কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৩০৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑی آنکھوں والی حور
3046: سورة الرحمن۔ حور، جنتی حور گوری اور بڑی بڑی آنکھوں والی ہوگی، اس کی آنکھوں کی سفیدی انتہائی سفید اور یساہی انتہائی ہوگی۔ بڑی بڑی پلکیں یوں ہوں گی گویا باز کے پر وہ یوں صاف شفاف چمکتی ہوں گی گویا صدف میں موتی جس کو ابھی کسی نے چھوا تک نہ ہو۔
وہ " خیرات حسان " ہیں (نیک سیرات اور خوبصورت عورتیں) ہیں جو عمدہ اخلاق کی مالک ہیں۔ ایسے خوبصورت چہروں کی مالک ہیں گویا چھپا کر رکھے گئے انڈے۔ اور ان کی کھال ایسی نازک اور پتلی ہوگی جیسے انڈے کی اندر کی جھلی۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت ام سلمہ (رض)۔
وہ " خیرات حسان " ہیں (نیک سیرات اور خوبصورت عورتیں) ہیں جو عمدہ اخلاق کی مالک ہیں۔ ایسے خوبصورت چہروں کی مالک ہیں گویا چھپا کر رکھے گئے انڈے۔ اور ان کی کھال ایسی نازک اور پتلی ہوگی جیسے انڈے کی اندر کی جھلی۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت ام سلمہ (رض)۔
3046- "الرحمن" "حور، بيض، عين1 ضخام العيون شفر" الحوراء بمنزلة جناح النسر، صفاءهن صفاء الدر في الأصداف الذي لم تمسه الأيدي، خيرات حسان خيرات الأخلاق، حسان الوجوه {كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ} رقتهن كرقة الجلد الذي رأيت في داخل البيضة، مما يلي القشر، وهو الغرقيء. "طب عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑی آنکھوں والی حور
3047: گویا وہ (حوریں) یاقوت اور مرجان ہیں۔ ان کے چہرے آئینوں سے زیادہ صفا شفاف ہوں گے جن میں چہرہ دیکھا جاسکے ان پر کم تر سے کم تر موتی جو ہوگا وہ مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کردے گا۔ ایک حور پر ستر ستر لباس ہوں گے۔ لیکن ایسے نفیس کہ نظر ان سب میں سے گزر کر اس کی پنڈلی کے گودنے تک پہنچے گی۔ مستدرک بروایت ابی سعید خدری (رض) ۔
3047- "كأنهن الياقوت والمرجان ينظر إلى وجهه في حدها أصفى من المرآة، وإن أدنى لؤلؤة عليها تضيء ما بين المشرق والمغرب وإنها يكون عليها سبعون ثوبا، ينفذها بصره حتى يرى مخ ساقها من وراء ذلك". "ك عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑی آنکھوں والی حور
3048: ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (رحمن : 60) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ کیا تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے ؟ وہ فرماتا ہے جس پر ہم نے توحید کے ساتھ اعنام فرمایا اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ ابو نعیم والدیلمی بروایت انس (رض)۔
3048- {هَلْ جَزَاءُ الْأِحْسَانِ إِلَّا الْأِحْسَانُ} "هل تدرون ما يقول ربكم؟ هل جزاء من أنعمنا عليه بالتوحيد إلا الجنة". "أبو نعيم والديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑی آنکھوں والی حور
3049: اللہ عزوجل نے سورة رحمن میں یہ آیت اجمالا نازل فرمائی تھی، کافر اور مسلمان دونوں کے لیے۔
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ ابو الشیخ ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابن عباس (رض)۔
کلام : روایت ضعیف سے دیکھیے ذخیرۃ الحفاظ 769 ۔
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ ابو الشیخ ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابن عباس (رض)۔
کلام : روایت ضعیف سے دیکھیے ذخیرۃ الحفاظ 769 ۔
3049- "أنزل الله هذه الآية مسجلة في سورة الرحمن، للكافر والمسلم" {هَلْ جَزَاءُ الْأِحْسَانِ إِلَّا الْأِحْسَانُ} . "أبو الشيخ وابن مردويه هب وضعفه عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑی آنکھوں والی حور
3050: سورة الواقعہ : اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو دو قسموں میں پیدا کیا ہے اور مجھے ان دونوں میں سے اچھی قسم میں شامل فرمایا ہے۔ پس فرمان باری تعالیٰ میں انہی دو اقسام کی طرف اشارہ ہے۔
اصحاب الیمین واصحاب الشمال۔ الواقعۃ۔
دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے۔
چنانچہ میں اصحاب الیمین یعنی دائیں ہاتھ والوں میں سے ہوں۔ اور داہنے ہاتھ والوں میں سے بھی بہترین لوگوں میں سے ہوں۔ اسی طرح پروردگار سبحانہ و تعالیٰ نے گھروں کی بھی دو قسمیں بنائی ہیں اور مجھے ان میں سے اچھے گھر والا بنایا ہے۔ فرمان الہی ہے :
واصحاب المیمنۃ ما اصحاب المینۃ واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ والسابقوان السابقون۔ سورة الواقعہ : 108 ۔
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین مین) ہیں اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں۔ اور آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا ہی کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔
پس میں سابقین میں سے بہتر ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو قبائل میں تقسیم فرمایا۔ چنانچہ مجھے بہترین قبیلہ کا فرد بنایا۔ اور وہ یہ فرمان الہی ہے۔
وجعلناکم شعوبا و قبائل۔ حجرات :13
اور ہم نے تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔
سو میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ صاحب التقوی ہوں۔ اور خدا کے ہاں سب سے زیادہ مکرم ہوں لیکن مجھ کو اس پر کوئی بڑائی مطلوب نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا بنایا۔ فرمان باری عز اسمہ ہے :
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطہیرا : الاحزاب : 23
اے (رسول کے) گھر والو ! خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (میل کچیل) دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔ (الطبرانی فی الکبیر، ابن مردویہ، ابو نعیم والبیہقی فی الدلائل بروایت ابن عباس (رض))
اصحاب الیمین واصحاب الشمال۔ الواقعۃ۔
دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے۔
چنانچہ میں اصحاب الیمین یعنی دائیں ہاتھ والوں میں سے ہوں۔ اور داہنے ہاتھ والوں میں سے بھی بہترین لوگوں میں سے ہوں۔ اسی طرح پروردگار سبحانہ و تعالیٰ نے گھروں کی بھی دو قسمیں بنائی ہیں اور مجھے ان میں سے اچھے گھر والا بنایا ہے۔ فرمان الہی ہے :
واصحاب المیمنۃ ما اصحاب المینۃ واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ والسابقوان السابقون۔ سورة الواقعہ : 108 ۔
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین مین) ہیں اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں۔ اور آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا ہی کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔
پس میں سابقین میں سے بہتر ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو قبائل میں تقسیم فرمایا۔ چنانچہ مجھے بہترین قبیلہ کا فرد بنایا۔ اور وہ یہ فرمان الہی ہے۔
وجعلناکم شعوبا و قبائل۔ حجرات :13
اور ہم نے تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔
سو میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ صاحب التقوی ہوں۔ اور خدا کے ہاں سب سے زیادہ مکرم ہوں لیکن مجھ کو اس پر کوئی بڑائی مطلوب نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا بنایا۔ فرمان باری عز اسمہ ہے :
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطہیرا : الاحزاب : 23
اے (رسول کے) گھر والو ! خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (میل کچیل) دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔ (الطبرانی فی الکبیر، ابن مردویہ، ابو نعیم والبیہقی فی الدلائل بروایت ابن عباس (رض))
3050- "الواقعة" "إن الله تعالى قسم الخلق قسمين، فجعلني في خيرها قسما فذلك قوله تعالى: أصحاب اليمين، وأصحاب الشمال فأنا من أصحاب اليمين، وأنا من خير أصحاب اليمين، جعل القسمين بيوتا، فجعلني في خيرها بيتا فذلك قوله: {فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ} فأنا من خير السابقين، ثم جعل البيوت قبائل، فجعلني في خيرها قبيلة، فذلك قوله: {شُعُوباً وَقَبَائِلَ} فأنا أتقى ولد آدم وأكرمهم على الله عز وجل ولا فخر، ثم جعل القبائل بيوتا، فجعلني في خيرها بيتا فذلك قوله: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً} . "طب وابن مردويه وأبو نعيم ق معا في الدلائل عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3051: قسم ہے اس پاک پروردگار کی جس کی مٹھی میں میری جان ہے جنتی فرش کی اونچائی ایسے ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ۔ اور آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ۔ اور آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ مسند احمد، مسلم اصل نسخہ میں مسلم کا حوالہ ہے لیکن منتخب میں نہیں ہے۔ ترمذی غریب، سنائی، مسند ابی یعلی، صحیح ابن حبان، العظمۃ لابی الشیخ، البیہقی فی البعث، ابن ماجہ الضیاء المقدسی بروایت ابی سعید خدری (رض) ۔
فائدہ : فرمان الہی ہے، وفرش مرفوعۃ، جنتی بلند ہوں گے۔ اس آیت کی تشریح میں یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے۔ 2927 رقم الحدیث پر یہ وضاحت گزر چکی ہے۔
کلام : ضعیف الجامع 6109 پر روایت پر کلام کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ روایت محل کلام ہے۔
فائدہ : فرمان الہی ہے، وفرش مرفوعۃ، جنتی بلند ہوں گے۔ اس آیت کی تشریح میں یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے۔ 2927 رقم الحدیث پر یہ وضاحت گزر چکی ہے۔
کلام : ضعیف الجامع 6109 پر روایت پر کلام کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ روایت محل کلام ہے۔
3051- "والذي نفسي بيده إن ارتفاعها كما بين السماء والأرض، وإن ما بين السماء والأرض لمسيرة خمسمائة عام". "حم "م –ت غريب ن ع حب وأبو الشيخ في العظمة ق في البعث" "هـ ض –2عن أبي سعيد" إن رسول الله صلى الله عليه وآله وأصحابه وسلم قال في قوله تعالى: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ} فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3052: اگر جنتی فرش کی بلندی سے کوئی شے گرائی جائے تو نیچے تک سو سال میں پہنچے گی۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت ابی امامہ (رض) ۔
کلام : دیکھئے ضعیف الجامع 4826 ۔
کلام : دیکھئے ضعیف الجامع 4826 ۔
3052- "لو طرح فراش من أعلاها لهوى إلى قرارها مائة خريف". "طب عن أبي أمامة" قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الفرش المرفوعة قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3053: فرمان الہی ہے : فی سدر مخضود (واقعہ) بغیر کانٹوں کی بیری (میں وہ عیش کریں گے) اللہ تعالیٰ اس کے کانٹوں کو ختم فرما دیں گے۔ اور ہر کانٹے کی جگہ پھل پیدا فرما دیں گے۔ وہ بیری ایسے پھل اگائیں گی کہ ہر پھل بہتر بہتر ذائقے ہوں گے اور ہر ذائقہ دوسرے ذائقے سے مختلف ہوگا۔ مستدرک الحاکم، البعث للبیہقی بروایت ابی امامۃ (رض) ۔
3053- يقول الله تعالى: {فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ} "يخضد الله شوكه، فيجعل الله مكان كل شوكة ثمرة، فإنها تنبت ثمرا يفتق الثمر منها عن اثنين وسبعين لونا من الطعام، ما منها لون يشبه الآخر". "ك ق في البعث عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3054: سورة الانفطار۔ جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا فرمانا چاہتے ہیں تو آدمی عورت سے جماع کرتا ہے۔ پس اس شخص کا پانی اس کی ہر رگ اور پٹھے میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ساتواں دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پانی کو عورت میں جمع فرماتے ہیں پھر اس کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان تمام پرکھوں کی رگوں کو حاضر کرتے ہیں پھر فی ای صورۃ ماشاء رکبک (الانفطار) جس صورت میں چاہتے ہیں اس کو جوڑ دیتے ہیں۔
اس حدیث سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ آدم (علیہ السلام) تک اپنے کسی نہ کسی باپ دادے وغیرہ کی شکل سے مشابہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر قریبی باپ دادا بہن بھائی وغیرہ کی شکل پر ہوتا ہے ورنہ اوپر کسی نہ کسی کے مشابہ ہوتا ہے جو والدین کے علم میں نہیں ہوتا۔ (الطبرانی فی الکبیر۔ ابو نعیم فی الطب بروایت مالک بن الحویرث)
اس حدیث سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ آدم (علیہ السلام) تک اپنے کسی نہ کسی باپ دادے وغیرہ کی شکل سے مشابہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر قریبی باپ دادا بہن بھائی وغیرہ کی شکل پر ہوتا ہے ورنہ اوپر کسی نہ کسی کے مشابہ ہوتا ہے جو والدین کے علم میں نہیں ہوتا۔ (الطبرانی فی الکبیر۔ ابو نعیم فی الطب بروایت مالک بن الحویرث)
3054- "الانفطار" "إذا أراد الله تعالى أن يخلق النسمة، فجامع الرجل المرأة، طار ماؤه في كل عرق وعصب منها، فإذا كان اليوم السابع جمعه الله، ثم أحضر له كل عرق بينه وبين آدم، ثم قرأ {فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ} " "طب وأبو نعيم في الطب عن مالك بن الحويرث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3055: نطفہ جب رحم مادر میں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ پاک اس کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان کے تمام نسبوں کو حاضر فرماتے ہیں اور پھر ان صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں اس کو پیدا فرما دیتے ہیں۔ کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی :
فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ جس صورت میں چاہا اس کو ترکیب دیا۔ بخاری فی التاریخ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن شاہین، ابن قانع، الباوردی، الطبرانی فی الکبیر، ابن مردویہ، بروایت موسیٰ بن علی بن رباح عن ابیہ عن جدہ۔
فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ جس صورت میں چاہا اس کو ترکیب دیا۔ بخاری فی التاریخ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن شاہین، ابن قانع، الباوردی، الطبرانی فی الکبیر، ابن مردویہ، بروایت موسیٰ بن علی بن رباح عن ابیہ عن جدہ۔
3055- "إن النطفة إذا استقرت في الرحم، أحضرها الله كل نسب بينها وبين آدم، فركب خلقه في صورة من تلك الصور، أما قرأت هذه الآية {فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ} ". "خ في تاريخه وابن جرير وابن المنذر وابن شاهين وابن قانع والباوردي طب وابن مردويه عن موسى بن علي بن رباح عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جتنی فرش کی اونچائی
3056: سورة المطففین۔ اولئک انہم مبعوثون لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العالمین۔ المطففین۔
وہ لوگ اٹھائے جائیں گے ایک عظیم دن (میں پیشی) کے لیے۔ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔
تمہارا یہ سوال کہ لوگ رب العالمین کے حضور (کتنے عرصے) کھڑے ہوں گے اور مومن کو اس مقام پر کیا مشقت پیش آئے گی تو جان لو کہ قیامت کے دن ایک ہزار سال تک تو کسی کو (خدا سے بولنے اور وہاں سے ٹلنے کی) اجازت نہیں ہوگی۔ پھر مومن کی دو قسمیں ہیں مومنین سابقین تو ان دو شخصوں کی طرح ہیں جو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں اور ان کی بات چیت لمبی ہوجائے پھر وہ مڑ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔
جنت اور جہنم کے درمیان ایک حوض ہے اس کے کنارے ایک طرف جنت پر ہیں اور دوسری طرف جہنم پر۔ اس حوض کی لمبائی اور چوڑائی ایک ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس حوض میں چاندی اور شیشوں کے پیالے ہیں۔ جو شخص اس حوض سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا وہ پیاس محسوس کرے گا اور نہ بھوک حتی کہ بندوں کے درمیان حساب کتاب ہو کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ المعجم الکبیر بروایت ابن عمر (رض)۔
وہ لوگ اٹھائے جائیں گے ایک عظیم دن (میں پیشی) کے لیے۔ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔
تمہارا یہ سوال کہ لوگ رب العالمین کے حضور (کتنے عرصے) کھڑے ہوں گے اور مومن کو اس مقام پر کیا مشقت پیش آئے گی تو جان لو کہ قیامت کے دن ایک ہزار سال تک تو کسی کو (خدا سے بولنے اور وہاں سے ٹلنے کی) اجازت نہیں ہوگی۔ پھر مومن کی دو قسمیں ہیں مومنین سابقین تو ان دو شخصوں کی طرح ہیں جو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں اور ان کی بات چیت لمبی ہوجائے پھر وہ مڑ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔
جنت اور جہنم کے درمیان ایک حوض ہے اس کے کنارے ایک طرف جنت پر ہیں اور دوسری طرف جہنم پر۔ اس حوض کی لمبائی اور چوڑائی ایک ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس حوض میں چاندی اور شیشوں کے پیالے ہیں۔ جو شخص اس حوض سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا وہ پیاس محسوس کرے گا اور نہ بھوک حتی کہ بندوں کے درمیان حساب کتاب ہو کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ المعجم الکبیر بروایت ابن عمر (رض)۔
3056- "المطففين" "أما قولك في مقام الناس بين يدي رب العالمين، يوم القيامة فألف سنة لا يؤذن لهم، وأما قولك ما يشق على المؤمن من ذلك المقام، فإن المؤمنين فريقان، فأما السابقون فكالرجلين تناجيا فطالت نجواهما، ثم انصرفا فأدخلا الجنة، وبين الجنة والنار حوض شرفاته على الجنة، وتضرب شرفاته على النار، طوله شهر، وعرضه شهر، أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، فيه أقداح من فضة وقوارير، من شرب منه كأسا لم يجد عطشا ولا "غرثا –1" حتى يقضى بين العباد فيدخل الجنة". "طب عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3057: سورة الانشقاق۔ اے عائشہ ! کیا نہیں جانتی کہ مومن کو جو تکلیف پہنتی ہے جو کانٹا لگتا ہے پس اس سے اس کے برے عمل کو معاف کردیا جاتا ہے اور جس سے حساب کیا گیا وہ گرفتار عذاب ضرور ہوگیا۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کا تو یہ فرمان ہے :
فسوف یحاسب حسابا یسیرا : الانشقاق۔
پس عنقریب آسان حساب کتاب لیا جائے گا ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو صرف پیشی ہوگی اے عائشہ ! ورنہ جس سے بھی حساب ہوا وہ مبتلائے عذاب ضرور ہوگیا۔ (ابوداود بروایت عائشۃ (رض))
فسوف یحاسب حسابا یسیرا : الانشقاق۔
پس عنقریب آسان حساب کتاب لیا جائے گا ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو صرف پیشی ہوگی اے عائشہ ! ورنہ جس سے بھی حساب ہوا وہ مبتلائے عذاب ضرور ہوگیا۔ (ابوداود بروایت عائشۃ (رض))
3057- "انشقت" "أما علمت يا عائشة أن المؤمن تصيبه النكبة والشوكة فيكافأ بأسوء عمله، ومن حوسب عذب، قالت أليس الله يقول: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً} قال: ذلكم العرض يا عائشة من نوقش الحساب عذب". "د عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3058: مومن کو اس کے اپنے برے عمل کے بدلے مرض، مشقت اور مصیبت دی جاتی ہے (تاکہ اس کے برے عمل معاف ہوجائیں) ۔ اے عائشہ ! قیامت کے دن جس شخص سے بھی حساب لیا گیا وہ عذاب میں پکڑا گیا۔ عائشہ (رض) نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے۔
یحاسب حسابا یسیرا
اس سے آسان حساب لیا جائے گا ؟ فرمایا یہ صرف (خدا کے سامنے) پیشی ا (اور حضوری) ہے۔ ورنہ جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ عذاب میں جکڑ لیا گیا۔ ابن جریر بروایت عائشۃ (رض)۔
یحاسب حسابا یسیرا
اس سے آسان حساب لیا جائے گا ؟ فرمایا یہ صرف (خدا کے سامنے) پیشی ا (اور حضوری) ہے۔ ورنہ جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ عذاب میں جکڑ لیا گیا۔ ابن جریر بروایت عائشۃ (رض)۔
3058- "إن المؤمن ليجازى بأسوء عمله في الدنيا للمرض والنصب والنكبة، يا عائشة إنه ليس أحد يحاسب يوم القيامة إلا معذب، قالت أليس الله يقول: {يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً} قال ذاك عند العرض إنه من نوقش الحساب عذب". "ابن جرير عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3059: کیا تو جانتی ہے یہ حساب کیا ہے ؟ جس سے حساب کتاب میں پوچھ گچھ اور تفتیش کی گئی وہ خدا کے سامنے مورد الزام ٹھہر گیا۔ (مستدرک الحاکم بروایت عائشۃ (رض))
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں دعا کر رہی تھی : اے اللہ مجھ سے آسان حساب کیجیے گا ! اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میرے پاس سے گذر ہوا۔ (تو میری دعا سن کر مذکورہ ارشاد صادر فرمایا)
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں دعا کر رہی تھی : اے اللہ مجھ سے آسان حساب کیجیے گا ! اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میرے پاس سے گذر ہوا۔ (تو میری دعا سن کر مذکورہ ارشاد صادر فرمایا)
3059- "أتدرين ما ذلك الحساب، إنه من نوقش الحساب خصم ذلك الممر بين يدي الله تعالى". "ك عن عائشة" قالت مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أقول: اللهم حاسبني حسابا يسيرا، قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3060: سورة الفجر۔ تمہاری موت کے وقت فرشتہ اس آیت کو کہے گا۔ الحکیم بروایت ابی بکر (رض) ۔
حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی گئی :
یا ایتہا النفس المطئنۃ : الفر۔
تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ آیت کس قدر عمدہ ہے ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی گئی :
یا ایتہا النفس المطئنۃ : الفر۔
تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ آیت کس قدر عمدہ ہے ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
3060- "الفجر" "أما إن الملك سيقولها لك عند الموت". "الحكيم عن أبي بكر" قال: قرئت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ} الآية. فقلت: ما أحسن هذا يا رسول الله "قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3061: سورة الشمس۔ اذ انبعث اشقاھا (الشمس) جب اس قوم کا ایک سرکش، بدخو اور رذیل انسان ابی زمعۃ، اصل نسخہ میں عبداللہ بن ابی ربیعہ ہے)
3061- "الشمس" "إذ انبعث أشقاها انبعث لها رجل عزيز عارم منيع في رهطه مثل أبي زمعة". "حم –1" خ م ن عن عبد الله بن زمعة2. من المنتخب
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3062: صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی (کو مار ڈالنے) کے لیے اپنی قوم کا ایک بڑا اور سرکش انسان ابو زمعہ کی طرح کا آگے بڑھا (بخاری، بروایت عبداللہ بن زمعہ)
3062- "انتدب لها يعني ناقة صالح رجل ذو عز ومنعة في قومه كأبي زمعة". "خ عن عبد الله بن زمعة-2"2 هكذا في المنتخب، وفي الأصل ونظ "بن أبي ربيعة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3063: سورة الم نشرح۔ اگر مشکل اور تنگی ایک سوراخ میں ہو تو اس میں آسانی اور کشادگی بھی ضرور داخل ہوگی حتی کہ اس تنگی کو نکال دے گی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت فرمائی :
ان مع العسر یسرا (الم نشرح) بیشک تنگی کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔ المعجم الکبیر، ابن مردویہ بروایت ابن مسعود (رض)۔
کلام : الاتقان 1508، ضعیف الجامع 4834 ۔ ضعیف ہے۔
ان مع العسر یسرا (الم نشرح) بیشک تنگی کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔ المعجم الکبیر، ابن مردویہ بروایت ابن مسعود (رض)۔
کلام : الاتقان 1508، ضعیف الجامع 4834 ۔ ضعیف ہے۔
3063- "ألم نشرح" "لو كان العسر في جحر لدخل عليه اليسر حتى يخرجه، ثم قرأ {إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً} ". "طب وابن مردويه عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3064: العادیات۔ کیا تم جانتے ہو الکنود کیا ہے وہ رب کا نا شکرا ہے۔ جو کہیں بھی اکیلا رہتا ہے، اپنے ساتھ والوں سے بخل کرتا ہے، اپنا اوج (شکم) بھرتا ہے اور اپنے غلام کو بھوکا پیٹ رکھتا ہے۔ مصیبت میں قوم (کی مدد نہیں کرتا اور ان) کو کچھ دیتا نہیں ایسے لوگوں میں سے ایک ولید بن مغیرہ بھی ہے۔ مسند الفردول للدیلمی بروایت ابی امامہ (رض))
3064- "العاديات" "هل تدرون ما الكنود هو الكفور، الذي ينزل وحده، ويمنع رفده، ويشبع بطنه، ويجيع عبده، ولا يعطي في النائبة قومه، منهم الوليد بن المغيرة". "الديلمي عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی بیماری دفع درجات کا سبب ہے
3065: سورة النصر۔ اے ابن مسعود (اس سورت مین) مجھے اپنی موت کی خبر سنائی گئی ہے۔ مسند احمد بروایت ابن مسعود (رض)۔
فائدہ : سورة نصر آخری نازل ہونے والی آیات میں سے ہے جس کا مضمون حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے سفر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ جب افواج کی افواج لوگ مسلمان ہونے لگے اور مکہ فتح ہوگیا اور لوگوں کو خدا سے روشناس کرا دیا گیا تو آپ کو حکم ملا کہ بس اب خدا کی طرف رجوع کرو اور بقیہ اوقات توبہ و استغفار میں صرف کرو۔
فائدہ : سورة نصر آخری نازل ہونے والی آیات میں سے ہے جس کا مضمون حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے سفر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ جب افواج کی افواج لوگ مسلمان ہونے لگے اور مکہ فتح ہوگیا اور لوگوں کو خدا سے روشناس کرا دیا گیا تو آپ کو حکم ملا کہ بس اب خدا کی طرف رجوع کرو اور بقیہ اوقات توبہ و استغفار میں صرف کرو۔
3065- "سورة النصر" "نعيت إلي نفسي يا ابن مسعود". "حم عن ابن مسعود".
তাহকীক: