মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৫৯৫১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٢) حضرت حذیفہ (رض) سے { لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} کے بارے میں روایت ہے فرمایا : خدا تعالیٰ کے چہرہ کی زیارت مراد ہے۔
(۳۵۹۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ : {لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} قَالَ : النَّظَرُ إِلَی وَجْہِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٣) حضرت حذیفہ (رض) کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : بہت سے دن ایسے تھے کہ اگر مجھے موت آجاتی تو مجھے شک نہ ہوتا۔ لیکن آج کا دن تو بہت سی ایسی چیزیں مل گئی ہیں کہ مجھے ان میں ہونے کے بارے میں علم نہیں اور انھوں نے حضرت ابومسعود کو وصیت کی۔ فرمایا : جو چیز تم جانتے ہو اس کو لازم پکڑو اور خدا کے دین میں تَلَوُّن (مختلف مزاجی) سے بچو۔
(۳۵۹۵۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِیَادًا یُحَدِّثُ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، أَنَّہُ قَالَ : رُبَّ یَوْمٍ لَوْ أَتَانِی الْمَوْتُ لَمْ أَشُکَ ، فَأَمَّا الْیَوْمُ فَقَدْ خَالَطْت أَشْیَائَ لاَ أَدْرِی عَلَی مَا أَنَا فِیہَا ، وَأَوْصَی أَبَا مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : عَلَیْک بِمَا تَعْرِفُ ، وَإِیَّاکَ وَالتَّلَوُّنَ فِی دِینِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٤) حضرت حذیفہ (رض) کے ایک برادر زادہ عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت حذیفہ سے پینتالیس سال میں سنا : کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : تم اپنے دین میں سے جس چیز کو سب سے پہلے گم کرو گے وہ خشوع ہے اور تم جس آخری چیز کو اپنے دین میں سے گم کرو گے وہ نماز ہے۔
(۳۵۹۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْفِلَسْطِینِیِّ ، عَنْ عبْدِ الْعَزِیزِ ابْنِ أَخٍ لِحُذَیْفَۃَ ، قَالَ سَمِعْتہ مِنْ حُذَیْفَۃَ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ سَنَۃً ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِینِکُمَ الْخُشُوعُ ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِینِکُمَ الصَّلاَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٥) حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ (رض) سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انھوں نے مجھے اجازت نہ دی تو میں واپس پلٹ گیا۔ پھر اچانک ان کا قاصد میرے پاس آیا۔ (مجھے لے آیا) آپ (رض) نے مجھ سے پوچھا : تمہیں کس چیز نے واپس کردیا تھا ؟ میں نے جواب دیا : میں نے یہ گمان کیا کہ آپ سوئے ہوں گے۔ انھوں نے فرمایا : میں تب نہیں سوتا جب تک میں سورج کے طلوع کی جگہ نہ دیکھ لوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات محمد سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا : جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک سے زیادہ صحابہ (رض) یہ عمل کرتے تھے۔
(۳۵۹۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیِّ ، ثُمَّ الْقَسْرِیِّ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی حُذَیْفَۃَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یَأْذَنْ لِی ، فَرَجَعْت فَإِذَا رَسُولُہُ قَدْ لَحِقَنِی ، فَقَالَ : مَا رَدُّک ؟ قُلْتُ : ظَنَنْت أَنَّک نَائِمٌ ، قَالَ : مَا کُنْت لأَنَامَ حَتَّی أَنْظُرَ مِنْ أَیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَحَدَّثْت بِہِ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٦) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ارشادِ خداوندی ہوگا۔ دنیا میں سے جو کچھ میرے لیے تھا اس کو جدا کرلو اور باقی دنیا کو جہنم میں ڈال دو ۔
(۳۵۹۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِیَّۃَ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ : إذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ اللَّہُ : مَیِّزُوا مَا کَانَ لِی مِنَ الدُّنْیَا ، وَأَلْقُوا سَائِرَہَا فِی النَّارِ۔

(ابن المبارک ۵۴۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٧) حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبادہ بن صامت (رض) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا : ایک آدمی اللہ کی رضا کے لیے نماز پڑھتا ہے اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ عمل کچھ (کام کا) نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے : میں بہتر شریک ہوں۔ پس جس آدمی کی میرے ساتھ شرکت ہو تو وہ چیز ساری اسی کی ہے۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
(۳۵۹۵۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ حَمْزَۃَ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَقَالَ رَجُلٌ یُصَلِّی یَبْتَغِی وَجْہَ اللہِ ، وَیُحِبُّ أَنْ یُحْمَدَ ، قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ، إنَّ اللَّہَ یَقُولُ : أَنَا خَیْرُ شَرِیک ، فَمَنْ کَانَ لَہُ مَعِی شِرکٌ فَہُوَ لَہُ کُلُّہُ لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٨) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں : میں اپنے دوست کے لیے اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اس کا مال کم ہو یا اس کی موت جلدی آئے۔
(۳۵۹۵۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَیْمُونَ بْنَ أَبِی شَبِیبٍ یُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَمَنَّی لِحَبِیبِی أَنْ یَقِلَّ مَالُہُ أَوْ یُعَجَّلَ مَوْتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٥٩) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے انھیں اس دینار اور درہم نے ہلاک کیا تھا اور یہی دو تمہیں بھی ہلاک کرنے والے ہیں۔
(۳۵۹۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : إنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ہَذَا الدِّینَارُ وَالدِّرْہَمُ ، وَہُمَا مُہْلِکَاکُمْ۔ (ابو نعیم ۲۶۱۔ ابن حبان ۶۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٠) حضرت ابن ابی موسیٰ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ) فرمایا : سابقین کے لیے دو سونے کی جنتیں ہوں گی اور تابعین کے لیے دو چاندی کی جنتیں ہوں گی۔
(۳۵۹۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُوسَی ، عَنْ أَبِیہِ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ} قَالَ : جَنَّتَانِ مِنْ ذَہَبٍ لِلسَّابِقِینَ وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّۃٍ لِلتَّابِعِینَ۔ (حاکم ۴۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦١) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے سروں پر ہوگا اور لوگوں کے اعمال لوگوں پر سایہ کریں گے یا ان کو سورج کے لیے چھوڑیں گے۔
(۳۵۹۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : الشَّمْسُ فَوْقَ رُؤُوسِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَعْمَالُہُمْ تُظِلُّہُمْ ، أَوْ تُضَحِّیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٢) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ (رض) کے ساتھ تھے کہتے ہیں : پس ہم رات کو ایک ویران باغ میں آئے۔ مسروق کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ (رض) رات کو کھڑے ہوئے، نماز پڑھی، خوبصورت قراءت کی پھر کہا : اے اللہ ! تو مومن ہے اور مومن کو پسند کرتا ہے۔ مہیمن ہے اور مہیمن کو پسند کرتا ہے۔ سلام ہے اور سلامتی کو پسند کرتا ہے۔ سچا ہے اور سچے کو پسند کرتا ہے۔
(۳۵۹۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی، قَالَ: فَجِئْنَا اللَّیْلَ إِلَی بُسْتَانٍ خَرِبٍ ، قَالَ ، فَقَامَ أَبُو مُوسَی مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّی ، فَقَرَأَ قِرَائَۃً حَسَنَۃً ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ مُؤْمِنٌ تُحِبُّ الْمُؤْمِنَ مُہَیْمِنٌ تُحِبُّ الْمُہَیْمِنَ ، سَلاَمٌ تُحِبُّ السَّلاَمَ ، صَادِقٌ تُحِبُّ الصَّادِقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٣) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح نکلتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر جن فرشتوں نے اس روح کو نکالا ہوتا ہے وہ فرشتے اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کو آسمان سے پہلے ہی اور فرشتے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ یہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں ہے اور فرشتے اس کا ذکر اس کے بہترین عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ اس پر سوال کرنے والے فرشتے کہتے ہیں : خدا تعالیٰ تم پر بھی رحمت کرے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس پر بھی رحمت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پس وہ پروردگار کے پاس آتا ہے تو اس کے چہرے میں سورج کی مثل دلیل موجود ہوتی ہے۔ فرمایا : اور جو دوسرا ہے اس کی روح نکلتی ہے جبکہ وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ جو فرشتے اس کو نکالتے ہیں وہ اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمان سے پہلے کچھ فرشتے انھیں ملتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ کون ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں فلاں ہے۔ اور اس کے بدترین عمل کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : اس پر وہ فرشتے کہتے ہیں : اس کو واپس کردو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوموسیٰ (رض) نے یہ آیت پڑھی : { وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ }
(۳۵۹۶۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : تَخْرُجُ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ وَہِیَ أَطْیَبُ رِیحًا مِنَ الْمِسْکِ ، قَالَ : فَیَصْعَدُ بِہَا الْمَلاَئِکَۃُ الَّذِینَ یَتَوَفَّوْنَہَا فَتَلَقَّاہُمْ مَلاَئِکَۃٌ دُونَ السَّمَائِ فَیَقُولُونَ : مَنْ ہَذَا مَعَکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : فُلاَنٌ وَیَذْکُرُونَہُ بِأَحْسَنِ عَمَلِہِ ، فَیَقُولُونَ : حَیَّاکُمَ اللَّہُ وَحَیَّا مَنْ مَعَکُمْ ، قَالَ : فَتُفْتَحُ لَہُ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، قَالَ : فَیُشْرِقُ وَجْہُہُ فَیَأْتِی الرَّبَّ وَلِوَجْہِہِ بُرْہَانٌ مِثْلُ الشَّمْسِ، قَالَ : وَأَمَّا الآخَرُ فَتَخْرُجُ نَفْسُہُ وَہِیَ أَنْتَنُ مِنَ الْجِیفَۃِ ، فَیَصْعَدُ بِہَا الْمَلاَئِکَۃُ الَّذِینَ یَتَوَفَّوْنَہَا فَتَلَقَّاہُمْ مَلاَئِکَۃٌ دُونَ السَّمَائِ فَیَقُولُونَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَیَقُولُونَ : فُلاَنٌ ، وَیَذْکُرُونَہُ بِأَسْوَئِ عَمَلِہِ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : رُدُّوہُ فَمَا ظَلَمَہُ اللَّہُ شَیْئًا ، قَالَ : وَقَرَأَ أَبُو مُوسَی : {وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٤) حضرت محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے حضرت عامر کو خط لکھا عبداللہ بن قیس کی طرف سے عامر بن عبداللہ کی طرف ۔۔۔ جس کو پہلے عبد قیس کہا جاتا تھا ۔۔۔ اما بعد ! پس میں نے تمہارے ساتھ ایک بات پر عہد کیا تھا اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم بدل گئے ہو۔ لہٰذا اگر تم میرے کیے ہوئے معاہدہ پر ہو تو خدا سے ڈرو اور مداومت رکھو۔ اور اگر تم بدل گئے ہو تو خدا سے ڈرو اور واپس آجاؤ۔
(۳۵۹۶۴) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَتَبَ أَبُو مُوسَی إِلَی عَامِرٍ مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ إِلَی عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الَّذِی کَانَ یُدْعَی عَامِرَ بْنَ عَبْدِ قَیْسٍ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّی عَہِدْتُک عَلَی أَمْرٍ وَبَلَغَنِی أَنَّک تَغَیَّرْت، فَإِنْ کُنْت عَلَی مَا عَہِدْت فَاتَّقِ اللَّہَ وَدُمْ ، وَإِنْ کُنْت تَغَیَّرْت فَاتَّقِ اللَّہَ وَعُدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٥) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم نشین، خلوت سے بہتر ہوتا ہے اور خلوت، برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ خبردار ! اچھے ہم نشین کی مثال عطر کی سی ہے اگر وہ تجھے نہ بھی دے تو بھی خوشبو لگ کر تم مہک جاؤ گے۔ اور خبردار ! برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی دھونی کی سی ہے اگر وہ تمہیں نہ جلائے تو اس کی بو تمہیں پہنچ جائے گی۔ خبردار ! دل کو دل اس کے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ خبردار ! دل کی مثال زمین کے اوپر فضا میں درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی سی ہے۔ کہ ہوا اس کو اوپر، نیچے کی جانب پلٹتی رہتی ہے۔
(۳۵۹۶۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : الْجَلِیسُ الصَّالِحُ خَیْرٌ مِنَ الْوَحْدَۃِ وَالْوَحْدَۃُ خَیْرٌ مِنْ جَلِیسِ السُّوئِ ، أَلاَ إنَّ مَثَلَ الْجَلِیس الْصَّالِح کَمَثَلِ الْعِطْرِ أَلاَ یُحْذِکَ یَعْبَقُ بِکَ مِنْ رِیحِہِ ، أَلاَ وَإِنَّ مَثَلَ جَلِیسِ السُّوئِ کَمَثَلِ الْکِیرِ إِلاَّ یَحْرُقُک یَعْبَقُ بِکَ مِنْ رِیحِہِ ، أَلاَ وَإِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ ، أَلاَ وَإِنَّ مَثَلَ الْقَلْبِ مَثَلُ رِیشَۃٍ مُتَعَلِّقَۃٍ بِشَجَرَۃٍ فِی فَضَائٍ مِنَ الأَرْضِ فَالرِّیحُ تُقَلِّبُہَا ظَہْرًا وَبَطْنًا۔ (ابن المبارک ۳۵۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٦) حضرت انس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ (رض) کے ہمراہ ان کے گھر پر تھے کہ انھوں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور انھوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ سنا۔ راوی کہتے ہیں انھوں نے فرمایا : اے انس ! آؤ، ہم کچھ دیر اللہ کا ذکر کرلیں۔ کیونکہ یہ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان سے چمڑے کو کاٹ دے پھر آپ (رض) نے فرمایا : کس چیز نے لوگوں کو آخرت سے روکا ہے ؟ کس چیز نے انھیں اس سے روکا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : دنیا اور خواہشات۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ بلکہ آخرت آنکھوں سے غائب ہے اور دنیا حاضر ہے۔ اگر لوگ معائنہ کرلیں تو ان کے درمیان عدل نہ کریں اور نہ متردد ہوں۔
(۳۵۹۶۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی فِی منزلہ فَسَمِعَ النَّاسَ یَتَکَلَّمُونَ فَسَمِعَ فَصَاحَۃً وَبَلاَغَۃً ، قَالَ : فَقَالَ : یَا أَنَسُ ، ہَلُمَّ فَلْنَذْکُرِ اللَّہَ سَاعَۃً ، فَإِنَّ ہَؤُلاَئِ یَکَادُ أَحَدُہُمْ أَنْ یَفْرِیَ الأَدِیمَ بِلِسَانِہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَنَسُ ، مَا ثَبَّطَ النَّاسَ عَنِ الآخِرَۃِ مَا ثَبَّطَہُمْ عنہا ؟ قَالَ : قُلْتُ : الدُّنْیَا وَالشَّہَوَاتُ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ غُیِّبَتِ الآخِرَۃُ وَعُجِّلَتِ الدُّنْیَا ، وَلَوْ عَایَنُوا مَا عَدَلُوا بَیْنَہُمَا ، وَلاَ مَیَّلُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٧) حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : بیشک یہ قرآن تمہارے لیے اجر ہوگا اور تمہارے لیے ذکر ہوگا۔ اور تمہارے اوپر بوجھ ہوگا۔ پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن کو اپنے پیچھے نہ لگاؤ۔ کیونکہ جو شخص قرآن کی پیروی کرے گا تو وہ اس کو جنت کے باغ میں اتار دے گا اور جس کے پیچھے قرآن لگ جائے گا وہ اس کو اس کی گدی سے پکڑ کر جہنم میں گرا دیتا ہے۔
(۳۵۹۶۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِی إیَاسٍ ، عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ ، أَنَّہُ قَالَ : إنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ کَائِنٌ لَکُمْ أَجْرًا ، وَکَائِنٌ لَکُمْ ذِکْرًا ، وَکَائِنٌ عَلَیْکُمْ وِزْرًا ، فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ ، وَلاَ یَتْبَعْکُمْ ، فَإِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعَ الْقُرْآنَ یَہْبِطْ بِہِ عَلَی رِیَاضِ الْجَنَّۃِ ، وَمَنْ یَتْبَعْہُ الْقُرْآنُ یُزَخُّ فِی قَفَاہُ فَیَقْذِفْہُ فِی جَہَنَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٨) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابلیس صبح کرتا ہے تو اپنے لشکر کو بھیجتا ہے۔ ایک کہتا ہے : میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے شراب پی لی۔ شیطان کہتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ایک دوسرا کہتا ہے۔ میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے زنا کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے : تو ٹھیک ہے۔ ایک کہتا ہے : میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے۔ تو ٹھیک ہے۔
(۳۵۹۶۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِی مُوسَی، قَالَ: إذَا أَصْبَحَ إبْلِیسُ بَعَثَ جُنُودَہُ فَیَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِہِ حَتَّی شَرِبَ ، قَالَ: أَنْتَ ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ بِہِ حَتَّی زَنَی، قَالَ : أَنْتَ ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ بِہِ حَتَّی قَتَلَ ، قَالَ : أَنْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٦٩) حضرت ابوالاسود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے قراء کو جمع کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہاں وہی آئے جس نے قرآن جمع کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں ہم تین صد کے قریب آدمی جمع ہوئے۔ پس آپ (رض) نے ہمیں نصیحت فرمائی اور کہا تم لوگ اس شہر کے قاری ہو۔ تم لوگ امیدیں لمبی نہ باندھو ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے جس طرح اہل کتاب کے دل سخت ہوگئے تھے۔
(۳۵۹۶۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَمَعَ أَبُو مُوسَی الْقُرَّائَ ، فَقَالَ : لاَ یَدْخُلَنَّ عَلَیْکُمْ إِلاَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا زُہَائَ ثَلاَثُ مِئَۃ رَجُلٍ فَوَعَظَنَا ، وَقَالَ : أَنْتُمْ قُرَّائُ ہَذَا الْبَلَدِ وَأَنْتُمْ ، فَلاَ یَطُولَنَّ عَلَیْکُمَ الأَمَدُ فَتَقْسُو قُلُوبُکُمْ کَمَا قَسَتْ قُلُوبُ أَہْلِ الْکِتَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٠) حضرت ابوبردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے مدینہ کی طرف بھیجا اور فرمایا : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے ملو اور ان سے سوال کرو۔ اور یاد رکھو میں تم سے پوچھوں گا۔ چنانچہ میں حضرت ابن سلام کو ملا وہ ایک عاجز آدمی تھے۔
(۳۵۹۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنِی أَبِی إِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَقَالَ : الْحَقْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَائِلْہُمْ ، وَاعْلَمْ أَنِّی سَائِلُک ، فَلَقِیت ابْنَ سَلاَمٍ فَإِذَا ہُوَ رَجُلٌ خَاشِعٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧١) حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر (رض) جب نماز میں کھڑے ہوتے تو میخ کی طرح ہوتے۔
(۳۵۹۷۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ إذَا قَامَ فِی الصَّلاَۃِ کَأَنَّہُ وَتِدٌ۔
tahqiq

তাহকীক: