সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ১১৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1180 ۔ عبد خیر بیان کرتے ہیں حضرت علی سے ، سبع مثانی، کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا الحمدللہ ، ان سے کہا گیا یہ تو چھ آیات ہیں انھوں نے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی ایک آیت ہے۔
1180 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْمُقْرِى حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ عَنِ السُّدِّىِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سُئِلَ عَلِىٌّ رضى الله عنه عَنِ السَّبْعِ الْمَثَانِى فَقَالَ (الْحَمْدُ لِلَّهِ) فَقِيلَ لَهُ إِنَّمَا هِىَ سِتُّ آيَاتٍ فَقَالَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) آيَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
1181 ۔ حضرت عبداللہ بن ابواوفی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ قرآن مجید کو یاد نہیں کرسکتا۔

ابن عیینہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جو میرے لیے قرآن کی جگہ ہو کیونکہ میں قرات نہیں کرسکتا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم یہ دعا پڑھو۔

'' اللہ تعالیٰ پاک ہے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔

راوی بیان کرتے ہیں : اس نے اپنی انگلیاں بند کرکے (ان کلمات کو یاد کیا) اور پھر بولا یہ تو میرے پروردگار کی تعریف کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طور پر) کیا ہوگا ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم یہ دعا مانگو۔

'' اے اللہ ! تو میری مغفرت کردے تو مجھ پر رحم کر۔ مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے رزق عطاء کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔ (راوی کہتے ہیں ) تو اس نے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں بند کرکے (ان کلمات کو یاد کیا) اور اٹھ کر (چل دیا) ۔
1181 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِىُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ وَأَبُو شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَنَّهُ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا - وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِى شَيْئًا يُجْزِينِى مِنَ الْقُرْآنِ فَإِنِّى لاَ أَقْرَأُ. قَالَ « قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ». قَالَ فَضَمَّ عَلَيْهَا بِيَدِهِ وَقَالَ هَذَا لِرَبِّى فَمَا لِى قَالَ « قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَارْحَمْنِى وَاهْدِنِى وَارْزُقْنِى وَعَافِنِى ». فَضَمَّ بِيَدِهِ الأُخْرَى وَقَامَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا ؟
1182 ۔ حضرت عبداللہ بن ابواوفی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یارسول اللہ میں قرآن نہیں سیکھ سکتا تو نماز میں میرے لیے کیا پڑھنا کافی ہوگا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم یہ پڑھو :

'' اللہ کی ذات پاک ہے تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کیا یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طورپر) کیا ہوگا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ پڑھو۔

'' اے اللہ ! تو میری مغفرت کردے ! تو مجھ پر رحم کر ! تو مجھے رزق عطاء کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے عافیت نصیب کر۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا، اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ بھلائی سے بھر لیے ہیں (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرلی تھیں (یعنی انگلیوں پر ان کلمات کو گن کر ہاتھ بند کیا تھا) ۔
1182 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ أَبِى خَالِدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ - وَلَيْسَ بِالنَّخَعِىِّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى أَوْفَى أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَمَا يُجْزِينِى فِى صَلاَتِى قَالَ « تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ». قَالَ هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِى قَالَ « تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَارْحَمْنِى وَارْزُقْنِى وَاهْدِنِى وَعَافِنِى ». فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ ». وَقَبَضَ كَفَّيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا ؟
1183 ۔ حضرت عبداللہ بن ابواوفی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا یارسول اللہ میں قرآن نہیں سیکھ سکتا آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں جو میرے لیے اس کی جگہ کافی ہو تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ پڑھو :

'' اللہ کے نام سے (برکت حاصل کرتے ہوئے میں اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں) تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے کیا ہوگا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکی کی ہے ) ۔
1183 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى خَالِدٍ الدَّالاَنِىِّ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا عَلِّمْنِى مَا يُجْزِينِى مِنْهُ قَالَ « قُلْ بِسْمِ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِى ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا ؟
1184 ۔ ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت سیدہ عائشہ (رض) کو سنا، ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے یہ پڑھا :

'' اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آغاز کرتی ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ، الم ، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حی اور قیوم ہے اس نے تم پر کتاب نازل کی ہے۔ یہ آیت یہاں تک ہے :

'' وہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں جو اس میں متشابہ ہیں تاکہ وہ فتنہ تلاش کریں اور اس کی تاویل تلاش کریں ، حالانکہ اس کی تاویل کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور جن لوگوں کو علم میں رسوخ حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو تو یہ وہی لوگ ہوں گے جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے تو تم ان سے بچو۔
1184 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى الْخَصِيبِ الأَنْطَاكِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى مُلَيْكَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (الم اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ) إِلَى قَوْلِهِ (يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِى الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ) فَإِذَا رَأَيْتُمْ أُولَئِكَ فَهُمُ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا ؟
1184 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر، اور حضرت عثمان (رض) کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے میں ان میں سے کسی کو بھی بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
1184/1 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَشَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضى الله عنهم فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَجْهَرُ بِ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1185 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) اقتداء میں نماز اداک ی ہے ، میں نے ان میں سے کسی کو بھی بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔

یہی روایت بعض دیگراسناد کے حوالے سے بھی منقول ہے تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف پایاجاتا ہے۔
1185 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضى الله عنهم فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِىُّ وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ وَقُرَادُ أَبُو نُوحٍ وَآدَمُ بْنُ أَبِى إِيَاسٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى وَأَبُو النَّضْرِ وَخَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَزْرَفِىُّ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَ قَوْلِ غُنْدَرٍ وَعَلِىِّ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ شُعْبَةَ سَوَاءً وَرَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ بِلَفْظٍ آخَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1186 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان (رض) کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے یہ حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔
1186 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ يَجْهَرُوا بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1187 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف ہے اس روایت کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
1187 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِمِثْلِ قَوْلِ وَكِيعٍ سَوَاءً. وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ شُعْبَةَ فَقَالَ فَلَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ. وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شُعْبَةَ وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1188 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر، اور حضرت عثمان (رض) کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے یہ حضرات بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے ۔
1188 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِى شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضى الله عنهم فَلَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1189 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے حوالے سے بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) بلند آواز میں قرات کا آغاز ، الحمدللہ رب العالمین، سے کرتے تھے۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے حضرت انس (رض) سے منقول ہے۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔
1189 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رضى الله عنهما لَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَالْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ وَيَحْيَى بْنُ السَّكَنِ وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِىُّ وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ الَّذِى تَقَدَّمَ فَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) وَكَذَلِكَ رُوِىَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَامَّةُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ مِنْهُمْ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِىُّ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ وَأَيُّوبُ السَّخْتِيَانِىُّ وَالأَوْزَاعِىُّ وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَغَيْرُهُمْ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَهَمَّامٌ وَاخْتُلِفَ عَنْهُمَا فِى لَفْظِهِ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَنَسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1190 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی (رض) (نماز کے دوران بلند آواز میں ) قرات کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کرتے تھے۔
1190 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1191 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی (رض) اقتداء میں نماز ادا کی ہے ، یہ حضرات بلند آوازقرات کا آغاز کرتے تھے۔
1191 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَشُعْبَةُ وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضى الله عنهم فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ )
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1192 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے یہ حضرات بلند آواز سے قرات والی نماز میں قرات کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کرتے تھے۔
1192 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدِلاَنِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِيمَا يُجْهَرُ بِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1193 ۔ سعید بن یزید ازدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بلند آواز میں) قرات کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کرتے تھے یا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتے تھے انھوں نے فرمایا تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے جو مجھے اچھی طرح یاد ہے اور تم سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا۔

(راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا : کیا نبی جوتے پہن کر نماز پڑھ لیتے تھے انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔ اس کی سند صحیح ہے۔
1193 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ - هُوَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الأَزْدِىُّ - قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَفْتِحُ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) أَوْ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِى عَنْ شَىْءٍ مَا أَحْفَظُهُ وَمَا سَأَلَنِى عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ . قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى فِى النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
1194 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کرے اسے امام کے سکتہ کے دوران سورة فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور جو شخص سورت مکمل پڑھ لے تو ایسا کرنا ہی اس کے لیے کافی ہوگا۔

محمد بن عبداللہ بن عبید نامی راوی ضعیف ہے۔
1194 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِى مُوسَى النَّهْرَتِيرِىَّ حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا فَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّقِّىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ صَلَّى صَلاَةً مَكْتُوبَةً مَعَ الإِمَامِ فَلَيَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِى سَكَتَاتِهِ وَمَنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ أَجْزَأَهُ ». مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1195 ۔ یزید بن شریک بیان کرتے ہیں : انھوں نے حضرت عمر (رض) سے امام کی اقتداء میں قرات کا مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا تم سورة فاتحہ پڑھ لیاکرو۔

(راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا : اگرچہ (امام) آپ ہوں ؟ تو انھوں نے فرمایا اگرچہ (امام ) میں ہوں۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا اگرچہ آپ بلند آواز سے قرات کررہے ہوں ؟ تو انھوں نے جواب دیا ، اگرچہ میں بلند آواز سے قرات کررہاہوں (پھر بھی تم سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو) ۔

اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1195 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخَرِىُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِىِّ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ قَالَ وَإِنْ كُنْتُ أَنَا . قُلْتُ وَإِنْ جَهَرْتَ قَالَ وَإِنْ جَهَرْتُ . رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1196 ۔ یزید بن شریک بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) سے امام کی اقتداء میں قرات کرنے کا مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے مجھے ہدایت کی میں قرات کرلیا کروں۔

راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : خواہ آپ امام ہوں (تو بھی قرات کرلیا کروں) انھوں نے جواب دیا خواہ میں امام ہوں (تو تم بھی قرات کرلیاکرو)

(راوی کہتے ہیں ) میں نے عرض کیا اگرچہ آپ بلند آواز سے قرات کررہے ہوں ؟ انھوں نے جواب دیا اگرچہ میں بلند آواز میں قرات کررہاہوں ۔ اس کی سند مستند ہے۔
1196 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ جَوَّابٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فَأَمَرَنِى أَنْ أَقْرَأَ . قَالَ قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ قَالَ وَإِنْ كُنْتُ أَنَا. قُلْتُ وَإِنْ جَهَرْتَ قَالَ وَإِنْ جَهَرْتُ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1197 ۔ عبداللہ بن ہذیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے دریافت کیا کیا میں امام کے پیچھے قرات کرلیاکروں ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
1197 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الرَّازِىُّ عَنْ أَبِى جَعْفَرٍ الرَّازِىِّ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى الْهُذَيْلِ قَالَ سَأَلْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ قَالَ نَعَمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1198 ۔ حضرت محمود بن ربیع انصاری جو ایلیاء میں قیام پذیر تھے وہ حضرت عبادہ بن صامت کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی آپ کو قرات کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کررہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا اللہ کی قسم یارسول اللہ ایسا ہی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو چونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز (کامل) نہیں ہوتی۔

یہ سند '' حسن '' ہے۔
1198 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىِّ - وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَّمَا انْصَرَفَ قَالَ « إِنِّى لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ ». قَالَ قُلْنَا أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا » . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক: