মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৫৯৩১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس (رض) کا کلام
(٣٥٩٣٢) حضرت ابن عباس (رض) سے { سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمَن وُدًّا } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : ان سے خدا محبت کرتا ہے اور ان کو (لوگوں کا) محبوب بنا دیتا ہے۔
(۳۵۹۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمَن وُدًّا} قَالَ : یُحِبُّہُمْ وَیُحَبِّبُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس (رض) کا کلام
(٣٥٩٣٣) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کے تینتیس اعضاء ہیں اور اس کے ہر عضو پر خدا کی تسبیح، تحمید اور ذکر کی زکوۃ ہے۔
(۳۵۹۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا بشیر بْنُ عُقْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاِبْنِ آدَمَ ثَلاَثَۃٌ وَثَلاَثُونَ عُضْوًا ، عَلَی کُلِّ عُضْوٍ مِنْہَا زَکَاۃٌ مِنْ تَسْبِیحِ اللہِ وَتَحْمِیدِہِ وَذِکْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس (رض) کا کلام
(٣٥٩٣٤) حضرت ابن عباس (رض) سے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ } کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : ہر آدمی خوش ہوتا ہے اور غم گین ہوتا ہے لیکن جس نے مصیبت کو صبر کرلیا اور خیر کو شکر کرلیا۔
(۳۵۹۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ} قَالَ : لَیْسَ أَحَدٌ إِلاَّ وَہُوَ یَحْزَنُ وَیَفْرَحُ ، وَلَکِنْ مَنْ جَعَلَ الْمُصِیبَۃَ صَبْرًا وَجَعَلَ الْخَیْرَ شُکْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس (رض) کا کلام
(٣٥٩٣٥) حضرت ابن عباس (رض) سے { مَا لَکُمْ لاَ تَرْجُونَ لِلَّہِ وَقَارًا } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اس کی عظمت کو کماحقہ نہیں معلوم کرتے۔
(۳۵۹۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {مَا لَکُمْ لاَ تَرْجُونَ لِلَّہِ وَقَارًا} مَا لَکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ حَقَّ عَظَمَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس (رض) کا کلام
(٣٥٩٣٦) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کوئی کھوپڑی دیکھی تو اس کے دل میں کوئی بات آئی۔ راوی کہتے ہیں لیکن وہ اسی جگہ توبہ کرتے ہوئے سجدہ میں گرگیا۔ راوی کہتے ہیں اس کو کہا گیا اپنا سر اٹھا لو۔ کیونکہ تم تم ہو اور میں میں ہوں۔
(۳۵۹۳۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : رَأَی رَجُلٌ جُمْجُمَۃً فَحَدَّثَ نَفْسَہُ بِشَیْئٍ ، قَالَ : فَخَرَّ سَاجِدًا تَائِبًا مَکَانَہُ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : ارْفَعْ رَأْسَک فَإِنَّک أَنْتَ أَنْتَ وَأَنَا أَنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٣٧) حضرت ضحاک بن قیس بیان فرماتے ہیں : اے لوگو ! تم اپنے اعمال اللہ کے لیے کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف خالص عمل کو قبول کرتا ہے وہ تم میں سے کوئی کسی کے ظلم کو معاف نہ کرے کہ وہ کہے : یہ خدا کے لیے اور تمہارے لیے ہیں۔ پس یہ عمل اللہ کے لیے نہیں ہے۔ وہ عمل صرف تمہارے لیے ہی ہے اور تم میں سے کوئی کسی کے ساتھ صلہ رحمی یوں نہ کرے کہ کہے یہ خدا کے لیے بھی ہے اور رشتہ داروں کے لیے بھی ہے۔ یہ عمل صرف رشتہ داروں کے لیے ہے جو شخص کوئی عمل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ خالص اللہ کے لیے عمل کرے اور اس کے اندر کسی کو شریک نہ کرے۔ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جس شخص نے اپنے کسی عمل میں میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا ہے تو پس وہ عمل اس شریک کے لیے ہوگا میرے لیے اس میں سے کچھ نہیں ہے۔
(۳۵۹۳۷) حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ یَقُولُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، اعْمَلُوا أَعْمَالَکُمْ لِلَّہِ ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَقْبَلُ إِلاَّ عَمَلاً خَالِصًا ، لاَ یَعْفُو أَحَدٌ مِنْکُمْ عَنْ مَظْلَمَۃٍ فَیَقُولُ : ہَذَا لِلَّہِ وَلِوُجُوہِکُمْ ، فَلَیْسَ لِلَّہِ ، وَإِنَّمَا ہِیَ لِوُجُوہِہِمْ ، وَلاَ یَصِلُ أَحَدٌ مِنْکُمْ رَحِمَہُ فَیَقُولُ : ہَذَا لِلَّہِ وَلِلرَّحِمِ ، إنَّمَا ہُوَ لِلرَّحِمِ ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلاً فَیَجْعَلُہُ لِلَّہِ ، وَلاَ یُشْرِکُ فِیہِ شَیْئًا ، فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : مَنْ أَشْرَکَ بِی شَیْئًا فِی عَمَلٍ عَمِلَہُ فَہُوَ لِشَرِیکِہِ لَیْسَ لِی مِنْہُ شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٣٨) حضرت ضحاک بن قیس فرماتے ہیں : اے لوگو ! اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کو قرآن سکھاؤ۔ کیونکہ جس مسلمان کے لیے خدا تعالیٰ نے جنت میں داخلہ لکھ دیا ہوگا اس کے پاس دو فرشتے آئیں گے اور اس کو گھیر لیں گے پھر وہ فرشتے اس آدمی سے کہیں گے۔ پڑھتے جاؤ اور بہشت کے زینے چڑھتے جاؤ۔ یہاں تک کہ وہ اس جگہ اتریں گے جہاں پر اس کے قرآن کا عمل ختم ہوگا۔
(۳۵۹۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، قَالَ : کَانَ الضَّحَّاکُ بْنُ قَیْسٍ یَقُولُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، عَلِّمُوا أَوْلاَدَکُمْ وَأَہْلِیکُمُ الْقُرْآنَ ، فَإِنَّہُ مَنْ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ مِنْ مُسْلِمٍ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَاکْتَنَفَاہُ فَقَالاَ لَہُ : اقْرَأْ وَارْتَقِ فِی دَرَجِ الْجَنَّۃِ حَتَّی یَنْزِلوا بِہِ حَیْثُ انْتَہَی عَمَلُہُ مِنَ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٣٩) حضرت ضحاک بن قیس فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کو تم نرمی میں یاد کرو تو وہ سختی میں تمہیں یاد کرے گا۔ چنانچہ حضرت یونس (علیہ السلام) خدا کو یاد کرنے والے عبد صالح تھے۔ پس جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : { فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ } اور فرعون ایک سرکش اور یاد خدا کو بھولنے والا بندہ تھا۔ پس جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہیں، حالانکہ پہلے تو نے نافرمانی کی تھی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔
(۳۵۹۳۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : قَالَ : سَمِعْت الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ یَقُولُ : اذْکُرُوا اللَّہَ فِی الرَّخَائِ یَذْکُرْکُمْ فِی الشِّدَّۃِ ، فَإِنَّ یُونُسَ کَانَ عَبْدًا صَالِحًا ذَاکِرًا لِلَّہِ ، فَلَمَّا وَقَعَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ ، قَالَ اللَّہُ : {فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ} وَإِنَّ فِرْعَوْنَ کَانَ عَبْدًا طَاغِیًا نَاسِیًا لِذِکْرِ اللہِ ، فَلَمَّا أَدْرَکَہُ {الْغَرَقُ قَالَ : آمَنْت أنَّہُ لاَ إلَہَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إسْرَائِیلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ الآنَ وَقَدْ عَصَیْت قَبْلُ وَکُنْت مِنَ الْمُفْسِدِینَ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٤٠) حضرت خالد بن عمیر عدوی سے بھی ماقبل جیسی روایت ہے۔
(۳۵۹۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ السَّدُوسِیِّ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ الْعَدَوِیِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ الْعَدَوِیِّ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٤١) حضرت خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں منبر پر خطبہ دیا تو کہا : خبردار ! بیشک دنیا آہستہ آہستہ واپس جاتی ہے اور اس میں سے صرف بچے ہوئے پانی کی طرح باقی رہ گیا ہے۔ پس تم ایسے گھر میں ہو جس سے تمہیں کوچ کرنا ہے۔ پس تم اپنے پاس موجود خیر کو لے کر منتقل ہو۔ تحقیق میں نے تو خود کو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سات لوگوں میں سے ساتواں اس حالت میں دیکھا کہ ہمارے پاس ان درختوں کے پتوں کے علاوہ کھانے کو کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔ مجھے ایک چاد رملی میں نے اس کو دو ٹکڑوں میں پھاڑ لیا۔ پھر آدھی چادر میں نے پہن لی اور آدھی چادر میں نے حضرت سعد کو دے دی اور ان سات لوگوں میں سے ہر ایک آدمی کسی شہر پر عامل ہے اور میرے بعد امراء کو ضرور آزمایا جائے گا اور خدا کی قسم ! (مجھے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جس کو جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ اس کی تہہ میں ستر سالوں کے بعد پہنچے گا اور اس جہنم کو ضرور بھر دیا جائے گا اور جنت کے دروازوں میں سے ہر دروازے کے دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور ضرور جنت کے دروازوں پر وہ دن آئے گا کہ اس کا ہر دروازہ تنگ ہوجائے گا۔ میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا ہوں اور خدا کے ہاں چھوٹا ہوں۔
(۳۵۹۴۱) قَالَ : وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ سَمِعَہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ أَبُو نَعَامَۃَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، وَلَمْ یَقُلْہُ قُرَّۃُ ، فَقَالَ : أَلاَ إِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّائَ ، وَلَمْ یَبْقَ مِنْہَا إِلاَّ صُبَابَۃٌ کَصُبَابَۃِ الإِنَائِ ، فَأَنْتُمْ فِی دَارٍ مُنْتَقِلُونَ عَنْہَا ، فَانْتَقِلُوا بِخَیْرِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْکُلُہُ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ، قَالَ قُرَّۃُ : وَلَقَدْ وَجَدْت بُرْدَۃً ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : الْتَقَطْت بُرْدَۃً ، فَشَقَقْتہَا نِصْفَیْنِ فَلَبِسْت نِصْفَہَا وَأَعْطَیْت سَعْدًا نِصْفَہَا ، وَلَیْسَ مِنْ أُولَئِکَ السَّبْعَۃِ أَحَدٌ الْیَوْمَ حَیٌّ إِلاَّ عَلَی مِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ ، وَلَتُجَرِّبُنَّ الأُمَرَائَ بَعْدِی ، وَإِنَّہُ وَاللہِ مَا کَانَتْ نُبُوَّۃٌ إِلاَّ تَنَاسَخَتْ حَتَّی تَکُونُ مُلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، وَلَقَدْ ذُکِرَ لِی ، قَالَ قُرَّۃُ : إنَّ الْحَجَرَ ، وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : إنَّ الصَّخْرَۃَ یُقْذَفُ بِہَا مِنْ شَفِیرِ جَہَنَّمَ فَتَہْوِی إِلَی قَرَارِہَا ، قَالَ قُرَّۃُ : أَرَاہُ ، قَالَ : سَبْعِینَ ، وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : سَبْعِینَ خَرِیفًا ، وَلَتُمْلأَنَّ ، وَإِنَّ مَا بَیْنَ الْمِصْرَاعَیْنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ لِمَسِیرَۃِ أَرْبَعِینَ عَامًا ، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَوْمٌ وَلَیْسَ مِنْہَا بَابٌ إِلاَّ وَہُوَ کَظِیظٌ ، وَإِنِّی أَعُوذُ بِاللہِ أَنْ أَکُونَ فِی نَفْسِی عَظِیمًا ، وَعِنْدَ اللہِ صَغِیرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٤٢) حضرت ماجشون بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ (رض) نے فرمایا : میں تین چیزوں کے علاوہ میں ابھی تک کمزور ہوں۔ میں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبھی کوئی بات نہیں سنی مگر یہ کہ مجھے اس کے برحق ہونے کا علم ہوتا ہے اور میں نے کبھی کوئی نماز نہیں پڑھی کہ اس دوران مجھے کسی چیز نے اس سے غافل کیا ہو یہاں تک کہ میں نماز سے فارغ ہوجاؤں اور میں نے کسی جنازہ کی پیروی نہیں کی کہ میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی بات ہو یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں۔ محمد راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات امام زہری سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت سعد پر رحم کرے۔ وہ تو امن یافتہ تھے۔ میرے خیال میں تو ایسی حالت نبی کی ہوتی ہے۔
(۳۵۹۴۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو ، عَنِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : ثَلاَثٌ أَنَا فِیمَا سِوَاہُنَّ بَعْدُ ضَعِیفٌ : مَا سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ قَوْلاً قَطُّ إِلاَّ عَلِمْت أَنَّہُ حَقٌّ ، وَلاَ صَلَّیْت صَلاَۃً قَطُّ فَأَلْہَانِی عنہا غَیْرُہَا حَتَّی أَنْصَرِفَ ، وَلاَ تَبِعْت جِنَازَۃً فَحَدَّثْت نَفْسِی بِغَیْرِ مَا ہِیَ قَائِلَۃٌ ، أَوْ یُقَالَ لَہَا حَتَّی نَفْرُغَ مِنْہَا ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَحَدَّثْت بِذَلِکَ الزُّہْرِیَّ ، فَقَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ سَعْدًا إنْ کَانَ لَمَأْمُونًا ، وَمَا کُنْت أَرَی ، أَنَّ أَحَدًا یَکُونُ ہَکَذَا إِلاَّ نَبِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک (رض) بن قیس کا کلام
(٣٥٩٤٣) حضرت ابن ابی الہذیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے اپنے گھر میں پختہ اینٹوں کا ایک کمرہ بنایا۔ پھر انھوں نے حضرت عمار کو بلایا اور پوچھا۔ اے ابوالیقظان ! تمہیں کیسا لگتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : میرا خیال یہ ہے کہ تم نے مضبوط گھر بنایا ہے اور دور کی امیدیں باندھی ہیں اور عنقریب تم مر جاؤ گے۔
(۳۵۹۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: بَنَی عَبْدُ اللہِ بَیْتًا فِی دَارِہِ مِنْ لَبِنٍ، ثُمَّ دَعَا عَمَّارًا، فَقَالَ: کَیْفَ تَرَی یَا أَبَا الْیَقْظَانِ، فَقَالَ: أَرَاک بَنَیْت شَدِیدًا وَأَمَّلْتَ بَعِیدًا وَتَمُوتُ قَرِیبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٤) حضرت ابوعبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) مدائن میں کھڑے تھے۔ آپ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا : { اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ } خبردار ! قیامت قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔ خبردار ! دنیا نے جدائی کا کہہ دیا ہے۔ خبردار ! آج کا دن دوڑ کا میدان ہے اور کل کا دن سبقت ہے۔ اور انتہا جہنم ہے اور سبقت کرنے والا وہی ہے جو جنت کی طرف سبقت کرجائے۔
(۳۵۹۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قامَ حُذَیْفَۃُ بِالْمَدَائِنِ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} أَلاَ إِنَّ السَّاعَۃَ قَدِ اقْتَرَبَتْ ، وَإِنَّ الْقَمَرَ قَدِ انْشَقَّ ، أَلاَ وَإِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِالْفِرَاقِ ، أَلاَ وَإِنَّ الْمِضْمَارَ الْیَوْمُ ، وَإِنَّ السِّبَاقَ غَدًا ، وَإِنَّ الْغَایَۃَ النَّارُ ، وَإِنَّ السَّابِقَ مَنْ سَبَقَ إِلَی الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٥) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں مومن کے لیے یہی علم کافی ہے کہ وہ خدا سے خوف کھائے اور اس کے جھوٹ کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ استغفر اللہ کہے پھر وہی کام کرنے لگے۔
(۳۵۹۴۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَیْمان الْعَامِرِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : بِحَسْبِ الْمُؤمن مِنَ الْعِلْمِ أَنْ یَخْشَی اللَّہَ وَبِحَسْبِہِ مِنَ الْکَذِبِ أَنْ یَقُولَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ ، ثُمَّ یَعُودَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٦) حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایک ہی جگہ اس طرح اکٹھا کیا جائے گا کہ نگاہ ان کو پار کرجائے گی اور بلانے والا ان کو سنائے گا اور آواز دینے والا آواز دے گا۔ اے محمد ! ۔۔۔ پہلوں اور پچھلوں کے سامنے ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب میں فرمائیں گے : ” میں حاضر ہوں۔ خیر آپ کے قبضہ میں ہے اور شر آپ کی طرف نہیں ہے۔ اور ہدایت یافتہ وہی ہے جس کو آپ نے ہدایت دی ہے۔ آپ برکت والے اور بلند ہیں۔ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : یہی مقام محمود ہے۔
(۳۵۹۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : یُجْمَعُ النَّاسُ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ ، یَنْفُذُہُمُ الْبَصَرُ وَیَسْمَعُہُمُ الدَّاعِی فَیُنَادِی مُنَادٍ : یَا مُحَمَّدُ عَلَی رُؤُوسِ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ ، فَیَقُولُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ بَیْنَ یَدَیْک ، وَالشَّرُّ لَیْسَ إلَیْک ، وَالْمَہْدِیُّ مَنْ ہَدَیْتَ ، تَبَارَکْت وَتَعَالَیْت ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : فَذَلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٧) حضرت حذیفہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے پھر وہ حلقوں کے پاس کھڑے ہوتے اور کہتے۔ اے جماعت قرائ ! (سیدھے) راستہ چلتے جاؤ۔ پس اگر تم راستہ پر چلتے رہے تو تم بہت زیادہ سبقت پا جاؤ گے اور اگر تم نے دائیں، بائیں کا (راستہ) لے لیا تو تم بہت زیادہ گمراہ ہوجاؤ گے۔
(۳۵۹۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ ہَمَّامٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کَانَ یَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَیَقِفُ عَلَی الْحِلَقِ فَیَقُولُ : یَا مَعْشَرَ الْقُرَّائِ ، اسْلُکُوا الطَّرِیقَ فَلَئِنْ سَلَکْتُمُوہُ لَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِیدًا ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمْ یَمِینًا أَوْ شِمَالاً لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلاَلاً بَعِیدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٨) حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ اگر میرے مال کا محافظ کوئی آدمی ہو پھر مجھ پر دروازہ بند کردیا جائے اور میرے پاس کوئی نہ آئے یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے مل جاؤں۔
(۳۵۹۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : لَوَدِدْت أَنَّ لِی إنْسَانًا یَکُونُ فِی مَالِی ، ثُمَّ أُغْلِقُ عَلَیَّ بَابًا فَلاَ یَدْخُلُ عَلَیَّ أَحَدٌ حَتَّی أَلْحَقَ بِاللہِ۔
(ابن المبارک ۲۰)
(ابن المبارک ۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٤٩) حضرت خالد بن ربیع عبسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں حضرت حذیفہ (رض) کی تکلیف کی خبر پہنچی تو بنو عبس کا ایک گروہ ان کے پاس گیا اور ایک گروہ انصار کا گیا اور ہمارے ساتھ حضرت ابومسعود (رض) تھے۔ راوی کہتے ہیں ہم ان کے پاس رات کے کسی حصہ میں پہنچے۔ انھوں نے پوچھا : یہ کون سا وقت ہے ؟ ہم نے کہا : یہ یہ وقت ہے۔ انھوں نے فرمایا : میں صبح کے وقت خدا کی جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیا تم اپنے ساتھ میرے پاس کفن لے کر آئے ہو ؟ ہم نے کہا ہاں۔ انھوں نے فرمایا : تم میرے کفن کو قیمتی نہ بنانا۔ کیونکہ اگر تمہارے ساتھی کے لیے عنداللہ کوئی خیر ہوئی تو وہ اس کے بدلہ میں بہتر کفن پالے گا وگرنہ یہ بھی جلد ہی اتار لیا جائے گا۔
(۳۵۹۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ شَقِیقٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رَبِیعٍ الْعَبْسِیِّ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَنَا ثَقَلُ حُذَیْفَۃَ خَرَجَ إلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ بَنِی عَبْسٍ وَنَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَنَا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَانْتَہَیْنَا إلَیْہِ فِی بَعْضِ اللَّیْلِ ، فَقَالَ : أَیُّ سَاعَۃٍ ہَذِہِ قُلْنَا : سَاعَۃُ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللہِ مِنْ صَبَاحٍ إِلَی النَّارِ ، ہَلْ جِئْتُمُونِی مَعَکُمْ بِکَفَنٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَلاَ تُغَالُوا بِکَفَنِی فَإِنْ یَکُنْ لِصَاحِبِکُمْ خَیْرٌ عِنْدَ اللہِ یُبْدَلْ خَیْرًا مِنْہُ وَإِلاَّ سُلِبَ سَرِیعًا۔ (ابوداؤد ۳۱۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٠) حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک قبر میں حساب ہے اور بروز قیامت عذاب ہوگا۔
(۳۵۹۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنِ ابْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ، قَالَ : إنَّ فِی الْقَبْرِ حِسَابًا وَفِی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ عَذَابًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥١) حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہ (رض) کے پاس ان کا کفن لایا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : اگر تمہارے بھائی کو خیر نصیب ہوتی تو بہت اچھا۔ وگرنہ قبر کے کنارے قیامت تک اس کو ایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہیں گے۔
(۳۵۹۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : لَمَّا أُتِیَ حُذَیْفَۃُ بِکَفَنِہِ ، قَالَ : إنْ یُصِبْ أَخُوکُمْ خَیْرًا فَعَسَی ، وَإِلاَّ لَیَتَرَامَیْنَ بِہِ رَجَوَاہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক: