কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৬৭৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26798 ۔۔۔ حمران کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو بیٹھے ہوئے دیکھا آپ (رض) نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور پھر فرمایا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی اسی جگہ بیٹھا دیکھا اور آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا ہے پھر ارشاد فرمایا : جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا : دھوکا مت کھاؤ ۔ (رواہ ابن ماجہ وابن حبان)
26798- "عن حمران قال: رأيت عثمان قاعدا فدعا بوضوء فتوضأ ثم قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في مقعدي هذا توضأ مثل وضوئي هذا ثم قال: "من توضأ مثل وضوئي هذا غفر له ما تقدم من ذنبه"، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ولا تغتروا". "هـ حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26799 ۔۔۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا آپ نے اچھی طرح سے وضو کیا اور پھر فرمایا : جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر مسجد کی طرف چل پڑا اور (جاتے ہی) دو رکعتیں پڑھیں اس کے پہلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ (رواہ البزار ورجالہ ثقات)
26799- "عن عثمان قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ فأحسن الوضوء ثم قال: "من توضأ وضوئي هذا ثم أتى المسجد فركع ركعتين غفر له ما تقدم من ذنبه". "البزار ورجاله ثقات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26800 ۔۔۔ حمان کہتے ہیں : میں وضو کا پانی لے کر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے لیے وضو کیا اور پھر فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے کا اہتمام کیا اس کے پہلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ حتی کہ اپنے ساتھیوں میں سے تین آدمیوں کو واسطہ دیا ان سب نے کہا : ہم نے سنا ہے اور یاد رکھا ہے۔ (رواہ الحارث وفیہ اسماعیل بن ابراھیم بن مھاجر ضعیف)
26800- "عن حمران قال: أتيت عثمان بوضوء فتوضأ للصلاة ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من توضأ فأحسن الطهور كفر عنه ما تقدم من ذنبه"، ثم التفت إلى أصحابه فقال: يا فلان أسمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أنشد ثلاثة من أصحابه فكلهم يقول: سمعناه ووعيناه". "الحارث وفيه إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26801 ۔۔۔ حمران کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے تین تین مرتبہ وضو کیا (یعنی ہر عضو کو تین تین بار دھویا) پھر فرمایا ، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور پھر ارشاد فرمایا : جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر اس طرح دو رکعتیں پڑھیں کہ دل میں کوئی برا خیال نہ پیدا ہوا ، اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
26801- "عن حمران أن عثمان بن عفان توضأ ثلاثا ثلاثا، ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ نحو وضوئي هذا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من توضأ نحو وضوئي هذا، ثم ركع ركعتين لا يحدث فيهما نفسه إلا بخير غفر له ما تقدم من ذنبه". "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26802 ۔۔۔ عمرو بن میمون کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کم گو انسان تھے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص نے وضو کیا جیسا کہ اسے حکم دیا گیا تھا اور پھر اس نے نماز پڑھی جیسا کہ اسے حکم دیا گیا تھا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ۔ پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت کو گواہ بنا کر اس کی تصدیق چاہی ، سب نے کہا جی ہاں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے ہی فرمایا ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
26802- "عن عمرو بن ميمون سمعت عثمان بن عفان وكان قليل الحديث يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من توضأ كما أمر وصلى كما أمر خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه"، ثم استشهد رهطا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقول هذا قالوا: نعم."حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26803 ۔۔۔ حمران کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے جب سے اسلام قبول کیا ہر دن غسل کرتے تھے ایک دن میں نے نماز کے لیے وضو کا پانی رکھا جب وضو کیا اور فرمایا : میں نے چاہا تھا کہ تمہیں ایک حدیث سناؤں جسے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے ، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں حکم بن عاص بولے : اے امیر المؤمنین ! اگر خیر و بھلائی ہو تو ہم اسے اختیار کریں گے ، اگر کوئی بری بات ہو تو ہم سے بچیں گے ۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے فرمایا : میں تمہیں سناتا ہوں چنانچہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح وضو کیا اور پھر فرمایا : جس شخص نے اس طرح وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا ، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا اور اہتمام کے ساتھ رکوع و سجدہ کیا تو اس نماز سے دوسری نماز کے درمیان ہونے والے گناہ اسے معاف کردیئے جائیں گے بشرطیکہ جب تک اس سے کوئی کبیرہ گناہ سرزد نہ ہو ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبیہقی فی شعب الایمان)
26803- "عن حمران قال: كان عثمان يغتسل كل يوم مرة منذ أسلم فوضعت وضوءا له ذات يوم للصلاة، فلما توضأ قال: إني أردت أن أحدثكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم بدا لي أن لا أحدثكموه، فقال الحكم بن العاص: يا أمير المؤمنين إن كان خيرا فنأخذ به أو شرا فنتقيه، فقال: إني محدثكم به توضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا الوضوء ثم قال: "من توضأ هذا الوضوء فأحسن الوضوء، ثم قام إلى الصلاة فأتم ركوعها وسجودها كفرت عنه ما بينها وبين الصلاة الأخرى ما لم يصب مقتلة يعني كبيرة". "حم هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26804 ۔۔۔ حمران کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو وضو کرتے دیکھا انھوں نے اپنے دھوئے پھر دو مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر تین بار چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور دونوں ہاتھ کانوں کے ظاہری حصہ پر پھیرے اور پھر داڑھی پر پھیر لیے پھر ٹخنوں تک تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور پھر فرمایا : میں نے اسی طرح وضو کیا ہے جس طرح میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا ہے پھر میں نے دو رکعتیں پڑھیں جس طرح میں نے آپ کو دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تھا پھر کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوئے اور ارشاد فرمایا : جس شخص نے اس طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا ہے اور ر پھر دو رکعتیں پڑھیں بایں طور پر اس کے دل میں کوئی بری بات نہ پیدا ہوئی تو اس نماز اور گزشتہ کل کی نماز کے درمیان ہونے والے گناہ اسے معاف کردیئے جائیں گے ۔ (رواہ ابن بشران فی امالیہ)
26804- "عن حمران قال: رأيت عثمان توضأ فغسل يديه، ثم مضمض واستنشق اثنين، ثم غسل وجهه ثلاث مرات، ثم غسل يديه إلى المرفقين ثلاث مرات، ثم مسح برأسه ومر بيديه على ظاهر أذنيه ومر بهما على لحيته، ثم غسل رجليه إلى الكعبين ثلاث مرات، ثم قام فركع ركعتين، ثم قال: توضأت كما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ، ثم ركعت ركعتين كما رأيته ركع، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغ من ركعتيه "من توضأ كما توضأت، ثم ركع ركعتين لا يحدث نفسه فيهما غفر له ما كان بينهما وبين صلاته بالأمس". "ابن بشران في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26805 ۔۔۔ عکرمہ بن خالد مخزومی کی روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عصر کے لیے مؤذن نے اذان دی عثمان بن عفان (رض) نے طہارت کے لیے پانی منگوایا وضو کیا اور پھر فرمایا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس شخص نے اس طرح وضو کیا جس طرح اسے حکم دیا گیا تھا اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے اپنے اس بیان پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو گواہ بنایا چنانچہ انھوں نے گواہی دی ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26805- "عن عكرمة بن خالد المخزومي قال: حدثني رجل من أهل المدينة أن المؤذن أذن بصلاة العصر فدعا عثمان بن عفان بطهور فتطهر، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من توضأ كما أمر كفر عنه ما تقدم من ذنبه"، ثم استشهد على ذلك أربعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فشهدوا بذلك على النبي صلى الله عليه وسلم". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26806 ۔۔۔ حمران کی روایت میں ہے کہ میں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس تھا آپ (رض) نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا جب فارغ ہوگئے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکرا کر فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں کیوں ہنسا ہوں ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے آپ نے فرمایا : مسلمان بندہ جب پورا وضو کرتا ہے اور پھر نماز میں داخل ہوجاتا ہے وہ نماز سے اس طرح پاک ہو کر نکلتا ہے جس طرح اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا تھا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26806- عن حمران قال: "كنت عند عثمان بن عفان إذ دعا بوضوء فتوضأ فلما فرغ قال: توضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم كما توضأت ثم تبسم فقال: "هل تدرون فيم ضحكت؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: "إن العبد المسلم إذا توضأ فأتم وضوءه، ثم دخل في صلاته خرج من صلاته كما خرج من بطن أمه". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26807 ۔۔۔ ابو امامہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ایک شخص شخص آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے حد کا ارتکاب ہوا ہے لہٰذا مجھ پر حد قائم کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اس شخص نے پھر اپنی بات دہرائی اتنے میں نماز کھڑی کردی گئی اور آپ نے اس شخص کو کچھ جواب نہ دیا حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے ارشاد فرمایا : مجھے بتاؤ ! بھلا جب تم گھر سے نکلے ہو اچھی طرح سے وضو نہیں کیا ؟ عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
26807- عن أبي أمامة قال: "بينما أنا قاعد مع النبي صلى الله عليه وسلم إذ جاءه رجل فقال: يا رسول الله إني قد أصبت حدا فأقمه علي، فسكت النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أعاد فأقيمت الصلاة فلم يرد عليه شيئا حتى صلى النبي صلى الله عليه وسلم، ثم انصرف، فقال: "أرأيت حين خرجت من بيتك أليس توضأت فأحسنت الوضوء؟ " قال: بلى يا رسول الله، قال: "فإن الله قد غفر لك حدك أو قال ذنبك". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26808 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی امت کے جن لوگوں کو نہیں دیکھا انھیں آپ کیسے پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا : وضو کے اثرات کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں سفید (چمکدار) ہوں گے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26808- عن ابن مسعود قال: قلت "يا رسول الله كيف تعرف ما لم تر من أمتك؟ قال: "هم غر محجلون بلق من آثار الوضوء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وضو کا بیان ۔۔۔ وضو کی فضیلت)
26809 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص وضو کرتا ہے وہ نماز کے حکم میں ہوتا ہے جب تک اسے حدث لاحق نہ ہوجائے ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : جس چیز سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیاء نہیں کی اس سے مجھے تم سے حیاء آتی ہے۔ تاہم حدث : ہوا خارج ہونا یاگوز مارنا ہے۔ (رواہ ابن جریر وصححہ)
26809- عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا توضأ الرجل فهو في صلاة ما لم يحدث" وقال علي: أستحيكم مما لم يستحي منه رسول الله صلى الله عليه وسلم الحدث أن يفسوا أو يضرط". "ابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26810 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک شخص آیا اس نے وضو کیا ہوا تھا البتہ اس کے پاؤں کا انگوٹھے کے ناخن برابر جگہ خشک رہ گئی تھی (خشک جگہ دیکھ کر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا : واپس لوٹ جاؤ اور پورا وضو کرو ۔ وہ واپس چلا اور دوبارہ وضو کیا ۔ (رواہ ابن ابی حاتم فی العلل والعقیلی والدارقطنی وضعفاہ والطبرانی فی الاوسط)
26810- "مسند الصديق" عن أبي بكر قال: "كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم جالسا فجاء رجل وقد توضأ وبقي على ظهر قدمه مثل ظفر إبهامه لم يمسه الماء فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "ارجع فأتم وضوءك" ففعل". "ابن أبي حاتم في العلل، عق قط وضعفاه طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26811 ۔۔۔ ” مسند عمر “ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک شخص کو نماز کے لیے وضو کرتے دیکھا اس نے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑی دی ، اس جگہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ لیا آپ نے فرمایا : واپس جاؤ اور اچھی طرح سے وضو کرو وہ شخص واپس لوٹ گیا وضو کیا اور پھر نماز پڑھی۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم وابن ماجہ)
26811- "مسند عمر" عن عمر قال: "رأيت رجلا توضأ للصلاة فترك موضع ظفر على ظهر قدمه فأبصره النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ارجع فأحسن وضوءك"، فرجع فتوضأ ثم صلى".
"حم م هـ"
"حم م هـ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26812 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک ایک بار وضو کرتے دیکھا ہے (یعنی اعضاء کو ایک ایک بار دھویا ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن ماجہ والطحاوی وھو حسن)
26812- عن عمر قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك توضأ واحدة واحدة". "حم هـ والطحاوي وهو حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26813 ۔۔۔ ابراہیم کہتے ہیں میں نے اسود سے پوچھا : کیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) پاؤں دھوتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ (رض) بڑے اہتمام سے پاؤں دھوتے تھے ۔ (رواہ الطحاوی)
26813- عن إبراهيم قال: "قلت للأسود أكان عمر يغسل قدميه؟ قال: نعم كان يغسلهما غسلا". "الطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26814 ۔۔۔ ابو قلابہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ اس نے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑ دی تھی ، آپ (رض) نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
26814- عن أبي قلابة أن عمر بن الخطاب "رأى رجلا يصلي وقد ترك من رجليه موضع ظفر فأمره أن يعيد الوضوء والصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26815 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابو درداء (رض) کو دیکھا کہ ان کے پاؤں پر خشک جگہ ہے آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو درداء ! تمہیں کیا ہوا ؟ جواب دیا : امیر المؤمنین شدید سردی ہے ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابو دارداء (رض) کے پاس کمبل بھیجا اور فرمایا : اب نئے سرے سے وضو کرو ۔ (رواہ ابن سعد)
26815- عن مجاهد أن عمر بن الخطاب "رأى أبا الدرداء مبقع الرجلين فقال: يا أبا الدرداء ما لك، فقال: القر يا أمير المؤمنين، فبعث إليه بخميصة وقال: أجد الآن الطهور."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26816 ۔۔۔ عبد بن عمیر لیثی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص دیکھا اس کے پاؤں پر خشک جگہ رہ گئی تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، حضرت عمر (رض) نے اس سے فرمایا : کیا اس وضو کے ساتھ تم نماز میں حاضر ہوئے ہو ؟ عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! سردی شدید ہے ، میری پاس کوئی چیز نہیں جس سے میں گرمی حاصل کروں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پہلے اس کو ڈانٹنے کا ارادہ کیا لیکن فورا ہی اس پر رحم آگیا اور فرمایا : پاؤں پر جو جگہ چھوڑ دی تھی اسے دھو اور نماز لوٹاؤ پھر آپ نے سا کے لیے کمبل کا حکم دیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور والدارقطنی)
26816- عن عبد بن عمير الليثي أن عمر بن الخطاب "رأى رجلا وبظهر قدمه لمعة لم يصبها الماء فقال له عمر: أبهذا الوضوء تحضر الصلاة؟ فقال: يا أمير المؤمنين البرد شديد وما معي ما يدفئني فرق له بعد ما هم به فقال: اغسل ما تركت من قدميك وأعد الصلاة وأمر له بخميصة". "ص، قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26817 ۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کے پاؤں پر پیسے کے برابر خشک جگہ دیکھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، آپ نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26817- عن جابر قال: "رأى عمر بن الخطاب في قدم رجل مثل موضع الفلس لم يصبه الماء، فأمره أن يعيد الوضوء ويعيد الصلاة". "ص".
তাহকীক: