কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৬৭৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26778 ۔۔۔ بھلا تم نے اس سے نفع کیوں نہیں اٹھایا چونکہ دباغت اسے پاک کردیتی ہے۔ یہ اسی طرح حلال ہوجاتا ہے جس طرح شراب کی حالت بدل جانے ) سے سرکہ ۔ (رواہ الطبرانی عن ام سلمۃ (رض))
26778- "أفلا انتفعتم به فإن دباغها ذكاتها يحل كما يحل الخل من الخمر". "طب عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26779 ۔۔۔ بھلا تم نے اس کے چمڑے سے نفع کیوں نہیں اٹھایا اس کا تو صرف کھانا حرام ہے۔ (رواہ مالک والشافعی واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم والنسائی وابن حبان عن ابن عباس (رض)) ابن عباس (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردار بکری پائی تو مندرجہ بالا ارشاد فرمایا ۔
26779- "هلا انتفعتم بجلدها إنما حرم أكلها". "مالك والشافعي، حم، خ، م ن حب عن ابن عباس قال: "وجد النبي صلى الله عليه وسلم شاة ميتة قال: فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26780 ۔۔۔ مردار کے چمڑے میں پائی جانے والی خباثت (گندگی) کو دباغت ختم کردیتی ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحاکم ، عن ابن عباس (رض))
26780- "جلود الميتة دباغته يذهب خبثه". "حم ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26781 ۔۔۔ ہر وہ چمڑا جسے دباغت دی جائے وہ پاک ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی ، عن ابن عباس (رض))
26781- "كل إهاب دبغ فقد طهر". "ط عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26782 ۔۔۔ مردار کے چمڑے کو جب دباغت دی جائے تو اس (کے استعمال) میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ الطبرانی عن ام سلمۃ (رض))
26782- "لا بأس بمسك الميتة إذا دبغ". "طب عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26783 ۔۔۔ دباغت چمڑے کی گندگی کو دور کردیتی ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحاکم ، عن ابن عباس (رض))
26783- "دباغه يذهب خبث" هـ."حم ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26784 ۔۔۔ اسے دباغت کہاں ہوئی۔ (رواہ عبداللہ بن احمد بن حنبل والبیہقی عن ابن ابی لییلی) کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس پوستین (معہ بالوں والی کھال) پر نماز پڑھ سکتا ہوں جواب میں آپ نے یہ ارشاد فرمایا ۔
26784- "فأين الدباغ؟ ". "عم، ق عن ابن أبي ليلى أن رجلا قال: يا رسول الله أصلي في الفراء قال: فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26785 ۔۔۔ مردار کا تو بس صرف گوشت کھانا حرام ہے رہی بات اون ، بالوں اور چمڑے کی سو ان چیزوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ ابن عدی وابن النجار ، عن ابن عباس (رض))
26785- "إنما حرم من الميتة أكل اللحم، فأما الصوف والشعر والجلد فلا بأس به". "عد وابن النجار عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26786 ۔۔۔ تمہارے اوپر تو مردار کا گوشت حرام کیا گیا ہے اور اس کے چمڑے میں تمہیں رخصت دی گئی ہے۔ (رواہ الطبرانی ، عن ابن عباس (رض))
26786- "إنما حرم عليكم لحمها ورخص لكم في مسكها". "طب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26787 ۔۔۔ مردار کی کسی چیز سے بھی نفع مت اٹھاؤ۔ (رواہ سمویہ عن جابر ابو عبداللہ الکیسانی فی فوائدہ عن ابن عمرو (رض))
26787- "لا تنتفعوا بشيء من الميتة". "سمويه عن جابر، أبو عبد الله الكيساني في فوائده عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26788 ۔۔۔ مردار کے چمڑے اور پٹھوں سے نفع مت اٹھاؤ۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی واحمد بن حنبل عن عبداللہ بن عکیم) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الجامع المصنف 252 وحسن الاثر 9 ۔
26788- "لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب". "ط حم عن عبد الله بن عكيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
26789 ۔۔۔ مردار کے چمڑے اور پٹھوں کو اپنے کام میں مت لاؤ ۔ (رواہ الطبرانی فی اوسط عن عبداللہ بن عکیم) ۔ فائدہ : ۔۔۔ مندرجہ بالا تین احادیث میں عدم انتفاع کا حکم ہے جبکہ اوپر سب احادیث سے جواز کا حکم ملتا ہے ممانعت کی احادیث میں اس کچے چمڑے کا حکم ہے جسے دباغت نہ دی گئی ہو اور یا ممانعت والی احادیث منسوخ ہیں۔
26789- "لا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب". "طس عن عبد الله بن عكيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26790 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی ۔۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث کا حوالہ نہیں دیا گیا جبکہ یہی حدیث 26006، 26015 نمبر پر گزر چکی ہے۔
26790- "عن عمر قال: لا تقبل صلاة إلا بطهور"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26791 ۔۔۔ ” مسند علی “ حجر بن عدی کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ہمیں حدیث سنائی کہ طہارت نصف ایمان ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ ورستہ فی الایمان ، لکائی فی السنۃ وعبدالرزاق وابن عساکر)
26791- "مسند علي" عن حجر بن عدي قال: حدثنا علي بن أبي طالب أن الطهور نصف الإيمان". "عب ش ورسته في الإيمان واللالكائي في السنة، عب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26792 ۔۔۔ ” ایضا “ شریح بن ھانی کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ جو شخص اچھی طرح سے طہارت حاصل کرتا ہے پھر مسجد کی طرف چل پڑتا ہے وہ نماز کے حکم میں ہوتا ہے جب تک اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26792- "أيضا" عن شريح بن هانئ قال: سمعت عليا يقول: من أحسن الطهور ثم مشي إلا المسجد كان في صلاة ما لم يحدث."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26793 ۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ انھیں ایک شخص نے حدیث سنائی کہ رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مد پانی سے وضو کرتے اور ایک صاع سے غسل کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ)
26793- "عن الحسن أن رجلا حدثهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتوضأ بمد من ماء ويغتسل بصاع". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26794 ۔۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں کرتا ، دھوکا دہی سے حاصل کیے ہوئے مال کا صدقہ بھی قبول نہیں کرتا اور وہ خرچہ بھی قبول نہیں کرتا جو دکھلاوے کے لیے کیا جائے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26794- "عن ابن عمر قال: لا يقبل الله صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول ولا نفقة في رياء". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الطاء ۔۔۔ کتاب الطہارت ۔۔۔ از قسم افعال باب مطلق ۔۔۔ طہارت کی فضیلت کے بیان میں :
26795 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : طہارت ایمان کا حصہ ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26795- "عن علي قال: الطهور شطر الإيمان". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26796 ۔۔۔ حمران روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے اچھی طرح سے وضو کیا اور پھر فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا آپ نے اچھی طرح سے وضو کیا اور پھر فرمایا : جس شخص نے اس طرح وضو کیا پھر وہ مسجد کی طرف چل پڑا اور صرف نماز کے لیے اپنی جگہ سے چلا اس کے (کبیرہ) گناہوں کے علاوہ سب گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (رواہ مسلم وابو عوانۃ)
26796- "عن حمران قال توضأ عثمان بن عفان يوما وضوءا حسنا ثم قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ فأحسن الوضوء ثم قال: "من توضأ هكذا ثم خرج إلى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة غفر له ما خلا من ذنبه". "م وأبو عوانة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26797 ۔۔۔ حمران مولائے عثمان کی روایت ہے کہ میں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس وضو کا لایا آپ (رض) نے وضو کیا اور پھر فرمایا : بہت سارے لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی احادیث سناتے ہیں میں نہیں جانتا وہ کیا ہے البتہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح میں نے وضو کیا ہے پھر فرمایا : جس شخص نے اسی طرح وضو کیا اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ، اس کی نماز اور اس کا مسجد کی طرف چلنا اس کے عمل میں زیادتی کا باعث ہوگا ۔ (رواہ مسلم)
26797- "عن حمران مولى عثمان قال: أتيت عثمان بن عفان بوضوء فتوضأ ثم قال: إن ناسا يتحدثون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أحاديث لا أدري ما هي ألا إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ مثل وضوئي هذا ثم قال: "من توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه، وكانت صلاته ومشيه إلى المسجد نافلة". "م"
তাহকীক: