কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩০৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3092: مجھے حکم ہے کہ قرآن سات حروف پر پڑھوں۔ ان میں سے ہر ایک حرف کافی شافی ہے۔ ابن جریر بروایت ابن مسعود (رض)۔
3092- "أمرت أن اقرأ القرآن على سبعة أحرف، كلها شاف كاف". "ابن جرير عن ابن مسعود"1

1 هذا الحديث سقط من نظ. ومر بدون عزو برقم /3073/
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3093: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے اور قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ پس جو تم کو معلوم ہے اس پر عمل کرتے رو اور جس بات سے جاہل ہو اس کو اس کے عالم پر پیش کرو۔ ابن جریر، ابن حبان، الحجۃ لنصر المقدسی، الابانہ، الخطیب بروایت ابوہریرہ (رض) ۔

فائدہ : حضرت ہشام بن حکیم (رض) قریشی صحابی کسی قراءت پر قرآن پڑھ رہے تھے حضرت عمر (رض) نے سنا تو اس کو مختلف پایا جبکہ دونوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا تھا۔ حضرت عمر (رض) حضرت ہشام بن حکیم (رض) کو بارگاہ نبوت میں لے گئے۔ ایسے مواقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3093- "أنزل القرآن على سبعة أحرف، والمراء في القرآن كفر فما عرفتم منه فاعملوا به، وما جهلتم منه فردوه إلى عالمه". "ابن جرير حب ونصر المقدسي في الحجة وأبو نصر السجزي في الابانة خط عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3094: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے۔ ابن جریر بروایت ابن عمر (رض)۔
3094- "أنزل القرآن على سبعة أحرف كلها شاف كاف". "ابن جرير عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3095: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے جس حرف پر بھی پڑھوگے درست ہوگا۔ (مسند احمد، ابن جریر، الکبیر، الابانہ بروایت ام ایوب (رض)) ۔
3095- "أنزل القرآن على سبعة أحرف، أيتها قرأت أصبت". "حم وابن جرير طب وأبو نصر السجزي في الإبانة عن أم أيوب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3096: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے آمر (حکم دینے والا) زاجر (روکنے والا ترغیب (خوشخبری دینے والا) ترہیب (ڈرانے والا) جدل (مناظرہ کرنے والا) قصص اور مثالیں۔ ابن جریر بروایت ابی قلابہ (رض) ۔

فائدہ اس حدیث اور اس کی دوسری روایات اور اقوال سے بعض علماء نے سات حروف سے سات قراءت مراد نہیں لی ہیں بلکہ سات معانی اور مضامین مراد لیے ہیں۔ یہ رائے محل نظر اور بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ اس مضمون کی مرویات سے مراد صرف قرآن کے مضامین بیان کرنا مقصودیں نہ کہ قراءت۔ یہ دونوں بالکل جداگانہ چیزیں ہیں۔ کیونکہ حروف سے متعلق پیچھے جس قدر مرویات گزری ہیں سرسری نظر میں ان سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان سے الفاظ کا اختلاف مراد ہے نہ کہ معانی کا۔ نیز مضامین سے متعلق روایت جیسا کہ ابھی گزر اکثر درجہ صحت سے نیچے ہیں اور وہ بھی کم ہیں جبکہ حروف سے متعلق مروایت جن سے قراءت مراد ہیں تواتر کے ساتھ کثیر تعداد میں منقول ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3096- "أنزل القرآن على سبعة أحرف: آمر وزاجر وترغيب وترهيب وجدل وقصص ومثل". "ابن جرير عن أبي قلابة" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3097: قرآن چار حروف پر نازل کیا گیا ہے ایک تو حلال و حرام ہے اس سے جہالت کی وجہ سے کوئی معذور نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اور ایک تفسیر ہے جو عرب تفسیر کریں اور وہ تفسیر جو علماء بیان کریں۔ اور ایک حرف متشابہ ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اور اللہ کے سوا جو اس کو جاننے کا دعوی کرے وہ کاذب ہے۔ ابن جریر، الابانہ بروایت ابن عباس (رض)۔

کلام : علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں نظر ہے اور اس کو روایت کیا ہے ابن جریر، وابن المنذر اور ابن الانباری نے الوقت میں بروایت ابن عباس (رض)۔
3097- "أنزل القرآن على أربعة أحرف: حلال وحرام، لا يعذر أحد بالجهالة به، وتفسير تفسره العرب، وتفسيره تفسره العلماء، ومتشابه لا يعلمه إلا الله، ومن ادعى علمه سوى الله فهو كاذب". "ابن جرير وأبو نصر السجزي عن ابن عباس وقال ابن جرير: في إسناده نظر ورواه ابن جرير وابن المنذر وابن الأنباري في الوقف عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3098: اللہ عزوجل نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ ایک حرف پر قرآن پڑھاؤ۔ میں نے عرض کیا : اے پروردگار ! میری امت پر آسانی کا معاملہ فرمائیے۔ پروردگار نے فرمایا : دو حرفوں پر پڑھاؤ۔ اور (پھر) مجھے حکم دیا کہ سات حرفوں پر قرآن پڑھاؤ۔ جو جنت کے ساتھ دروازوں سے نکلے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہے۔ ابن جریر بروایت ابی (رض) ۔
3098- "إن الله عز وجل أمرني أن أقرأ القرآن على حرف فقلت رب خففه على أمتي، فقال: اقرأه على حرفين، وأمرني أن أقرأه على سبعة أحرف، من سبعة أبواب، من الجنة كلها شاف كاف". "ابن جرير عن أبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3099: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس تم قرآن میں نزاع مت کرو کیونکہ اس میں نزاع کفر ہے۔ ابن جریر والباوردی ابو نصر فی الابانہ بروایت ابن جہیم بن الحارث بن الصمۃ الانصاری۔
3099- "إن القرآن أنزل على سبعة أحرف، فلا تماروا في القرآن فإن المراء فيه كفر". "ابن جرير والباوردي" "وأبو نصر السجزي في الإبانة عن أبي جهيم "بن –1" الحارث بن الصمة الأنصاري".

1 من مسند الإمام أحمد
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3100: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس جو حرف آسان لگے اس پر قرآن پڑھو۔ بخاری، نسائی بروایت عمر (رض)۔
3100- "إن القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرأوا ما تيسر منه".

"خ ن عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3101: قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے پس جس کی حرف کی تم تلاوت کرو صحیح ہے۔ لیکن اس میں نزاع مت کرو۔ کیونکہ اس میں نزاع کفر ہے۔ الکبیر، الابانہ، لابی نصر عن عمر (رض) وابن العاص۔
3101- "إن القرآن أنزل على سبعة أحرف فأي ذلك قرأتم فقد أصبتم، فلا تماروا فيه، فإن المراء فيه كفر". "طب وأبو نصر السجزي في الإبانة عن عمرو بن العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3102: یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس (کسی حرف پر بھی) پڑھو کوئی حرف نہیں۔ لیکن رحمت کے ذکر کو عذاب کے ساتھ نہ جمع کرو اور نہ عذاب کا ذکر رحمت کے ساتھ۔ ابن جریر بروایت ابوہریرہ (رض)۔

نوٹ : 3080: رقم الحدیث پر اسی مضمون کی روایت گذری ہے تشریح ملاحظہ فرمالیں۔
3102- "إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرأوا ولا حرج، ولكن لا تجمعوا ذكر رحمة بعذاب، ولا ذكر عذاب برحمة". "ابن جرير عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3103: یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے پس جس حرف کو پڑھو درستی پر رہوگے لیکن اس میں جھگڑا مت کرو۔ کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ مسند احمد، بروایت عمر (رض) وابن العاص۔
3103- "إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فأي ذلك قرأتم فقد أصبتم، ولا تماروا فيه، فإن المراء كفر". "حم عن عمرو بن العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3104: یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے لہٰذا اس میں نزاع مت کرو۔ کیونکہ اس میں نزاع کفر ہے۔ البغوی فی المشکوۃ، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابی جہیم الانصاری۔
3104- "إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فلا تماروا فيه فإن المراء فيه كفر". "البغوي هب عن أبي جهيم الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3105: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : آپ کی امت سات حروف پر قرآن پڑھے گی۔ پس جو شخص ایک حرف پر قرآن پڑھے وہ ایسے ہی اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے دوسرے حرف کی طرف نہ لوٹے۔ دوسرے لفظوں میں آپ نے فرمایا : آپ کی امت میں ضعیف بھی ہیں۔ پس جو ایک حرف پر شروع کرے وہ اس سے اکتا کر (متنفر ہو کر ) دوسرے حرف پر پڑھنا نہ شروع کردے۔ مسند احمد، بروایت حذیفہ (رض)۔
3105- "قال لي جبريل: إن أمتك يقرأون القرآن على سبعة أحرف، فمن قرأ منهم على حرف فليقرأ كما علم ولا يرجع عنه، وفي لفظ: إن من أمتك الضعيف، فمن قرأ على حرف فلا يتحول منه إلى غيره رغبة عنه". "حم عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3106: ہمارے قرآنوں کو قریش یا ثقیف کے لڑکوں کے علاوہ اور کوئی نہ قریب لگیں۔ الخطیب بروایت جابر بن سمرہ (رض) ۔

فائدہ : جن دنوں میں قرآن لکھا جا رہا تھا حضرت عمر (رض) نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ قریش اور ثقیف کے نوجوان ہی قرآن پاک لکھوائیں ان کی فصیح زبان ہونے کی وجہ سے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چھوئے بھی نہ۔

کلام : اس کو متفرد بیان کرنا صرف احمد بن ابی العجوز سے منقول ہے۔ یعنی یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہونا موصوف کے علاوہ کسی اور سے ثابت نہیں۔ جبکہ عمر بن خطاب (رض) کے حوالہ سے یہ قول ثابت اور محفوظے۔

فائدہ : اس زمانے میں پڑھے لکھے حضرات زیادہ تر انہی دو قبائل سے تعلق رکھتے ہوں گے اس وجہ سے ایسا فرمایا۔ کیونکہ ان پڑھ قرآن کو کچھ کا کچھ پڑھیں گے۔ لہٰذا پڑھے لکھے حضرات خود پڑھ کر ان پڑھوں کو پڑھائیں اس کے بعد ان کے لیے مصاحف قرآن چھونے کی اجازت ہے۔ اس مضمون کی تائید ذیل کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
3106- "لا يلي مصاحفنا إلا غلمان قريش أو غلمان ثقيف""الخطيب عن جابر بن سمرة" وقال تفرد برفعه أحمد بن أبي العجوز وهو محفوظ من قول عمر بن الخطاب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی سات لغات :
3107: میں جبرائیل (علیہ السلام) سے مراء (قبا) کے پتھروں کے پاس ملا۔ میں نے کہا : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! مجھے ایسی ان پڑھ قوم کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد، عورت ، غلام لونڈی اور قریب المرگ بوڑھے ہیں جو کتاب نہیں پڑھ سکتے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا، قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ مسند احمد، بروایت حذیفہ (رض)۔
3107- "لقيت جبريل عند أحجار1 المراء فقلت يا جبريل: إني أرسلت إلى أمة أمية، الرجل والمرأة والغلام والجارية والشيخ الفاني الذي لا يقرأ كتابا، فقال: إن القرآن أنزل على سبعة أحرف". "حم عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔ سجدۃ تلاوت کے بیان میں۔
3108: جب ابن آدم آیت سجدہ تلاوت کرتا ہے پھر اس موقع پر سجدہ بھی کرلیتا ہے تو شیطان اس سے ہٹ کر روتا ہوا کہتا ہے : ہائے تباہی و بربادی ! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ملا، اس نے سجدہ کرلیا پس اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور مجھے سجدہ کا حکم ملا لیکن میں نے انکار کردیا پس میرے لیے جہنم واجب ہوگئی۔ مسند احمد، مسلم، ابن ماجہ بروایت ابوہریرہ (رض)۔
الفرع الثاني في سجود التلاوة

3108- "إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي يقول: يا ويلاه2 أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة، وأمرت بالسجود فعصيت فلي النار". "حم انتهى. عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔ سجدۃ تلاوت کے بیان میں۔
3109: سورة ص میں موجود سجدہ داؤد (علیہ السلام) نے توبہ کے واسطہ کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (پروردگار کے) شکر میں ادا کرتے ہیں۔ (الکبیر، حلیہ بروایت ابن عباس (رض))
3109- "السجدة التي في ص سجدها داود توبة، ونحن نسجدها شكرا". "طب حل عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔ سجدۃ تلاوت کے بیان میں۔
3110: یہ ایک نبی کی توبہ ہے یعنی سورة ص کا سجدہ۔ (ابوداود مستدرک بروایت ابو سعید (رض))
3110- "إنما هي توبة نبي، يعني سجدة ص". "د ك عن أبي سعيد".

الفرع الثالث في صلاة حفظ القرآن
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فرع۔۔۔ حفظ قرآن کی نماز کے بیان میں
3111: کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کے ساتھ اللہ تجھے نفع دے اور جس کو تو آگے سکھائے اس کو بھی نفع دے۔ جمعہ کی رات کو چار رکعات پڑھ۔ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة یس تلاوت کر۔ دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورة دخان تلاوت کر۔ تیسری رکعت میں فاتحہ اور سورة الم تنزیل سجدہ تلاوت کر اور چوتھی رکعت میں سورة تبارک الذی تلاوت کرت۔ پس جب تو آخری رکعت کے قعدہ میں مشہد سے فارغ ہوجائے تو اللہ کی حمد وثناء کر، تمام پیغمبروں پر درود پڑھ۔ اور مومنین کے لیے استغفار کر۔

پھر یہ دعا پڑھو : اللهم ارحمني بترک المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني من أن أتكلف مالا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام والعزة التي لا ترام أسألك يا اللہ يا رحمن بجلالک ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ کتابک کما علمتني وارزقني أن أتلوه علی النحو الذي يرضيك عني وأسألك أن تنور بالکتاب بصري وتطلق به لساني وتفرج به عن قلبي وتشرح به صدري وتستعمل به بدني وتقويني علی ذلک وتعينني عليه فإنه لا يعينني علی الخير غيرک ولا يوفق له إلا أنت۔

اے اللہ مجھ پر رحم فرما کہ میں گناہوں کو چھوڑ دوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔ اور مجھ پر رحم فرما کہ میں غیر مفید کاموں میں نہ لگوں اور مجھے ان کاموں میں مشغول رکھ جو تجھ کو مجھ سے راضی کریں۔ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، بزرگی اور عظمت کے مالک اور ایسی عزت کے مالک جو کبھی سرنگوں نہ ہوگی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ ! اے رحمن ! تیرے جلال کے طفیل، تیرے چہرے کے نور کے صدقہ یہ کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب کے حفظ کرنے میں لازم کر دے۔ جیسے کہ تو نے مجھے وہ کتاب سکھائی ہے اور مجھے توفیق بخش کہ میں اس کی اسی طرح تلاوت کرتا رہوں جس طرح تو مجھ سے راضی ہوجائے۔ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی کتاب کے ساتھ میری آنکھوں کو منور کردے میری زبان کو کھول دے، میرے دل کو کھول دے اور میرا سینہ کشادہ کردے، اسی کتاب میں میرے بدن کو مصروف رکھ اور اس کتاب پر مجھ کو قوت دے اور میری مدد فرما دے کیونکہ کسی خیر کے کام پر تیرے سوا کوئی میری مدد نہیں کرسکتا اور تیرے سوا کوئی خیر کی توفیق نہیں بخش سکتا۔

یہ عمل تو تین جمعہ یا پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک کر، ان شاء اللہ تو کتاب اللہ کو حفظ کرلے گا اور جو مومن یہ عمل کرے گا انشاء اللہ وہ حفظ کرنے سے پیچھے نہ رہے گا اور اس کا حفظ خطا نہ ہوگا۔ ترمذی ، الکبیر، مستدرک بروایت ابن عباس (رض)۔

کلام : ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات (خود ساختہ) احادیث میں شمار کیا ہے۔ مولف کتاب الجامع الصغیر علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں لیکن ان کی یہ بات صائب نہیں ہے۔ نیز اس روایت پر ضعف کا کلام کرتے ہوئے الکشف الالہی 1108 اور ضعیف الجامع 2172 میں یہ روایت ذکر کی گئی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3111 -"ألا أعلمك كلمات ينفعك الله بهن، وتنفع من علمته صل ليلة الجمعة أربعة ركعات، تقرأ في الركعة الأولى بفاتحة الكتاب ويس، وفي الثانية بفاتحة الكتاب وبحم الدخان، وفي الثالثة بفاتحة الكتاب وآلم تنزيل السجدة، وفي الرابعة بفاتحة الكتاب وتبارك المفضل فإذا فرغت من التشهد فاحمد الله، واثن عليه، وصلي على النبيين، واستغفر للمؤمنين، ثم قل: اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني، وارحمني من أن أتكلف مالا يعنيني، وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني، اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام، أسألك يا الله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ1 كتابك كما علمتني، وارزقني أن أتلوه على النحو الذي يرضيك عني، وأسألك أن تنور بالكتاب بصري، وتطلق به لساني، وتفرج به عن قلبي، وتشرح به صدري، وتستعمل به بدني وتقويني على ذلك، وتعينني عليه، فإنه لا يعينني على الخير غيرك ولا يوفق له إلا أنت، فافعل ذلك ثلاث جمع أو خمسا أو سبعا تحفظه بإذن الله وما أخطأ مؤمنا قط". "ت طب ك عن ابن عباس" وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب.
tahqiq

তাহকীক: