۔
(۴۱۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْیَمَامِیُّ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْہِفَّانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَنَسِیَ أَنْ یَقْرَأَ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی ، فَلَمَّا قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ قَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ مَرَّتَیْنِ وَسُورَتَیْنِ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی دو رکعتوں میں قراءت بھول جائے تو دوسری دو رکعتوں میں کرے گا
(٤١٤٦) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرنا بھول جائے تو دوسری دو رکعتوں میں کرے گا۔
(۴۱۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ؛ أَنَّہُ نَسِیَ أَنْ یَقْرَأَ فِی الأُولَیَیْنِ ، فَقَرَأَ فِی الأُخْرَیَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی دو رکعتوں میں قراءت بھول جائے تو دوسری دو رکعتوں میں کرے گا
(٤١٤٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرنا بھول جائے تو دوسری دو رکعتوں میں کرے گا۔
(۴۱۴۷) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا نَسِیَ أَنْ یَقْرَأَ فِی الأُولَیَیْنِ ، قَرَأَ فِی الأُخْرَیَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام کے ساتھ ایک ہی آدمی ہو تو نماز کیسے پڑھیں ؟
(٤١٤٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت اسود کے پیچھے کھڑا ہوتا تھا یہاں تک کہ مؤذن اذان دے کر نیچے اتر آئے۔
(۴۱۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، وَالْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُنْتُ أَقُومُ خَلْفَ الأَسْوَدِ حَتَّی یَنْزِلَ الْمُؤَذِّنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام کے ساتھ ایک ہی آدمی ہو تو نماز کیسے پڑھیں ؟
(٤١٤٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رکوع تک امام کے پیچھے کھڑا رہے، اگر کوئی آجائے تو ٹھیک، بصورتِ دیگر امام کے دائیں جانب کھڑا ہوجائے۔
(۴۱۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَقُومُ خَلْفَ الإِمَامِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الرَّکْعَۃِ ، فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ ، وَإِلاَّ قَامَ عَنْ یَمِینِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام کے ساتھ ایک ہی آدمی ہو تو نماز کیسے پڑھیں ؟
(٤١٥٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت علقمہ کے پیچھے کھڑا رہتا یہاں تک کہ کوئی مسجد میں داخل ہوجاتا یا موذن اتر آتا۔
(۴۱۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی أَقُومُ خَلْفَ عَلْقَمَۃَ حَتَّی یَدْخُلَ دَاخِلٌ ، أَوْ یَنْزِلَ مُؤَذِّنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے نہ پڑھا کرتے تھے
(٤١٥١) حضرت قیس بن عبایہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عبداللہ بن مغفل نے اپنے والد کے بارے میں بیان کیا (وہ بدعات کے معاملے میں تمام صحابہ سے زیادہ سختی کرنے والے تھے) کہ ایک مرتبہ انھوں نے مجھے نماز میں { بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم } کہتے سنا تو مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے ! بدعت سے بچو ! میں نے رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور ان میں سے کسی کو بھی { بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم } کہتے نہیں سنا۔ جب تم قرات کرو تو { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } کہو۔
(۴۱۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عَبَایَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ ، وَلَمْ أَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ أَشَدَّ عَلَیْہِ حَدَثٌ فِی الإِسْلاَمِ مِنْہُ ، قَالَ : سَمِعَنِی أَبِی وَأَنَا أَقْرَأُ : {بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم} قَالَ : یَا بُنَیَّ ، إیَّاکَ وَالْحَدَثَ ، فَإِنِّی قَدْ صَلَّیْت خَلْفَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِی بَکْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْہُمْ یَقُولُ ذَلِکَ ، إذَا قَرَأْت فَقُلِ : {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}۔ (ترمذی ۲۴۴۔ احمد ۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے نہ پڑھا کرتے تھے
(٤١٥٢) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان قراءت کو { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } سے شروع کیا کرتے تھے۔ راوی حمید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انھوں نے نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بھی کیا۔
(۴۱۵۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ کَانُوا یَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَائَۃَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} ۔ قَالَ حُمَیْدٌ : وَأَحْسَبُہُ ذَکَرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (عبدالرزاق ۲۵۹۲۔ ابو یعلی ۳۵۰۹)
তাহকীক: