মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৬৪১১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٢) حضرت ابوہریرہ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
(۳۶۴۱۲) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ کُمَیْلِ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ کَنْزٌ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ۔ (نسائی ۱۰۱۹۰۔ احمد ۵۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٣) حضرت معاذ بن جبل، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
(۳۶۴۱۳) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ کَنْزٌ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ۔

(احمد ۲۲۸۔ طبرانی ۳۷۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٤) حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم ہر اس عمل کو دیکھو جس کی وجہ سے تم موت کو ناپسند کرتے ہو۔ پس تم اس کو چھوڑ دو ۔ پھر تم جب بھی مرو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
(۳۶۴۱۴) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : انْظُرْ کُلَّ عَمَلٍ کَرِہْت الْمَوْتَ مِنْ أَجْلِہِ فَاتْرُکْہُ ثُمَّ لاَ یَضُرُکَ مَتَی مَا مِتَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٥) حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ تھوڑی سی دنیا، بہت زیادہ آخرت سے مشغول کردیتی ہے۔ پھر فرمایا : تم ایسے آدمی کو پاؤ گے جو غیر کی فکر میں اپنے آپ سے مشغول ہوگا۔ جبکہ اس کو دوسرے کی فکر سے زیادہ اپنے نفس کی فکر رکھنی چاہیے تھی۔
(۳۶۴۱۵) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ أَنَّہُ قَالَ : یَسِیرُ الدُّنْیَا یُشْغِلُ عَنْ کَثِیرِ الآخِرَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّک تَجِدُ الرَّجُلَ یَشْغَلُ نَفْسَہُ بِہَمِّ غَیْرِہِ حَتَّی لَہُوَ أَشَدُّ اہْتِمَامًا مِنْ صَاحِبِ الْہَمِّ بِہَمِّ نَفْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٦) حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے وہ کہا کرتے تھے کہ تم ایک آدمی کو دیکھتے ہو جو گناہ کررہا ہے۔ پس جب اس سے کہا جائے تمہیں موت پسند ہے ؟ وہ کہتا ہے۔ نہیں اور کیسے پسند ہو جبکہ میرے پاس جو ہے وہ ہے۔ پھر اس سے کہا جائے۔ کیا تم ان گناہ کے عملوں کو ترک نہیں کرتے ؟ تو وہ کہتا ہے میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں مر جاؤں۔ یہاں تک کہ میں ان کو چھوڑ دوں۔
(۳۶۴۱۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، أَنَّہُ قَالَ : تَجِدُ الرَّجُلَ یَعْمَلُ بِالْمَعَاصِی ، فَإِذَا قِیلَ لَہُ : تُحِبُّ الْمَوْتَ ، قَالَ : لاَ ، وَکَیْفَ ، وَعِنْدِی مَا عِنْدِی ، فَیُقَالَ لَہُ : أَفَلاَ تَتْرُکُ مَا تَعْمَلُ بِہِ مِنَ الْمَعَاصِی ، فَقَالَ : مَا أُرِیدُ تَرْکَہُ ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَمُوتَ حَتَّی أَتْرُکَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٧) حضرت حسن سے ارشادِ خداوندی {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! جہنم، مجرموں کا گھات لگائے گی۔ فرمایا کہ اسی دوران ایک آدمی گزر رہا ہوگا کہ اس کے سامنے ایک آدمی آئے گا اور (اس سے) کہے گا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ راستہ میں گھات لگا ہوا ہے ؟ وہ کہے گا۔ ہاں۔ پہلا آدمی کہے گا۔ پھر تم اپنا بچاؤ کرو۔
(۳۶۴۱۷) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ ، عَنْ أَبِی سَہْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی قَوْلِہِ : {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا} قَالَ : تَرْصُدُہُمْ وَاللہِ ، قَالَ : وَبَیْنَمَا رَجُلٌ یَمُرُّ إذْ اسْتَقْبَلَہُ آخَرُ ، قَالَ : أَبَلَغَکَ أَنَّ بِالطَّرِیقِ رَصَدًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَخُذْ حَذَرَک إذًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٨) حضرت حسین بن علی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسنان کو جمعہ کے دن دیکھا کہ ان کی آنکھیں بہہ رہی تھیں اور ان کے ہونٹ حرکت کررہے تھے۔
(۳۶۴۱۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا سِنَانٍ یَوْمَ جُمُعَۃٍ وَعَیْنَاہُ تَسِیلاَنِ وَشَفَتَاہُ تَحَرَّکُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤١٩) حضرت میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی تب تک متقی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے نفس سے اس سے بھی سخت محاسبہ نہ کرے جیسا وہ اپنے شریک سے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھے کہ اس کا کھانا، اس کا پینا، اس کا لباس کہاں سے ہے ؟ “
(۳۶۴۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : لاَ یَکُونُ الرَّجُلُ تَقِیًّا حَتَّی یُحَاسِبَ نَفْسَہُ أَشَدَّ مِنْ مُحَاسَبَۃِ الرَّجُلِ شَرِیکَہُ حَتَّی یَنْظُرَ مِنْ أَیْنَ مَطْعَمُہُ وَمَشْرَبُہُ وَمَکْسَبُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٠) حضرت سعید بن جبیر سے ارشادِ خداوندی { مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ إلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیہَا وَہُمْ فِیہَا لاَ یُبْخَسُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص دنیا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کو دنیا میں ہی اس کا پورا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔
(۳۶۴۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فِی قَوْلِہِ : {مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ إلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیہَا وَہُمْ فِیہَا لاَ یُبْخَسُونَ} قَالَ : مَنْ عَمِلَ لِلدُّنْیَا وُفِّیہِ فِی الدُّنْیَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢١) حضرت سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن المنکدر سے پوچھا آپ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ انھوں نے فرمایا : مومن کو خوش کرنا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون سی چیز باقی رہ گئی ہے جس سے آپ لذت حاصل کریں ؟ انھوں نے فرمایا : بھائیوں کا اکرام۔
(۳۶۴۲۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ،قَالَ : قالَوا لاِبْنِ الْمُنْکَدِرِ : أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إلَیْک ؟ قَالَ : إدْخَالُ السُّرُورِ عَلَی الْمُؤْمِنِ ، قَالُوا : فَمَا بَقِیَ مِمَّا تَسْتَلِذُّ ، قَالَ : الإِفْضَالُ عَلَی الإِخْوَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٢) حضرت عمارہ بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن سکن مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھنے لگ گئے پھر فرمایا : مسجد قحط زدہ ہوگئی، مسجد قحط زدہ ہوگئی۔
(۳۶۴۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ قَیْسُ بْنُ السَّکَنِ الْمَسْجِدَ فَجَعَلَ یَنْظُرُ وَیَقُولُ : أَجَدَبَ الْمَسْجِدُ أَجَدَبَ الْمَسْجِدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٣) حضرت مالک بن مغول، حضرت ابوحصین کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے مجھے کہا : اگر تم ان لوگوں کو دیکھ لیتے جن کو میں نے دیکھا ہے تو تم ان پر اپنا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے کرلیتے۔
(۳۶۴۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، قَالَ : قَالَ لِی : لَوْ رَأَیْتَ قَوْمًا رَأَیْتُہُمْ لَتَقَطَّعَتْ کَبِدُک عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٤) حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اپنی نیکیوں کو اس سے زیادہ چھپاؤ کہ جتنا تم اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو۔
(۳۶۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : اکْتُمْ حَسَنَاتِکَ أَکْثَرَ مِمَّا تَکْتُمُ سَیِّئَاتِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٥) حضرت عمرو بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن پاک کی دو صد آیات کی تلاوت اس طرح کرتا ہے کہ وہ قرآن کو دیکھ رہا ہوتا ہے تو کوئی آدمی اس دن اس شخص سے افضل کام کرنے والا نہیں ہوتا۔
(۳۶۴۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ مِئَتَیْ آیَۃٍ وَہُوَ یَنْظُرُ فِی الْمُصْحَفِ لَمْ یَجِئْ أَحَدٌ فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ بِأَفْضَلَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٦) حضرت عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے بڑا عالم فتویٰ نہیں دیکھا اور میں نے انھیں یہ کہتے سنا کہ میں دنیا میں سے صرف ایک گدھے کا مالک ہوں۔
(۳۶۴۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : مَا رَأَیْت أَحَدًا أَعْلَمَ بِفُتْیَا مِنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، وَسَمِعْتہ یَقُولُ : مَا أَمْلِکُ مِنَ الدُّنْیَا شَیْئًا إِلاَّ حِمَارًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٧) حضرت ابوالضحی سے ارشاد خداوندی { ألاَّ إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جب دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے۔
(۳۶۴۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی فِی قَوْلِہِ : {ألاَّ إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ} قَالَ : ہُمَ الَّذِینَ إذَا رُؤُوا ذُکِرَ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٨) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ اللہ کے پاس موجود اپنی حالت کو دیکھے تو اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس لوگوں کی کیا حالت ہے۔
(۳۶۴۲۸) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَمَّنْ حَدَّثَہُ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَعْلَمَ مَا لَہُ عِنْدَ اللہِ فَلْیَنْظُرْ مَا لِلنَّاسِ عِنْدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٢٩) حضرت مجاہد سے {إِلاَّ أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُہُمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : یہ موت ہے۔
(۳۶۴۲۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ : {إِلاَّ أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُہُمْ} قَالَ: الْمَوْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٣٠) حضرت سالم سے { وَاعْبُدْ رَبَّک حَتَّی یَأْتِیَک الْیَقِینُ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : الْیَقِینُ سے مراد موت ہے۔
(۳۶۴۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَالِمٍ {وَاعْبُدْ رَبَّک حَتَّی یَأْتِیَک الْیَقِینُ} قَالَ : الْیَقِینُ : الْمَوْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٤٣١) حضرت ربیع بن منذر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم کے پاس لوگ کنکریاں لے کر آئے یا ان کے لیے کنکریاں خریدی گئیں پس یہ ان کے گھر یا ان کے کمرہ میں ڈالی گئیں۔ یعنی وہ اس پر بیٹھتے تھے۔
(۳۶۴۳۱) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ الرَّبِیعَ بْنَ خُثَیْمٍ جَاؤُوہُ بِرَمْلٍ، أَوِ اشْتُرِیَ لَہُ رَمْلٌ فَطُرِحَ فِی بَیْتِہِ ، أَوْ فِی دَارِہِ ، یَعْنِی یَجْلِسُ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক: