সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ৭৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
760 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کررہے تھے یہاں تک کہ صبح کا وقت قریب آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا لوگوں کی آنکھ لگ گئی تو وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) بیدار ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا تھا جب تک آپ خود بیدار نہیں ہوتے تھے جب حضرت عمر (رض) بیدار ہوئے آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے ، تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ، یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوگئے ، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے آپ نے کچھ سفر کیا یہاں تک کہ سورج اچھی طرح چمکدار ہوگیا تو آپ نے پڑاؤ کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ حاضرین میں سے ایک شخص الگ رہا، اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ختم کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے ی ؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا : وہ مٹی کے ذریعے تیمم کرکے نماز ادا کرلے، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ سواروں کے ساتھ مجھے آگ بھیج دیا تاکہ ہم پانی تلاش کریں ، کیونکہ ہم شدید پیاسے تھے ہم سفر کررہے تھے وہاں ہمیں ایک عورت نظر آئی جس کے پاس دومشکیزے تھے ہم نے اس سے دریافت کیا پانی کہاں ہے ؟ اس نے بتایا یہاں کہیں پانی نہیں ہے ہم نے دریافت کیا ، ہمارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : ایک دن اور ایک رات کا، ہم نے کہا تم اللہ کے رسول کے پاس چلو اس نے کہا اللہ کے رسول کہاں ہیں۔ ؟ تو ہم اس ے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی وہی بات بتائی جو اس نے ہمیں بتائی تھی تاہم اس نے یہ بات اضافی بتائی تھی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے مشکیزوں کے بارے میں حکم دیا جن کا منہ نیچے کی طرف سے کھول دیا گیا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس میں پانی پیا، یہاں تک کہ ہم سیراب ہوگئے ہم نے اپنے پاس موجود ہر برتن اور پیالے کو بھر لیا ہم نے اپنے ساتھی کو غسل کے لیے پانی دیا، البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : تمہارے پاس جو کچھ بھ ہے اسے لے آؤ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے روتی کے ٹکڑے، کھجور وغیرہ اکٹھے کروائے اور اس کو ایک توڑا باندھ دیا اور ارشاد فرمایا، تم جاؤ اور اسے اپنے گھروالوں کو کھلاؤں، اور یہ بات جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے بتایا میں سب سے بڑے جادو گر سے مل کر آئی ہوں یاپھروہ نبی ہے جیسا کہ لوگوں نے بیان کیا ہے (راوی کہتے ہیں ) اس عورت کی وجہ سے اللہ نے اس کے قبیلے والوں کو ہدایت نصیب کی وہ عورت بھی مسلمان ہوگئی اور اس کے قبیلے والے بھی مسلمان ہوگئے۔

امام بخاری نے اس روایت کو ابوالولید کے حوالے سے اس سند کے ہمراہ نقل کیا ہے ، جبکہ امام مسلم نے اس روایت کو احمد بن سعید الدارمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
760 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِىُّ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِى وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه وَكَانَ لاَ يُوقِظُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ رضى الله عنه فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ فَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ « ارْتَحِلُوا ». فَسَارَ شَيْئًا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ « يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّىَ مَعَنَا ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِى جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ الصَّعِيدَ ثُمَّ يُصَلِّىَ فَعَجِلَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ قُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ قَالَتْ أَيْهَاتَ أَيْهَاتَ لاَ مَاءَ. قُلْنَا كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ قَالَتْ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ. قُلْنَا انْطَلِقِى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَتْ وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمْلِكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِى حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ قَالَ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِى الْعَزْلاَوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلاً حَتَّى رَوِينَا وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِىَ تَكَادُ تَتَصَدَّعُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ قَالَ لَنَا « هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ ». فَجَمَعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً فَقَالَ « اذْهَبِى فَأَطْعِمِى عِيَالَكِ وَاعْلَمِى أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا ». فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِىٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللَّهُ ذَلِكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِىُّ عَنْ أَبِى الْوَلِيدِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِىِّ عَنْ أَبِى عَلِىٍّ الْحَنَفِىِّ عَنْ سَلْمِ بْنِ زَرِيرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
761 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ساتھ لے کر سفر کرتے رہے ، پھر ہم نے رات کے وقت پر اؤ کیا (اور سوگئے) تو ہم سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے ہم میں سے چھ لوگ بیدار ہوئے ان کے نام میں بھول گیا ہوں ، پھر حضرت ابوبکر (رض) بیدار ہوئے اور انھوں نے لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیدار کرنے سے منع کیا ، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہوسکتا ہے اللہ نے کسی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہاں ٹھہرایا ہو، پھر حضرت ابوبکر (رض) تکبیر کہتے رہے ، یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے ، لوگوں نے عرض کی ہماری نماز قضا ہوگئی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہاری نماز رخصت نہیں ہوئی تم لوگ روانہ ہوجاؤ، پھر ہم لوگ روانہ اور سفر کرتے رہے ، ایک جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب تمہاری نماز مکمل ہوگئی ہے لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ فلاں شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے دریافت کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی، اس نے عرض کیا مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مٹی سے تیمم کرکے نماز ادا کرلو ، جب تم پانی پر قادر ہوجاؤ گے توغسل کرلینا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کی تلاش میں حضرت علی (رض) کو بھیجا ہم میں سے ہر ایک شخص کے پاس خرگوش کے کانوں جتنا برتن تھا، جو اس کے کپڑوں اور جسم کے درمیان تھا، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیاس محسوس ہوئی توہم تیزی سے آگے بڑھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کرتے رہے یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا ایک شخص نظر آیا ، حضرت علی (رض) نے کہا تم لوگ یہاں ٹھہرو میں دیکھتاہوں کہ یہ کون ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں وہ ایک عورت تھی جس کے پاس پانی کے دومشکیزے تھے اس سے دریافت کیا گیا اے اللہ کی بندی یہاں پانی کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا یہاں کوئی پانی نہیں ہے ، اللہ کی قسم میں گزشتہ کل پانی کی تلاش میں نکلی تھی میں نے پورا دن پوری رات سفر کیا ہے اب یہ وقت آگیا ہے تو ان لوگوں نے کہا : تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔ تو اس نے کہا اللہ کا رسول کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ کے رسول ہیں ، اس نے کہا جو مجنون ہیں۔ جو قریش سے تعلق رکھتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا وہ مجنون نہیں ہیں وہ اللہ کے رسول ہیں اس عورت نے کہا مجھے چھوڑ دو میں اپنے چھوٹے بچے بکریوں کے پاس چھوڑ کر آئی ہوں مجھے ڈر ہے ان میں سے کوئی ایک پیاس کی وجہ سے مر نہ جائے لیکن ان لوگوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس آگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق اس کا اونٹ بٹھادیا گیا پھر اس کے مشکیزے کو اوپر کی طرف سے کھولا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بڑا برتن منگوایا اسے پانی سے بھر دیا وہ جنبی شخص کو دیا گیا آپ نے فرمایا تم جاؤ اور غسل کرو ۔

راوی بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے وہاں موجود ہر برتن ہر مشکیزہ کو پانی سے بھر لیا وہ عورت دیکھتی رہی پھر اس کے مشکیزے کا منہ اوپر کرکے بند کردیا گیا پھر اونٹ کو کھڑا کردیا گیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عورت یہ تمہارا پانی ہے اللہ کی قسم اللہ نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ تمہارے پانی میں سے ایک قطرہ بھی کم نہیں ہوا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اس عورت کے لیے ایک چادر کو لایا گیا آپ نے فرمایا جس شخص کے پاس جو بھی چیز ہو وہ لائے کوئی شخص جوتا لے کر آیا کوئی شخص کپڑا لے کر آیا، کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا کوئی شخص مٹھی بھر گندم لے آیا، یہاں تک کہ وہ سب کچھ اس کے لیے لایا گیا اور اسے باندھ کر دے دیا گیا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اس کی قوم کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر وہ عورت چلی گئی اور اپنی قوم میں چلی گئی ان لوگوں نے دریافت کیا تم کہاں رہ گئی تھی ؟ اس نے بتایا مجھے قریش سے تعلق رکھنے والے مجنون نے پکڑ لیا تھا اللہ کی قسم اس میں ایک چیز ہے یا تو وہ اس اور اس کے درمیان جادو گر ہے ، اس عورت کی مراد آسمان اور زمین تھی یا وہ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں ۔

راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھیجے ہوئے فوجی دستے اس کی قوم کے آس پاس لوگوں پر حملے کرتے رہے لیکن وہ محفوظ لوگ رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں اس عورت نے اپنی قوم سے کہا ہے۔ اے قوم اللہ کی قسم میرا یہ خیال ہے یہ صاحب تمہارے شکریہ کے طور پر ایسا کررہے ہیں ، جو انھوں نے تمہارا پانی استعمال کیا تھا کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تمہارے آس پاس کے لوگوں پر حملہ کیا جارہا ہے اور تم لوگ محفوظ ہو، تم پر حملہ نہیں کیا جاتا، کیا تم لوگ بھلائی چاہتے ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا وہ کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا ، ہم اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں وہ تیس خاندانوں کو لے کر آئی انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کرلی اور اسلام قبول کرلیا۔
761 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىَّ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يَقُولُ سَارَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلاَّ بِحَرِّ الشَّمْسِ فَاسْتَيْقَظَ مِنَّا سِتَّةٌ قَدْ نَسِيتُ أَسْمَاءَهُمْ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه فَجَعَلَ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَيَقُولُ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ احْتَبَسَهُ فِى حَاجَتِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ صَلاَتُنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَمْ تَذْهَبْ صَلاَتُكُمُ ارْتَحِلُوا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ » . فَارْتَحَلَ فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى فَقَالَ « أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ صَلاَتَكُمْ ». فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلاَنًا لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا. فَقَالَ لَهُ « مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّىَ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِى جَنَابَةٌ. قَالَ « فَتَيَمَّمِ الصَّعِيدَ وَصَلِّهْ فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ ». وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلِيًّا فِى طَلَبِ الْمَاءِ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنَّا إِدَاوَةٌ مِثْلُ أُذُنَىِ الأَرْنَبِ بَيْنَ جِلْدِهِ وَثَوْبِهِ فَإِذَا عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ابْتَدَرْنَاهُ بِالْمَاءِ فَانْطَلَقَ حَتَّى ارْتَفَعَ عَلَيْهِ النَّهَارُ وَلَمْ يَجِدْ مَاءً فَإِذَا شَخْصٌ قَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه مَكَانَكُمْ حَتَّى نَنْظُرَ مَا هَذَا. قَالَ فَإِذَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ فَقِيلَ لَهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ أَيْنَ الْمَاءُ قَالَتْ لاَ مَاءَ وَاللَّهِ لَكَمِ اسْتَقَيْتُ أَمْسِ فَسِرْتُ نَهَارِى وَلَيْلَتِى جَمِيعًا وَقَدْ أَصْبَحْنَا إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ قَالُوا لَهَا انْطَلِقِى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَتْ مَجْنُونُ قُرَيْشٍ. قَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ يَا هَؤُلاَءِ دَعُونِى فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُ صِبْيَةً لِى صِغَارًا فِى غُنَيْمَةٍ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ أُدْرِكَهُمْ حَتَّى يَمُوتَ بَعْضُهُمْ مِنَ الْعَطَشِ فَلَمْ يُمَلِّكُوهَا مِنْ نَفْسِهَا شَيْئًا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِهَا فَأَمَرَ بِالْبَعِيرِ فَأُنِيخَ ثُمَّ حَلَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاَهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ عَظِيمٍ فَمَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى الْجُنُبِ فَقَالَ « اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ». قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا تَرَكْنَا مِنْ إِدَاوَةٍ وَلاَ قِرْبَةٍ وَلاَ إِنَاءٍ إِلاَّ مَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ وَهِىَ تَنْظُرُ - قَالَ - ثُمَّ شَدَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاَهَا وَبَعَثَ بِالْبَعِيرِ وَقَالَ « يَا هَذِهِ دُونَكِ مَاءَكِ فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنِ اللَّهُ زَادَ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْ مَائِكِ قَطْرَةٌ ». وَدَعَا لَهَا بِكِسَاءٍ فَبُسِطَ ثُمَّ قَالَ لَنَا « مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَأْتِ بِهِ ». فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِى بِخَلَقِ النَّعْلِ وَخَلَقِ الثَّوْبِ وَالْقَبْضَةِ مِنَ الشَّعِيرِ وَالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالْفَلْقَةِ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّى جَمَعَ لَهَا ذَلِكَ ثُمَّ أَوْكَاهُ لَهَا فَسَأَلَهَا عَنْ قَوْمِهَا فَأَخْبَرَتْهُ - قَالَ - فَانْطَلَقَتْ حَتَّى أَتَتْ قَوْمَهَا قَالُوا مَا حَبَسَكِ قَالَتْ أَخَذَنِى مَجْنُونُ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَحَدُ الرَّجُلَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَسْحَرَ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ - تَعْنِى السَّمَاءَ وَالأَرْضَ - أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. قَالَ فَجَعَلَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تُغِيرُ عَلَى مَنْ حَوْلَهُمْ وَهُمْ آمِنُونَ قَالَ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِقَوْمِهَا أَىْ قَوْمِ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا الرَّجُلَ إِلاَّ قَدْ شَكَرَ لَكُمْ مَا أَخَذَ مِنْ مَائِكُمْ أَلاَ تَرَوْنَ أَنَّهُ يُغَارُ عَلَى مَنْ حَوْلَكُمْ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ لاَ يُغَارُ عَلَيْكُمْ هَلْ لَكُمْ فِى خَيْرٍ قَالُوا وَمَا هُوَ قَالَتْ نَأْتِى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنُسْلِمُ قَالَ فَجَاءَتْ تَسُوقُ بِثَلاَثِينَ أَهْلِ بَيْتٍ حَتَّى بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْلَمُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
762 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں تھے ہم رات بھر چلتے رہے جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم اس وقت سو گئے اس وقت سونے سے زیادہ لطف انگیز چیز کوئی نہیں ہے ، سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کردیا۔ انھوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اے فلاں شخص تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی اس نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی اور پانی موجود نہیں ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مٹی استعمال کرو وہ تمہارے لیے بہتر ہوگی۔

اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن منگوایا مشکیزوں کے منہ کے ذریعے برتنوں میں پانی ڈالا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلی کی برتن میں دوبارہ اس پانی کو ڈال دیا پھر آپ نے وہ برتن پانی دوبارہ ان مشکیزوں میں ڈال دیا اور ان کا منہ اوپر سے بند کردیا اور نیچے کی طرف سے کھول دیا، پھر لوگوں میں یہ اعلان کیا، وہ خود بھی پانی پی لیں اور اپنے جانوروں کو بھی پلا دیں ، جس نے خود پینا تھا خود پی لیا، جس نے جانوروں کو پلانا تھا ان کو بھی پلادیا آخر میں اس شخص کو پانی دیا تھا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی اسے پانی کا ایک برتن دیا اور فرمایا، اسے اپنے جسم پربہالو وہ عورت کھڑی ہوئی اور دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔

(راوی کہتے ہیں) اللہ کی قسم جب ان کے منہ کو بند کیا گیا تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مشکیزے پہلے سے بھی زیادہ بھرے ہوئے ہیں جتنے آغاز میں تھے۔ انھوں نے باقی حدیث اسی کی مانند نقل کی ہے۔
762 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ قَالاَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِىُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِىُّ عَنْ أَبِى رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىِّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِىُّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ فِى آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلاَ وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا فُلاَنُ مَا لَكَ لَمْ تُصَلِّ مَعَنَا ». قَالَ أَصَابَتْنِى جَنَابَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ مَاءَ. فَقَالَ « عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ». وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَعَادَهُ فِى الإِنَاءِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِى أَفْوَاهِهِمَا وَأَوْكَأَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِىَ وَنُودِىَ فِى النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ سَقَى وَاسْتَقَى مَنِ اسْتَقَى وَآخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الرَّجُلَ الَّذِى أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ « أَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ». وَهِىَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يُصْنَعُ بِمَائِهَا وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلأَةً مَمَّا كَانَتْ حَيْثُ ابْتُدِئَ فِيهَا. وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
763 ۔ حضرت علی (رض) ایسے شخص کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : جو سفر کررہا ہو اسے جنابت لاحق ہوجائے اور اس کے پاس پانی بھی موجود نہ ہو، جس کی وجہ سے اسے پیاسے رہنے کا اندیشہ ہو۔ حضرت علی (رض) یہ فرماتے ہیں وہ شخص تیمم کرلے گا وہ غسل نہیں کرے گا۔
763 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه فِى الرَّجُلِ يَكُونُ فِى السَّفَرِ فَتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَمَعَهُ الْمَاءُ الْقَلِيلُ يَخَافُ أَنْ يَعْطَشَ قَالَ يَتَيَمَّمُ وَلاَ يَغْتَسِلُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
764 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے بارے میں یہ منقول ہے ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا وہ اس وقت وضو کی حالت میں نہیں تھے انھوں نے تیمم کرکے نماز جنازہ ادا کی۔
764 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِى مَذْعُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أُتِىَ بِجَنَازَةٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَتَيَمَّمَ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
765 ۔ خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ثابت (رض) کو پیشاب کے قطرے خارج ہونے کی بیماری تھی اور وہ اس طرح نماز ادا کرلیتے تھے جب کہ قطرے خارج ہورہے ہوتے تھے۔
765 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ سَلِسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِى مَا غَلَبَهُ مِنْهُ فَلَمَّا غَلَبَهُ أَرْسَلَهُ وَكَانَ يُصَلِّى وَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
766 ۔ حضرت خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن ثابت (رض) نے تکبیر کہی پھر ان کے پیشاب کے قطرے خارج ہونے لگے جہاں تک وہ کرسکتے تھے انھوں نے روکنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ ان پر غالب آگیا انھوں نے وضو کرکے نماز ادا کرلی۔
766 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَبِرَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ حَتَّى سَلِسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِيهِ مَا اسْتَطَاعَ فَإِذَا غَلَبَ عَلَيْهِ تَوَضَّأَ وَصَلَّى .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
767 ۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں اگر وہ میرے زانوں پر بہہ رہا ہو تو پھر میں نماز ختم نہیں کروں گا۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں اس سے مراد پیشاب ہے یعنی جب آدمی بیماری میں مبتلا ہو۔
767 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ لَوْ سَالَ عَلَى فَخِذِى مَا انْصَرَفْتُ. قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِى الْبَوْلَ إِذَا كَانَ مُبْتَلًى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
768 ۔ زبید بن صلت بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب کوئی شخص وضو کرکے موزے پہنے تو ان پر مسح کر کے نماز ادا کرسکتا ہے ، اگر وہ چاہے تو انھیں نہ اتارے البتہ جنابت کی حالت میں حکم مختلف ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ابن صاعد نامی راوی بیان کرتے ہیں میرے علم کے مطابق اس حدیث کو صرف اسد بن موسیٰ نے بیان کیا ہے۔
768 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ زُيَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رضى الله عنه يَقُولُ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا وَلاَ يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ.

قَالَ وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَسَدَ بْنَ مُوسَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
769 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی جب کوئی شخص وضو کرے اور اپنے موزے پہن لے تو وہ ان میں نماز پڑھ سکتا ہے ، وہ ان پر مسح کرے پھر اگر وہ چاہے تو انھیں اتارے ہی نہیں البتہ جنابت کی صورت میں حکم مختلف ہے۔
769 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا وَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا ثُمَّ لاَ يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
770 ۔ عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے مسافر کو تین دن اور تین راتوں تک جبکہ مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک اجازت دی ہے جب وہ باوضو ہو کر موزوں کو پہنے (اجازت یہ ہے وہ وضو کے درمیان) دونوں موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔

یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
770 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِىُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ قَالُوا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ بُنْدَارٍ عَنْهُ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْبَلْخِىِّ عَنْهُ بِمُتَابَعَةِ ابْنِ خُزَيْمَةَ عَلَى قَوْلِهِ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
771 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : اگر دین کے احکام کا تعلق رائے کے ساتھ ہوتا تو موزے کا نیچے والاحصہ اوپر والے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہوتا لیکن میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
771 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْىِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
772 ۔ امام زید اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے حضرت علی (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے موزوں پر مسح کرنے کی ہدایت کی تھی۔
772 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِى خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه قَالَ أَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
773 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پٹی پر مسح کرلیا کرتے تھے ۔ یہ روایت مرفوع ہونے کے حوالے سے مستند نہیں ہے اس کا راوی ابوعمارہ بہت ضعیف ہے۔
773 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمَهْدِىِّ حَدَّثَنَا عَبْدُوسُ بْنُ مَالِكٍ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْجَبَائِرِ. لاَ يَصِحُّ مَرْفُوعًا. وَأَبُو عُمَارَةَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
774 ۔ ابراہیم نخعی، علقمہ اور اسود کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں (ایسے شخص کے بارے میں ) جو وضو کرکے اپنے موزوں پر مسح کرلیتا ہے پھر انھیں اتار دیتا ہے ان دونوں نے فرمایا وہ اپنے پاؤں دھوئے گا۔
774 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَلْدُونَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ فِى الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ وَيَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ يَخْلَعُهُمَا قَالاَ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : موزوں پر مسح کرنے کی کوئی مخصوص مدت نہیں ہے
775 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یارسول اللہ میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو ترک کردوں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا یہ ایک رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں ہے جب تمہیں حیض آئے تو تم نماز پڑھنا ترک کردو جب اس کی مدت گزر جائے تو تم اپنے جسم سے خون دھو کر نماز ادا کرلو۔
775 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِىُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَدْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِى حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِنِّى لاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِى الصَّلاَةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِى عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّى ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیض کا بیان

باب : بلاعنوان
776 ۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت ابوحبیش ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی، یارسول اللہ میں ایک ایسی عورت ہو جو استحاضہ میں مبتلا ہے میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز ترک کردوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہ ایک (دوسری) رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے۔ جب حیض آئے تو نماز پڑھنا ترک کردو جب وہ ختم ہوجائے تو غسل کرکے نماز ادا (کرنا شروع) کرو۔

یحییٰ نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے جب وہ رخصت ہوجائے تو اپنے جسم سے خون دھو کر نماز ادا کرلو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ہشام بیان کرتے ہیں میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : پھر تم ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت آجائے۔
776 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا ابْنُ كَرَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ - وَقَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِى أَبِى - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِى حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ « لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِى الصَّلاَةَ فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِى عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ اغْتَسِلِى ». هَذَا حَدِيثُ أَبِى مُعَاوِيَةَ وَقَالَ يَحْيَى وَأَبُو أُسَامَةَ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ « لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِى الصَّلاَةَ فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِى وَصَلِّى ». وَقَالَ يَحْيَى « وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِى عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّى ».

زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ هِشَامٌ قَالَ أَبِى « ثُمَّ تَوَضَّئِى لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِىءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ » .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیض کا بیان

باب : بلاعنوان
777 ۔ حضرت فاطمہ بنت ابوحبیش (رض) بیان کرتی ہیں وہ استحاضہ میں مبتلا تھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا جب حیض کا خون آئے گا وہ زیادہ ہوگا۔ جب ایسی صورت حال ہو تو تم نماز پڑھنا ترک کردو لیکن جب دوسری صورت حال ہو تو تم وضو کرکے نماز ادا کرو کیونکہ یہ کسی اور رگ کا خون ہے۔
777 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِى حُبَيْشٍ أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِى عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِى وَصَلِّى فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیض کا بیان

باب : بلاعنوان
778 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں فاطمہ بنت ابوحبیش استحاظہ میں مبتلا تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے جب وہ ہوتوتم نماز کو ترک کردو اور جب دوسری رنگت کا ہو تو وضو کرکے نماز ادا کرلو۔
778 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ بِهَذَا إِمْلاَءً مِنْ كِتَابِهِ ثُمَّ حَدَّثَنَاهُ بَعْدُ مِنْ حِفْظِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِى حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِى عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِى وَصَلِّى ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیض کا بیان

باب : بلاعنوان
779 ۔ عروہ ، سیدہ فاطمہ بنت ابوحبیش کا بیان نقل کرتے ہیں ، وہ استحاضہ میں مبتلا ہوئیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ فرمایا جب حیض کا خون ہوگا، تو وہ سیاہ خون ہوگا جو پہچانا جائے گا جب یہ خون ہو تو تم نماز پڑھنے سے باز آجاؤ اور جب دوسری رنگت کا خون ہو تو تم وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ یہ کسی اور رگ کا خون ہے ۔

ایک روایت میں یہ سیدہ عائشہ کے حوالے سے منقول ہے فاطمہ بنت ابو حبیش نے (اس کے بعد حسب ثابت حدیث بیان کی ) ۔ اس روایت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ الفاظ منقول ہیں خون جب دوسری طرح کا ہو تو تم وضو کرکے نماز ادا کرلیاکرو۔
779 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى قِرَاءَةً عَلَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِى حُبَيْشٍ أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِى عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِى وَصَلِّى فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ». قَالَ أَبُو مُوسَى هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ مِنْ كِتَابِهِ وَحَدَّثَنَا بِهِ حِفْظًا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِى حُبَيْشٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ « فَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِى وَصَلِّى قَطْ ».
tahqiq

তাহকীক: