কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৩০২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
3026: بنی عامر کے ایک شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سے سوالات کیے پھر عرض کیا : کیا علم کی کوئی ایسی شے باقی ہے یا رسول اللہ ! جس کا آپ کو بھی علم نہیں ہے ؟ تب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذیل کا فرمان ارشاد فرمایا :
ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر۔ لقمان ۔ آخری آیت۔
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔ (مسند احمد، عن رجل من بنی عامر)
ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر۔ لقمان ۔ آخری آیت۔
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔ (مسند احمد، عن رجل من بنی عامر)
3026- "قد علم الله عز وجل خيرا كثيرا، وإن من الغيب ما لا يعلمه إلا الله الخمس: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ". "حم عن رجل من بني عامر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
3027: سورة الاحزاب۔
یہ ایک پوشیدہ بات تھی اگر تم اس کے بارے میں سوال نہ کرتے تو میں تم کو نہ بتاتا، اللہ عزوجل نے دو فرشتے مجھ پر مقرر فرمائے ہیں۔ کسی بھی مسلمان بندے کے پاس میرا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ بندہ مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتے اس سے کہتے ہیں : اللہ تیری مغفرت کرے اور اللہ اور دوسرے فرشتے ان دو فرشتوں کو کہتے ہیں : آمین۔
الطبرانی فی الکبیر بروایت حکم بن عبداللہ بن خطاف عدام انیس بنت الحسین بن علی عن ابیہ۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔ الاحزاب : 65
اس آیت کے متعلق صحابہ کرام نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا۔ جس کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
یہ ایک پوشیدہ بات تھی اگر تم اس کے بارے میں سوال نہ کرتے تو میں تم کو نہ بتاتا، اللہ عزوجل نے دو فرشتے مجھ پر مقرر فرمائے ہیں۔ کسی بھی مسلمان بندے کے پاس میرا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ بندہ مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتے اس سے کہتے ہیں : اللہ تیری مغفرت کرے اور اللہ اور دوسرے فرشتے ان دو فرشتوں کو کہتے ہیں : آمین۔
الطبرانی فی الکبیر بروایت حکم بن عبداللہ بن خطاف عدام انیس بنت الحسین بن علی عن ابیہ۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔ الاحزاب : 65
اس آیت کے متعلق صحابہ کرام نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا۔ جس کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
3027- "الأحزاب" "إن هذا لمن المكتوم، لولا أنكم سألتموني عنه ما أخبرتكم به، إن الله عز وجل وكل بي ملكين، لا أذكر عند عبد مسلم فيصلي علي إلا قال ذانك الملكان: غفر الله لك، وقال الله وملائكته جوابا لذينك الملكين آمين". "طب عن الحكم بن عبد الله بن خطاف عن إم أنيس بنت الحسين بن علي عن أبيها" قال قالوا يا رسول الله: أرأيت قول الله عز وجل: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
3028: سورة سبا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی امر (کام) کو وحی فرمانا چاہتے ہیں تو اس کا کلام کرتے ہیں پس جب پروردگار (وحی کا) کلام فرماتے ہیں تو آسمانوں پر سخت کپکپی طاری ہوجاتی ہے بوجہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے۔ اور جب آسمان والے اس کلام کو سنتے ہیں تو بےہوش ہوجاتے ہیں اور پھر (ہوش میں آنے کے بعد) سجدے میں گرجاتے ہیں۔ پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سر اٹھاتے ہیں۔
تب اللہ تعالیٰ ان کو وحی فرماتے ہیں۔ جبرائیل اس وحی کو لے کر فرشتوں کے پاس آتے ہیں۔ جس جس آسمان پر ان کا گزر ہوتا ہے اس کے اہل جبرائیل (علیہ السلام) سے سوال کرتے ہیں۔ ہمارے رب نے کیا فرمایا ؟ اے جبرائیل ! جبرائیل (علیہ السلام) فرماتے ہیں : اللہ نے حق کہا اور وہ بلند شان والی بڑی ذات ہے۔ چنانچہ تمام فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرح ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس حکم کو لے کر آسمان و زمین میں جہاں کا حکم ہوتا ہے لے کر جاتے ہیں۔ (ابن جریر ، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ فی العظمۃ ، ابن مردویہ، البیہقی فی الاسماء والصفات، الطبرانی فی الکبیر بروایت نواس بن سمعان۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منہا وما ینزل السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور، سورة سباء : 6
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے۔
وما ینزل من السماء۔ اور جو آسمان سے اترتا ہے یعنی کائنات میں تصرف کے حوالہ سے ہر حکم خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اسی کے متعلق مذکورہ حدیث میں تشریح بیان کی گئی ہے۔
تب اللہ تعالیٰ ان کو وحی فرماتے ہیں۔ جبرائیل اس وحی کو لے کر فرشتوں کے پاس آتے ہیں۔ جس جس آسمان پر ان کا گزر ہوتا ہے اس کے اہل جبرائیل (علیہ السلام) سے سوال کرتے ہیں۔ ہمارے رب نے کیا فرمایا ؟ اے جبرائیل ! جبرائیل (علیہ السلام) فرماتے ہیں : اللہ نے حق کہا اور وہ بلند شان والی بڑی ذات ہے۔ چنانچہ تمام فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرح ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس حکم کو لے کر آسمان و زمین میں جہاں کا حکم ہوتا ہے لے کر جاتے ہیں۔ (ابن جریر ، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ فی العظمۃ ، ابن مردویہ، البیہقی فی الاسماء والصفات، الطبرانی فی الکبیر بروایت نواس بن سمعان۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منہا وما ینزل السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور، سورة سباء : 6
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے۔
وما ینزل من السماء۔ اور جو آسمان سے اترتا ہے یعنی کائنات میں تصرف کے حوالہ سے ہر حکم خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اسی کے متعلق مذکورہ حدیث میں تشریح بیان کی گئی ہے۔
3028- "سبأ" "إذا أراد الله تعالى أن يوحي بأمره تكلم بالوحي، [فإذا تكلم بالوحي –1أخذت السموات رجفة شديدة من خوف الله تعالى، وإذا سمع بذلك أهل السموات صعقوا، وخروا سجدا فيكون أولهم يرفع رأسه جبريل، فيكلمه الله تعالى من وحيه بما أراد فينتهي به جبريل على الملائكة، كلما مر على سماء سماء يسأله2 أهلها ماذا قال ربنا: يا جبريل؟ فيقول جبريل: قال الحق وهو العلي الكبير فيقولون كلهم: مثل ما قال جبريل فينتهي به جبريل، حيث أمر من السماء والأرض". "ابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في العظمة وابن مردويه ق في الأسماء والصفات طب عن النواس بن سمعان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے درخت اگنا
3029: اللہ کے پیغمبر حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بھی اپنے جائے نماز میں کھڑے ہوتے اپنے آگے ایک نیا درخت اگا دیکھتے۔ آپ اس سے پوچھتے : تیرا نام کیا ہے ؟ وہ عرض کرتا : یہ نام ہے۔ آپ دریافت فرماتے۔ کس چیز کے لیے تم پیدا کیے گئے ہو ؟ درخت کہتا : فلاں فلاں کام کے لیے مجھے پیدا کیا گیا ہے۔
چنانچہ اگر وہ دوا کے لیے استعمال کا ہوتا تو اس کے لیے لکھ لیتے اور اگر اگانے کے لیے ہوتا تو اس کو اگا لیتے۔ یونہی ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا فرما رہے تھے کہ سامنے ایک نیا درخت دیکھا آپ نے اس کا نام پوچھا تو اس نے خرنوب بتایا۔ آپ نے پوچھا تم کس کام کے لیے پیدا ہوئے ہو ؟ درخت نے عرض کیا : اس گھر کو ویران اور خراب کرنے کے لیے۔ تب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بارگاہ الہی میں التجاء کی اے اللہ ! میری موت کو جنوں پر مخفی رکھ ! تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ جن غیب کا علم نہیں جانتے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درخت میں سے لاٹھی بنائی اور اس پر ٹیک لگا لی۔ (اور آپ کی روح قبض ہوگئی) پھر دیمک نے آپ کی لاٹھی اندر سے کھوکھلی کردی اور اس میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا پھر لاٹھی ٹوٹی اور آپ کا لاشہ زمین پر گرا۔ تب انسانوں کو معلوم ہوا کہ جن اگر غیب کا علم جانتے تو ایک سال تک کام کی مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔
چنانچہ جنوں نے دیمک کا شکر ادا کیا۔ پس اسی شکرانہ میں جن اس کے پاس پانی پہنچاتے ہیں جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ (مستدرک الحاکم، ابن السنی، الطب لابی نعیم۔ بروایت ابن عباس (رض))
فائدہ : خرنوب اور خروب کانٹے دار سیب کے درخت کی مانند ایک درخت ہے جس پر سینگوں کی طرح کے بدمزہ پھل لگتے ہیں۔ اس کے پتے ہمیشہ رہتے ہیں۔ جانوروں کے چارے کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مشرق وسطی میں یہ درخت پایا جاتا ہے۔ کتب تفاسیر میں اس قصے کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھیے الضعیفۃ 1033
چنانچہ اگر وہ دوا کے لیے استعمال کا ہوتا تو اس کے لیے لکھ لیتے اور اگر اگانے کے لیے ہوتا تو اس کو اگا لیتے۔ یونہی ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا فرما رہے تھے کہ سامنے ایک نیا درخت دیکھا آپ نے اس کا نام پوچھا تو اس نے خرنوب بتایا۔ آپ نے پوچھا تم کس کام کے لیے پیدا ہوئے ہو ؟ درخت نے عرض کیا : اس گھر کو ویران اور خراب کرنے کے لیے۔ تب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بارگاہ الہی میں التجاء کی اے اللہ ! میری موت کو جنوں پر مخفی رکھ ! تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ جن غیب کا علم نہیں جانتے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درخت میں سے لاٹھی بنائی اور اس پر ٹیک لگا لی۔ (اور آپ کی روح قبض ہوگئی) پھر دیمک نے آپ کی لاٹھی اندر سے کھوکھلی کردی اور اس میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا پھر لاٹھی ٹوٹی اور آپ کا لاشہ زمین پر گرا۔ تب انسانوں کو معلوم ہوا کہ جن اگر غیب کا علم جانتے تو ایک سال تک کام کی مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔
چنانچہ جنوں نے دیمک کا شکر ادا کیا۔ پس اسی شکرانہ میں جن اس کے پاس پانی پہنچاتے ہیں جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ (مستدرک الحاکم، ابن السنی، الطب لابی نعیم۔ بروایت ابن عباس (رض))
فائدہ : خرنوب اور خروب کانٹے دار سیب کے درخت کی مانند ایک درخت ہے جس پر سینگوں کی طرح کے بدمزہ پھل لگتے ہیں۔ اس کے پتے ہمیشہ رہتے ہیں۔ جانوروں کے چارے کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مشرق وسطی میں یہ درخت پایا جاتا ہے۔ کتب تفاسیر میں اس قصے کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھیے الضعیفۃ 1033
3029- "كان سليمان نبي الله إذا قام في مصلاه رأى شجرة نابتة
بين يديه، فيقول: ما اسمك؟ فتقول كذا، فيقول لأي شيء أنت؟ فتقول لكذا وكذا، فإن كانت لدواء كتبت، وإن كانت لغرس غرست، فبينما هو يصلي يوما إذ رأى شجرة، فقال ما اسمك؟ قالت الخرنوب1 قال لأي شيء أنت؟ قالت لخراب هذا البيت، فقال سليمان: اللهم عم على الجن موتي، حتى تعلم الإنس أن الجن لا تعلم الغيب، فنحتها عصى فتوكأ عليها، فأكلتها الأرضة2 [فسقط –3] فوجدوه [حولا –4] فتبينت الإنس أن الجن لو كانوا يعلمون الغيب ما لبثوا حولا في العذاب، فشكرت الجن الأرضة فكانت تأتيها بالماء، حيث كانت". "ك وابن السني وأبو نعيم في الطب عن ابن عباس".
بين يديه، فيقول: ما اسمك؟ فتقول كذا، فيقول لأي شيء أنت؟ فتقول لكذا وكذا، فإن كانت لدواء كتبت، وإن كانت لغرس غرست، فبينما هو يصلي يوما إذ رأى شجرة، فقال ما اسمك؟ قالت الخرنوب1 قال لأي شيء أنت؟ قالت لخراب هذا البيت، فقال سليمان: اللهم عم على الجن موتي، حتى تعلم الإنس أن الجن لا تعلم الغيب، فنحتها عصى فتوكأ عليها، فأكلتها الأرضة2 [فسقط –3] فوجدوه [حولا –4] فتبينت الإنس أن الجن لو كانوا يعلمون الغيب ما لبثوا حولا في العذاب، فشكرت الجن الأرضة فكانت تأتيها بالماء، حيث كانت". "ك وابن السني وأبو نعيم في الطب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے درخت اگنا
3030: سبا زمین کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا۔ سبا عرب کا ایک مرد تھا جس کی دس نرینہ اولاد تھی۔ چھ ان میں سے صاحب برکت اور سعادت مند نکلے اور چار بدبخت۔ المعجم الکبیر، مستدرک الحاکم۔
فائدہ : اس کی تشریح دوسری روایات میں یوں آئی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں سبا کا بتائیے (جس کے نام پر قرآن کی سورت ہے) کہ وہ کیا شئی ہے ؟ کوئی زمین ہے یا کسی عورت کا نام ہے ؟ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔ مسند احمد، عبد بن حمید، الکامل لابن عدی، مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض) الطبرانی فی الکبیر بروایت یزید بن حصین السلمی۔
فائدہ : اس کی تشریح دوسری روایات میں یوں آئی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں سبا کا بتائیے (جس کے نام پر قرآن کی سورت ہے) کہ وہ کیا شئی ہے ؟ کوئی زمین ہے یا کسی عورت کا نام ہے ؟ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔ مسند احمد، عبد بن حمید، الکامل لابن عدی، مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض) الطبرانی فی الکبیر بروایت یزید بن حصین السلمی۔
3030- "ليس بأرض ولا امرأة ولكنه رجل ولد عشرة من العرب، فتيامن منهم ستة وتشاءم أربعة". "طب ك" إن رجلا قال: يا رسول الله، أخبرنا عن سبأ، ما هو؟ أرض أم امرأة؟ قال: فذكره "حم وعبد بن حميد عد ك عن ابن عباس" طب عن يزيد ابن حصين السلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے درخت اگنا
3031: سورة فاطر۔ فرمان الہی ہے :
ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ روی اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔
(آخری قسم) آگے نکل جانے والے وہ لوگ ہیں جو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ اور (درمیانی قسم) میانہ رو وہ لوگ ہیں جن سے آسان حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے (پہلی قسم) وہ لوگ ہیں جو محشر میں آخر تک روکے جائیں گے۔ آخر میں پروردگار اپنی رحمت کے ساتھ ان کے گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ پس یہی لوگ ہیں جو کہیں گے :
الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ لایمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب۔ فاطر : 34 ۔ 35
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدر دان ہے۔ جس نے اپنے فضل سے ہم کو ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تھکان ہی ہوگی۔ مسند احمد، بروایت ابی الدرداء (رض) ۔
ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ روی اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔
(آخری قسم) آگے نکل جانے والے وہ لوگ ہیں جو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ اور (درمیانی قسم) میانہ رو وہ لوگ ہیں جن سے آسان حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے (پہلی قسم) وہ لوگ ہیں جو محشر میں آخر تک روکے جائیں گے۔ آخر میں پروردگار اپنی رحمت کے ساتھ ان کے گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ پس یہی لوگ ہیں جو کہیں گے :
الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ لایمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب۔ فاطر : 34 ۔ 35
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدر دان ہے۔ جس نے اپنے فضل سے ہم کو ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تھکان ہی ہوگی۔ مسند احمد، بروایت ابی الدرداء (رض) ۔
3031- "فاطر" قال الله: {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ} فأما الذين سبقوا فأولئك يدخلون الجنة بغير حساب، وأما الذين اقتصدوا فأولئك يحاسبون حسابا يسيرا، وأما الذين ظلموا أنفسهم، فأولئك الذين يحبسون في طول المحشر، وهو الذين تلافاهم الله برحمته، فهم الذين يقولون {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ} ."حم عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3032: سورة یس۔ (روز مرہ کی طرح) اہل جنت اپنی عیش و عشرت میں مصروف ہوں گے کہ اچانک نور روشن ہوگا۔ وہ اپنا سر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ پروردگار اوپر سے ان کو دیکھ رہے ہیں۔ پروردگار فرمائیں گے : السلام علیکم یا اھل الجنۃ۔ یہی پروردگار کا فرمان ہے :
سلام قولا من رب رحیم : یس : 58
پروردگار مہربان کی طرف سے سلام۔
پس پروردگار ان کو دیکھیں گے اور کسی نعمت کی طرف ذرہ بھر التفات نہ کریں گے۔ مسلسل وہ دیدار الہی کرتے رہیں گے۔ حتی کہ پروردگار فرمائیں گے۔ اور پروردگار باقی رہے گا اور اس کی برکتیں اہل جنت کے گھروں میں رہیں گی۔ ابن ماجہ، نسائی، ابن ابی الدنیا فی صفۃ اھل الجنۃ الشریعۃ لابن ابی حاتم والاجمری، ابن مرودیہ، السنن لسعید بن منصور بروایت جابر (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے۔ دیکھیے : ضعیف ابن ماجہ 33 ۔ مع اختلاف یسیر فی ترتیب الموضوعات 1144، 1145، التنزیہ 2/384 ۔ القدسیہ 64 ۔ اللآلی 2/460 ۔
سلام قولا من رب رحیم : یس : 58
پروردگار مہربان کی طرف سے سلام۔
پس پروردگار ان کو دیکھیں گے اور کسی نعمت کی طرف ذرہ بھر التفات نہ کریں گے۔ مسلسل وہ دیدار الہی کرتے رہیں گے۔ حتی کہ پروردگار فرمائیں گے۔ اور پروردگار باقی رہے گا اور اس کی برکتیں اہل جنت کے گھروں میں رہیں گی۔ ابن ماجہ، نسائی، ابن ابی الدنیا فی صفۃ اھل الجنۃ الشریعۃ لابن ابی حاتم والاجمری، ابن مرودیہ، السنن لسعید بن منصور بروایت جابر (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے۔ دیکھیے : ضعیف ابن ماجہ 33 ۔ مع اختلاف یسیر فی ترتیب الموضوعات 1144، 1145، التنزیہ 2/384 ۔ القدسیہ 64 ۔ اللآلی 2/460 ۔
3032- "يس" "بينا أهل الجنة في نعيمهم، إذ سطع لهم نور فرفعوا رؤسهم، فإذا الرب قد أشرف عليهم من فوقهم، فقال السلام عليكم يا أهل الجنة، وذلك قول الله تعالى: {سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} ، فينظر إليهم، وينظرون إليه، فلا يلتفتون إلى شيء من النعيم، ما داموا ينظرون إليه، حتى يحتجب، ويبقي نوره وبركته عليهم في ديارهم". "هـ ن وابن أبي الدنيا في صفة أهل الجنة وابن أبي حاتم والآجري في الشريعة وابن مردويه ص عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3033: سورة الصافات۔ جو شخص کسی کو کسی کام کی دعوت دے گا وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہرگز جدا نہ ہوگا (جب تک اس دعوت کے بارے میں سوال نہ کرلے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وقفوہم انہم مسؤلون۔ الصافات : 23
اور ان کو ٹھہرائے رکھ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے۔ الدیلمی بروایت انس (رض)۔
اور ان کو ٹھہرائے رکھ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے۔ الدیلمی بروایت انس (رض)۔
3033- "الصافات" "أيما رجل دعا رجلا إلى شيء، كان موقوفا يوم القيامة، ملازما به لا يفارقه، ثم قرأ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ} "."الديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3034: جو کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے گا قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس سے جدا نہ ہوگا خواہ کسی نے کسی کو بھی بلایا ہو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وقفوہم انہم مسؤلون۔ البخاری فی التاریخ، سنن الدارمی، ترمذی غریب، مستدرک الحاکم بروایت انس (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھیے : ضعیف الترمذی 632، ضعیف الجامع 5170 ۔
وقفوہم انہم مسؤلون۔ البخاری فی التاریخ، سنن الدارمی، ترمذی غریب، مستدرک الحاکم بروایت انس (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھیے : ضعیف الترمذی 632، ضعیف الجامع 5170 ۔
3034- "ما من داع دعا رجلا إلى شيء إلا كان معه، موقوفا يوم القيامة لازبا به لا يفارقه، وإن دعا رجل رجلا ثم قرأ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ} ". "خ في تاريخه والدارمي ت غريب ك عن أنس" "هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3035: سورة ص۔ الاواب۔ یعنی خدا کی طرف رجوع کرنے والا وہ شخص ہے جو بیت الخلاء میں (بھی) اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے پس اللہ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ مسند الدیلمی بروایت ابن عمر (رض)۔
3035- "ص" "الأواب يذكر ذنوبه في الخلاء فيستغفر الله". "الديلمي عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3036: داؤد (علیہ السلام) نے اس مقام پر توبہ کے لیے سجدہ کیا تھا اور ہم اس مقام پر سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ (القدیم للشافعی بروایت عمر بن ذر عن ابیہ مرسلا)
فائدہ : سورة ص میں آیت 24 پر سجدہ ہے اسی کے متعلق فرمایا کہ یہ سجدہ شکر ہے اور اس مقام پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
کلام : ضعاف الدارقطنی 355 ۔
فائدہ : سورة ص میں آیت 24 پر سجدہ ہے اسی کے متعلق فرمایا کہ یہ سجدہ شکر ہے اور اس مقام پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
کلام : ضعاف الدارقطنی 355 ۔
3036- "سجدها داود للتوبة ونسجدها نحن شكرا، يعني ص". "الشافعي في القديم عن عمر بن ذر عن أبيه مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار الہی کا ذکر :
3037: تم نے اچھا دیکھا ہے اور اچھا ہی ہوگا تمہاری آنکھ سو گئی اور (اب) نبی کی توبہ کو یاد کرو۔ اور تم اس کے ساتھ مغفرت تلاش کرو۔ اور ہم بھی تمہارے لیے اسی شئی کی جستجو کرتے ہیں جس کی تم کرتے ہو۔ ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
3037- " خيرا رأيت وخيرا يكون، ونامت عينك، توبة نبي ذكرت ترقب عندها مغفرة، ونحن نرقب ما ترقب" "ابن السني في عمل يوم وليلة عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3038: سورة غافر۔ جس کسی مسلمان یا کافر نے کوئی اچھائی اور نیکی کی ہوگی اللہ پاک اس کو اس کا بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کافر کو کیا بدلہ ملے گا ؟ فرمایا : اگر اس نے صلہ رحمی کی ہوگی یا کوئی صدقہ کیا ہوگا یا کوئی بھی نیک عمل کیا ہوگا تو اللہ پاک اس کو اس کے بدلہ میں مال اولاد، صحت و تندرستی اور اس طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : پھر آخرت میں اس کو کیا بدلہ ملے گا ؟ فرمایا : عذب در عذاب۔
پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ادخلوا آل فرعون اشد العذاب۔ سورة غافر : المومن 46
فرعون والوں کو سخت عذاب میں داخل کردو۔ (مستدرک ، شعب للبیہقی، الخمرائطی فی مکارم، ابن شاہین بروایت ابن مسعود (رض)) ۔
پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ادخلوا آل فرعون اشد العذاب۔ سورة غافر : المومن 46
فرعون والوں کو سخت عذاب میں داخل کردو۔ (مستدرک ، شعب للبیہقی، الخمرائطی فی مکارم، ابن شاہین بروایت ابن مسعود (رض)) ۔
3038- "غافر" " ما أحسن محسن من مسلم ولا كافر إلا أثابه الله، قيل ما إثابة الكافر؟ قال: إن كان قد وصل رحما، أو تصدق بصدقة، أو عمل حسنة، أثابه الله تعالى المال والولد والصحة، وأشباه ذلك، قيل وما إثابته في الآخرة؟ قال عذاب دون العذاب، وقرأ: {أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} . "ك هب والخرائطي في مكارم الأخلاق وابن شاهين عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3039: سورة السجدۃ۔ پہلے لوگوں نے (کلمہ ایمان) کہہ لیا۔ پھر ان میں سے اکثر نے کفر کیا۔ پس جو اسی کلمہ پر مرا اور ثابت قدم رہا وہ صاحب استقامت لوگوں میں سے ہے۔ ترمذی غریب، نسائی بروایت انس (رض)۔
نوٹ : گزشتہ صفحات میں 2926 رقم الحدیث پر یہی روایت گزر چکی ہے تشریح و فائدہ اس مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 4079
نوٹ : گزشتہ صفحات میں 2926 رقم الحدیث پر یہی روایت گزر چکی ہے تشریح و فائدہ اس مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : روایت ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 4079
3039- "السجدة" "قد قال الناس ثم كفر أكثرهم فمن مات عليها فهو ممن استقام". "ت غريب ن عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3040: سورة الشوری : اے عچمان تم سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا۔ (حضرت عثمان (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا کہ لہ مقالید السموات والارض، الشوری : 12) آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اس کی کیا تفسیر ہے ؟ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی تفسیر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ الاول والاخر والظاہر والباطن بیدہ الخیر یحییٰ ویمیت وھو علی کل شیء قدیر۔ (ہے یعنی آسمانوں اور زمین کی کنجیاں یہی ہیں) اے عثمان ! صبح و شام جس شخص نے یہ کلمات دس دس مرتبہ کہہ لیے اللہ پاک اس کو چھ خصلتیں عطا فرمائے گا۔ پہلی یہ کہ ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ دوسری ایک قنطار اس کو اجر مرحمت فرمائے گا (یعنی ہزار اوقیہ) تیسری خصلت یہ کہ جنت میں اس کا درجہ بڑھا دیا جائے گا۔ چوتھی یہ کہ حور عین سے اس کی شادی کروا دی جائے گی۔ پانچویں یہ کہ موت کے وقت بارہ ہزار فرشتے اس کے استقبال کے لیے حاضر ہوں گے۔ چھٹی خصلت یہ کہ اللہ پاک اس کو اتنا اجر عطا فرمائیں گے گویا اس نے قرآن، توراۃ ، انجیل اور زبور سب کی مکمل تلاوت کرلی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا ایسے حج وعمرہ کا جو بارگاہ خدا میں قبول کرلیے گئے ہوں۔ پس اگر وہ اس دن مرا تو شہداء کے زمرے میں اٹھایا جائے گا۔ (یوسف القاضی فی سننہ، مسند ابی یعلی، الضعفاء للعقیلی، ابن ابی لیلۃ، ابن مردویہ نسائی فی الاسماء بروایت عثمان (رض)
کلام : مصنف فرماتے ہیں علامہ ابن الجوزی (رح) نے اس روایت کو موضوع روایات میں شمار کیا ہے۔ اور یہ غیر تسلیم شدہ امر ہے۔
کلام : مصنف فرماتے ہیں علامہ ابن الجوزی (رح) نے اس روایت کو موضوع روایات میں شمار کیا ہے۔ اور یہ غیر تسلیم شدہ امر ہے۔
3040- "الشورى" "يا عثمان ما سألني عنها1 أحد قبلك، تفسيرها لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله وبحمده، واستغفر الله ولا حول ولا قوة إلا بالله الأول والأخر والظاهر والباطن، بيده الخير يحي ويميت وهو على كل شيء قدير، يا عثمان من قال2 هذا إذا أصبح وإذا أمسى عشر مرات أعطاه الله ست خصال: أما أولهن فيحرس من إبليس وجنوده، وأما الثانية فيعطى قنطارا من الأجر. وأما الثالثة فترفع له درجة في الجنة، وأما الرابعة فيزوج من الحور العين، وأما الخامسة فيحضرها اثنا عشر ألف ملك، وأما السادسة فله من الأجر كمن قرأ القرآن والتوراة والإنجيل والزبور، وله مع هذا يا عثمان كمن حج واعتمر، وقبلت حجته، وعمرته، فإن مات في يومه طبع بطابع الشهداء". "يوسف القاضي في سننه ع عق وابن أبي عاصم وأبو الحسن القطان في الطولات وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن السني في عمل يوم وليلة وابن مردويه" "ن1 في الأسماء عن عثمان" أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تفسير قوله تعالى: {لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} قال: فذكره وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وهو غير مسلم له.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3041: سورة دخان۔ ہر مومن کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے اس کا عمل آسمان پر چڑھتا ہے اور دوسرے دروازے سے اس کا رزق اترتا ہے۔
پس جب بندہ مومن وفات پا جاتا ہے تو دونوں دروازے اس پر روتے ہیں۔ یہی اس فرمان باری کا مطلب ہے :
فما بکت علیہم السماء والارض۔ سورة دخان : 29
پھر نہ تو آسمان ان پر رویا نہ زمین۔ ترمذی غریب، ضعیف بروایت انس (رض)۔
کلام : امام ترمذی (رح) نے اپنی سنن میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کو غریب اور ضعیف قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہ غیر مستند ہے۔
پس جب بندہ مومن وفات پا جاتا ہے تو دونوں دروازے اس پر روتے ہیں۔ یہی اس فرمان باری کا مطلب ہے :
فما بکت علیہم السماء والارض۔ سورة دخان : 29
پھر نہ تو آسمان ان پر رویا نہ زمین۔ ترمذی غریب، ضعیف بروایت انس (رض)۔
کلام : امام ترمذی (رح) نے اپنی سنن میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کو غریب اور ضعیف قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہ غیر مستند ہے۔
3041- "دخان –2" "ما من مؤمن إلا وله بابان، باب يصعد منه عمله، وباب ينزل منه رزقه، فإذا مات بكيا عليه، فذلك قوله: {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ} . " "تغريب ضعيف عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3042: سورة الاحقاف۔ قوم عاد جس ہوا سے ہلاک ہوئے وہ ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر صرف انگوٹھی کے بقدر چھوڑی تھی۔ اس ہوا نے قوم عاد کے اہل دیہات اور ان کے مویشیوں کو اٹھایا اور زمین و آسمان کے درمیان لے گئی۔ پس جب قوم عاد کے شہر والوں نے اپنے اوپر بھرا ہوا بادل دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر پانی برسائے گا لیکن ہوا نے ان پر دیہات والوں کو اور ان کے مویشیوں کو اٹھا کر پھینکا (اور اہل دیہات اور اہل شہر سب کو نیست و نابود کردیا) ۔ (مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی بروایت ابن عمر (رض)) ۔
نوٹ : سورة الاحقاف 21 تا 26 ایک پورا رکوع اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تفاسیر میں رجوع فرمائیں۔
نوٹ : سورة الاحقاف 21 تا 26 ایک پورا رکوع اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تفاسیر میں رجوع فرمائیں۔
3042- "سورة الأحقاف" "ما فتح الله على عاد من الريح التي أهلكوا بها إلا مثل موضع الخاتم، فمرت بأهل البادية فحملتهم ومواشيهم فجعلتهم بين السماء والأرض، فلما رأى ذلك أهل الحاضرة من عاد الريح وما فيها قالوا هذا عارض ممطرنا، فألقت أهل البادية ومواشيهم على أهل الحاضرة". "ع طب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3043: سورة محمد۔ ہر بندہ کے چہرہ پر دو آنکھیں ہیں جن سے وہ دنیا کے معاملات کو دیکھتا ہے اور دو آنکھیں دل میں ہیں جن سے وہ آخرت کو دیکھتا ہے۔ لہٰذا جب اللہ پاک کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اس کے دل کی دونوں آنکھیں کھلوا کردیتے ہیں۔ پس وہ ان غائب کی چیزوں کو مشاہدہ کرتا ہے جن کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔
چنانچہ وہ غیب پر غیب کے ساتھ ایمان لے آتا ہے۔ اور اگر خدا کو اس کے ساتھ بھلائی منظور نہ ہوتی تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ام علی قلوب اقفا لہا۔ سورة محمد : 24
یا (ان کے) دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ مسند الدیلمی عن معاذ (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے کیونکہ مسند الفردوس علامہ دیلمی کی ضعیف مرویات کا مجموعہ ہے۔
چنانچہ وہ غیب پر غیب کے ساتھ ایمان لے آتا ہے۔ اور اگر خدا کو اس کے ساتھ بھلائی منظور نہ ہوتی تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ام علی قلوب اقفا لہا۔ سورة محمد : 24
یا (ان کے) دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ مسند الدیلمی عن معاذ (رض)۔
کلام : روایت ضعیف ہے کیونکہ مسند الفردوس علامہ دیلمی کی ضعیف مرویات کا مجموعہ ہے۔
3043- "القتال" "ما من عبد إلا وفي وجهه عينان يبصر بهما أمر الدنيا، وعينان في قلبه يبصر بهما أمر الآخرة، فإذا أراد الله بعبد خيرا فتح عينيه اللتين في قلبه، فأبصر بهما ما وعده بالغيب، فآمن بالغيب على الغيب، وإذا أراد به غير ذلك تركه على ما فيه، ثم قرأ: {أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} ". "الديلمي عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3044: سورة الحجرات : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (سورة الحجرات : 13)
لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو (اور) خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔
پس کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت ہے مگر تقوی کے ساتھ۔ اے گروہ قریش ! تم دنیا کو کاندھے پر لاوے ہوئے نہ آنا کہ اور لوگ آخرت لے کر آئیں میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کوئی فائدہ نہیں کرسکتا۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت عداد بن خالد)
فائدہ : عداد بن خالد مقام ؟ ؟ میں وفات پانے والے آخری صحابی رسول ہیں۔ اللہ پاک ہم کو تقوی کے ساتھ برتری عطا فرمائے۔ آمین۔
یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (سورة الحجرات : 13)
لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو (اور) خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔
پس کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت ہے مگر تقوی کے ساتھ۔ اے گروہ قریش ! تم دنیا کو کاندھے پر لاوے ہوئے نہ آنا کہ اور لوگ آخرت لے کر آئیں میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کوئی فائدہ نہیں کرسکتا۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت عداد بن خالد)
فائدہ : عداد بن خالد مقام ؟ ؟ میں وفات پانے والے آخری صحابی رسول ہیں۔ اللہ پاک ہم کو تقوی کے ساتھ برتری عطا فرمائے۔ آمین۔
3044- "الحجرات" "إن الله تعالى يقول: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} فليس لعربي على عجمي فضل، ولا لعجمي على عربي فضل، ولا لأسود على أبيض فضل، ولا لأبيض على أسود فضل، إلا بالتقوى، يا معشر قريش لا تجيئوا بالدنيا تحملونها على أعناقكم، ويجيء الناس بالآخرة، فإني لا أغني عنكم من الله شيئا". "طب عن العداء1بن خالد
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے اعمال صالحہ کا بدلہ۔
3045: سورة طور۔ اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کو بھی مومن تک بلند فرما دیں گے حتی کہ اس کے درجہ میں اولاد کو بھی جگہ عطا فرما دیں گے۔ خواہ اس سے عمل میں کم تر کیوں نہ ہو۔ تاکہ اس طرح مومن کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ مسند الفردوس للدیلمی بروایت ابن عباس (رض)۔
فائدہ : یہ روایت اگرچہ مسند الدیلمی کی ہے لیکن قرآن پاک سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے فرمان الہی ہے :
والذین آمنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الھقنا بہم ذریتہم وما التنہم من عملہم من شیئ۔ الطور : 21
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی (ان کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کمی نہ کریں گے۔
فائدہ : یہ روایت اگرچہ مسند الدیلمی کی ہے لیکن قرآن پاک سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے فرمان الہی ہے :
والذین آمنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الھقنا بہم ذریتہم وما التنہم من عملہم من شیئ۔ الطور : 21
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی (ان کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کمی نہ کریں گے۔
3045- "الطور" "إن الله تعالى ليرفع ذرية المؤمن إليه، حتى يلحقهم في درجته وإن كانوا دونه في العمل، لتقر بهم عينه". "الديلمي عن ابن عباس".
তাহকীক: