সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ১১৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1160 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح تلاوت کرتے تھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الرحمن الرحیم۔۔۔ تا۔۔۔ ولاالضالین۔ آپ ان آیات کو الگ الگ ایک ایک کرکے پڑھتے تھے اس کے بعد راوی نے ان آیات کی گنتی کی تو انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ایک آیت شمار کیا اور انھوں نے '' علیھم '' کو ایک الگ آیت شمار نہیں کیا۔
1160 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَصْبَهَانِىِّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِىُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْرَأُ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ) فَقَطَّعَهَا آيَةً آيَةً وَعَدَّهَا عَدَّ الأَعْرَابِ وَعَدَّ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) آيَةً وَلَمْ يَعُدَّ (عَلَيْهِمْ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1161 ۔ امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام باقر) کے حوالے سے حضرت جابر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کس طرح قرات کرتے ہو میں نے جواب دیا میں الحمدللہ رب العالمین ، پڑھتاہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرو۔
1161 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا الْجَهْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا قُمْتَ فِى الصَّلاَةَ » قُلْتُ أَقْرَأُ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) قَالَ « قُلْ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1162 ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح قرات کرتے تھے انھوں نے جواب دیا، وہ قرات کھینچ کر ہوتی تھی پھر انھوں نے یہ پڑھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی انھوں نے لفظ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو کھینچ کر پڑھا تو لفظ الرحمن کو لمبا کرکے پڑھا اور لفظ الرحیم کو بھی لمبا کرکے پڑھا۔
1162 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ وَجَرِيرٌ - يَعْنِى ابْنَ حَازِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ كَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) يَمُدُّ بِسْمِ اللَّهِ وَيَمُدُّ الرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ الرَّحِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1163 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
1163 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عِيسَى بْنِ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِى زَيْدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عِيسَى بْنِ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى الْحُسَيْنِىُّ الْعَلَوِىُّ الْمَعْرُوفُ بِمُسَلَّمٍ بِمِصْرَ مِنْ كِتَابِ جَدِّهِ حَدَّثَنِى جَدِّى طَاهِرُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِى أَبِى يَحْيَى بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنِى زَيْدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عِيسَى بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْمَكِّىِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَجْهَرُ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1164 ۔ محمد بن متوکل بیان کرتے ہیں : میں نے معتمر بن سلیمان کی اقتداء میں فجر اور مغرب کی نماز اتنی مرتبہ ادا کی ہے : میں اسے شمار نہیں کرسکتا وہ سورة فاتحہ سے پہلے اور اس کے بعد (یعنی اگلی سورت پڑھنے سے پہلے) بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے ۔
میں نے معتمر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں ہمیشہ اپنے والد کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا، میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے میں ہمیشہ حضرت انس (رض) کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔ حضرت انس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے ، میں ہمیشہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔
میں نے معتمر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں ہمیشہ اپنے والد کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا، میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے میں ہمیشہ حضرت انس (رض) کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔ حضرت انس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے ، میں ہمیشہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔
1164 - قَرَأْتُ فِى أَصْلِ كِتَابِ أَبِى بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِىِّ بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِى السَّرِىِّ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ مِنَ الصَّلَوَاتِ مَا لاَ أُحْصِيهَا الصُّبْحَ وَالْمَغْرِبَ فَكَانَ يَجْهَرُ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) قَبْلَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبَعْدَهَا وَسَمِعْتُ الْمُعْتَمِرَ يَقُولُ مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِىَ بِصَلاَةِ أَبِى. وَقَالَ أَبِى مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِىَ بِصَلاَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَقَالَ أَنَسٌ مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِىَ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1165 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔
1165 - حَدَّثَنِى سَهْلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْقَاضِى السُّحَيْمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الطَّائِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِى التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ بِ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1166 ۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :
'' حضرت جبرائیل نے خانہ کعبہ کے نزدیک مجھے نماز پڑھائی تو انھوں نے بلند آواز بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔
'' حضرت جبرائیل نے خانہ کعبہ کے نزدیک مجھے نماز پڑھائی تو انھوں نے بلند آواز بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔
1166 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادٍ الْهَمْدَانِىُّ عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِى الضُّحَى عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّنِى جَبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَجَهَرَ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1167 ۔ حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (قرات کے دوران) دو مرتبہ سکتہ کرتے تھے ایک سکتہ اس وقت ہوتا تھا جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور ایک سکتہ اس وقت ہوتا تھا، جب آپ قرات کرکے فارغ ہوتے تھے ۔
حضرت عمران بن حصین (رض) نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تو لوگوں نے اس بارے میں حضرت ابی بن کعب (رض) طرف خط لکھا تو انھوں نے جواب میں لکھا : سمرہ نے صحیح بیان کیا ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تو لوگوں نے اس بارے میں حضرت ابی بن کعب (رض) طرف خط لکھا تو انھوں نے جواب میں لکھا : سمرہ نے صحیح بیان کیا ہے۔
1167 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ لَرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَكْتَتَانِ سَكْتَةٌ إِذَا قَرَأَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1168 ۔ ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں ایک آیت (راوی کو شک ہے شاید یہ لفظ) ایک سورت کی تعلیم دوں گا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد آنے والے انبیاء میں سے صرف مجھ پر نازل ہوئی ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چل پڑے تو میں بھی آپ کے پیچھے گیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے تک پہنچے اور آپ نے مسجد کی چوکھٹ سے ایک پاؤں باہر نکال لیا اور دوسرا پاؤں ابھی مسجد کے اندر ہی تھا میں نے عرض کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ کوئی وعدہ کیا تھا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا تم نماز کے آغاز میں قرات کا آغاز کس چیز سے کرتے ہو ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ وہی ہے یہ وہی ہے پھر آپ تشریف لے گئے۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چل پڑے تو میں بھی آپ کے پیچھے گیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے تک پہنچے اور آپ نے مسجد کی چوکھٹ سے ایک پاؤں باہر نکال لیا اور دوسرا پاؤں ابھی مسجد کے اندر ہی تھا میں نے عرض کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ کوئی وعدہ کیا تھا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا تم نماز کے آغاز میں قرات کا آغاز کس چیز سے کرتے ہو ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ وہی ہے یہ وہی ہے پھر آپ تشریف لے گئے۔
1168 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ الأَحْمَرُ عَنْ يَزِيدَ أَبِى خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِى أُمَيَّةَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ أَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْبِرَكَ بِآيَةٍ أَوْ بِسُورَةٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَى نَبِىٍّ بَعْدَ سُلَيْمَانَ غَيْرِى ». قَالَ فَمَشَى وَتَبِعْتُهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَأَخْرَجَ رِجْلَهُ مِنْ أُسْكُفَّةِ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَتِ الأُخْرَى فِى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ بَيْنِى وَبَيْنَ نَفْسِى أَنَسِىَ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَىَّ بِوَجْهِهِ فَقَالَ « بِأَىِّ شَىْءٍ تَفْتَحُ الْقُرْآنَ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلاَةَ ». قَالَ قُلْتُ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) قَالَ « هِىَ هِىَ ». ثُمَّ خَرَجَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1169 ۔ عبداللہ بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔
عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی اسے بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت محمد بن حنفیہ (رض) (بھی اسے بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے) ۔
عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی اسے بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت محمد بن حنفیہ (رض) (بھی اسے بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے) ۔
1169 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُسْتَوْرِدِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شَمِرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَجْهَرُ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَجْهَرُ بِهَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ وَابْنُ الْحَنَفِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1170 ۔ حضرت حکم بن عمیر (رض) جو بدری (صحابی) ہیں وہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے رات (عشاء کی) صبح (فجر کی) اور جمعہ کی نماز میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے) ۔
1170 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ الْكُوفِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ الْحَمَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِى حَبِيبٍ الطَّائِفِىُّ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَجَهَرَ فِى الصَّلاَةِ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فِى صَلاَةِ اللَّيْلِ وَصَلاَةِ الْغَدَاةِ وَصَلاَةِ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1171 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔
1171 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِى حَامِدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الأَنْمَاطِىُّ كِيلَجَةُ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى الرِّجَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ الْحَرَّانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوَحَاظِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَجْهَرُ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1172 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ (رض) نے مدینہ منورہ میں نماز ادا کی انھوں نے اس میں بلند آواز میں قرات کی ، لیکن بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی نہ انھوں نے سو رہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی نہ بعد والی سورت سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، اسی طرح جھکتے ہوئے (یعنی رکوع میں جاتے ہوئے یا سجدے میں جاتے ہوئے) انھوں نے تکبیر بھی نہیں کہی جب انھوں نے نماز مکمل کرلی اور سلام پھیراتو جن مہاجرین اور انصار تک ان کی آواز پہنچتی تھی انھوں نے بلند آواز میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا اے حضرت معاویہ کیا آپ نے نماز میں کمی کی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد انھوں نے جو بھی نماز ادا کی اس میں بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، سورة فاتحہ سے پہلے بھی اور فاتحہ کے بعد والی سورت سے پہلے بھی (بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1172 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاَةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمْ يَقْرَأْ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) لأُمِّ الْقُرْآنِ وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا لِلسُّورَةِ الَّتِى بَعْدَهَا وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِى حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يَا مُعَاوِيَةُ أَسَرَقْتَ الصَّلاَةَ أَمْ نَسِيتَ قَالَ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ ذَلِكَ إِلاَّ قَرَأَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) لأُمِّ الْقُرْآنِ وَلِلسُّورَةِ الَّتِى بَعْدَهَا وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِى سَاجِدًا.
كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1173 ۔ اسماعیل بن عبید اپنے والد کے حوالے سے اپنا دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان (رض) حج یا عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ تشریف لائے انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قرات کے آغاز میں (بلند آواز میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی اور سورة فاتحہ پڑھنی شروع کردی ، جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو مہاجرین اور انصار مسجد کے مختلف گوشوں سے اٹھ کر ان کے پاس آئے اور بولے : اے معاویہ ! آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم جان بوجھ کر ترک کی ہے یا اسے پڑھنا بھول گئے تھے۔
(راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ (رض) نے ان لوگوں کو اگلی نماز پڑھائی تو اس میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) ۔
امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بارے میں جو روایات ہم نے نقل کی ہیں ان کے علاوہ بعض دیگر صحابہ نے اور ازواج مطہرات نے بھی یہ بات نقل کی ہے۔ ہم نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے مسئلے میں ان روایات کو الگ طور پر اکٹھا کیا ہے یہاں ہم نے اختصار کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں جو پہلے گزر گئی تھیں تاکہ اختصار اور تلیخیص موجود رہے۔ اسی طرح ہم نے اس مقام پر وہ روایات بھی نقل کی ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم میں سے کون سے حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔
(راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ (رض) نے ان لوگوں کو اگلی نماز پڑھائی تو اس میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) ۔
امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بارے میں جو روایات ہم نے نقل کی ہیں ان کے علاوہ بعض دیگر صحابہ نے اور ازواج مطہرات نے بھی یہ بات نقل کی ہے۔ ہم نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے مسئلے میں ان روایات کو الگ طور پر اکٹھا کیا ہے یہاں ہم نے اختصار کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں جو پہلے گزر گئی تھیں تاکہ اختصار اور تلیخیص موجود رہے۔ اسی طرح ہم نے اس مقام پر وہ روایات بھی نقل کی ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم میں سے کون سے حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔
1173 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ السِّنْدِىِّ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمْ يَقْرَأْ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) حِينَ افْتَتَحَ الْقُرْآنَ وَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا أَتَرَكْتَ صَلاَتَكَ يَا مُعَاوِيَةُ أَنَسِيتَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الأُخْرَى قَرَأَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ). قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَى الْجَهْرَ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَمِنْ أَزْوَاجِهِ غَيْرُ مَنْ سَمَّيْنَا كَتَبْنَا أَحَادِيثَهُمْ بِذَلِكَ فِى بَابِ الْجَهْرِ بِهَا مُفْرَدًا وَاقْتَصَرْنَا هَا هُنَا عَلَى مَنْ قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ طَلَبًا لِلاِخْتِصَارِ وَالتَّخْفِيفِ وَكَذَلِكَ ذَكَرْنَا فِى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَحَادِيثَ مَنْ جَهَرَ بِهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ وَالْخَالِفِينَ بَعْدَهُمْ رَحِمَهُمُ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1174 ۔ حضرت ابوہریریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص نماز پڑھتے ہوئے سورة فاتحہ نہیں پڑھتا وہ نماز مکمل نہیں ہوتی پوری نہیں ہوتی۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا اے حضرت ابوہریرہ ! بعض اوقات میں امام کی اقتداء میں ہوتا ہوں انھوں نے میری پنڈلی پر (کوئی چیز) چبھوتے ہوئے فرمایا پھر تم دل میں اسے پڑھ لو، کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے نماز (میں قرات) کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اس کا نصف حصہ اس کے لیے ہے میرا بندہ نماز کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے پھر وہ کہتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے پھر وہ کہتا ہے الرحمن ، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری تعریف کی پھر وہ کہتا ہے مالک، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی پھر وہ کہتا ہے ، ایاک نعبد وایاک نستعین، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہوگی، سورت کا آخری حصہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔
ابن سمعان نامی راوی، عبداللہ بن سمعان ہے اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔
ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو علاء بن عبدالرحمن کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
ان راویوں میں امام مالک بن انس ، شیخ ابن جریج، شیخ روح بن قاسم، شیخ ابن عیینہ ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابواویس اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ ان حضرات نے اس روایت کی سند میں اختلاف نقل کیا ہے تاہم متن پر ان کا اتفاق ہے ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی روایت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ نقل نہیں کیے۔
تو ان تمام حضرات کا متفقہ طور پر ابن سمعان کی نقل کردہ روایت کے خلاف نقل کرنا درست سمجھا جائے گا، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا اے حضرت ابوہریرہ ! بعض اوقات میں امام کی اقتداء میں ہوتا ہوں انھوں نے میری پنڈلی پر (کوئی چیز) چبھوتے ہوئے فرمایا پھر تم دل میں اسے پڑھ لو، کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے نماز (میں قرات) کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اس کا نصف حصہ اس کے لیے ہے میرا بندہ نماز کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے پھر وہ کہتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے پھر وہ کہتا ہے الرحمن ، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری تعریف کی پھر وہ کہتا ہے مالک، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی پھر وہ کہتا ہے ، ایاک نعبد وایاک نستعین، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہوگی، سورت کا آخری حصہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔
ابن سمعان نامی راوی، عبداللہ بن سمعان ہے اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔
ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو علاء بن عبدالرحمن کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
ان راویوں میں امام مالک بن انس ، شیخ ابن جریج، شیخ روح بن قاسم، شیخ ابن عیینہ ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابواویس اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ ان حضرات نے اس روایت کی سند میں اختلاف نقل کیا ہے تاہم متن پر ان کا اتفاق ہے ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی روایت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ نقل نہیں کیے۔
تو ان تمام حضرات کا متفقہ طور پر ابن سمعان کی نقل کردہ روایت کے خلاف نقل کرنا درست سمجھا جائے گا، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
1174 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنِى جَدِّى حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا ابْنُ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِىَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ ». قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّى رُبَّمَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ. قَالَ فَغَمَزَ ذِرَاعِى ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ بِهَا فِى نَفْسِكِ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنِّى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِى وَبَيْنَ عَبْدِى نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لَهُ يَقُولُ عَبْدِى إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَيَذْكُرُنِى عَبْدِى ثُمَّ يَقُولُ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) فَأَقُولُ حَمِدَنِى عَبْدِى ثُمَّ يَقُولُ (الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَأَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِى ثُمَّ يَقُولُ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ) فَأَقُولُ مَجَّدَنِى عَبْدِى ثُمَّ يَقُولُ (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِى وَبَيْنَ عَبْدِى نِصْفَيْنِ وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِى وَلِعَبْدِى مَا سَأَلَ ». ابْنُ سَمْعَانَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَابْنُ عَجْلاَنَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ وَأَبُو أُوَيْسٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلاَفٍ مِنْهُمْ فِى الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِى حَدِيثِهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلاَفِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1175 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جب تم الحمدللہ رب العالمین پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیونکہ یہ ام القرآن ، ام الکتاب، اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔
1175 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى نُوحُ بْنُ أَبِى بِلاَلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا قَرَأْتُمُ ( الْحَمْدُ لِلَّهِ) فَاقْرَءُوا (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) إِنَّهَا أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِى وَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) إِحْدَاهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1176 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے تاہم یہ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔
1176 - قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِىُّ ثُمَّ لَقِيتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1177 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب قرات کرتے تھے تو ایک ایک آیت کو الگ الگ کر کے پڑھتے تھے ۔ آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ عبداللہ بن محمد نامی راوی کے ہیں اس کی سند مستند ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
عبداللہ بن محمد نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے : عمر بن ہارون نے اسے ابن جریج کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں کچھ اضافی الفاظ نقل کیے ہیں۔
عبداللہ بن محمد نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے : عمر بن ہارون نے اسے ابن جریج کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں کچھ اضافی الفاظ نقل کیے ہیں۔
1177 - قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو خَيْثَمَةَ وَقُرِئَ عَلَى عَلِىِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِىُّ وَقُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِىِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأَمَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَرَأَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ) وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ. إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ. قَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَزَادَ فِيهِ كَلاَمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1178 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے آغاز میں الحمدللہ رب العالمین پڑھتے تھے ، پھر اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کرتے تھے۔
اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر شعبہ کے حوالے سے صرف ابوداؤد نامی راوی نے نقل کیا ہے جبکہ دیگر راویوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر حضرت ابوہریرہ (رض) کے فعل کے طور پر نقل کیا ہے۔
اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر شعبہ کے حوالے سے صرف ابوداؤد نامی راوی نے نقل کیا ہے جبکہ دیگر راویوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر حضرت ابوہریرہ (رض) کے فعل کے طور پر نقل کیا ہے۔
1178 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ قَالَ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ثُمَّ سَكَتَ هُنَيْهَةً. لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ أَبِى دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ مِنْ فِعْلِ أَبِى هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1179 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جوتے پہن کر اور موزے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
1179 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى فِى نَعْلَيْهِ وَفِى خُفَّيْهِ .
তাহকীক: