মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৫৮৫১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٢) حضرت عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ہمراہ ایک کھجور کے درخت کے پاس سے گزرا تو انھوں نے فرمایا : اے اللہ ! ہمیں وہ کھجور کھلا جس کو بنی آدم نے نہ لگایا ہو۔
(۳۵۸۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلَی أَبِی رُہْمٍ ، قَالَ : مَرَرْت مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی نَخْلٍ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ أَطْعِمْنَا مِنْ تَمْرٍ لاَ یَأْبُرُہُ بَنُو آدَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص خوفِ خدا کی وجہ سے رویا اس کو جہنم کی آگ تب تک نہ کھائے گی جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے اور کسی بندہ مسلم کے نتھنوں میں راہ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہوسکتا۔
(۳۵۸۵۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی طَلْحَۃَ ، عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ تَطْعَمُ النَّارُ رَجُلاً بَکَی مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ أَبَدًا حَتَّی یُرَدَّ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ ، وَلاَ یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیلِ اللہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِی مَنْخَرَیْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی مومن سے برائی دور کرتا ہے تو گویا اس نے زندہ درگور ہونے والی بچی کو زندہ کیا۔
(۳۵۸۵۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : مَنْ أَطْفَأَ عَنْ مُؤْمِنٍ سَیِّئَۃً فَکَأَنَّمَا أَحْیَا مَوْؤُودَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فضول کلام میں کوئی بہتری نہیں۔
(۳۵۸۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ خَیْرَ فِی فُضُولِ الْکَلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی قلیب کے پاس ایک گرے ہوئے کتے کے پاس سے گزرا جو کتا پیاس کی وجہ سے موت کے قریب تھا۔ اس آدمی نے پانی پلانے کے لیے کچھ نہیں پایا تو اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کے لیے چلو بھرا اور اس کو پلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا حساب فرمایا اور اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔
(۳۵۸۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی یَحْیَی مَوْلَی جَعْدَۃَ بْنِ ہُبَیْرَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَی کَلْبٍ مُضْطَجِعٍ عِنْدَ قَلِیبٍ قَدْ کَادَ أَنْ یَمُوتَ مِنَ الْعَطَشِ ، فَلَمْ یَجِدْ مَا یَسْقِیہ فِیہِ ، فَنَزَعَ خُفَّہُ فَجَعَلَ یَغْرِفُ لَہُ وَیَسْقِیہ فَحَاسَبَہُ اللَّہُ بِہِ فَأَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٧) حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ مریض تھے۔ میں نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا اور میں نے کہا اے اللہ ! ابوہریرہ (رض) کو شفا دے دے۔ تو انھوں نے فرمایا : اے اللہ ! اور شدید فرما۔
(۳۵۸۵۷) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ مَرِیضٌ فَاحْتَضَنْتہ مِنْ خَلْفِہِ وَقُلْت : اللَّہُمَّ اشْفِ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اشْدُدْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٨) حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کہا کرتے تھے کہ جس کام سے تمہیں غرض نہیں ہے اس کو چھوڑ دو اور غیر متعلق معاملات میں گفتگو نہ کرو اور تم اپنی زبان کو یونہی خزانہ رکھو جس طرح تم اپنے خرچوں کو خزانہ رکھتے ہو۔
(۳۵۸۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو یَقُولُ: دَعْ مَا لَسْت مِنْہُ فِی شَیْئٍ ، وَلاَ تَنْطِقْ فِیمَا لاَ یَعَنِیکَ ، وَاخْزُنْ لِسَانَک کَمَا تَخْزُنُ نَفَقَتَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٥٩) حضرت غطیف بن حارث کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ ساتھی حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہتے ہوئے سنا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سے کلام کرتی ہے۔ اور کہتی ہے : اے آدم کے بیٹے ! کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں اور ظلمت کا گھر ہوں اور حقیقت کا گھر ہوں ؟ اے آدم کے بیٹے ! تجھے کس چیز نے میرے ساتھ دھوکا میں ڈالا تھا ؟ تم میرے گرد فداداً چلتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت غطیف سے پوچھا : اے ابواسمائ ! فداداً کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یعنی تکبر کے ساتھ۔ حضرت غطیف سے میرے ساتھی نے ۔۔۔ جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا ۔۔۔ کہا۔ اگر وہ شخص مومن ہو ؟ غطیف نے کہا : اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور اس کی منزل کو سرسبز کردیا جاتا ہے اور اس کے نفس کو جنت کی طرف بلند کردیا جاتا ہے۔
(۳۵۸۵۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعْدٍ الْکَلاَعِیُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِیِّ ، عَنْ غُطَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : جَلَسْت أَنَا وَأَصْحَابٌ لِی إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : فَسَمِعْتہ یَقُولُ : إنَّ الْعَبْدَ إذَا وُضِعَ فِی الْقَبْرِ کَلَّمَہُ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّی بَیْتُ الْوَحْدَۃِ وَبَیْتُ الظُّلْمَۃِ وَبَیْتُ الْحَقِ ، یَا ابْنَ آدَمَ ، مَا غَرَّک بِی ، قَدْ کُنْت تَمْشِی حَوْلِی فِدَادًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لِغُطَیْفٍ : یَا أَبَا أَسْمَائَ ، مَا فِدَادًا ، قَالَ : اختیالاً ، فَقَالَ لَہُ صَاحِبِی وَکَانَ أَسَنَّ مِنِّی : فَإِذَا کَانَ مُؤْمِنًا ، قَالَ : وُسِّعَ لَہُ فِی قَبْرِہِ وَجُعِلَ مَنْزِلُہُ أَخْضَرَ ، وَعُرِجَ بِنَفْسِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٠) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : تم سب لوگوں کو اکٹھا جمع کیا جائے گا پھر کہا جائے گا۔ اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ چنانچہ وہ لوگ ظاہر ہوں گے کہا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں آزمائش میں ڈالا گیا لیکن ہم نے صبر کیا اور تو خوب جانتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے مال اور سلطنت ہمارے علاوہ دیگر لوگوں کو دی۔ اس پر کہا جائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ پس وہ لوگ باقی لوگوں سے کافی دیر پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور مال و سلطنت کے مالک حساب کی شدت میں باقی رہیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : اس دن اہل ایمان کہاں ہوں گے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادل سایہ فگن ہوں گے اور یہ دن ان پر دن کی ایک گھڑی سے بھی چھوٹا ہوگا۔
(۳۵۸۶۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : تُجْمَعُونَ جَمِیعًا فَیُقَالَ : أَیْنَ فُقَرَائُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ وَمَسَاکِینُہَا فَیَبْرُزُونَ ، قَالَ : فَیُقَالَ : مَا عِنْدَکُمْ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : یَا رَبَّنَا ، ابْتُلِینَا فَصَبَرْنَا وَأَنْتَ أَعْلَمُ ، قَالَ : وَأَرَاہُ ، قَالَ : وَوَلَّیْتَ الأَمْوَالَ وَالسُّلْطَانُ غَیْرَنَا ، قَالَ : فَیُقَالَ : صَدَقْتُمْ ، قَالَ : فَیَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ سَائِرِ النَّاسِ بِزَمَانٍ ، وَتَبْقَی شِدَّۃُ الْحِسَابِ عَلَی ذَوِی الأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَیْنَ الْمُؤْمِنُونَ یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : یُوضَعُ لَہُمْ کَرَاسِیُّ مِنْ نُورٍ وَیُظَلِّلُ عَلَیْہِمَ الْغَمَامُ ، وَیَکُونُ ذَلِکَ الْیَوْمُ أَقْصَرَ عَلَیْہِمْ مِنْ سَاعَۃٍ مِنْ نَہَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦١) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہیں ہے جو جمع ہو اور اللہ کا ذکر کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہے جو ان کی جماعت سے معزز اور مکرم ہوتی ہے اور کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو جدا ہو جبکہ اس نے خدا کا ذکر نہ کیا ہو مگر یہ کہ یہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت کا ذریعہ ہوگی۔
(۳۵۸۶۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَا مِنْ مَلاَ یَجْتَمِعُونَ فَیَذْکُرُونَ اللَّہَ إِلاَّ ذَکَرَہُمُ اللَّہُ فِی مَلاَ أَعَزَّ مِنْ مَلَئِہِمْ وَأَکْرَمَ ، وَمَا مِنْ مَلاَ یَتَفَرَّقُونَ لَمْ یَذْکُرُوا اللَّہَ إِلاَّ کَانَ مَجْلِسُہُمْ حَسْرَۃً عَلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٢) حضرت ابوعثمان نہدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک عورت کو حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس یہ سوال کرنے بھیجا کہ وہ کون سا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا ؟ انھوں نے فرمایا : زمین و آسمان کے درمیان کوئی گناہ یا عمل ایسا نہیں ہے کہ جس پر آدمی موت سے پہلے اللہ سے توبہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں۔
(۳۵۸۶۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، قَالَ : أَرْسَلْنَا امْرَأَۃً إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو تَسْأَلُہُ : مَا الذَّنْبُ الَّذِی لاَ یَغْفِرُہ اللَّہُ ؟ قَالَ : مَا مِنْ ذَنْبٍ ، أَوْ عَمَلٍ مِمَّا بَیْنَ السَّمَائِ إِلی الأَرْضِ یَتُوبُ مِنْہُ عَبْدٌ إِلَی اللہِ تَعَالَی قَبْلَ الْمَوْتِ إِلاَّ تَابَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٣) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا مگر یحییٰ بن زکریا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } پھر آپ (رض) نے زمین سے ایک چھوٹی سی چیز اٹھائی اور فرمایا : ان کے پاس اس کے بقدر بھی (جرم) نہ تھا پھر بھی انھیں ذبح کردیا گیا۔
(۳۵۸۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ یَلْقَی اللَّہَ بِذَنْبٍ إِلاَّ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا ، ثُمَّ تَلاَہُ : {وَسَیِّدًا وَحَصُورًا} ثُمَّ رَفَعَ شَیْئًا صَغِیرًا مِنَ الأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا کَانَ مَعَہُ مِثْلُ ہَذَا ، ثُمَّ ذُبِحَ ذَبْحًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٤) حضرت خیثمہ، حضرت عبداللہ بن عمرو کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں آپ (رض) کے پاس گیا جبکہ آپ قرآن مجید کو دیکھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کیا پڑھ رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : اپنا وہ پارہ جو میں نے آج رات قیام میں پڑھنا ہے۔
(۳۵۸۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرو قَالَ : انْتَہَیْت إلَیْہِ وَہُوَ یَنْظُرُ إِلَی الْمُصْحَفِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیُّ شَیْئٍ الَّذِی تَقْرَأُ ؟ قَالَ : حِزْبِی الَّذِی أَقُومُ بِہِ اللَّیْلَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٥) حضرت ابوعمران سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آگ تھی کہ اچانک میرا سانس گھٹنے لگا تو آپ (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! یہ آگ بھی اللہ تعالیٰ سے بڑی آگ ۔۔۔ یا فرمایا جہنم کی آگ ۔۔۔ سے پناہ مانگتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے چاند کو غروب ہوتے وقت جھک کر دیکھا تو فرمایا : بخدا ! یہ اس وقت رو رہا ہے۔
(۳۵۸۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو بَیْنَا ہُوَ جَالِسٌ وَبَیْنَ یَدَیْہِ نَارٌ إذْ شَہِقَتْ ، فَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّہَا لَتَعُوذُ بِاللہِ مِنَ النَّارِ الْکُبْرَی ، أَوَ قَالَ : مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ : قَالَ : فَرَأَی الْقَمَرَ حِینَ جَنَحَ لِلْغُرُوبِ ، فَقَالَ : وَاللہِ إِنَّہُ لَیَبْکِی الآنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٦) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں یہ درخت ہوتا۔
(۳۵۸۶۶) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍوَ قَالَ : لَوَدِدْت أَنِّی ہَذِہِ الشَّجَرَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٧) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ پس جب مومن کو موت آتی ہے تو اس کو آزاد کردیا جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہے، سیر کرے۔
(۳۵۸۶۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ قَمْطَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ ، فَإِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ یُخْلَی سربہ ، یَسْرَحُ حَیْثُ شَائَ۔ (مسلم ۲۲۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت نعمان بن بشیر (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٨) حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہتے سنا۔ ابن آدم اور موت کی مثال یہ ہے جیسے ایک آدمی کے تین دوست ہوں۔ وہ ان میں سے ایک دوست سے کہے۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ وہ دوست کہے۔ میرے پاس تیرا مال ہے۔ پس تو اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو تو نہ لے سکے تو پھر وہ تیرا نہیں ہے۔ پھر اس آدمی نے دوسرے سے پوچھا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا جب تو مرجائے گا تو میں تجھے دفن کروں گا اور تجھے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ پھر اس آدمی نے تیسرے سے کہا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم جہاں ہو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ حضرت نعمان نے فرمایا : پس پہلا دوست اس کا مال ہے کہ جو اس نے لے لیا وہ اس کا ہے اور جو اس نے نہ لیا وہ اس کا نہیں ہے اور جو دوسرا ہے وہ اس کا قبیلہ، برادری ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو یہ اس کے پاس رہیں گے پھر اس کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور تیسرا اس کا عمل ہے جو اس کے ساتھ ہوگا وہ جہاں بھی ہو اور جہاں وہ جائے گا یہ بھی ساتھ جائے گا۔
(۳۵۸۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ سَمِعْتہ یَقُولُ : مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمَوْتِ مَثَلُ رَجُلٍ کَانَ لَہُ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَئٍ ، فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ : عِنْدِی مَالُک فَخُذْ مِنْہُ مَا شِئْت ، وَمَا لَمْ تَأْخُذْ فَلَیْسَ لَک ، ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ : مَا عِنْدَکَ ، قَالَ : أَقُومُ عَلَیْک فَإِذَا مِتّ دَفَنْتُک وَخَلَّیْتُک ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ : أَنَا مَعَک حَیْثُمَا کُنْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ فَمَالُہُ ، مَا أَخَذَ فَلَہُ ، وَمَا لَمْ یَأْخُذْ فَلَیْسَ لَہُ ، وَأَمَّا الثَّانِی فَعَشِیرَتُہُ ، إذَا مَاتَ قَامُوا عَلَیْہِ ، ثُمَّ خَلَّوْہُ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ : فَعَمَلُہُ حَیْثُمَا کَانَ ؛ کَانَ مَعَہُ وَحَیْثُمَا دَخَلَ دَخَلَ مَعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت نعمان بن بشیر (رض) کا کلام
(٣٥٨٦٩) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں بیشک مکمل ہلاکت ہے یہ بات کہ تم آزمائش کے زمانہ میں عمل کرو۔
(۳۵۸۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَقُولُ : إنَّ الْہَلَکَۃَ کُلَّ الْہَلَکَۃِ أَنْ تَعْمَلَ عَمَلَ السَّوْئِ فِی زَمَانِ الْبَلاَئِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت نعمان بن بشیر (رض) کا کلام
(٣٥٨٧٠) حضرت حبان بن زید بیان کرتے ہیں ۔۔۔ یہ حضرت نعمان کے بہت دوست تھے اور آپ (رض) نے ان کو مقام نبک پر عامل مقرر کیا تھا ۔۔۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت نعمان کو کہتے سنا خبردار ! خدا کے عمال خدا پر ضامن ہوں گے۔ خبردار ! بنی آدم کے عمال۔ اپنے ضمان کے مالک نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر جب حضرت نعمان اپنے منبر سے اترے تو یہ ان کے پاس آئے اور ان کو استعفیٰ دینا چاہا انھوں نے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا میں نے آپ کو یوں یوں کہتے سنا ہے۔
(۳۵۸۷۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حِبَّانُ بْنُ زَیْدٍ الشَّرْعَبِیُّ ، قَالَ وَکَانَ وُدًّا لِلنُّعْمَانِ ، وَکَانَ النُّعْمَانُ اسْتَعْمَلَہُ عَلَی النَّبْک ، قَالَ : فَسَمِعَ النُّعْمَانَ یَقُولُ : أَلاَ إنَّ عُمَّالَ اللہِ ضَامِنُونَ عَلَی اللہِ ، أَلاَ إنَّ عُمَّالَ بَنِی آدَمَ لاَ یَمْلِکُونَ ضَمَانَہُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ النُّعْمَانُ ، عَنْ مِنْبَرِہِ أَتَاہُ فَاسْتَعْفَی ، فَقَالَ : مَا لَک ، قَالَ : سَمِعْتُک تَقُولُ کَذَا وَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ کا کلام
(٣٥٨٧١) حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن حضرت عمرہ (رض) نے رونا شروع کیا اور کہنے لگیں۔ ہائے بھائی ! ہائے یہ ! ہائے یہ۔ مختلف باتیں ان کے بارے میں شمار کرنے لگی۔ پھر جب ابن رواحہ (رض) کو افاقہ ہوا تو فرمایا : تم نے جو بات بھی کہی تو (مجھے) کہا گیا کیا تم ایسے ہو ؟ “
(۳۵۸۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ : أُغْمِیَ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، فَجَعَلَتْ أُخْتُہُ عَمْرَۃُ تَبْکِی وَتَقُولُ : وَأَخَاہُ ، وَا کَذَا وَا کَذَا تُعَدِّدُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَۃَ حِینَ أَفَاقَ : مَا قُلْتُ شَیْئًا إِلاَّ قِیلَ لِی : أَنْتَ کَذَاک۔
তাহকীক: