কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪২৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4252: محمد بن الحنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ (ان کے والد) حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بات سمجھ نہ آرہی تھی :

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلہا فلا جناح علیہما ان یتراجعا۔

پس اگر وہ طلاق دے دے تو اس کے لیے حلال نہ ہوگی حتی کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے پھر اگر وہ طلاق دے دے تو ان کو رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ میں نے قرآن پڑھا پھر مجھے سمجھ آیا کہ جب اس کو دوسرا شوہر طلا دیدے تو ہ پہلے تین طلاق دینے والے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

پھر حضرت علی (رض) ایک الگ مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

میں رجل نداء تھا یعنی مجھے مذی بہت آتی تھی (بیوی سے بوس و کنار کرتے وقت شرم گاہ سے معمولی قطرات خارج ہوتے ہیں جو منی کے علاوہ اور اس سے پہلے آتے ہیں) مجھے حیاء آتی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کروں۔ کیونکہ آپ کی بیٹی میرے نکاح میں تھی۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو کہا انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں صرف وضو ہے۔ (عبد ابن حمید)
4252 - عن محمد بن الحنفية قال : قال علي اشكل علي أمر ان قوله : (فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، فان طلقها فلا جناح عليهما ان يتراجعا) فدرست القرآن فعلمت أنه يعنى إذا طلقها زوجها الاخر رجعت إلى زوجها الاول المطلق ثلاثا ، وكنت رجلا مذاء فاستحييت أن أسأل النبي صلى الله عليه وسلم من أجل أن ابنته كانت تحتي فأمرت المقداد بن الاسود فسأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال : فيه الوضوء.

(عبد بن حميد وابن أبى حاتم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4253: الذی بیدہ عقدۃ النکاح۔ البقرہ : 237 ۔

ترجمہ : جس کے ہاتھ میں نکاح کا عقد ہے۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس سے مراد شوہر ہے۔ (وکیع، سفیان، فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، الدار قطنی، شعب للبیہقی)

فائدہ : یہاں اس طلاق کا بیان ہے کہ اگر شوہر عورت کو چھونے سے قبل ہی طلاق دیدے تو مہر کا نصف حصہ ادا کردے ، یا عورت معاف کرنا چاہے تو وہ اس کی حقدار ہے اور اگر مرد پورا ہی مہر دیدے تو بہت اچھا ہے ورنہ نصف لازمی ہے۔ اس آیت میں ہے یا معاف کردے وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے یعنی شوہر معاف کردے درگذر کرے اور نصف کی بجائے پورا مہر دیدے۔
4253 - عن علي قال : الذى بيده عقدة النكاح الزوج.

(وكيع وسفيان والفريابي ش وعبد بن حميد وابن جرير قط هق)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4254: حضرت علی (رض) کا فرمان ہے۔ الصلوۃ الوسطی سے مراد ظہر (دن) کی نماز ہے۔ (ابن المنذر)

فائدہ : فرمان الہی ہے :

صلوۃ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔

حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی۔ البقرہ : 238 ۔

نمازوں کے خصوصا درمیانی نماز کی محافظت کرو اسی فرمان کے متعلق یہ اور ذیل کی روایات ہیں۔
4254 - عن علي قال : الصلاة الوسطى هي الظهر.

(ابن المنذر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4255: زر (رض) فرماتے ہیں : میں اور عبیدہ سلمانی حضرت علی (رض) کی خدمت میں پہنچے میں نے عبیدہ کو کہا کہ آپ (رض) سے الصلاۃ الوسطی (درمیانی نماز) کے بارے میں سوال کریں۔ (کہ وہ کون سی نماز ہے) چنانچہ حضرت عبیدہ نے سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم اس کو صبح کی نماز سمجھتے تھے۔ مگر ایک مرتبہ ہم اہل خیبر کے ساتھ قتال میں مصروف تھے۔ انھوں نے لڑائی کو اس قدر طول دیا کہ ہم کو نماز سے روک دیا حتی کہ غروب شمس کا وقت ہوگیا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس قوم کے دلوں کو بھر دے جنہوں نے ہم کو (الصلاۃ الوسطی) نماز سے اور کام میں مشغول کردیا اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ اس دن ہم کو معلوم ہوا کہ الصلاۃ الوسطی سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ (رواہ ابن جریر)
4255 - عن زر قال : انطلقت أنا وعبيدة السلمانى إلى علي فأمرت عبيدة ان يسأله عن الصلاة الوسطى ؟ فسأله فقال : كنا نراها صلاة الصبح فبينا نحن نقاتل أهل خيبر فقاتلوا حتى أرهقونا عن الصلاة وكان قبل غروب الشمس ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اللهم املا قلوب هؤلاء القوم الذين شغلونا عن الصلاة الوسطى وأجوافهم نارا ، فعرفنا يومئذ

أنها الصلاة الوسطى.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4256: حضرت علی (رض) نے فرمایا : الصلاۃ الوسطی سے مراد عصر کی نماز ہے جس میں سلیمان (علیہ السلام) سے تاخیر ہوئی تھی۔ (وکیع ، سفیان، فریابی، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، مسدد، ابن جریر، شعب الایمان للبیہقی)

فائدہ : زیاد اصح یہی قول ہے کہ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی بھی یہی نماز ضاء کے قریب ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے گھوڑوں کو دیکھ رہے تھے کہ اس مشغولیت میں عصر کی نماز میں تاخیر ہوگئی اور سورج غروب کے قریب ہوگیا تو آپ نے بعد میں اس تاخیر کی سزا میں اپنے گھوڑے اللہ کی راہ میں قربان کیے اور ان کو ایک ایک کرکے تلوار سے کاٹنے لگے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4256 - عن علي قال : الصلاة الوسطى صلاة العصر التى فرط فيها سليمان.

(وكيع وسفيان والفريابي ش ص وعبد بن حميد ومسدد وابن جرير هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4257: حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ حضرت علی (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ الصلاۃ الوسطی سے مراد عصر کی نماز ہے (الدمیاطی، فی کتاب لاصلاۃ الوسطی، الموسوم بہ کشف المغطام، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4257 - عن الحسن البصري عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الصلاة الوسطى صلاة العصر.

(الدمياطي (1) في كتاب الصلاة الوسطى الذى سماه بكشف المغطا ك ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4258: (مالک (رح)) حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں ہمیں علی اور عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ قول پہنچا ہے کہ الصلاۃ الوسطی سے مراد صبح کی نماز ہے۔ السنن للبیہقی۔
4258 - (مالك) أنه بلغه أن علي بن أبي طالب وعبد الله بن عباس قالا : الصلاة الوسطى صلاة الصبح.

(ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4259: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہر مومنہ عورت آزاد ہو یا باندی اس کے لیے متعہ (کپڑے کا جوڑا) ہے۔ پھر آپ نے فرمان الہی تلاوت فرمایا :

وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین (241)

طلاق یافتہ عورتوں کے لیے قاعدے کے موافق سامان (کپڑا وغیرہ) ہے (یہ) متقیوں پر لازم ہے۔ ابن المنذر۔
4259 - عن علي قال : ان لكل مؤمنة طلقت حرة أو أمة متعة ، وقرأ : (وللمطلقات متاع بالمعروف حقا على المتقين).

(ابن المنذر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4260: السکینہ ایسی شفاف ہوا ہے جس میں ایک صورت ہوتی ہے اور انسان کے چہرے کی مانند چہرہ ہوتا ہے (ابن جریر، سفیان بن عیینہ فی تفسیرہما، الزرقی، مستدرک الحاکم، الدلائل للبیہقی، ابن عساکرٰ )
4260 - عن علي قال : السكينة ريح هفافة فيها صورة ولهاوجه كوجه الانسان.

(ابن جرير وسفيان بن عيينة في تفسيرهما والازرقي ك ق في الدلائل كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4261: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : السکینۃ ایک تیز ہوا جس کے دو سر ہوتے ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
4261 - عن علي قال: "السكينة ريح خجوج"1 ولها رأسان. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4262: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس (بادشاہ) نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پروردگار کے متعلق مناظرہ کیا تھا وہ نمرود بن کنعان تھا۔ ابن ابی حاتم۔

عزیر (علیہ السلام) سو سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے۔
4262 - عن علي قال: "الذي حاج إبراهيم في ربه هو نمرود بن كنعان". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4263: او کالذی مر علی قریۃ ۔

ترجمہ : یا اس شخص کی مانند جو بستی پر گذرا۔ البقرہ : 259 ۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللہ کے پیغمبر حضرت عزیر (علیہ السلام) اپنے شہر سے نکلے۔ آپ اس وقت نوجوان تھے۔ آپ کا گذر ایک بستی پر ہوا جو ویران و برباد ہوچکی تھی اور ان کے گھروں کی چھتیں نیچے پڑی تھیں۔ تو حضرت عزیر (علیہ السلام) نے ازراہ تعجب فرمایا۔

انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتہا فاماتہ اللہ ماتہ عام ثم بعثہ۔ البقرہ : 259 ۔

اللہ پاک اس کو کیسے زندہ فرمائے گا۔ پھر اللہ نے اس کو سو سال تک موت دی، پھر اس کو اٹھایا اور فرمایا : پہلے تو حضرت عزیر کی آنکھ پیدا فرمائیں اور وہ اپنی ہڈیوں کی طرف دیکھنے لگے کہ ایک دوسری کے ساتھ جڑ رہی ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) سے پوچھا گیا : تم کتنے عرصے تک یوں رہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے شہر چل کر تشریف لائے۔ آپ اپنے ایک پڑوسی کو نوجوان چھوڑ کر گئے تھے۔ اب آئے تو دیکھا کہ وہ بوڑھا ہوچکا ہے۔ (عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، البعث للبیہقی)
4263 - عن علي في قوله تعالى: {أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ} قال: "خرج عزير نبي الله من مدينته وهو شاب فمر على قرية خربة وهي خاوية على عروشها فقال: {أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ} فأول ما خلق منه عيناه فجعل ينظر إلى عظامه ينضم بعضها إلى بعض، كسيت لحما ثم نفخ فيه الروح، فقيل له كم لبثت؟ قال لبثت يوما أو بعض يوم، قال: بل لبثت مائة عام فأتى مدينته وقد ترك جارا له إسكافا شابا، فجاء وهو شيخ كبير". "عبد بن حميد وابن أبي حاتم ك ق في البعث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4264: یا ایہا الذین آمنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم۔ البرہ : 257 ۔

اے ایمان والو ! جو تم نے کمایا اس پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس سے مراد تو سونا چاندی ہے یعنی جو سونا چاندی حلال طریقے سے کمایا اس کی زکوۃ ادا کرو۔ اور اسی آیت کے بقیہ حصہ فرمایا : ومما اخرجنا لکم من الارض۔ اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے نکالیں، سے مراد گندم کھجور وغیرہ زمین کی فصلیں ہیں جن میں زکوۃ فرض ہوتی ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4264 - عن علي في قوله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ} قال: "من الذهب

والفضة" {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ} قال: "يعنى من الحب والتمر وكل شيء فيه زكاة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4265: عبیدہ سلمانی سے مروی ہے کہتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا :

یا ایہا الذین آمنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم : البقرہ : 267 ۔

آپ (رض) نے فرمایا : یہ آیت زکوۃ فرض کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ایک شخص اپنے کھجوروں کے ڈھیر کی طرف بھڑھتا ہے اور اچھا اچھا مال ایک طرف نکال دیتا ہے۔ جب لینے والا آتا ہے تو اس کو (بچی کھچی) ردی کھجور دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے فرمایا :

ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا۔ کہ (اگر وہ چیزیں تم کو دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لینے کے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : تم خود اس کو جبر کیے بغیر نہ لوگ۔ اور خدا کے ہاں اس کو صدقہ کرو۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4265 - عن عبيدة السلماني قال: "سألت علي بن أبي طالب عن قول الله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ} الآية، فقال: "نزلت هذه الآية في الزكاة المفروضة، كان الرجل يعمد إلى التمر فيصرمه فيعزل الجيد ناحية، فإذا جاء صاحب الصدقة أعطاه من الرديء، فقال الله: {وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ} يقول ولا يأخذ أحدكم هذا الرديء حتى يهضم له". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4266: (اسامہ (رض)) زہرہ (رح) سے مروی ہے کہ ہم زید بن ثابت (رض) کے پاس بیٹھے تھے (ہم میں سے) کچھ لوگوں نے حضرت اسامہ (رض) کے پاس یہ سوال بھیجا کہ الصلاۃ الوسطی سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے وقت پڑھا کرتے تھے (ابو داؤد الطیالسی، مصنف ابن ابی شیبہ، بخاری فی التاریخ، مسند ابی یعلی، الرویانی، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4266 - "أسامة" عن زهرة قال: "كنا جلوسا عند زيد بن ثابت فأرسلوه إلى أسامة فسألوه عن الصلاة الوسطى؟ فقال: هي الظهر كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها بالهجير". "ط ش خ في تاريخه ع والروياني ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4267: زبرقان (رح) سے مروی ہے کہ قریش کے ایک قافلہ پر زید بن ثابت کا گذر ہوا۔ یہ لوگ سب اکٹھے تھے۔ انھوں نے اپنے دو غلام حضرت زید (رض) کے پاس بھیجے تاکہ وہ آپ (رض) سے الصلاۃ الوسطی کے بارے میں سوال کریں۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز (کڑی) دوپہر میں پڑھتے تھے۔ آپ کے پیچھے ایک یا دو صفیں ہوتی تھیں۔ لوگ اپنے کاروبار اور تجارت وغیرہ میں مشغول ہوتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی ۔

نمازوں کی خصوصا درمیانی نماز کی پابندی کرو۔

(اس وجہ سے ظہر کی تاکید نازل ہوئی) لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگ باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کو جلا ڈالوں گا۔ (اگر وہ ظہر کی نماز میں حاضر نہ ہوں گے) مسند احمد، نسائی، ابن منیع، ابن جریر، الشاشی، السنن لسعید بن منصور۔
4267 - عن الزبرقان قال: "إن رهطا من قريش مر بهم زيد بن ثابت وهم مجتمعون، فأرسلوا إليه غلامين لهم يسألانه عن الصلاة الوسطى فقال: هي الظهر، ثم انصرفا إلى أسامة بن زيد فسألاه؟ فقال: هي الظهر إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي الظهر بالهجير، فلا يكون وراءه إلا الصف والصفان، والناس في قائلتهم وتجارتهم، فأنزل الله تعالى {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لينتهين رجال أو لأحرقن بيوتهم". "حم ن وابن منيع وابن جرير والشاشي ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4268: یسئلونک عن الشہر الحرام قتال فیہ۔

ترجمہ : وہ لوگ آپ سے حرمت والے ماہ میں قتال کا سوال کرتے ہیں۔

ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان بن بیضاء کو عبداللہ بن جحش کی امارت میں ابواء کی طرف لشکر میں بھیجا وہاں انھوں نے غنیمت حاصل کی اور (مذکور) آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ (ابن مندہ غریب، ابن عساکرٰ )

فائدہ : رجب کی آخری تاریخ میں انھوں نے قتال کرکے کافروں کو ہزیمت دی تھی لیکن کافروں نے مسلمانوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے تو ذوالقعدہ کی پہلی تاریخ میں قتال کیا ہے اور حرمت کے مہینے ذی قعدہ کو پامال کیا ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ آیات نازل فرمائیں کہ کہہ دو حرمت کے ماہ میں تال گناہ ہے لیکن اس سے بڑا گناہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کا کفر کرنا وغیرہ ہے۔
4268 - عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث صفوان بن بيضاء في سرية عبد الله بن جحش قبل الأبواء، فغنموا وفيهم نزلت {يَسْأَلونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} الأية. "ابن منده وقال غريب كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4269: ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ملائکہ نے اہل دنیا پر نظر ڈالی دیکھا کہ بنی آدم گناہ کر رہے ہیں تو انھوں نے پکارا : اے پروردگار@ یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں ؟ ان لوگوں کو آپ کی عظمت کا علم کس قدر کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم ان کی کھال میں ہوتے تو تم بھی میری نافرمانی کرتے۔ ملائکہ نے عرض کیا : یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہم تو آپ کی (ہر وقت) تسبیح کرتے ہیں اور آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔

چنانچہ ملائکہ نے اپنے درمیان میں سے دو فرشتوں کو چنا ہاروت اور ماروت کو۔ وہ دنیا پر اترے۔ اور دنیا میں بنی آدم کی شہوات ان میں بھی ڈال دی گئیں۔ ایک عورت ان کے ساتھ پیش آئی۔ اور وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکے بلکہ معصیت میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ عزوجل نے ان کو فرمایا : دنیا کا عذاب اختیار کرتے ہو یا آخرت کا عذاب ؟ ایک نے دوسرے سے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ دوسرے نے کہا : دنیا کا عذاب تو آخر ختم ہو ہی جائے گا۔ جبکہ آخرت کا عذاب دائمی ہے۔ چنانچہ ان دونوں نے دنیا کا عذاب اختیار کرلیا۔ پس یہی دونوں فرشتے ہیں جن کا اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے :

وما انزل علی الملکین ببابل ہاروت و ماروت۔

اور جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتری۔
4269 - عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أشرفت الملائكة على الدنيا فرأت بني آدم يعصون، فقالوا: يا رب ما أجهل هؤلاء؟ ما أقل معرفة هؤلاء بعظمتك؟ فقال: لو كنتم في مسلاخهم لعصيتموني، قالوا: كيف يكون هذا ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك، قال: فاختاروا ملكين، فاختاروا هاروت وماروت، ثم أهبطا إلى الدنيا، وركبت فيهما شهوات بني آدم، ومثلت لهما امرأة فما عصما حتى واقعا في المعصية فقال الله عز وجل لهما: فاختارا عذاب الدنيا، أو عذاب الآخرة فنظر أحدهما إلى صاحبه، فقال ما تقول؟ فقال أقول إن عذاب الدنيا منقطع، وإن عذاب الآخرة لا ينقطع، فاختارا عذاب الدنيا فهما اللذان ذكرهما الله تعالى في كتابه: {وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} . "وقال وقفه أصح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4270: لوگوں کے درمیان الصلاۃ الوسطی کا ذکر ہوا حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : جس طرح تمہارے درمیان اختلاف ہورہا ہے اسی طرح ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے صحن میں اختلاف ہوا تھا۔ ہمارے درمیان ایک نیک شخص ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بھی تھے، وہ بولے : میں اس مسئلہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ پھر وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے۔ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بےتکلف تھے۔ انھوں نے آپ سے اندر آنے کی اجازت لی اور اندر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ اس سے نماز عصر مراد ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
4270 - عن أبي هريرة: "أنهم تذاكروا الصلاة الوسطى، فقال اختلفنا فيها كما اختلفتم، ونحن بفناء رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفينا الرجل الصالح أبو هاشم بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، فقال: أنا أعلم لكم ذلك فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان جريا عليه، فاستأذن فدخل عليه ثم خرج فأخبر: أنها صلاة العصر". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4271: ابن لبیبہ (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے تمام امور جس کے تابع ہیں یعنی نماز کے متعلق جس کے بغیر ہمارا چارہ نہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : کیا تم کچھ قرآن پڑھے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انھوں نے پڑھنے کا حکم دیا تو میں نے سورة الفاتحہ پڑھ کر سنائی تو آپ (رض) نے فرمایا :

یہ سبع مثانی ہے، جس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے :

ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم۔

اور ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا۔ پھر آپ (رض) نے مجھ سے پوچھا : کیا تم نے سورة المائدہ پڑھ رکھی ہے ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تھا آپ (رض) نے فرمایا : اچھا تم آیت الوضوء پڑھو۔ میں نے وہ بھی پڑھ کر سنا دیں تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا۔ میرا خیال ہے کہ تم نماز کے لیے وضوء بھی سمجھ گئے ہوگے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : تم نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے۔

اقم الصلوۃ لدلوک الشمس۔

نماز قائم کرو سورج ڈھلنے کے وقت۔

جانتے ہو دلوک سے کیا مراد ہے ؟ میں نے عرض کیا : نصف النہار کے بعد جب آفتاب آسمان کے پیٹ یا جگر سے ڈھل جائے۔ فرمایا : ہاں اس وقت تم ظہر کی نماز پڑھو۔ اور پھر جب سورج سفید ہی ہو۔ تو اس وقت عصر کی نماز پڑھو۔ جب تم کو ایسا لگے کہ تم سورج کو چھو سکتے ہو (یعنی جب کچھ ٹھنڈا ہوجائے اور اس پر نظر ڈالنا ممکن ہو) پھر فرمایا :

جانتے وہ غسق اللیل کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، غروب شمس مراد ہے۔ فرمایا : ہاں پس تم اس کے پیچھے رہو (اور مغرب پڑھ لو) اور جب شفق (روشنی) غائب ہوجائے تو عشاء کی نماز پڑھ لو۔ پھر مشرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جب رات یہاں سے ایک تہائی رات آجائے اس وقت (عشاء کا وقت ہے) لیکن اگر افق کی سفیدی جانے کے بعد ہی (عشاء ) پڑھ لو تو زیادہ افضل ہے۔ اور جب فجر طلوع ہوجائے تو فجر کی نماز پڑھ لو۔ جانتے ہو فجر کیا ہے ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : تمام لوگ اس کو نہیں جانتے۔ میں نے عرض کیا : وہی فجر ہے نا جب افق سفیدی کے ساتھ چمک اٹھے۔ فرمایا : ہاں اس وقت سے لے کر صبح کی سفیدی تک نماز پڑھ لو۔ پھر سفیدی تک پھر سفیدی تک۔ اور دیکھو رکوع و سجدہ یوں نہ کرو۔ کہ جس طرح پرندہ پانی پی کر اڑ جاتا ہے یا کتا اکڑوں بیٹھتا ہے (بلکہ رکوع و سجدہ کو اچھی طرح ادا کرو) اور بھول (اور غفلت) سے حفاظت میں رہو۔ حتی کہ تم نماز پڑھ لو۔

ابن لبیبہ کہتے ہیں : پھر میں نے ان سے عرض کیا : مجھے الصلاۃ الوسطی (درمیانی نماز) کے بارے میں بتائیے (کون سی ہے ؟ ) فرمایا : تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا :

اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل و قرآن الفجر۔

نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے رات چھانے تک اور فجر کا قرآن پڑھنا (یاد رکھو) (اس میں پانچوں نمازیں آگئیں)

اور فرمایا :

ومن بعد صلوۃ العشاء ثلث عورات لکم۔

اور عشاء کی نماز کے بعد تمہارے لیے تین تاریکیاں (حصے ہیں) ۔

یوں پانچوں نمازیں ان آیات میں آگئیں۔ پھر فرمایا :

حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی۔

نمازوں پر محافظت کرو خصوصا درمیانی نماز پر۔

پس آگاہ رہو وہ عصر کی نماز ہے عصر کی نماز ہے۔ الجامع لعبد الرزاق۔

کیونکہ درمیان میں وہی ہے دو نمازیں اس سے قبل اور دو اس کے بعد ہیں۔
4271 - عن ابن لبيبة قال: "جئت أبا هريرة فقلت أخبرني عن أمر، الأمور كلها له تبع عن صلاتنا التي لا بد لنا منها، قال أتقرأ من القرآن شيئا؟ قلت نعم، قال اقرأ فقرأت له فاتحة الكتاب، فقال: هذه السبع المثاني، التي يقول الله تعالى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} ثم قال لي أتقرأ سورة المائدة؟ قلت نعم، قال فأقرأ علي آية الوضوء، فقرأتها فقال ما أراك إلا قد عرفت وضوء الصلاة، أما سمعت الله تعالى يقول: {أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ} أتدري ما دلوكها؟ قلت إذا زالت الشمس عن بطن السماء أو عن كبد السماء بعد نصف النهار، قال: نعم فصل الظهر حينئذ، وصل العصر والشمس بيضاء نقية، تجد لها مسا، قال: أفتدري ما غسق الليل؟ قلت نعم غروب الشمس، قال نعم فاحدرها2 في إثرها، ثم احدرها في أثرها وصل العشاء إذا ذهب الشفق، وإذا أم الليل من ههنا، وأشار إلى المشرق فيما بينك وبين ثلث الليل، وما عجلت بعد ذهاب بياض الأفق فهو أفضل وصل الفجر إذا طلع الفجر، أتعرف الفجر؟ قلت نعم، قال: ليس كل الناس يعرفه، قلت هو إذا اصطفق الأفق بالبياض، قال نعم فصلها حينئذ إلى السدف1، ثم إلى السدف، ثم إلى السدف، وإياك والحسوة2 والإقعاء، وتحفظ من السهو، حتى تفرغ، قلت أخبرني عن الصلاة الوسطى، قال: أما سمعت الله يقول: {أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ} الآية {وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ ثَلاثُ عَوْرَاتٍ} فذكر الصلاة كلها، ثم قال: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} ألا وهي العصر، ألا وهي العصر. "عب".
tahqiq

তাহকীক: