মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৪১১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو امام تکبیر کہہ دے
(٤١١٣) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ امام مؤذن کے قد قامت الصلاۃ کہنے سے پہلے کھڑا ہو اور اس بات کو بھی مکروہ خیال فرماتے تھے کہ وہ اقامت مکمل ہونے سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہے۔
(۴۱۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ کَرِہَ أَنْ یَقُومَ الإِمَامُ حَتَّی یَقُولَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ، وَکَرِہَ أَنْ یُکَبِّرَ حَتَّی یَفْرُغَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ إقَامَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو امام تکبیر کہہ دے
(٤١١٤) حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کا معمول یہ تھا کہ جب مؤذن حی علی الصلاۃ کہتا تو وہ کھڑے ہوتے اور جب وہ اقامت مکمل کرلیتا تو وہ تکبیرِ تحریمہ کہتے۔
(۴۱۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ إذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ قامَ ، فَإذَا قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کَبَّرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو امام تکبیر کہہ دے
(٤١١٥) حضرت اعمش کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن وثاب کا معمول یہ تھا کہ جب تک مؤذن اقامت کہتا اس وقت تک خاموش رہتے اور جب وہ فارغ ہوجاتا تو تکبیرِ تحریمہ کہتے۔ جبکہ حضرت ابراہیم اس وقت تکبیر کہہ لیتے تھے جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہتا تھا۔
(۴۱۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، قَالَ : کَانَ یَسْکُتُ حَتَّی یَفْرُغَ الْمُؤَذِّنُ ، ثُمَّ یُکَبِّرَ ۔ وَکَانَ إبْرَاہِیمُ یَقُولُ إذَا قَامَتِ الصَّلاَۃُ کَبَّرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
(٤١١٦) حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
(۴۱۱۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی۔ (بخاری ۶۳۷۔ مسلم ۱۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
(٤١١٧) حضرت ابو خالد والبی کہتے ہیں کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاچکی تھی تو حضرت علی تشریف لائے، اس وقت لوگ کھڑے ہو کر ان کا انتظار کررہے تھے۔ حضرت علی نے ان سے فرمایا کہ تم غافلوں کی طرح منہ اٹھائے کیوں کھڑے ہو ؟ !
(۴۱۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ زَائِدَۃَ بْنِ نَشِیطٍ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلِیٌّ وَقَدْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ وَہُمْ قِیَامٌ یَنْتَظِرُونَہُ ، فَقَالَ : مَا لِی أَرَاکُمْ سَامِدِینَ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
(٤١١٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات مکروہ سمجھتے تھے کہ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو لوگ امام کی عدم موجودگی میں کھڑے ہوجائیں اور کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں۔ اور کہا جاتا تھا کہ اس طرح کھڑا ہونا غفلت کا کھڑا ہونا ہے۔
(۴۱۱۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَقُومَ الرَّجُلُ إذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، وَلَیْسَ عِنْدَہُمُ الإِمَامُ ، وَکَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَنْتَظِرُوا الإِمَامَ قِیَامًا، وَکَانَ یُقَالُ: ہُوَ السَّمُودُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
(٤١١٩) حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ لوگ کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں گے یا بیٹھ کر ؟ انھوں نے فرمایا بیٹھ کر۔
(۴۱۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : الْقَوْمُ یَنْتَظِرُونَ الإِمَامَ قِیَامًا ، أَوْ قُعُودًا ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ قُعُودًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
(٤١٢٠) حضرت ابراہیم ان لوگوں کے بارے میں جو کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں فرماتے ہیں کہ یہ غفلت کا کھڑا ہونا ہے۔
(۴۱۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْقَوْمِ یَنْتَظِرُونَ الإِمَامَ قِیَامًا ، قَالَ : ذَلِکَ السَّمُودُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو لوگوں کو کھڑا ہوجانا چاہیے
(٤١٢١) حضرت ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو مقام خناصرہ میں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہے تو تم کھڑے ہوجاؤ کیونکہ اس وقت نماز کھڑی ہوجاتی ہے۔
(۴۱۲۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : سَمِعْت عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِخَنَاصِرَۃَ یَقُولُ حِینَ یَقُولُ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ : قُومُوا ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو لوگوں کو کھڑا ہوجانا چاہیے
(٤١٢٢) حضرت حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ امام مؤذن کے قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہنے سے پہلے کھڑا ہوجائے۔
(۴۱۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُومَ الإِمَامُ حَتَّی یَقُولَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دورانِ اقامت مسجد میں داخل ہورہا ہے، وہ کھڑا رہے یا بیٹھ جائے ؟
(٤١٢٣) حضرت سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن ابی یزید نے حضرت حسین بن علی کو زمزم کے حوض میں دیکھا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت ہوگئی۔ جس پر امام اور کچھ لوگوں میں کچھ بات ہوگئی۔ اعلان کرنے والا کہتا تھا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے اور لوگ اسے بیٹھنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ پھر کہتا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔
(۴۱۲۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : رَأَی عُبَیْدُ اللہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ فِی حَوْضِ زَمْزَمَ ، وَقَدْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ، فَشَجر بَیْنَ الإِمَامِ وَبَعْضِ النَّاسِ شَیْئٌ ، وَنَادَی الْمُنَادِی : قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، فَجَعَلُوا یَقُولُونَ لَہُ : اجْلِسْ ، فَیَقُولُ : قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دورانِ اقامت مسجد میں داخل ہورہا ہے، وہ کھڑا رہے یا بیٹھ جائے ؟
(٤١٢٤) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی دورانِ اقامت مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ اگر چاہے تو کھڑا رہے کیونکہ بوڑھے آدمی کے لیے اس میں زیادہ سہولت ہے۔ اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۴۱۲۴) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : إذَا دَخَلَ الرَّجُلُ وَالْمُؤَذِّنُ یُقِیمُ الصَّلاَۃَ ، قَالَ : لِیَقُمْ کَمَا ہُوَ إِنْ شَائَ ، فَإِنَّ ذَلِکَ یُرْفِقُ بِالرَّجُلِ الْکَبِیرِ ، وَقَالَ عَامِرٌ: لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دورانِ اقامت مسجد میں داخل ہورہا ہے، وہ کھڑا رہے یا بیٹھ جائے ؟
(٤١٢٥) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ایک مرتبہ مسجد میں پہنچے تو مؤذن نے اقامت شروع کردی تھی، حضرت ابراہیم نے مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے تک اپنا پاؤں سائبان اور صحن کے درمیان رکھ دیا۔
(۴۱۲۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ إبْرَاہِیمَ انْتَہَی إلَی الْمَسْجِدِ وَقَدْ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِی الإِقَامَۃِ ، فَوَضَعَ رِجْلَہُ بَیْنَ الظُّلَّۃِ وَالصَّحْنِ حَتَّی فَرَغَ مِنَ الإِقَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی آدمی اذان اور امامت انجام دے سکتا ہے ؟
(٤١٢٦) حضرت عمران بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت سوید نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے میں طاقت ہوتی کہ میں ہی اذان دوں اور میں ہی امامت کراؤں تو میں ایسا کرلیتا۔ حضرت عمران کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت مصعب بن سعد سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بات سنت نہیں کہ ایک ہی آدمی اذان بھی دے اور امامت بھی کرائے۔
(۴۱۲۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : قَالَ سُوَیْد : لَوِ اسْتَطَعْتُ لَکُنْت أُؤَذِّنُ لَہُمْ وَأَؤُمُّہُمْ ، قَالَ : فَذَکَرْت ذَلِکَ لِمُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، فَقَالَ : أَمَا إنَّ ذَلِکَ لَیْسَ مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ یَکُونَ مُؤَذِّنًا وَإِمَامًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی آدمی اذان اور امامت انجام دے سکتا ہے ؟
(٤١٢٧) حضرت اصبغ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سفر میں اذان بھی دیتے تھے اور امامت بھی کراتے تھے۔
(۴۱۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَوَّادٍ ، عَنْ أَصْبَغَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُؤَذِّنُ لَنَا وَیَؤُمُّنَا فِی السَّفَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی آدمی اذان اور امامت انجام دے سکتا ہے ؟
(٤١٢٨) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر اذان اور امامت الگ الگ آدمیوں کا انجام دینا سنت نہ ہوتا تو میں اذان بھی دیتا۔
(۴۱۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ الْعَنَزِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ: لَوْلاَ أَنْ یَکُونَ سُنَّۃً لأَذَّنْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٢٩) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت اسود بن ہلال سے کہا گیا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ کیا تم میری امامت سے راضی ہو ؟
(۴۱۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، قَالَ : قیلَ لِلأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ : تَقَدَّمْ ، فَقَالَ : أَرَاضُونَ أَنْتُمْ ؟
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٠) حضرت عیزار بن جرول کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت علی سے اپنے امام کی شکایت کی تو حضرت علی نے اس سے فرمایا کہ تم بہت بیوقوف آدمی ہو، تم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہو اور وہ تم سے خوش نہیں۔
(۴۱۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ قَیْسٍ الْحَضْرَمِیُّ ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ ؛ أَنَّ قَوْمًا شَکَوْا إمَامًا لَہُمْ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : إنَّک لَخَرُوطٌ ، تَؤُمُّ قَوْمًا وَہُمْ کَارِہُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کچھ لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت پر راضی نہ ہوں تو اس کی نماز اس کے سر کے اوپر نہیں جاتی۔
(۴۱۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ النَّاجِی ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ ، لَمْ تَجُزْ صَلاَتُہُ تَرْقُوَتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤١٣٢) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر کے اوپر بھی نہیں جاتی۔ ایک وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسری وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے۔ تیسرا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو۔
(۴۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : ثَلاَثَۃٌ لاَ تُجَاوِزُ صَلاَۃُ أَحَدِہِمْ رَأْسَہُ ؛ إمَامُ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ ، وَامْرَأَۃٌ تَعْصِی زَوْجَہَا ، وَعَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَیِّدِہِ۔
tahqiq

তাহকীক: