মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৫৮৩১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذر (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٢) حضرت عبداللہ بن خراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) کو مقام ربذہ میں دیکھا ان کے ساتھ ایک سحماء یا شحباء عورت تھی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر (رض) ایک سیاہ سائبان میں تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوذر (رض) سے کہا گیا۔ اگر آپ اس عورت سے بلند عورت رکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم ! میں کوئی ایسی عورت رکھوں جو مجھے نیچا رکھے یہ بات مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی عورت رکھوں جو مجھے بلند کرے۔ لوگوں نے کہا : اے ابوذر (رض) ! آپ اولاد کی طرف سے غم زدہ ہیں۔ آپ کا کوئی بچہ باقی نہیں رہتا۔ راوی کہتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا : ہم اس اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں جو ہم سے دارالفناء میں بچے لیتا ہے اور ان کو ہمارے لیے دارالبقاء میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر (رض) ٹاٹ اور بالوں سے بنے بچھونے پر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : اے ابوذر (رض) ! اگر آپ کوئی ایسا بچھونا بنا لیتے جو آپ کے اس بچھونے سے نرم ہوتا ؟ اس پر انھوں نے فرمایا : اللَّہُمَّ غُفْرًا ” اے اللہ ! مغفرت عطا فرما۔ “ مجھے جو دیا جائے وہ آپ لے لیں۔ کیونکہ ہم تو اس گھر کے لیے عامل پیدا کیے گئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔
(۳۵۸۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خِرَاشٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ ، وَعِنْدَہُ امْرَأَۃٌ لَہُ سَحْمَائُ ، أَوْ شَحْبَائُ ، قَالَ : وَہُوَ فِی مِظَلَّۃٍ سَوْدَائَ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : یَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوِ اتَّخَذْت امْرَأَۃً ہِیَ أَرْفَعُ مِنْ ہَذِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : إنِّی وَاللہِ لأَنْ أَتَّخِذَ امْرَأَۃً تَضَعُنِی ، أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَّخِذَ امْرَأَۃً تَرْفَعُنِی ، قَالُوا : یَا أَبَا ذَرٍّ ، إنَّک مُرْزَؤٌ مَا یَکَادُ یَبْقَی لَک وَلَدٌ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنَّا نَحْمَدُ اللَّہَ الَّذِی یَأْخُذُہُمْ مِنَّا فِی دَارِ الْفَنَائِ وَیَدَّخِرْہُم لَنَا فِی دَارِ الْبَقَائِ ، قَالَ : وَکَانَ یَجْلِسُ عَلَی قِطْعَۃِ الْمِسْحِ وَالْجَوَالِقِ ، قَالَ : فَقَالُوا: یَا أَبَا ذَرٍّ لَوِ اتَّخَذْت بِسَاطًا ہُوَ أَلْیَنُ مِنْ بِسَاطِکَ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ : اللَّہُمَّ غُفْرًا ، خُذْ مَا أُوتِیت ، إنَّمَا خُلِقْنَا لِدَارٍ لَہَا نَعْمَلُ وَإِلَیْہَا نَرْجِعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذر (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٣) حضرت ابوالجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء (رض) نے حضرت ابوذر (رض) کی طرف قاصد بھیجا۔ قاصد آیا اور اس نے حضرت ابوذر کو کہا آپ کے بھائی حضرت ابوالدرداء (رض) آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے کہتے ہیں اللہ سے ڈرو اور لوگوں سے مخفی رہو۔ اس پر حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : مجھے لوگوں سے کیا لینا ہے۔ میں نے ان کے لیے ان کی چاندی سونے کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے قاصد سے فرمایا۔ گھر کی طرف چلو۔ وہ آپ کے ہمراہ چل پڑا۔ پس جب وہ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو ایک چوغہ میں تھوڑی سی کھانے کی چیز تھی جو بکھری ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوذر (رض) نے اس کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور اس کو چوغہ میں جمع کیا۔ پھر آپ نے فرمایا : بیشک آدمی کی فقاہت میں سے اس کا اپنی معیشت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا ہے۔ پھر کچھ تھوڑا سا کھانا لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کھاؤ۔ وہ آدمی اس کھانے میں ہاتھ ڈالنے کو ناپسند کرتا تھا۔ کیونکہ وہ تھوڑا دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت ابوذر (رض) نے اس آدمی سے کہا ہاتھ ڈالو خدا کی قسم ! ہم کھانے کی قلت سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتے جتنا اس کی کثرت سے ہوتے ہیں۔ اس پر آدمی نے کھانا کھالیا پھر حضرت ابوالدرداء (رض) کے پاس واپس چلا گیا اور ان کو ساری حالت بیان کی۔ حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا : اے ابوذر (رض) تجھ سے زیادہ سچے کسی آدمی پر کسی درخت نے سایہ نہیں کیا اور کسی زمین نے پناہ نہیں دی۔
(۳۵۸۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِلَی أَبِی ذَرٍّ رَسُولاً ، قَالَ : فَجَائَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : لأَبِی ذَرٍّ : إنَّ أَخَاکَ أَبَا الدَّرْدَائِ یُقْرِئُک السَّلاَمَ ، ویَقُولُ لَک : اتَّقِ اللَّہَ وخف النَّاسِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : مَالِی وَلِلنَّاسِ ، وَقَدْ تَرَکْت لَہُمْ بَیْضَائَہُمْ وَصَفْرَائَہُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِلرَّسُولِ : انْطَلِقْ إِلَی الْمَنْزِلِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعَہُ ، قَالَ : فَلَمَّا دَخَلَ بَیْتَہُ إذَا طُعَیْمٌ فِی عَبَائَۃٍ لَیْسَ بِالْکَثِیرِ ، وَقَدِ انْتَشَرَ بَعْضُہُ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَبُو ذَرٍّ یَکْنِسُہُ وَیُعِیدُہُ فِی الْعَبَائَۃِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إنَّ مِنْ فِقْہِ الْمَرْئِ رِفْقَہُ فِی مَعِیشَتِہِ ، قَالَ : ثُمَّ جِیئَ بطُعَیْمٍ فَوُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ ، قَالَ : فَقَالَ لِی : کُلْ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَکْرَہُ أَنْ یَضَعَ یَدَہُ فِی الطَّعَامِ لِمَا یَرَی مِنْ قِلَّتِہِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ أَبُو ذَرٍّ : ضَعْ یَدَک ، فَوَاللہِ لأَنَّا بِکَثْرَتِہِ أَخْوَفُ مِنِّی بِقِلَّتِہِ ، قَالَ : فَطَعِمَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَبِی الدَّرْدَائِ فَأَخْبَرَہُ بِمَا رَدَّ عَلَیْہِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ ، وَلاَ أَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ عَلَی ذِی لَہْجَۃٍ أَصْدَقَ مِنْک یَا أَبَا ذَرٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذر (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٤) حضرت ابوبکر بن منذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حبیب بن مسلمہ نے ۔۔۔ یہ شام پر حکمران تھے ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی طرف تین سو دینار بھیجے اور فرمایا : ان سے اپنی ضرورت میں مدد کرلینا۔ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : ان کو واپس لے جاؤ۔ ہم سے بڑھ کر کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ ہمیں تو صرف ایک سایہ چاہیے جس میں ہم سایہ حاصل کریں اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ہمیں راحت دیتا ہے اور ایک آزاد لونڈی ہے جو اپنی خدمات کا ہم پر صدقہ کرتی ہے پھر میں اس سے زیادہ چیز کا خوف کھاتا ہوں۔
(۳۵۸۳۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، قَالَ : أَرْسَلَ حَبِیبُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَہُوَ عَلَی الشَّامِ إِلَی أَبِی ذَرٍّ بِثَلاَثُ مِئَۃ دِینَارٍ ، فَقَالَ : اسْتَعِنْ بِہَا عَلَی حَاجَتِکَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : ارْجِعْ بِہَا ، فَمَا وَجَدَ أَحَدًا أَغَرَّ بِاللہِ مِنَّا ، مَا لَنَا إِلاَّ ظِلٌّ نَتَوَارَی بِہِ ، وَثُلَّۃٌ مِنْ غَنَمٍ تَرُوحُ عَلَیْنَا ، وَمَوْلاَۃٌ لَنَا تَصَدَّقَتْ عَلَیْنَا بِخِدْمَتِہَا ، ثُمَّ إنِّی لأَتَخَوَّفُ الْفَضْلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذر (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٥) حضرت ام طلق بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت ابوذر کے پاس گئیں اور انھوں نے حضرت ابوذر کو کچھ آٹا اور ستو دئیے تو آپ نے ان کو اپنے کپڑوں کے کنارے میں باندھ لیا اور فرمایا : آپ کا ثواب اللہ پر ہے۔ میں (راوی) نے کہا : اے ام طلق ! آپ نے حضرت ابوذر (رض) کی حالت کیسی دیکھی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں نے ان کو پراگندہ بال اور اداس حالت میں دیکھا اور میں نے ان کے ہاتھ میں دھنی ہوئی اون دیکھی اور دو باہم الٹی لکڑیاں تھیں جن سے آپ اون کاتا کرتے تھے۔
(۳۵۸۳۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَسْعَدَۃ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ الرُّومِیُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ طَلْقٍ وَإِنَّہَا حَدَّثَتْہُ ، أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی أَبِی ذَرٍّ ، فَأَعْطَتْہُ شَیْئًا مِنْ دَقِیقٍ وَسَوِیقٍ ، فَجَعَلَہُ فِی طَرَفِ ثَوْبِہِ ، وَقَالَ : ثَوَابُک عَلَی اللہِ ، فَقُلْتُ لَہَا : یَا أُمَّ طَلْقٍ ، کَیْفَ رَأَیْت ہَیْئَۃَ أَبِی ذَرٍّ ، فَقَالَتْ : یَا بُنَی ، رَأَیْتہ شَعِثًا شَاحِبًا ، وَرَأَیْت فِی یَدِہِ صُوفًا مَنْفُوشًا وَعُودَیْنِ قَدْ خَالَفَ بَیْنَہُمَا وَہُوَ یَغْزِلُ مِنْ ذَلِکَ الصُّوفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذر (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٦) حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی سامنے سے آیا جو حلقہ بھی اس کو دیکھتا تو وہ حلقہ بھاگ جاتا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی اس حلقہ کے پاس آیا جس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باقی لوگ فرار ہوگئے اور میں بیٹھا رہا۔ میں نے کہا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی ابوذر (رض) ہوں۔ میں نے کہا : لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ انھوں نے کہا میں ان کو خزانے جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا : (کیا) ہماری جاگیریں بہت زیادہ بلند ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہم پر خوف ہے ؟ انھوں نے کہا : آج تو یہ حالت نہیں ہے لیکن عنقریب ایسا ہوگا کہ تمہارے دین کی قیمت ہوگی پس تم ان کو چھوڑ دو اور ان سے بچو۔
(۳۵۸۳۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَقْنَعِ الْبَاہِلِیِّ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ لاَ تَرَاہُ حَلْقَۃٌ إِلاَّ فَرُّوا مِنْہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْحَلْقَۃِ الَّتِی کُنْت فِیہَا ، فَثَبَتُّ وَفَرُّوا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا یَفِرُّ النَّاسُ مِنْک ، فَقَالَ : إنِّی أَنْہَاہُمْ عَنِ الْکُنُوزِ ، فَقُلْتُ : إنَّ أُعْطِیَاتِنَا قَدْ بَلَغَتْ وَارْتَفَعَتْ فَتَخَافُ عَلَیْنَا مِنْہَا ، قَالَ : أَمَّا الْیَوْمُ فَلا ، وَلَکِنَّہَا یُوشِکُ أَنْ تَکُونَ أَثْمَانَ دِینِکُمْ فَدَعُوہُمْ وَإِیَّاہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمران بن حصین (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٧) حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین نے مجھے کہا میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آج کے بعد اس کے ذریعہ نفع دے۔ جان لو اللہ کے بندوں میں سے بہترین بندے زیادہ حمد کرنے والے ہیں۔
(۳۵۸۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ أَخِیہِ مُطَرِّف ، قَالَ : قَالَ لِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : إنِّی أُحَدِّثُک حَدِیثًا لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَنْفَعَک بِہِ بَعْدَ الْیَوْمِ ، اعْلَمْ أَنَّ خِیَارَ الْعِبَادِ عِنْدَ اللہِ الْحَمَّادُونَ۔ (احمد ۴۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمران بن حصین (رض) کا کلام
(٣٥٨٣٨) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کے ہوش قائم نہیں رہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں انھیں ان کے پاس آنے والے بعض لوگوں نے کہا : ہم آپ کی جو حالت دیکھتے ہیں یہ مجھے آپ کے پاس آنے سے مانع ہوتی ہے۔ فرمایا : یوں نہ کرو۔ خدا کی قسم ! بیشک جو خدا کو محبوب ہے وہی مجھے محبوب ہے۔
(۳۵۸۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ابْتُلِیَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَیْنِ بِبَلاَئٍ کَانَ یولَّہُ مِنْہُ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ بَعْضُ مَنْ یَأْتِیہ : إِنَّہُ لَیَمْنَعُنِی مِنْ إتْیَانِکَ مَا نَرَی مِنْکَ ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ فَوَاللہِ إنَّ أَحَبَّہُ إلَیَّ أَحَبُّہُ إِلَی اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل کا کلام
(٣٥٨٣٩) حضرت معاذ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ چار چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے۔ جسم کے بارے میں کہ کس بات میں پرانا کیا اور عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں فنا کیا اور مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا۔
(۳۵۸۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَدِیٍّ ، عَنِ الصُّنَابِحِیِّ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : لاَ تَزُولُ قَدَمَا الْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُسْأَلَ ، عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ : عَنْ جَسَدِہِ فِیمَا أَبْلاَہُ ، وَعَنْ عُمُرِہِ فِیمَا أَفْنَاہُ، وَعَنْ مَالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ وَفِیمَا أَنْفَقَہُ ، وَعَنْ عِلْمِہِ کَیْفَ عَمِلَ فِیہِ۔ (طبرانی ۱۱۱۔ بزار ۳۴۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل کا کلام
(٣٥٨٤٠) حضرت محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے دوستوں کے ہمراہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس آیا۔ انھوں نے حضرت معاذ کو سلام کیا پھر الوداع کہا اور وصیت کی درخواست کی تو حضرت معاذ نے ان کو کہا میں تمہیں دو چیزوں کی وصیت کرتا ہوں۔ اگر تم نے ان کی حفاظت کی تو تمہاری حفاظت ہوگی۔ ایک یہ بات کہ دنیا کے حصہ سے غنی نہیں ہو اور تم اپنے آخرت کے حصہ کے زیادہ محتاج ہو پس تم اپنی آخرت کے حصہ کو اپنے دنیا کے حصہ پر ترجیح دو ۔ کیونکہ تمہاری دنیا کا حصہ تم پر سے گزرے گا یا تمہارے پاس آئے اور وہ تمہیں شامل ہوجائے گا اور جہاں تم اترو گے وہاں وہ تمہارے ساتھ اترے گا۔
(۳۵۸۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : جَائَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَجُلٌ مَعَہُ أَصْحَابُہُ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ ، وَیُوَدِّعُونَہُ وَیُوصُونَہُ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ : إنِّی مُوصِیک بِأَمْرَیْنِ إنْ حَفِظْتہمَا حُفِظْتَ : إِنَّہُ لاَ غِنَی بِکَ عَنْ نَصِیبِکَ مِنَ الدُّنْیَا ، وَأَنْتَ إِلَی نَصِیبِکَ مِنَ الآخِرَۃِ أَحْوَجُ ، فَآثِرْ نَصِیبَک مِنَ الآخِرَۃِ عَلَی نَصِیبِکَ مِنَ الدُّنْیَا ، فَإِنَّہُ یَأْتِی بِکَ ، أَوْ یُمَرُّ بِکَ عَلَی نَصِیبِکَ مِنَ الدُّنْیَا فَیَنْتَظِمُہُ لَک انْتِظَامًا ، فَیَزُولُ مَعَک أَیْنَمَا زُلْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل کا کلام
(٣٥٨٤١) حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ کو ان کے حلق میں ایک دانہ نکل آیا تو انھوں نے فرمایا : تم میرا گلا دبا دو ۔ تیری عزت کی قسم ! مجھے آپ سے محبت ہے۔
(۳۵۸۴۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ أَخَذَتْ مُعَاذًا قُرْحَۃٌ فِی حَلْقِہِ ، فَقَالَ : اخْنُقْنِی خَنْقَک فَوَعِزَّتِکَ إنِّی لأُحِبُّک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل کا کلام
(٣٥٨٤٢) حضرت عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے فرمایا : نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو۔ کمائی کرو لیکن گناہ نہ کرو۔ اور تم مرو اس حال میں کہ تم مسلمان ہو اور تم بدعاؤں سے بچو ۔۔۔ یا فرمایا ۔۔۔ مظلوم کی بددعا سے۔
(۳۵۸۴۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ ، قَالَ : قَالَ مُعَاذٌ : صَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَاکْتَسِبْ ، وَلاَ تَأْثَمْ ، وَلاَ تَمُوتَنَّ إِلاَّ وَأَنْتَ مُسْلِمٌ ، وَإِیَّاکَ وَدَعَوَاتِ ، أَوْ دَعْوَۃَ مَظْلُومٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل کا کلام
(٣٥٨٤٣) حضرت اسود بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نے مجھے کہا : تم ہمارے ساتھ بیٹھو ہم ایک گھڑی اللہ کا ذکر کریں۔
(۳۵۸۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ الْمُحَارِبِیِّ ، قَالَ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : اجْلِسْ بِنَا نُؤْمِنُ سَاعَۃً ، یَعْنِی نَذْکُرُ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اے ابن آدم ! تم میری عبادت کے لیے فارغ ہوجاؤ میں تمہارے دل کو غنا سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کو بند کردوں گا۔ وگرنہ میں تمہارے دونوں ہاتھوں کو مشغولیات سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔
(۳۵۸۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَۃَ بْنِ نَشِیطٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ یَقُولُ : یَا ابْنَ آدَمَ ، تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِی أَمْلأ قَلْبَک غِنًی ، وَأَسُدَّ فَقْرَک ، وَإِلاَّ تَفْعَلْ أَمْلأ یَدَیْک شُغْلاً ، وَلاَ أَسُدَّ فَقْرَک۔ (ترمذی ۲۴۶۶۔ احمد ۳۵۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح قبض نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بشارت دیکھ لے۔ پھر جب اس کی روح قبض ہوتی ہے تو آواز دیتا ہے۔ گھر میں کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہیں ہوتا سوائے انس وجان کے مگر یہ کہ وہ اس کی آواز کو سن لیتا ہے۔ اس کو ارحم الراحمین کی طرف جلدی لے کر جاؤ۔ پھر جب اس کو تخت پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے تم لوگ کس قدر آہستہ چلتے ہو ؟ پھر جب اس کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اس کو جنت میں اس کا ٹھکانا اور اس کے لیے خدا کی طرف سے تیار سامان دکھایا جائے گا اور اس کی قبر کو رحمت، ریحان اور مشک سے بھر دیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے آگے بھیج دے۔ کہا جائے گا ابھی تیرا وقت نہیں ہے۔ تیرے کچھ بہن بھائی ہیں جو ابھی تک ساتھ نہیں ملے۔ لیکن تو آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے سوجا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ کوئی کھاتا پیتا، ناز ونعم والا نوجوان لڑکا یا لڑکی دنیا میں اس قدر میٹھی اور مختصر نیند نہیں سوتی جیسی وہ نیند ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنا سر بشارت کے لیے بلند کرے گا۔
(۳۵۸۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ یُقْبَضُ الْمُؤْمِنُ حَتَّی یَرَی الْبُشْرَی ، فَإِذَا قُبِضَ نَادَی ، فَلَیْسَ فِی الدَّارِ دَابَّۃٌ صَغِیرَۃٌ ، وَلاَ کَبِیرَۃٌ إِلاَّ ہِیَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ إِلاَّ الثَّقَلَیْنِ : الْجِنَّ وَالإِنْسَ تَعَجَّلُوا بِہِ إِلَی أَرْحَمِ الرَّاحِمِینَ فَإِذَا وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ ، قَالَ : مَا أَبْطَأَ مَا تَمْشُونَ ، فَإِذَا أُدْخِلَ فِی لَحْدِہِ أُقْعِدَ فَأُرِیَ مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّہُ لَہُ ، وَمُلِئَ قَبْرُہُ مِنْ رَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَمِسْکٍ ، قَالَ : فَیَقُولُ : یَا رَبِّ ، قَدِّمْنِی ، قَالَ : فَیُقَالَ : لَمْ یَأْنِ لَک ، إنَّ لَک إخْوَۃً وَأَخَوَاتٍ لَمَّا یَلْحَقُونَ ، وَلَکِنْ نَمْ قَرِیرَ الْعَیْنِ ، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، مَا نَامَ نَائِمٌ شَابٌّ طَاعِمٌ نَاعِمٌ ، وَلاَ فَتَاۃٌ فِی الدُّنْیَا نَوْمَۃً بِأَقْصَرَ ، وَلاَ أَحْلَی مِنْ نَوْمَتِہِ حَتَّی یَرْفَعَ رَأْسَہُ إِلَی الْبُشْرَی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٦) حضرت عبید بن باب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) پر مشکیزہ میں سے پانی ڈال رہا تھا کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو آپ (رض) نے پوچھا : اے فلاں ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : بازار کا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر تم واپس آنے سے قبل موت کو خرید سکتے ہو تو خرید لو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (رض) میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تحقیق میں اللہ کا خوف رکھتا ہوں اس چیز سے جو تقدیر سے پہلے جلدی مانگی جائے۔
(۳۵۸۴۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ بَابٍ ، قَالَ : کُنْتُ أُفْرِغُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِنْ إدَاوَۃٍ ، فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَیْنَ تُرِیدُ یَا فُلاَنُ ، قَالَ : السُّوقَ ، قَالَ : إنِ اسْتَطَعْت أَنْ تَشْتَرِیَ الْمَوْتَ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ فَافْعَلْ ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ ، فَقَالَ : لَقَدْ خِفْت اللَّہَ مِمَّا أَسْتَعْجِلُ إلَیْہِ قَبْلَ الْقَدَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٧) حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے ہمراہ ایک تازہ دفن ہونے والے مردہ کی قبر پر سے گزرا تو آپ نے فرمایا : دو ہلکی رکعتیں جن کو تم حقیر سمجھتے ہو وہ اس کا زاد راہ ہوں تو یہ چیز مجھے تمہاری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
(۳۵۸۴۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : مَرَرْت مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی قَبْرٍ دُفِنَ حَدِیثًا ، فَقَالَ : رَکْعَتَانِ خَفِیفَتَانِ مِمَّا تَحْتَقِرُونَ زادہما ہذا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٨) حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوہریرہ (رض) کی طرف سے یہ بات پہنچی کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں کے ساتھ دیتے ہیں چنانچہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : اے ابوہریرہ (رض) ! مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں میں دیتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں اور دو لاکھ بھی۔ قرآنِ کریم میں اس کے متعلق ہے {إنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا } پس کون اس دو چند کی مقدار کو جانتا ہے ؟ { وَیُؤْتِ مِنْ لَدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا } فرمایا : جنت۔
(۳۵۸۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ یُجْزِی الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَۃِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَۃٍ ، فَأَتَیْتہ ، فَقُلْتُ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّک تَقُولُ : إنَّ اللَّہَ یُجْزِی الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَۃِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَۃٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَأَلْفَیْ أَلْفِ حَسَنَۃٍ ، وَفِی الْقُرْآنِ مِنْ ذَلِکَ : {إنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا} فَمَنْ یَدْرِی تَسْمِیَۃَ تِلْکَ الأَضْعَافِ {وَیُؤْتِ مِنْ لَدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا} قَالَ : الْجَنَّۃُ۔ (احمد ۲۹۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٤٩) حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : جو شخص پرانا کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے بدلہ میں ریشم پہنائے گا اور جو شخص نیا کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض استبرق پہنائے گا۔
(۳۵۸۴۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : مَنْ کَسَا خَلِقًا کَسَاہُ اللَّہُ بِہِ حَرِیرًا ، وَمَنْ کَسَا جَدِیدًا کَسَاہُ اللَّہُ بِہِ إسْتَبْرَقًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی کے پاس ایک مہمان نے اجازت طلب کی۔ اس انصاری کے پاس صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا تھا۔ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا : بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو ۔ راوی کہتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ }۔
(۳۵۸۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ آذَنَہُ ضَیْفٌ ، فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ إِلاَّ قُوتُہُ وَقُوتُ صِبْیَانِہِ ، فَقَالَ : لاِمْرَأَتِہِ : نَوِّمِی الصِّبْیَۃَ وَأَطْفِئَ السِّرَاجَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ}۔ (بخاری ۳۷۹۸۔ مسلم ۱۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میت مرجاتی ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس نے آگے کیا بھیجا ؟ اور لوگ کہتے ہیں اس نے پیچھے کیا چھوڑا۔
(۳۵۸۵۱) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إذَا مَاتَ الْمَیِّتُ تَقُولُ الْمَلاَئِکَۃُ : مَا قَدَّمَ وَیَقُولُ النَّاسُ : مَا تَرَکَ۔
তাহকীক: