সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ৬৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
660 ۔ عمیر جو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے غلام تھے فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں اور عبداللہ بن یسار، جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ (رض) کے غلام ہیں ، ہم دونوں حضرت ابو جہم بن حارث انصاری کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابوجہم (رض) نے بتایا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمل کے کنویں کی طرف سے تشریف لارہے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوار کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔
660 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِى اللَّيْثُ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِى الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِىِّ فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِ السَّلاَمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
661 ۔ حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمل کے کنویں کی طرف جارہے تھے تاکہ آپ قضائے حاجت کریں، آپ کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی وہ سامنے سے آ رہا تھا ، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوار کے پاس تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا، (یعنی تیمم کیا) پھر سلام کا جواب دیا۔
661 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِى جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَهَبَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ لِيَقْضِىَ حَاجَتَهُ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ وَهُوَ مُقْبِلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
662 ۔ حضرت ابوجہم بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے جمل کے کنویں کی طرف تشریف لے جارہے تھے ایک شخص نے سامنے کی طرف سے (آکر) آپ کو سلام کیا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک دیوار رکھا اور اس کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا ) پھر آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو۔
662 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ وَكَانَ عُمَيْرٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ ثِقَةً فِيمَا بَلَغَنِى - عَنْ أَبِى جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِىِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِبَعْضِ حَاجَتِهِ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْجِدَارِ وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ « وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
663 ۔ حضرت ابوجہم (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمل کے کنویں کی طرف تشریف لا رہے تھے ، شاید پاخانہ کرکے یا پیشاب کر کے آ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سلام کا جواب نہ دیا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک دیوار پر پھیرا اور اس کے ذریعے اپنے چہرہ مبارک اور دونوں بازؤوں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا ) پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو جہم (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں منقول ہے۔
663 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ مِهْرَانَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى جُهَيْمٍ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ بِئْرِ جَمَلٍ إِمَّا مِنْ غَائِطٍ وَإِمَّا مِنْ بَوْلٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَضَرَبَ الْحَائِطَ بِيَدِهِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى فَمَسَحَ بِهَا ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ.قَالَ أَبُو مُعَاذٍ وَحَدَّثَنِى خَارِجَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى جُهَيْمٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
664 ۔ نافع بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے کسی کام کے سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنا مقصد بیان کردیا تو اس کے بعد اس دن کی گفتگو میں انھوں نے یہ بات بیان کی ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا یہ گلی کی بات ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت پاخانہ کرکے یاپیشاب کر کے تشریف لائے تھے اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ وہ شخص گلی سے باہر نکلنے والا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک دیوار پر پھیر کر اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوبارہ پھیر کر اپنے دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں باوضو حالت میں نہیں تھا۔
664 - - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِى حَاجَةٍ لاِبْنِ عُمَرَ فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ يَتَوَارَى فِى السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلاَمَ وَقَالَ « إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِى أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلاَمَ إِلاَّ أَنِّى لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
665 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) یہ بات بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاخانہ کرکے تشریف لارہے تھے جمل کے کنویں کے قریب ایک شخص آپ کے سامنے آیا اس نے آپ کو سلام کیا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوار کے پاس تشریف لائے اور اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
665 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِىُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الرَّجُلِ السَّلاَمَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
666 ۔ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات بیان کی کہ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ْ اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں جب آدمی کو اللہ کی راہ میں زخم آتے ہیں ، یا اس کو پھوڑا نکلا ہو یا خارش کی بیماری ہو ، پھر اسے جنابت لاحق ہو یا اسے اندیشہ ہو کہ غسل کرنے کی وجہ سے وہ مرسکتا ہے تو ایسا شخص تیمم کرے گا۔
666 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى قَوْلِهِ (وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ) قَالَ إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ الْقُرُوحُ أَوِ الْجُدَرِىُّ فَيُجْنِبُ فَيَخَافُ أَنْ يَمُوتَ إِنِ اغْتَسَلَ يَتَيَمَّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
667 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں بیمار شخص کو مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔
667 - حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
668 ۔ عطاء نے یہ روایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ دیگر روایوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
668 - وَحَدَّثَنَاهُ الْمَحَامِلِىُّ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ نَحْوَهُ. رَوَاهُ عَلِىُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءٍ وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَوَقَفَهُ وَرْقَاءُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا وَهُوَ الصَّوَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
669 ۔ حضرت عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ مجھے سردیوں کی رات میں احتلام ہوگیا ، یہ غزوہ ذات السلاسل کی بات ہے ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاکت کا شکار ہوجاؤں گا اس لیے میں نے تیمم کرکے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا ، اے عمرو تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی ، تو میں نے آپ کو اس وجہ کے بارے میں بتادیا جس نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا میں نے عرض کیا میں نے اللہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تمہارے بارے میں بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے کچھ نہیں فرمایا۔
669 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ احْتَلَمْتُ فِى لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِى غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِى الصُّبْحَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ». فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِى مَنَعَنِى مِنْ الاِغْتِسَالِ فَقُلْتُ إِنِّى سَمِعْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ (وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَقُلْ لِى شَيْئًا. الْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
670 ۔ ابوقیس جو حضرت عمرو بن عاص کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عاص (رض) ایک سریہ میں گئے ہوئے تھے اس دوران انھیں سردی کا سامان کرنا پڑا تھا ، اس سے پہلے اتنی سردی کبھی نہیں آئی تھی وہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے جانے لگے تو انھوں نے کہا اللہ کی قسم مجھے کل رات احتلام ہوا تھا اس طرح کی سردی اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھی پھر انھوں نے اپنے زانوں کو (جہاں احتلام کا نشان موجود تھا) دھویا، نماز کا سا وضو کرکے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی ، جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا تم نے عمرو کو کیسا پایا ، اس کا ساتھ کیسا رہا ؟ تو انھوں نے حضرت عمرو (رض) کی بہت تعریف کی (اور یہ بھی بتایا) یارسول اللہ ایک مرتبہ انھوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو کو بلایا ، حضرت عمرو نے آپ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا اور عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا، تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اگر میں اس وقت غسل کرلیتا میں مرجاتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمرو کی اس بات پر مسکرادیے۔
670 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِى قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ فَخَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَصْحَابَهُ « كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ لَكُمْ ». فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى لَنَا وَهُوَ جُنُبٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِى لَقِىَ مِنَ الْبَرْدِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَالَ (وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ) فَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
671 ۔ ربیع بن بدر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت اسلع نے کہا، آپ مجھے دکھائیں کہ نبی کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو کس طرح تیمم کرنے کا طریقہ سکھایا تھا تو انھوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ملیں، پھر ان پر پھونک ماری ، پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے کا مسح کیا ، یہاں تک کہ اپنی داڑھی کا بھی مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں کو زمین پر لگایا ، ان ک ذریعے زمین کا مسح کیا، ان میں سے ایک کو دوسرے پر مل لیا۔ انھوں نے اپنی ہتھیلی کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سکھایا کہ میں کس طرح مسح کروں ؟ راوی بیان کرتے یہں پھر انھوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں پھر انھیں اپنے چہرے کی طرف بلند کیا پھر دوسری ضرب لگائی پھر دونوں ہاتھوں کے ظاہری اور اندرونی حصے کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کہنیوں کا مسح کیا۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سکھایا کہ میں کس طرح مسح کروں ؟ راوی بیان کرتے یہں پھر انھوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں پھر انھیں اپنے چہرے کی طرف بلند کیا پھر دوسری ضرب لگائی پھر دونوں ہاتھوں کے ظاہری اور اندرونی حصے کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کہنیوں کا مسح کیا۔
671 - وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ دَنُوقَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِىٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ الأَسْلَعِ قَالَ أَرَانِى كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- التَّيَمُّمَ فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَضَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ أَمَرَّ عَلَى لِحْيَتِهِ ثُمَّ أَعَادَهُمَا إِلَى الأَرْضِ فَمَسَحَ بِهِمَا الأَرْضَ ثُمَّ دَلَكَ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا . هَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِىِّ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ فِى حَدِيثِهِ فَأَرَانِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَيْفَ أَمْسَحُ فَمَسَحْتُ قَالَ فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ رَفَعَهُمَا لِوَجْهِهِ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا حَتَّى مَسَّ بِيَدَيْهِ الْمِرْفَقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
672 ۔ شقیق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی اشعری (رض) نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص جنبی ہوجائے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے وہ اس دوران تیمم کرتا رہے گا ؟ تو حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا وہ تیمم نہیں کرے گا، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ تو حضرت ابوموسی اشعری نے فرمایا پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے ؟ جو سورة مائدہ میں موجود ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) پھر تم پانی نہیں پاتے ہو تو پاک مٹی کے ذریعے تیمم کرلو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا۔ اگر لوگوں کو اس بارے میں اجازت دے دی جائے تو عنقریب ایسا وقت آئے گا جب انھیں پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ پاک مٹی سے تیمم کرنے لگیں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسی نے ان سے دریافت کیا آپ اس وجہ سے اس کو ناپسند کرتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں ۔ تو حضرت ابوموسی نے ان سے فرمایا، آپ نے وہ بات نہیں سنی ؟ جو عمار (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہی تھی ؟ (انہوں نے بیان کیا تھا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جس طرح کوئی جانور ہوجاتا ہے ، پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اتناکافی تھا کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان میں سے ایک کے ذریعے دوسرے پر مسح کرلیتے۔ پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے کا مسح کرلیتے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا، آپ نے حضرت عمر (رض) کے بارے میں غور نہیں کیا، حضرت عمر نے حضرت عمار (رض) کے بیان پر قناعت نہیں کی تھی۔
یوسف نامی راوی کے الفاظ یہ ہیں : تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کرلو۔ حضرت عبداللہ نے یہ فرمایا ، کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا ؟ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار (رض) کے بیان پر قناعت نہیں کی (یعنی اکتفا نہیں کیا) ۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسی نے ان سے دریافت کیا آپ اس وجہ سے اس کو ناپسند کرتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں ۔ تو حضرت ابوموسی نے ان سے فرمایا، آپ نے وہ بات نہیں سنی ؟ جو عمار (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہی تھی ؟ (انہوں نے بیان کیا تھا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جس طرح کوئی جانور ہوجاتا ہے ، پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اتناکافی تھا کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان میں سے ایک کے ذریعے دوسرے پر مسح کرلیتے۔ پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے کا مسح کرلیتے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا، آپ نے حضرت عمر (رض) کے بارے میں غور نہیں کیا، حضرت عمر نے حضرت عمار (رض) کے بیان پر قناعت نہیں کی تھی۔
یوسف نامی راوی کے الفاظ یہ ہیں : تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کرلو۔ حضرت عبداللہ نے یہ فرمایا ، کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا ؟ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار (رض) کے بیان پر قناعت نہیں کی (یعنی اکتفا نہیں کیا) ۔
672 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِى مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَكَانَ يَتَيَمَّمُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِى سُورَةِ الْمَائِدَةِ (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِى هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ. قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى فَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا فَقَالَ نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ رضى الله عنهما بَعَثَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِى الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ ». فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ. وَقَالَ يُوسُفُ أَنْ تَضْرِبَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ عُمَرَ رضى الله عنه لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
673 ۔ حضرت عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ، تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے ہوتی ہے اور ایک دونوں بازوؤں کے لیے کہنیوں تک (مسح) کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔
علی بن ظبیان نامی راوی نے اس کو مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے جسے دیگر آدمیوں نے موقوف کے طور پر نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔
علی بن ظبیان نامی راوی نے اس کو مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے جسے دیگر آدمیوں نے موقوف کے طور پر نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔
673 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ ظَبْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ». كَذَا رَوَاهُ عَلِىُّ بْنُ ظَبْيَانَ مَرْفُوعًا وَوَقَفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمَا وَهُوَ الصَّوَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
674 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) یہ فرماتے ہیں۔ تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں بازوؤں پر کہنیوں تک (مسح کرنے کے لیے ) ہوتی ہے۔
674 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ح. وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَيُونُسُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
675 ۔ نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمررض کہنیوں تک تیمم کیا کرتے تھے ۔
675 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
676 ۔ سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ آپ کے زمانہ اقدس میں تیمم کیا ہم اپنے ہاتھ صاف مٹی پر مارتے تھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو جھاڑتے تھے اور پھر اس کے ذریعے اپنے چہرے کا مسح کرتے تھے پھر ہم دوبارہ صاف ہاتھ مٹی پر مارتے تھے اور پھر ان کو جھاڑتے تھے اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں سے لے کر ہتھیلیوں تک بالوں کی جڑوں تک اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا کرتے تھے ۔
676 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّىُّ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا عَلَى الصَّعِيدِ الطَّيِّبِ ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِهَا وُجُوهَنَا ثُمَّ ضَرَبْنَا ضَرْبَةً أُخْرَى الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِأَيْدِينَا مِنَ الْمَرَافِقِ إِلَى الأَكُفِّ عَلَى مَنَابِتِ الشَّعْرِ مِنْ ظَاهِرٍ وَبَاطِنٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
677 ۔ سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ (یعنی آپ کے زمانہ میں ) تیمم کیا ہے اس میں دوضربیں ہوتی ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ہوتی تھی جبکہ ایک ضرب دونوں بازوؤں کے لیے کہنیوں تک ہوتی تھی۔
اس روایت کے دو راوی سلیمان بن ارقم، سلیمان بن ابوداؤد ضعیف ہیں۔
اس روایت کے دو راوی سلیمان بن ارقم، سلیمان بن ابوداؤد ضعیف ہیں۔
677 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِىٍّ الْمُكْرَمِىُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التُّسْتَرِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِضَرْبَتَيْنِ ضَرْبَةٍ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ وَضَرْبَةٍ لِلذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ. سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَبِى دَاوُدَ ضَعِيفَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
678 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تیمم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں اس میں دو ضربیں ہوں گی ایک ضرب چہرے کے لیے ہوگی ، دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے ہوگی۔
678 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِىُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِى دَاوُدَ الْحَرَّانِىُّ عَنْ نَافِعٍ وَسَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةً لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
679 ۔ حضرت جابر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہوگی ایک ضرب کلائی سے کہنیوں تک کے لیے ہوگی۔ اس کے تمام راوی ثقات ہیں تاہم درست یہ ہے یہ روایت موقوف ہے۔
679 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ وَعَبْدُ الْبَاقِى بْنُ قَانِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْمَاطِىُّ حَدَّثَنَا حَرَمِىُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ».رِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ .
তাহকীক: