কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৮৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٦٤۔۔ جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی وہ منافق ہوگا جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے وفا نہ کرے جب اس کو کئی امانت سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کا مرتکب ہو، ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ اگر دوصفات تو اس سے ختم ہوجائیں مگر صرف ایک باقی رہ جائے کیا تب بھی وعید ہے ؟ آپ نے فرمایا اس میں نفاق کا ایک شعبہ باقی رہے گا جب تک ہ اس کی ایک صفت بھی باقی ہے۔ ابن النجار، بروایت ابوہریرہ ۔
864 – "ثلاث من كن فيه فهو منافق إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا ائتمن خان، قال رجل يا رسول الله فإذا ذهب اثنتان وبقيت واحدة قال فإن عليه شعبة من نفاق ما بقي فيه منهن شيء". (ابن النجار عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٦٥۔۔ جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا خواہ روزے رکھے نماز ادا کرے حج وعمرہ کرے ، اور کہے کہ میں مسلم ہوں وہ خصلتیں یہ ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب اس کو کوئی امانت سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کا مرتکب ہو، جب وعدہ کرے تو وفانہ کرے۔ ابن النجار، بروایت انس الخرائطی فی مکارم الاخلاق بروایت ابوہریرہ۔
865 – "ثلاث من كن فيه فهو منافق وإن صام وصلى وقال إني مؤمن إذا حدث كذب وإذا ائتمن خان وإذا وعد أخلف". (ابن النجار عن أنس) (الخرائطي في مكارم الأخلاق عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٦٦۔۔ منافق کی علامت یہ ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے۔ اور جب تو اس کے پاس امانت رکھوائے تو اس میں خیانت کا مرتکب ہو۔ الاوسط للطبرانی (رح) ، بروایت ابی سعید۔
866 – "من أعلام المنافق إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا ائتمنته خانك". (طس عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
867 ۔۔۔ منافق کی خصلتیں یہ ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے ۔ اور جب تو اس کے پاس امانت رکھوائے تو اس میں خیانت کرے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کس طرح ؟ فرمایا جب وہ گفتگو شروع کرتا ہے تو اپنے دل میں خیال بٹھالیتا ہے کہ غلط بیانی سے کام لے گا۔ جب وعدہ کرتا ہے تو اسی وقت یہ تہیہ کرلیتا ہے اس کو وفانہ کرے گا، جب امانت اس کو سونپی جاتی ہے توت بھی سے دل میں خیانت کرنے کا عزم کرلیتا ہے۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت سلمان۔
867 – " من خلال المنافق إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا ائتمن خان فقيل يا رسول الله كيف قال المنافق إذا حدث وهو يحدث نفسه إنه يكذب وإذا وعد وهو يحدث نفسه أنه يخلف وإذا ائتمن وهو يحدث نفسه أنه يخون". (طب عن سلمان) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٦٨۔۔ ہمارے اور منافقوں کے درمیان امتیاز کرنے والی علامت ، عشاء اور صبح کی نماز میں حاضر ہونا ہے وہ ان نمازوں میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ الشافعی، السنن للبیہقی ، بروایت عبدالرحمن بن حرملہ، قتادہ مرسلا۔
868 – "بيننا وبين المنافقين شهود العشاء والصبح لا يستطيعونهما". (الشافعي ق عن عبد الرحمن بن حرملة مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٦٩۔۔ مومن، منافق ، اور کفر کی مثال، تین نفوس پر مشتمل ایک جماعت کی سی ہے ، جو چلتے چلتے ایک نہر تک پہنچے ، پہلے مومن نہر میں اترا اور عبور کرگیا پھر منافق نہر میں اترا، حتی کہ جب وہ مومن کے قریب پہنچنے لگا تو کافر نے آواز دی وہ میرے پاس آجا ورنہ مجھے تیری ہلاکت کا اندیشہ ہے مومن نے بھی اس کو آواز دی کہ میرے پاس یہ دوچیزیں ہیں تجھے دوں گا ادھرآجا، اب منافق حیران و پریشان دونوں کو دیکھ رہا ہے مگر کوئی فیصلہ نہیں کر پارہا وہ اسی پریشانی میں تھا کہ ایک موج نے آکر اس کو غرق کردیا۔ تویوں منافق شک وشبہ میں رہاحتی کہ اس کو موت نے آدبوچا، یہی مثال منافق کی ہے۔ ابن جریر، بروایت قتادہ مرسلا۔
869 – "مثل المؤمن والمنافق والكافر كمثل رهط ثلاثة وقعوا إلى نهر فوقع المؤمن فقطع ثم وقع المنافق حتى إذا كاد أن يصل إلى المؤمن ناداه الكافر أن هلم إلي فإني أخشى عليك وناداه المؤمن أن هلم إلي فإن عندي وعندي يحظى له ماعنده فما زال المنافق يتردد بينهما حتى أتى عليه أذى فغرقه وإن المنافق لم يزل في شك وشبهة حتى أتى عليه الموت وهو كذلك". (ابن جرير عن قتادة مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٠۔۔ اے لوگو میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے کتاب اللہ اور میرا خاندان یعنی اہل بیت۔ النسائی، بروایت جابر۔
870 – "يا أيها الناس إني تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله، وعترتي أهل بيتي". (ن عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧١۔۔ اے لوگو میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے کتاب اللہ اور میرا خاندان یعنی اہل بیت ، النسائی ، بروایت جابر۔
871 – "أيها الناس قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا كتاب الله وعترتي أهل بيتي". (ت عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٢۔۔ میں تمہارے درمیان دوخلیفہ چھوڑے جارہاہوں کتاب اللہ یہ اللہ کی رسی ہے آسمان اور زمین کے درمیان تک پہنچی ہوئی ہے ، دوسرا میرا خاندان یعنی اہل بیت اور کتاب اللہ میرا خاندان باہم کبھی جدانہ ہوگا۔ حتی کہ دونوں حوض پر میرے پاس آجائیں۔ مسنداحمد، الکبیر للطبرانی ، بروایت زید بن ثابت۔
872 – "إني تارك فيكم خليفتين، كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض". (حم طب عن زيد بن ثابت) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٣۔۔ میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے وہ ہے کتاب اللہ یہ اللہ کی رسی آسمان اور زمین کے درمیان تک پہنچتی ہوئی ہے ، دوسرا میرا خاندان یعنی اہل بیت اور کتاب اللہ میرا خاندان باہم کبھی جدانہ ہوگا، حتی کہ دونوں حوض پر میرے پاس آجائیں سو خیال رکھنا میرے بعد تم ان سے کسی طرح پیش آتے ہو ؟ ترمذی، بروایت زید بن ارقم۔
873 – "إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي أحدهما أعظم من الآخر كتاب الله حبل ممدودمن السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما". (ت عن زيد بن أرقم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٤۔۔ میں تمہیں اللہ کے تقوی اور امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں خواہ تم پر کسی حبشی غلام کو امیر مقرر کردیا جائے یقیناجو میرے بعد عرصہ تک حیات رہابہت سے اختلافات دیکھے گا سو تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت تھامنالازم ہے ان کو مضبوطی سے تھام اور کچیلی سے خوب سختی کے ساتھ پکڑلو۔ اور نئے پیدا شدہ امور سے ہمیشہ اجتناب کرو بیشک ہرنئی چیز بدعت ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ مسنداحمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم، بروایت العرباض بن سادیہ۔ امام ترمذی روایت کی تخریج کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سنن الترمذی ج ٥ ص ٤٤۔
874 – " أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن أمر عليكم عبد حبشي فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة". (حم د ت هـ ك عن العرباض بن سارية) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٥۔۔ میں تمہارے درمیان دوچیزں چھوڑے جارہاہوں ان کو تھامنے کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے کتاب اللہ اور میری سنت اور ان دونوں چیزوں کے درمیان کبھی افتراق و انتشار نہیں ہوسکتا، حتی کہ یہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں۔ ابوبکر الشافعی فی الغیلانیات بروایت ابوہریرہ (رض)۔
875 – "خلفت فيكم شيئين لن تضلوا بعدهما كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا على الحوض". (أبو بكر الشافعي في الغيلانيات عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب ۔۔ کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کے بیان میں۔
٨٧٦۔۔ میں تمہارے درمیان دوچیزں چھوڑے جارہاہوں ان کو تھامنے کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔ کتاب اللہ اور میری سنت اور یہ دونوں چیزیں باہم کبھی جدا نہیں ہوسکتی۔۔۔ حتی کہ حوض پر میرے پاس آجائیں۔ المستدرک للحاکم، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
876 – "تركت فيكم شيئين لن تضلوا بعدهما كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا على الحوض". (ك عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٧٧۔۔ خبردار ! قریب ہے کہ کسی شخص کے پاس میری حدیث پہنچے اور وہ مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہو اور کہے ہمارے تمہارے درمیان کتاب اللہ کافی ہے ہم اسمیں جو حلال پائیں گے اس کو حلال قرار دیں گے اور جو حرام پائیں گے اس کو حرام قرار دیں گے۔ تولوگو ! یاد رکھو یہ شخص غلط کہہ رہا ہے بلکہ جو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا وہ بھی ایساہی ہے جیسا کہ اللہ نے حرام قراردیا ہے۔ ترمذی، عن المقدام بن معدیکرب۔
877 – "ألا هل عسى رجل يبلغه الحديث عني وهو متكئ على أريكته فيقول بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه حلالا استحللناه وما وجدنا فيه حراما حرمناه وإن ما حرم رسول الله كما حرم الله".(ت عن المقدام بن معد يكرب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٧٨۔۔ مجھے معلوم نہ ہو کہ کسی شخص کے پاس میری حدیث پہنچے اور وہ مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا کہے میں تو قرآن پڑھتاہوں اور اس طرح وہ میری سنت سے اعراض کرے یاد رکھو جو میری طرف سے اچھی بات کہی گئی ہے اس کا قائل میں ہوں۔ لہٰذا وہ بھی قرآن کی طرح قابل عمل ہے۔ ابن ماجہ۔ بروایت ابوہریرہ۔
878 – "لا أعرفن ما يحدث أحدكم عني الحديث وهو متكئ على أريكته فيقول اقرأ قرآنا ما قيل من قول حسن فأنا قلته". (هـ عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٧٩۔۔ میں تم میں سے کسی کونہ پاؤں کہ اس کے پاس میری باتوں میں سے کوئی حکم یا ممانعت پہنچے لیکن وہ کہے کہ مجھے کچھ معلوم نہیں بس ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے اسی کی اتباع کریں گے۔ مسنداحمد، ابوداود، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم بروایت ابی رافع۔
879 – "لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه فيقول لا أدري ما وجدناه في كتاب الله اتبعناه". (حم د ت هـ ك عن أبي رافع) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٨٠۔۔ خبردارآگاہ رہو، مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل کچھ اور دیا گیا ہے ، خبردار شاید کوئی پیٹ بھرا مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا یہ کہے کہ تم پر صرف اس قرآن کو تھامنا کافی ہے جو اس میں حلال پاؤ اس کو حلال سمجھو۔ اور جو حرام پاؤ اس کو حرام سمجھو، خبردرا، تمہارے لیے اہلی گدھاحلال ہے نہ کوئی ذی ناب درندہ حلال ہے، اور کسی معاہد ذمی شخص کالقطہ بھی حلال نہیں الایہ کہ ا سکامالک اس سے بے پروا ہوجائے اور جو کسی قوم کے پاس پہنچے تو ان پر اس کی مہمان نوازی لازم ہے۔ اگر وہ اپنا یہ ذمہ نبھائیں تو اس کے لیے جائز ہے کہ ان سے اپنی مہمان نوازی کی خاطر زبردستی کچھ وصول کرلے۔ مسنداحمد، ابوداؤد، بروایت المقدام بن معدیکرب۔
880 – "ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي ولا كل ذي ناب من السباع ولا لقطة معاهد إلا أن يستغني عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم أن يقروه فإن لم يقروه فله أن يغصبهم بمثل قراه". (حم د عن المقدام بن معد يكرب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٨١۔۔ کیا تم میں سے کوئی اپنی مسہری پر ٹیک لگائے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ نے بعض چیزوں کو حرام نہیں فرمایا، اس کے جو اس قرآن میں ہے سوآگاہ رہو، وہ خبردار ہو، اللہ کی قسم میں نے بعض چیزوں کا حکم کیا ہے اور نصیحت کی ہے اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے وہ بھی قرآن کی طرح ہیں یا زیادہ، اور اللہ نے تمہارے لیے حلال نہیں کیا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بغیر اجازت داخل ہوجاو، نہ ان کی عورتوں کو مارنا، نہ ان کے پھلوں کو کھانا، جبکہ وہ اپنے ذمہ کے فرض کو ادا کرچکے ہوں۔ ابوداؤد، بروایت العرباض۔
881 – " أيحسب أحدكم متكئا على أريكته أن الله تعالى لم يحرم شيئا إلا ما في هذا القرآن، ألا وإني والله قد أمرت ووعظت ونهيت عن أشياء، إنها كمثل القرآن أو أكثر وإن الله تعالى لم يحل لكم أن تدخلوا بيوت أهل الكتاب إلا بإذن ولا ضرب نسائهم ولا أكل ثمارهم إذا أعطوكم الذي عليهم". (د عن العرباض) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٨٢۔۔ قریب ہے کہ کوئی شخص اپنی مسہری پر میری حدیث بیان کرتا ہواک ہے ہمارے تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے ہم اس میں جو حلال پائیں گے اس کو حلال قرار دیں اور جو حرام پائیں گے اسے حرام قرار دیں گے۔ تولوگو یاد رکھو، یہ شخص غلط کہہ رہا ہے بلکہ جو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا وہ بھی ایساہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا۔ مسنداحمد، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم، بروایت المقدام بن معدیکرب۔
882 – " يوشك أن يقعد الرجل متكئا على أريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه من حلال استحللناه وما وجدنا فيه من حرام حرمناه ألا وإن ما حرم رسول الله مثل ما حرم الله". (حم هـ ك عن المقداد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث سے انکار خطرناک بات ہے
٨٨٣۔۔ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جائے گا حالانکہ ابھی تو میں تمہارے درمیان ہوں۔ مسلم، بروایت محمود بن لبید۔
883 – "أيتلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم". (م عن محمود بن لبيد) .
tahqiq

তাহকীক: