সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ৭০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
700 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ فرماتے ہیں یہ بات سنت ہے آدمی ایک تیمم کے ساتھ ایک سے زیادہ نماز نہ پڑھے۔
700 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلاَنِىُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِىُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لاَ يُصَلَّى بِالتَّيَمُّمِ أَكْثَرُ مِنْ صَلاَةٍ وَاحِدَةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
701 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ فرماتے ہیں تیمم کے ذریعے صرف ایک نماز ادا کی جائے گی۔
701 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لاَ يُصَلَّى بِالتَّيَمُّمِ إِلاَّ صَلاَةٌ وَاحِدَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔ تیمم کا بیان
702 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تیمم کرنے والاشخص وضو کرنے والوں کی امامت نہ کروائے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔
702 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَاتِعٍ الْحِمْيَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِىُّ أَسَدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَؤُمُّ الْمُتَيَمِّمُ الْمُتَوَضِّئِينَ ». إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تیمم کرنے والوں کا وضو کرنے والوں کی امامت کرنا مکروہ ہے
703 ۔ حضرت علی (رض) یہ فرماتے ہیں مقید شخص مطلق لوگوں کی امامت نہ کروائے اور تیمم کرنے والاشخص وضو کرنے والوں کی امامت نہ کروائے۔
703 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ لاَ يَؤُمُّ الْمُقَيَّدُ الْمُطْلَقِينَ وَلاَ الْمُتَيَمِّمُ الْمُتَوَضِّئِينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تیمم کرنے والوں کا وضو کرنے والوں کی امامت کرنا مکروہ ہے
704 ۔ تیمم کے بارے میں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
704 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَحَفْصٌ عَنْ حَجَّاجٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ فِى التَّيَمُّمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تیمم کرنے والوں کا وضو کرنے والوں کی امامت کرنا مکروہ ہے
705 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) یہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جگہ تیمم کرتے ہوئے دیکھا جس کا نام مربدالنعم تھا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس مقام ) سے مدینہ منورہ کے گھروں کی طرف مشاہدہ فرما رہے تھے ۔
705 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ وَالْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى رَزِينٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَيَمَّمُ بِمَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ مِرْبَدُ النَّعَمِ وَهُوَ يَرَى بُيُوتَ الْمَدِينَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اس جگہ کا بیان جس جگہ تیمم کرنا جائز ہوتا ہے

شہر یا پانی ملنے سے اس کے فاصلے (کا) حکم
706 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) مربد النعم کے مقام پر تیمم کرلیتے تھے ، وہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، اس کے بعد (وہ نماز ادا کرلیتے اور پھر) مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تو سورج پورابلند ہوتا تھا لیکن وہ دوبارہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔
706 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَيَمَّمَ بِمِرْبَدِ النَّعَمِ وَصَلَّى وَهُوَ عَلَى ثَلاَثَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اس جگہ کا بیان جس جگہ تیمم کرنا جائز ہوتا ہے

شہر یا پانی ملنے سے اس کے فاصلے (کا) حکم
707 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
707 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اس جگہ کا بیان جس جگہ تیمم کرنا جائز ہوتا ہے

شہر یا پانی ملنے سے اس کے فاصلے (کا) حکم
708 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے مدینہ منورہ سے ایک یادومیل کے فاصلے پر تیمم کرکے عصر کی نماز ادا کی ، پھر وہ (شہر) میں تشریف لے آئے تو سورج ابھی بلند تھا انھوں نے دوبارہ نماز ادا نہیں کی۔
708 - حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ تَيَمَّمَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَقَدِمَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدِ الصَّلاَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اس جگہ کا بیان جس جگہ تیمم کرنا جائز ہوتا ہے

شہر یا پانی ملنے سے اس کے فاصلے (کا) حکم
709 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں جب کوئی شخص سفریں ہو وہ اپنے اور نماز کے آخری وقت کے درمیان کے بارے میں حساب لگالے ، اگر اسے پانی نہ مل سکتا ہو تو وہ تیمم کرے۔
709 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ إِذَا أَجْنَبَ الرَّجُلُ فِى السَّفَرِ تَلَوَّمَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخِرِ الْوَقْتِ فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ تَيَمَّمَ وَصَلَّى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اس جگہ کا بیان جس جگہ تیمم کرنا جائز ہوتا ہے

شہر یا پانی ملنے سے اس کے فاصلے (کا) حکم
710 ۔ حضرت ابوذرغفاری (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو کا ذریعہ ہے اگرچہ اسے دس برس تک پانی نہ ملے۔
710 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
711 ۔ ابوقلابہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں مجھے حضرت ابوذر (رض) کے بارے میں بتایا گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے دریافت کیا ، آپ حضرت ابوذر ہیں انھوں نے جواب دیا میرے گھروالے مجھے تو یہی کہتے ہیں ، پھر حضرت ابوذرغفاری (رض) نے بتایا ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں ہلاکت کا شکار ہوگیاہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کردیا ہے میں نے عرض کیا میں ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں پانی نہیں مل سکتا تھا میرے پاس میری بیوی بھی تھی مجھے جنابت لاحق ہوگئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جب تک آدمی کو پانی نہ ملے اگرچہ دس برس گزر جائیں جب تمہیں پانی مل جائے تو وہ اپنے جسم پر ڈال لو۔
711 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِى عَامِرٍ قَالَ نُعِتَ لِى أَبُو ذَرٍّ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ إِنَّ أَهْلِى لَيَزْعُمُونَ ذَاكَ. قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ « وَمَا أَهْلَكَكَ ». قُلْتُ إِنِّى أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِى أَهْلِى فَتُصِيبُنِى الْجَنَابَةُ.فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
712 ۔ مہلب، حضرت ابوذرغفاری (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے ابوذر بیشک مٹی اس شخص کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جسے پانی نہیں ملتا خواہ دس برس تک نہ ملے جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈال لو۔
712 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقُلُوسِىُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ صَالِحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى الْعَمِّىُّ أَخْبَرَنَا أَبِى عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَمِّهِ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ طَهُورٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ بَشْرَتَكَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
713 ۔ عمرو بن بجدان بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوذرغفاری (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے بیشک پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اگر دس سال تک ایسا ہوتارہا جب آدمی پانی پالے تو اسے پانے جسم پر پانی بہالینا چاہیے یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔
713 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّ بَشْرَتَهُ الْمَاءَ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
714 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذرغفاری (رض) کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاط ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ فرمایا تھا۔ یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
714 - وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ مِحْجَنٍ أَوْ أَبِى مِحْجَنٍ عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ وَقَالَ لَهُ « فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
715 ۔ حضرت ابوذرغفاری (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اگرچہ دس برس تک آدمی کو پانی نہ ملے جب تم پانی پالو اسے اپنی جلد پر بہالو۔

رجاء بن عامر نامی راوی نے اس طرح بیان کیا ہے تاہم درست یہ ہے کہ بنوعامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے جیسے کہ ابن علیہ نے ابن ایوب نامی راوی سے اسے نقل کیا ہے۔
715 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا ابْنُ حَنَانٍ - قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ حَنَانٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِىُّ - حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءٌ وَلَوْ عَشْرَ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ ». كَذَا قَالَ رَجَاءُ بْنُ عَامِرٍ وَالصَّوَابُ رَجُلٌ مِنْ بَنِى عَامِرٍ كَمَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
716 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے ان دونوں کے سامنے نماز کا وقت آگیا ان کے پاس پانی نہیں تھا، ان دونوں نے پاک مٹی کے ذریعے تیمم کیا پھر اس نماز کے وقت کے دوران ان دونوں کو پانی مل گیا ان دونوں میں سے ایک شخص نے وضو کرکے دوبارہ نماز ادا کی ، جب کہ دوسرے شخص نے دوبارہ نماز ادا نہ کی پھر یہ دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص جس نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا، یہ فرمایا تم نے ٹھیک کہا ہے ، تمہاری نماز درست ہوئی ہے جس دوسرے شخص نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے یہ فرمایا تمہیں دوگنا اجر ملے گا۔

اس روایت کو لیث نامی راوی کے حوالے سے نقل کرنے میں ، عبداللہ بن نافع نامی راوی منفر ہے۔ ابن مبارک اور دیگر محدثین نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔
716 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ خَرَجَ رَجُلاَنِ فِى سَفَرٍ فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلاَةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِى الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلاَةَ بِوُضُوءٍ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لِلَّذِى لَمْ يُعِدْ « أَصَبْتَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاَتُكَ ». وَقَالَ لِلَّذِى تَوَضَّأَ وَأَعَادَ « لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ ». تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ اللَّيْثِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مُتَّصِلاً وَخَالَفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
717 ۔ عبداللہ بن مبارک کے حوالے سے منقول ہے ، عطاء بن یسار یہ بیان کرتے ہیں ان دونوں آدمیوں کو جنایت لاحق ہوئی تھی ان دونوں نے تیمم کیا، اس روایت میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کا تذکرہ نہیں ہے۔
717 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ لَيْثٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ أَصَابَتْهُمَا جَنَابَةٌ فَتَيَمَّمَا. نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سَعِيدٍ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
718 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم سفر پر روانہ ہوئے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا جس نے اس کے سر کو زخمی کردیا پھر اس شخص کو احتلام ہوگیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں مجھے تیمم کرنے کی ضرورت ہے ؟ ساتھیوں نے جواب دیا جب تم پانی کے استعمال پر قادر ہو تو ہمارے نزدیک تمہارے لیے رخصت نہیں ہوگی اس شخص نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہوگیا ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان لوگوں نے اسے ماردیا ہے اللہ تعالیٰ ان کو برباد کرے ۔ جب انھیں علم ہیں تھا تو انھوں نے دریافت کیوں نہیں کیا، بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں ہے اس شخص کے لیے اتنا کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا (پٹی باندھ ) لیتا اور (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنے زخم پر پٹی لپیٹ لیتا اور اس پر مسح کرلیتا اور باقی جسم کو دھولیتا، یہاں پر شک موسیٰ نامی راوی کو ہے۔

شیخ ابوبکر بیان کرتے ہیں : اس روایت کو نقل کرنے میں اہل مکہ منفرد ہے اور اہل جزیرہ نے اسے محمول کیا ہے انھوں نے اسے عطاء کے حوالے سے حضرت جابر سے روایت نہیں کیا ہے اس روایت کو صرف زبیر نامیراوی نے نقل کیا ہے اور مستند نہیں ہے۔ امام اوزاعی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے جو عطاء کے حوالے سے حضرت عبداللہ سے منقول ہے۔ امام اوزاعی سے نقل کرنے میں بھی اختلاف کیا گیا ہے ۔

ایک روایت کے مطابق یہ عطاء سے منقول ہے اور ایک روایت کے مطابق ان سے یہ بات منقول ہے مجھے عطاء کے حوالے سے یہ بات پتاچلی ہے اور امام اوزاعی نے اس کے آخری حصے کو مرسل روایت کے طور پر عطاء کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔

ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد اور شیخ ابی زرعہ نامی راوی سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے اس بات کا جواب دیا۔ اس روایت کو ابن العشیرین ، اوزاعی کے حوالے سے ، اسماعیل کے حوالے سے ، عطاء کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل کیا ہے ان حضرات نے اسے مستند روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
718 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ لَفْظًا فِى كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا فِى سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلاً مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِى رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَلْ تَجِدُونَ لِى رُخْصَةً فِى التَّيَمُّمِ قَالُوا مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ « قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلاَ سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِىِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهِ وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ». شَكَّ مُوسَى قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مَكَّةَ وَحَمَلَهَا أَهْلُ الْجَزِيرَةِ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ غَيْرُ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِىِّ وَخَالَفَهُ الأَوْزَاعِىُّ فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَاخْتُلِفَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ فَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ وَقِيلَ عَنْهُ بَلَغَنِى عَنْ عَطَاءٍ وَأَرْسَلَ الأَوْزَاعِىُّ آخِرَهُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ الصَّوَابُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِى حَاتِمٍ سَأَلْتُ أَبِى وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْهُ فَقَالاَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِى الْعِشْرِينَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَسْنَدَ الْحَدِيثَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
719 ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے ایک شخص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں زخم لگ گیا اسے جنابت لاحق ہوئی اس نے مسئلہ دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اسے غسل کرنا ہوگا، اس نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہوگیا۔ اس بات کی اطلاع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے اللہ ان کو برباد کرے کیا بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں نہیں ہے۔
719 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَاسْتَفْتَى فَأُفْتِىَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِىِّ السُّؤَالَ ».
tahqiq

তাহকীক: