কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪২৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4272: نافع (ابن عمر (رض) کے شاگرد) سے مروی ہے کہ حفصہ (رض) (ابن عمر (رض) کی بہن) نے اپنے ایک غلام کو جو کتابت کیا کرتا تھا کتابت کے لیے قرآن شریف دیا۔ اور فرمایا جب تم اس آیت پر پہنچو حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی۔ تو مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ جب وہ غلام اس آیت پر پہنچ گیا تو حضرت حفصہ (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت حفصہ (رض) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ وہاں لکھا : حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی و صلوۃ العصر وقوموا للہ قانتین۔ رواہ عبدالرزاق۔
4272 - عن نافع أن حفصة دفعت مصحفا إلى مولى لها يكتب وقالت: "إذا بلغت هذه الآية: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فآذني، فلما بلغها جاءها، فكتبت بيدها: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر، وقوموا لله قانتين". "عب
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4273: عطاء (رح) سے مروی ہے کہ وہ عبید بن عمیر دونوں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبید (رح) نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اللہ عزوجل کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے :
لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔
اللہ تمہاری بےارادہ قسموں میں تم سے مواخذہ نہیں فرمائے گا۔
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : آدمی کہتا نہیں اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم۔
فائدہ : یعنی اپنی بات پکی کرنے کے لیے بغیر ارادے کے یونہی قسم کھالے اس پر پکڑ نہیں مثلا کسی کو دیکھے اور کہے اللہ کی قسم یہ تو زید ہے۔ لیکن وہ زید نہ ہو تو اس پر کچھ پکڑ نہیں۔
عبید بن عمیر نے عرض کیا : ہجرت کب تک ہے ؟ فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت (فرض) ختم ہوگئی۔ ہجرت صرف فتح مکہ سے قبل (فرض) تھی۔ جب آدمی اپنے دین کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کرکے آتا تھا۔ پس فتح مکہ کے بعد بندہ جہاں بھی اللہ کی عبادت کرے اسے کوئی نقصان نہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔
اللہ تمہاری بےارادہ قسموں میں تم سے مواخذہ نہیں فرمائے گا۔
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : آدمی کہتا نہیں اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم۔
فائدہ : یعنی اپنی بات پکی کرنے کے لیے بغیر ارادے کے یونہی قسم کھالے اس پر پکڑ نہیں مثلا کسی کو دیکھے اور کہے اللہ کی قسم یہ تو زید ہے۔ لیکن وہ زید نہ ہو تو اس پر کچھ پکڑ نہیں۔
عبید بن عمیر نے عرض کیا : ہجرت کب تک ہے ؟ فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت (فرض) ختم ہوگئی۔ ہجرت صرف فتح مکہ سے قبل (فرض) تھی۔ جب آدمی اپنے دین کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کرکے آتا تھا۔ پس فتح مکہ کے بعد بندہ جہاں بھی اللہ کی عبادت کرے اسے کوئی نقصان نہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
4273 - عن عطاء أنه جاء عائشة مع عبيد بن عمير، فقال عبيد: "أي أم المؤمنين، ما قول الله عز وجل {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} قالت هو الرجل يقول: لا والله، وبلى والله، قال: فمتى الهجرة؟ قالت لا هجرة بعد الفتح، إنما كانت الهجرة قبل الفتح، حين يهاجر الرجل بدينه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأما حين كان الفتح فحيث ما شاء رجل عبد الله لا يضيع" "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4274: ہشام بن عروہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) کے قرآن میں دیکھا :
حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی و صلوۃ العصر و قوموا للہ قانتین۔
نمازوں کی محافظت کرو خصوصا درمیانی نماز یعنی عصر کی، اور اللہ کے لیے تابعدار بن کر کھڑے رہو۔ (الجامع لعبدالرزا)
حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی و صلوۃ العصر و قوموا للہ قانتین۔
نمازوں کی محافظت کرو خصوصا درمیانی نماز یعنی عصر کی، اور اللہ کے لیے تابعدار بن کر کھڑے رہو۔ (الجامع لعبدالرزا)
4274 - عن هشام بن عروة قال: "قرأت في مصحف عائشة [حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر، وقوموا لله قانتين] ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4275: حضرت عائشہ (رض) سے درمیانی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں پہلی قرآءت میں یوں پڑھا کرتے تھے :
حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی و صلوۃ العصر و قوموا للہ قانتین۔ الجامع لعبدالرزاق۔
حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی و صلوۃ العصر و قوموا للہ قانتین۔ الجامع لعبدالرزاق۔
4275 - عن عائشة أنها سئلت عن الصلاة الوسطى؟ فقالت: "كنا نقرأها في الحرف الأول عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم: {حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين} .
"عب".
"عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4276: ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں حضرت زید بن ثابت (رض) نے اپنا غلام حرملہ حضرت عائش (رض) کے پاس بھیجا تاکہ وہ درمیانی نماز کے بارے میں سوال کرے تو آپ (رض) نے جواب دیا وہ ظہر کی نماز ہے۔ راوی ابوبکر کہتے ہیں چنانچہ حضرت زید (رض) کہا کرتے تھے درمیانی نماز ظہر ہے۔ معلوم نہیں یہ قول انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے لیا تھا یا کسی اور سے۔ رواہ عبدالرزاق۔
فائدہ : روایات میں تعرض اپنی جگہ ہے لیکن اکثر روایات نماز عصر پر اتفاق کرتی ہیں بہر صورت درمیانی نماز ظہر ہو یا عصر دونوں کی بلکہ پانچوں کی پابندی ضروری ہے۔
فائدہ : روایات میں تعرض اپنی جگہ ہے لیکن اکثر روایات نماز عصر پر اتفاق کرتی ہیں بہر صورت درمیانی نماز ظہر ہو یا عصر دونوں کی بلکہ پانچوں کی پابندی ضروری ہے۔
4276 - عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال: "أرسل زيد بن ثابت مولاه حرملة إلى عائشة يسألها عن الصلاة الوسطى قالت: هي الظهر، قال فكان زيد يقول: هي الظهر، فلا أدري أعنها أخذ أم عن غيرها". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4277: عبداللہ بن نافع (رح) سے مروی ہے کہ مجھے ام المومنین ام سلمہ (رض) نے حکم دیا تھا کہ میں ان کے لیے قرآن کا نسخہ لکھوں اور جب حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی پر پہنچوں تو ان کو خبر کردوں۔ چنانچہ میں نے ان کو خبر دی تو فرمایا یوں لکھو :
حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی و صلوۃ العصر قوموا للہ قانتین رواہ عبدالرزا۔
حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی و صلوۃ العصر قوموا للہ قانتین رواہ عبدالرزا۔
4277 - عن عبد الله بن نافع قال: "أمرتني أم سلمة أن أكتب لها مصحفا وقالت إذا بلغت {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فأخبرني، فأخبرتها فقالت: "أكتب حافظوا على الصلوات، والصلاة الوسطى وصلاة العصر، وقوموا لله قانتين". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4278: سری (رح) سے مروی ہے کہ سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی۔
واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ الخ۔ البقرہ۔
اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ الجامع لعبد الرزاق۔
واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ الخ۔ البقرہ۔
اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4278 - عن السدي1 قال آخر آية أنزلت: {وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ} الآية. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4279: حضرت سعید بن المسیب (رح) (مشہور تابعی) سے منقول ہے کہ حضرت صہیب (رض) ہجرت کے لیے نکلے۔ ان کے پیچھے قریش کے کچھ مشرک لگ گئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم جانتے ہو میں تم میں سب سے زیادہ تیر انداز ہوں۔ اللہ کی قسم تم میرے قریب نہیں آسکتے جب تک میں اپنے ترکش کا آخری تیر تم پر نہ چلا دوں پھر میں تمہارے ساتھ تلوار سے لڑوں گا جب تک وہ میرے ہاتھ میں رہے گی۔ پھر تم جو چاہو کرنا۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں مکہ میں اپنے مال کا پتہ تم کو دیتا ہوں تم میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس پر معاہدہ ہوگیا۔ اور آپ (رض) نے ان کو مال کا پتہ دیدیا۔ پھر اللہ نے اپنے رسول پر قرآن نازل فرمایا :
ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ الخ۔ البقرہ۔
اور لوگوں میں بعض وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان خرید لیتے ہیں۔
جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صہیب (رض) کو دیکھا اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی اے ابو یحییٰ ! تجارت کامیاب ہوگئی، اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی، پھر آپ نے مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی۔ ابن سعد، الحارث، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر۔
ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ الخ۔ البقرہ۔
اور لوگوں میں بعض وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان خرید لیتے ہیں۔
جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صہیب (رض) کو دیکھا اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی اے ابو یحییٰ ! تجارت کامیاب ہوگئی، اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی، پھر آپ نے مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی۔ ابن سعد، الحارث، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر۔
4279 - عن سعيد بن المسيب أن صهيبا أقبل مهاجرا نحو النبي صلى الله عليه وسلم، فتبعه نفر من قريش مشركون، فنزل فانتثل كنانته، فقال: "قد علمتم يا معشر قريش أني أرماكم رجلا بسهم، وأيم الله لا تصلون إلي حتى أرميكم بكل سهم في كنانتي، ثم أضربكم بسيفي ما بقي في يدي منه ثم شأنكم بعد ذلك، وإن شئتم دللتكم على مالي بمكة وتخلوا سبيلي قالوا نعم، فتعاهدوا على ذلك، فدلهم، فأنزل الله على رسوله القرآن: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ} حتى فرغ من الآية، فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم صهيبا قال: ربح البيع يا أبا يحيى، ربح البيع يا أبا يحيى، ربح البيع يا أبا يحيى، وقرأ عليه القرآن". "ابن سعد والحارث وابن المنذر وابن أبي حاتم حل كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4280: حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ سب سے پہلے (حرمتوں میں سے) شراب کی حرمت نازل ہوئی :
یسالونک عن الخمر والمیسر۔
وہ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
نماز میں بات چیت ممنوع ہے۔
یسالونک عن الخمر والمیسر۔
وہ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
نماز میں بات چیت ممنوع ہے۔
4280 - عن عطاء قال: "أول ما نزل تحريم الخمر": {يَسْأَلونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ} الآية. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4281: مجاہد (رح) سے مروی ہے : لوگ نماز میں بات چیت کرلیا کرتے تھے، کوئی بھی آدمی کسی بھائی سے بات کرلیتا تھا پھر یہ آیت نازل ہوئی :
وقوموا للہ قانتین۔
اللہ کے لیے تابعدار بن کر کھڑے رہو۔
چنانچہ لوگوں نے بات چیت بند کردی۔ رواہ عبدالرزاق۔
وقوموا للہ قانتین۔
اللہ کے لیے تابعدار بن کر کھڑے رہو۔
چنانچہ لوگوں نے بات چیت بند کردی۔ رواہ عبدالرزاق۔
4281 - عن مجاهد قال: "كانوا يتكلمون في الصلاة يكلم الرجل أخاه، حتى نزلت هذه الآية: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فقطعوا الكلام". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4282: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا : اللہ ان کافروں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، انھوں نے ہماری صلوۃ الوسطی (یعنی) عصر کی نماز نکلوا دی۔ (عبدالرزاق، مسند احمد، ابو عبید فی فضائل العدنی، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، السنن للبیہقی)
4282 - عن علي رضي الله عنه قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الخندق، فقال: "ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس، وهي صلاة العصر". "خ ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4283: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کافروں نے ہماری صلوۃ وسطی، عصر کی نماز نکلوا دی، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھرے۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ (عبدالرزاق، مسند احمد، ابی عبید فی ضائل العدنی، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن خزیمۃ، ابی عوانہ السنن للبیہقی)
4283 - عن علي قال: "لما كان يوم الأحزاب صلينا العصر بين المغرب والعشاء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "شغلونا عن الصلاة الوسطى، صلاة العصر، ملأ الله قبورهم وأجوافهم وفي لفظ: قبورهم وبيوتهم وفي لفظ: ملأ الله عليهم بيوتهم وقبورهم نارا". "عب حم وأبو عبيد في فضائله والعدني م ن وابن جرير وابن خزيمة وأبو عوانة ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4284: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : یوم الاحزاب (خندق کے موقع پر) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ان کافروں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے جیسے انھوں نے ہم کو نماز عصر سے اور کام میں مشغول کردیا حتی کہ سورج غروب گیا۔ اس روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر اور عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی اور سورج غروب ہوگیا۔ رواہ عبدالرزاق۔
4284 - عن علي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم الأحزاب "ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا كما شغلونا عن صلاة العصر حتى غابت الشمس ولم يكن يومئذ صلى الظهر والعصر حتى غابت الشمس". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4285: زر (رض) بن حبیش (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عبیدہ کو کہا کہ وہ حضرت علی (رض) سے صلوۃ الوسطی کے بارے میں سوال کریں۔ چنانچہ (ان کے سوال کرنے پر حضرت علی (رض) نے) فرمایا : ہم سمجھتے تھے کہ وہ ظہر کی نماز ہے۔ حتی کہ میں نے خندق کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : انھوں نے ہم کو صلوۃ الوسطی عصر کی نماز سے مشغول کردیا حتی کہ سورج بھی غروب ہوگیا۔ اللہ ان کی قبروں اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ (عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن زنجویہ ۔ نسائی، ابن ماجہ، بخاری، ابن جریر، السنن للبیہقی)
4285 - عن زر بن حبيش قال: قلت لعبيدة سل عليا عن الصلاة الوسطى فسأله؟ فقال: "كنا نرى أنها صلاة الفجر حتى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يوم الخندق شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر حتى غابت الشمس ملأ الله قبورهم وأجوافهم نارا ". "عب وعبد بن حميد وابن زنجويه في ترغيبه ن هـ ح وابن جرير ق".وعوانة: بفتح العين المهملة وبعد الألف نون. التاج المكلل "ص 150
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4286: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ خندق کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اللہ ان کے گھروں، ان کی قبروں اور ان کے دلوں کو آگ سے بھرے، جیسے انھوں نے ہم کو صلوۃ وسطی سے روک دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، الدارمی، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ، ابن جریر، ابن الجارود، ابو عوانہ، السنن للبیہقی)
فائدہ : اس بارے میں جو مختلف روایات ہیں کہ بعض مرویات میں صلوۃ الوسطی سے ظہر مراد ہے اور اکثر مرویات میں عصر مراد ہے اس کی وجہ غالباً حضرت علی (رض) نے ارشاد فرما دی جیسا کہ 4285 نمبر حدیث میں گذرا کہ ہم (صحاب کرام) پہلے صلوۃ الوسطی سے ظہر کی نماز مراد لیتے تھے لیکن خندق کے روز فرمان رسول سے ہم پر آشکارا ہوگیا کہ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔
اللہ ان کے گھروں، ان کی قبروں اور ان کے دلوں کو آگ سے بھرے، جیسے انھوں نے ہم کو صلوۃ وسطی سے روک دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، الدارمی، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ، ابن جریر، ابن الجارود، ابو عوانہ، السنن للبیہقی)
فائدہ : اس بارے میں جو مختلف روایات ہیں کہ بعض مرویات میں صلوۃ الوسطی سے ظہر مراد ہے اور اکثر مرویات میں عصر مراد ہے اس کی وجہ غالباً حضرت علی (رض) نے ارشاد فرما دی جیسا کہ 4285 نمبر حدیث میں گذرا کہ ہم (صحاب کرام) پہلے صلوۃ الوسطی سے ظہر کی نماز مراد لیتے تھے لیکن خندق کے روز فرمان رسول سے ہم پر آشکارا ہوگیا کہ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔
4286 - عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "يوم الأحزاب ملأ الله بيوتهم وقبورهم وأجوافهم نارا. كما شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس ". "حم خ م والدارمي د ت ن وابن خزيمة وابن جرير وابن الجارود وأبو عوانة ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4287: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔
ان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ فیغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء۔
اگر تم وہ کچھ ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ اس کا حساب تم سے کرے گا پھر جس کو چاہے بخش دے گا اور جس کو چاہے عذاب دے گا۔
فرمایا : اس آیت نے ہم کو رنجیدہ کردیا : ہم نے کہا کہ ہمارے دل میں جو (برا) خیال آئے گا کیا اس پر بھی ہم سے حساب وگا ؟ اور پتہ نہیں پھر کیا بخشا جائے گا کیا نہیں بخشا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہمارے دل میں جو (برا) خیال آئے گا کیا اس پر بھی ہم سے حساب ہوگا اور پتہ نہیں پھر کیا بخشا جائے گا کیا نہیں بخشا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا :
لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا لھا ما کسبت و علیھا ماکتسبت۔
اللہ کسی جان کو مکلف نہیں کرتا مگر اس وسعت کے (بقدری) جو اس نے (اچھا) کمایا اس کے لیے ہے اور جو اس نے (برا) کمایا اس کا وبال اس پر ہے۔ عبد بن حمید، ترمذی۔
یہ روایت بخاری 529 اور مسلم 531 میں بھی آئی ہے۔
ان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ فیغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء۔
اگر تم وہ کچھ ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ اس کا حساب تم سے کرے گا پھر جس کو چاہے بخش دے گا اور جس کو چاہے عذاب دے گا۔
فرمایا : اس آیت نے ہم کو رنجیدہ کردیا : ہم نے کہا کہ ہمارے دل میں جو (برا) خیال آئے گا کیا اس پر بھی ہم سے حساب وگا ؟ اور پتہ نہیں پھر کیا بخشا جائے گا کیا نہیں بخشا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہمارے دل میں جو (برا) خیال آئے گا کیا اس پر بھی ہم سے حساب ہوگا اور پتہ نہیں پھر کیا بخشا جائے گا کیا نہیں بخشا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا :
لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا لھا ما کسبت و علیھا ماکتسبت۔
اللہ کسی جان کو مکلف نہیں کرتا مگر اس وسعت کے (بقدری) جو اس نے (اچھا) کمایا اس کے لیے ہے اور جو اس نے (برا) کمایا اس کا وبال اس پر ہے۔ عبد بن حمید، ترمذی۔
یہ روایت بخاری 529 اور مسلم 531 میں بھی آئی ہے۔
4287 - عن علي قال: لما نزلت هذه الآية {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَو تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ} أحزنتنا، قلنا يحدث أحدنا نفسه فيحاسب، ولا يدري ما يغفر منه وما لا يغفر منه، فنزلت هذه الآية بعدها فنسختها: {لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} . "عبد بن حميد ت
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4288: (مسند صدیق (رض)) حضرت عکرمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) عنی کو فنحاص نامی یہودی کے پاس مدد لینے کے لیے بھیجا اور اس کو خط بھی لکھا اور ابوبکر (رض) کو فرمایا : لوٹنے تک میری مرضی کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ چنانچہ فنحاص یہودی نے آپ کا مکتوب گرامی پڑھا تو کہنے لگا : کیا تمہارا پروردگار محتاج ہوگیا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے یں : میرا رادہ ہوا کہ تلوار نکال لوں۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان یاد آگیا کہ آپ کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھاؤں۔ چنانچہ اس بارے میں اللہ کا فرمان نازل ہوا :
لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء۔
بےشک اللہ نے سنا ان لوگوں کا قول جنہوں نے کہا : اللہ فقیر ہے۔ اور ہم مالدار۔ ابن جریر فی التفسیر وابن المنذر۔
سدی (رح) سے بھی اس کے مثل منقول ہے۔
لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء۔
بےشک اللہ نے سنا ان لوگوں کا قول جنہوں نے کہا : اللہ فقیر ہے۔ اور ہم مالدار۔ ابن جریر فی التفسیر وابن المنذر۔
سدی (رح) سے بھی اس کے مثل منقول ہے۔
4288 - "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما بعث أبا بكر إلى فنحاص اليهودي يستمده، وكتب إليه، وقاللأبي بكر لا تفتت علي بشي حتى ترجع إلي، فلما قرأ فنحاص الكتاب قال: "قد احتاج ربكم؟ قال أبو بكر: فهممت أن أمده بالسيف، ثم ذكرت قول النبي صلى الله عليه وسلم: لا تفتت علي بشيء فنزلت: {لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِير} الآية. "ابن جرير في التفسير وابن المنذر" وعن السدي نحوه رواه ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4289: (مسند عمر (رض)) کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔ الخ۔ آل عمران۔
ترجمہ : تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی بھلائی) کے لیے نکالے گئے ہو۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اللہ پاک چاہتا تو یوں فرما دیتا انتم (جس کا مطلب ہوتا تم تمام مسلمان بہترین امت و جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالے گئے ہو) لیکن اللہ نے فرمایا : کنتم اور یہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاص ہے۔ اور جو لوگ ان کے مثل عمل کریں وہ بھی امت کے بہترین لوگ ہیں۔ جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالے گئے ہیں۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
ترجمہ : تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی بھلائی) کے لیے نکالے گئے ہو۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اللہ پاک چاہتا تو یوں فرما دیتا انتم (جس کا مطلب ہوتا تم تمام مسلمان بہترین امت و جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالے گئے ہو) لیکن اللہ نے فرمایا : کنتم اور یہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاص ہے۔ اور جو لوگ ان کے مثل عمل کریں وہ بھی امت کے بہترین لوگ ہیں۔ جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالے گئے ہیں۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
4289 - "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن السدي في قوله تعالى: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} قال قال عمر بن الخطاب: "لو شاء الله لقال أنتم فكنا كلنا، ولكن قال: كنتم خاصة في أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، ومن صنع مثل صنيعهم كانوا خير أمة أخرجت للناس". "ابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4290: کلیب (رض) سے مروی ہے کہ ہم کو حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا، آپ (رض) سورة آل عمران کی تلاوت فرما رہے تھے۔ پھر فرمایا : یہ سورت احدیہ ہے۔ (جو جبل احد پر نازل ہوئی تھی) پھر فرمایا : ہم احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے منتشر ہوگئے۔ پھر میں پہاڑ پر چڑھا تو ایک یہودی کو کہتے ہوئے سنا : محمد قتل ہوگئے۔ میں نے کہا : میں جس کو یہ کہتے ہوئے سنوں گا کہ محمد قتل ہوگئے ہیں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ پھر میں نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں اور صحابہ آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر آل عمران کی یہ آیت نازل ہوئی :
وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ آل عمران۔
اور محمد میرے سول ہی تو ہیں ان سے پہلے (بھی) رسول گذر چکے ہیں۔ ابن المنذر۔
وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ آل عمران۔
اور محمد میرے سول ہی تو ہیں ان سے پہلے (بھی) رسول گذر چکے ہیں۔ ابن المنذر۔
4290 - عن كليب قال: "خطبنا عمر، وكان يقرأ على المنبر آل عمران، ويقول: إنها أحدية2 ثم قال تفرقنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد فصعدت الجبل، فسمعت يهوديا يقول: قتل محمد، فقلت لا أسمع أحد يقول قتل محمد إلا ضربت عنقه، فنظرت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، والناس يتراجعون إليه، فنزلت هذه الآية: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ} الآية. "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4291: کلیب (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے جمعہ کے روز خطبہ دیا اور آل عمران کی تلاوت فرمائی اور جب اس فرمان تک پہنچے :
ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان۔
بےشک جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تم میں سے اس دن (جس دن) دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی۔ آپ (رض) نے فرمایا : جب احد کا دن تھا ہم لوگ شکست کھانے لگے میں بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پہاڑی بکرے کی مانند دوڑتا پھر راوں۔ لوگ کہہ رہے ہیں محمد قتل ہوگئے۔ تب میں نے آواز لگائی۔ میں نے جس کو یہ کہتے ہوئے پایا کہ محمد قتل ہوگئے ہیں میں اس کو قتل کرڈالوں گا۔ حتی کہ (اس افراتفری میں) ہم پہاڑ جمع ہوگئے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی :
ان الذین تولوا منکم یوم التی الجمعان ۔ رواہ ابن جریر۔
ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان۔
بےشک جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تم میں سے اس دن (جس دن) دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی۔ آپ (رض) نے فرمایا : جب احد کا دن تھا ہم لوگ شکست کھانے لگے میں بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پہاڑی بکرے کی مانند دوڑتا پھر راوں۔ لوگ کہہ رہے ہیں محمد قتل ہوگئے۔ تب میں نے آواز لگائی۔ میں نے جس کو یہ کہتے ہوئے پایا کہ محمد قتل ہوگئے ہیں میں اس کو قتل کرڈالوں گا۔ حتی کہ (اس افراتفری میں) ہم پہاڑ جمع ہوگئے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی :
ان الذین تولوا منکم یوم التی الجمعان ۔ رواہ ابن جریر۔
4291 - عن كليب قال خطب عمر يوم الجمعة، فقرأ آل عمران فلما انتهى إلى قوله: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ} قال: "لما كان يوم أحد هزمناهم ففررت حتى صعدت الجبل، فلقد رأيتني أنز وكأنني أروى، والناس يقولون قتل محمد صلى الله عليه وسلم، فقلت لا أجد أحدا يقول قتل محمد صلى الله عليه وسلم إلا قتلته، حتى اجتمعنا على الجبل، فنزلت {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ} . "ابن جرير".
তাহকীক: