কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৬৮৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26898 ۔۔۔ ” مسند جلاس بن سلیط یربوعی “ مرار بنت منقذ سلیطہ کہتی ہیں کہ مجھے میری والدہ ام منقد بنت جلاس بن سلیطہ یربوعی نے اپنے باپ جلاس سے مروی حدیث سنائی کہ وہ (جلاس) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وضو کے متعلق سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک بار وضو کرنا کافی ہے اور دو بار بھی البتہ آپ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا ۔ (رواہ ابو نعیم وقال غریب لا یعرف الا من ھذا الوجہ)
26898 (مسند الجلاس بن السليط اليربوعي) عن مرار بنت منقذ السليطية قالت : حدثتني أمي أم منقذ بنت الجلاس بن السليط اليربوعي عن أبيها الجلاس أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن الوضوء فقال : واحدة تجزئ وثنتان ورأيته توضأ ثلاثا ثلاثا. (أبو نعيم وقال : غريب لا يعرف إلا من هذا الوجه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26899 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا جائے گا اور دو دو بار دھونا کافی ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
26899 عن عمر قال : الوضوء ثلاثا ثلاثا وثنتان ثنتان تجزئان. (ص ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26900 ۔۔۔ ابراہیم کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھ رکھا ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26900- عن إبراهيم قال:" أنبأني من رأى عمر بن الخطاب يتوضأ مرتين". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26901 ۔۔۔ عبد الحمید بن عبدالرحمن بن یزید بن خطاب کی روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : مجھے وضو کے متعلق خبر دی جائے چنانچہ ابن عباس (رض) نے ہاتھ بند کیا اور پھر کھول دیا فرمایا : میں نے تمہارے چچا عمر بن خطاب (رض) سے وضو کے متعلق سوال کیا تھا انھوں نے دونوں ہاتھ بند کیے اور فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کے متعلق سوال کیا آپ نے بھی اسی طرح کیا تھا اور فرمایا : اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا جائے گا ۔ (رواہ ابن مندہ وقال غریب بھذا الاسناد وابن عساکر)
26901- عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن يزيد بن الخطاب قال: "أتيت عبد الله بن عباس فقلت: أخبرني عن الوضوء فقبض يده، ثم بسطها وقال: سألت عمك عمر بن الخطاب عن الوضوء فقبض على يدي وقال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوضوء ففعل مثل ذلك وقال: الوضوء ثلاثا ثلاثا". "ابن منده وقال: غريب بهذا الإسناد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26902 ۔۔۔ اسود بن اسود بن یزید کی روایت ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بھیجا میں آپ (رض) کے پاس پہنچا آپ بیت الخلاء سے باہر نکل رہے تھے آپ کے لیے برتن میں پانی رکھ دیا گیا آپ نے تین بار دونوں ہاتھ دھوئے ، تین بار کلی کی ، تین بار نیک میں پانی ڈالا تین بار چہرہ دھویا ، تین بار بازو دھوئے ، سر کا مسح کیا اور ظاہر و باطن میں کانوں کا مسح کیا پھر اہتمام کے دونوں پاؤں دھوئے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26902- عن الأسود بن الأسود بن يزيد قال: "بعثني عبد الله بن مسعود إلى عمر بن الخطاب فوافقته حين خرج من الخلاء فوضع له إناء فغسل كفيه ثلاثا ، وتمضمض وأستنشق ثلاثا ، وغسل وجهه ثلاثا ، ويديه ثلاثا ، ومسح برأسه وأذنيه من ظاهر وباطن ، وغسل رجليه غسلا.

صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26903 ۔۔۔ علقمہ روایت کی ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26903 عن علقمة قال : رأيت عمر توضأ مرتين مرتين.

صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26904 ۔۔۔ قرظہ بن کعب انصاری (رض) روایت کی ہے کہ ہمیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کوفہ بھیجا چنانچہ ہم ایک مکان کی طرف چل پڑے جسے حرار کہا جاتا تھا ، آپ (رض) نے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا خبردار ! پورا وضو یہ ہے کہ اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا جائے دو دو بار دھونا بھی کافی ہے خبردار تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے جن کا قرآن سے کوئی شغف نہیں لہٰذا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی روایات قبول کرو اور میں تمہارا شریک ہوں ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26904 عن قرظة بن كعب الانصاري قال : بعثنا عمر بن الخطاب إلى الكوفة فشيعنا إلى مكان يقال له صرار ، فذكر الوضوء فقال : ألا إن أسبغ الوضوء لثلاث ، وأنتثان تجزئان ، ألا وإنكم تأتون قوما لهم أرم بالقرآن فأقلوا الرواية عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا شريككم.

(ص).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26905 ۔۔۔ حارث کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے پانی مانگا تین بار ہاتھ دھوئے برتن میں داخل کرنے سے پہلے پھر فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن ماجہ)
26905 عن الحارث قال : دعا علي بماء فغسل يديه ثلاثا قبل أن يدخلهما الاناء ، ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع.

(ش ه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26906 ۔۔۔ ” مسند علی “ زرا بن حبیش روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق دریافت کیا گیا ، آپ (رض) نے تین بار ہاتھ دھوئے ، تین بار چہرہ دھویا ، تین بار بازو دھوئے ، سر پر مسح کیا ، حتی کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے تین بار پاؤں دھوئے پھر فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو اسی طرح تھا ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو داؤد وسمویہ والضیاء)
26906 (مسند علي) عن زر بن حبيش أن عليا سئل عن

وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فغسل يديه ثلاثا ووجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ، ومسح على رأسه حتى الماء يقطر ، وغسل رجليه ثلاثا ، ثم قال : هكذا كان وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم.

(حم د وسمويه ، ض).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26907 ۔۔۔ ” ایضا “ ابو نضر روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے وضو کے لیے پانی مانگا آپ کے پاس حضرت طلحہ (رض) حضرت زبیر (رض) ، حضرت علی (رض) اور حضرت سعد (رض) تھے پھر عثمان (رض) نے وضو کیا ، جبکہ یہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (رض) کو دیکھ رہے تھے آپ نے تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا ، پھر تین بار بائیں ہاتھ پر ، پھر دائیں پاؤں پر پانی ڈالا اور اسے تین بار دھویا ، پھر بائیں پاؤں پر پانی ڈالا اور اسے بھی تین بار دھویا ۔ پھر حاضرین سے کہا : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں کیا معلوم ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح وضو کرتے تھے جس طرح میں نے ابھی کیا ہے سب نے کہا : جی ہاں ۔ یہی وہ چیز ہے جو لوگوں کو وضو سے پہنچی ہے۔ (رواہ ابن منیع والحارث وابو یعلی قال البوصیری : ورجالہ ثقات الا انہ منقطع ابو النضر سالم لم یسمعھم عن عثمان)
26907 (أيضا) عن أبي النضر أن عثمان دعا بوضوء وعنده طلحة والزبير وعلي وسعد ، ثم توضأ وهم ينظرون فغسل وجهه ثلاث مرات ، ثم أفرغ على يمينه ثلاث مرات ، ثم أفرغ على يساره ثلاث مرات ثم رش على رجله اليمنى ثم غسلها ثلاث مرات ، ثم رش على رجله اليسرى ثم غسلها ثلاث مرات ، ثم قال للذين حضروا : أنشدكم الله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتوضأ كما توضأت الآن ؟ قالوا : نعم وذلك لشئ بلغه عن وضوء رجال.

(أبن منيع والحارث ، ع ، قال البوصيري : ورجاله ثقات إلا أنه منقطع أبو النضر سالم لم يسمعهم عن عثمان).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26908 ۔۔۔ ” ایضا “ ابو مطر کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت علی (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور بولا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو دکھاؤ آپ (رض) نے قنبر کو بلایا اور فرمایا : میرے پاس لوٹا لاؤ جو پانی سے بھرا ہو۔ چنانچہ آپ (رض) نے تین بار ہاتھ دھوئے تین بار چہرہ دھویا ایک انگلی ناک میں ڈالی تین بار ناک میں اپنی ڈالا تین بار بازؤ دھوئے سر پر ایک ہی بار مسح کیا پھر فرمایا : کانوں کا ظاہری اور باطنی حصہ چہرے میں سے ہے پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے آپ کی داڑھی سے سینے پر پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر وضو کے بعد ایک گھونٹ پانی پیا پھر فرمایا کہاں ہے وہ شخص جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق سوال کیا تھا سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ایسا ہی ہوتا تھا ۔ (رواہ عبد بن حمید وابو مطر مجہول)
26908 (أيضا) عن أبي مطر قال : بينما نحن جلوس مع علي في المسجد جاء رجل إلى علي وقال : أرني وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا قنبر فقال : أئتني بكوز من ماء فغسل يديه ووجهه ثلاثا ، فأدخل بعض أصابعه في فيه وأستنشق ثلاثا ، وغسل ذراعيه ثلاثا ، ومسح رأسه واحدة ثم قال : يعني الاذنين خارجهما وباطنهما من الوجه ورجليه إلى الكعبين ، ولحيته تهطل على صدره ، ثم حسا حسوة بعد الوضوء ، ثم قال : أين السائل عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم كذا كان وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم.

(عبد بن حميد ، وأبو مطر مجهول).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26909 ۔۔۔ ” ایضا “ عبدالرحمن کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو دیکھا آپ (رض) نے وضو کیا تین بار چہرہ دھویا تین بار بازو دھوئے سر کا مسح ایک بار کیا پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ایسا ہی تھا ۔ (رواہ ابو داؤد و سعید بن المنصور)
26909 (أيضا) عن عبد الرحمن قال : رأيت عليا توضأ فغسل وجهه ثلاثا ، وغسل ذراعيه ثلاثا ، ومسح برأسه واحدة ، ثم قال :

هكذا توضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم.

(د ، ص).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26910 ۔۔۔ ” ایضا “ ابو غریف کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس وضو کے لیے پانی لایا گیا آپ نے تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار چہرہ دھویا پھر تین بار بازو دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پاؤں دھوئے پھر فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے پھر قرآن میں سے کچھ پڑھا پھر فرمایا : یہ وضو اس شخص کے لیے ہے جو جنبی نہ ہو اور جو جنبی ہو اس کے لیے نہ وضو ہے اور نہ ہی آیت ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی)
26910 (أيضا) عن أبي الغريف قال : أتى علي بالوضوء فمضمض وأستنشق ثلاثا ، ثم غسل وجهه ثلاثا ، وغسل يديه وذراعيه ثلاثا ، ثم مسح برأسه ، وغسل رجليه ، ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ، ثم قرأ شيئا من القرآن ، ثم قال : هكذا لمن ليس بجنب ، فأما الجنب فلا ولا آية.

(حم ع).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26911 ۔۔۔ ” مسند حارثہ بن ظفر “ گران بن جاریہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سر کے لیے نیا پانی لو۔ (رواہ ابونعیم)
26911 (من مسند حارثة بن ظفر) عن نمران بن جارية عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خذ للرأس ماء جديدا.

(أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26912 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ بن الیمان “ منصور روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ (رض) اور حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : انگلیوں میں خلال کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ سے انگلیوں کا خلال کردیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26912 (من مسند حذيفة بن اليمان) عن منصور عن طلحة أبن مصرف وحذيفة بن اليمان قالا : خللوا الاصابع لا يحشوها الله نارا.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26913 ۔۔۔ حسان بن بلال کی روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے وضو کیا اور داڑھی میں خلال کیا ، ان سے کہا گیا یہ کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو داڑھی میں خلال کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، و سعید بن المنصور وابو نعیم)
26913 عن حسان بن بلال أن عمار بن ياسر توضأ فخلل لحيته ، فقيل : ما هذا ؟ قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخلل لحيته.

(عب ص ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26914 ۔۔۔ حکم بن سفیان ثوری سے مروی ہے کہ انھوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا پھر چلو بھر پانی لیا اور شرمگاہ پر چھینٹے مارے ۔ (رواہ سعید بن المنصور، وابن ابی شیبۃ)
26914 عن الحكم بن سفيان الثوري أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم بال ثم توضأ ، ثم أخذ كفا من ماء فنضح به فرجه.

(ص ش وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26915 ۔۔۔ ” مسند زید بن حارثہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور پھر چلو بھر پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹے مارلیے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26915 (مسند زيد بن حارثة) أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ ثم أخذ كفا من ماء فنضح به فرجه.

(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26916 ۔۔۔ حضرت معاویہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا آپ نے اعضاء وضو کو تین بار دھویا اور پھر فرمایا یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔ (رواہ ابن النجار)
26916 عن معاوية قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ثلاثا ، فقال : هذا وضوئي ووضوء الانبياء من قبلي.

(أبن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26917 ۔۔۔ ” مسند وائل “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ڈول میں پانی لایا گیا آپ نے اس پانی سے وضو کیا اور کلی کی پھر ڈول میں کلی کی پانی مشک بن گیا یا اس سے بھی زیادہ خوشبو دار البتہ ناک ڈول سے الگ ہو کر جھاڑی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26917 (مسند وائل) أتي النبي صلى الله عليه وسلم بدلو فتوضأ منه

فمضمض ، ثم مج في الدلو مسا أو أطيب منه وأستنثر خارجا منه.

(عب).
tahqiq

তাহকীক: