কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩১১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قوت حافظہ کا نسخہ :
3112: اے ابو الحسن (حضرت علی (رض) کی کنیت) میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کے ساتھ اللہ تجھے نفع دے اور یہ کلمات تو جس کو سکھائے اس کو بھی نفع دے اور جو تو سیکھے تیرے سینے میں ازبر کردے۔

پس جب جمعہ کی رات ہو اگر ہوسکے تو رات کے آخری تیسرے پہر میں کھڑا ہوجا کیونکہ یہ وقت فرشتوں کی حضوری کا ہے اور اس وقت دعا قبول ہوتی ہے اور میرے بھائی یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا سوف استغفرلکم ربی انہ ہو الغفور الرحیم میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔ لہٰذا انھوں نے جمعہ کی رات (اس گھڑی) میں دعا کی۔ لیکن اگر اس وقت نہ ہوسکے تو درمیان رات میں کھڑا ہوجا اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو شروع رات میں کھڑا ہوجا۔ اور چار رکعات نماز پڑھ۔ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور یس پڑھ۔ دوسری میں فاتحہ اور سورة دخان پڑھ تیسری میں فاتحہ اور الم تنزیل السجدۃ پڑھ اور چوتھی رکعت میں فاتحہ اور تبارک الذی پڑھ۔ پس جب تو تشہد سے فارغ ہوجائے تو اللہ کی حمد کر اور اچھی طرح اس کی ثناء بیان کر اور مجھ پر اچھی طرح درود بھیج اور تمام انبیاء پر درود بھیج اور اللہ سے تمام مومن مردوں اور عورتوں اور اپنے بھائیوں کے لیے استغفار کر جو تجھ سے پہلے جا چکے ہیں۔ پھر آخر میں یہ دعا پڑھ :

اللهم ارحمني بترک المعاصي ابدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام والعزة التي لا ترام أسألك يا اللہ يا رحمن بجلالک ونور وجهك أن تنور بکتابک بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تعمل به بدني فإنه لا يعينني علی الحق غيرک ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم۔

اے ابو الحسن۔ اللہ کے حکم سے تم یہ عمل تین یا پانچ یا سات جمعوں تک کرو۔ قسم ہے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کرنے والے کی ! یہ عمل کسی مومن کو حفظ سے خطا نہیں کرے گا۔ (ترمذی حسن غریب، الکبیر ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ، مستدرک و تعقب بروایت ابن عباس (رض)۔

کلام : ابن جوزی (رح) نے اس رایت کو موضوع من گھڑت احادیث میں شمار کیا ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا محل نظر ہے۔ علامہ ذہبی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث منکر اور شاذ ہے۔ اور مجھے اس کے موضوع ہونے کا اندیشہ ہے۔ مولف کتاب فرماتے ہیں واللہ مجھے اس روایت کی عمدہ سند نے متحیر کردیا ہے۔

اس کو امام ترمذی نے ابن عباس عن علی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یہ قرآن میرے سینے سے نکلا جاتا ہے اور میں اس پر قادر نیں ہوپاتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تجھے بھی اور جس کو سکھائے اسے بھی اللہ ان کے ساتھ نفع بخشے اور جو تو سیکھے اسے تیرے سینے میں مضبوط کردے تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا : بالکل یا رسول اللہ !
3112- "يا أبا الحسن أفلا أعلمك كلمات ينفعك الله بهن وينفع بهن من علمته ويثبت ما تعلمت في صدرك، إذا كان ليلة الجمعة فإن استطعت أن تقوم في ثلث الليل الآخر فإنها ساعة مشهودة، والدعاء فيها مستجاب، وقد قال أخي يعقوب لبنيه: {سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} ، وقال: حتى تأتي ليلة الجمعة، فإن لم تستطع فقم في وسطها، فإن لم تستطع ففي أولها، فصل أربع ركعات، تقرأ في الركعة الأولى بفاتحة الكتاب وسورة يس، وفي الركعة الثانية بفاتحة الكتاب وحم الدخان، وفي الركعة الثالثة بفاتحة الكتاب وآلم تنزيل السجدة، وفي الركعة الرابعة بفاتحة الكتاب وتبارك المفصل، فإذا فرغت من التشهد فاحمد الله فأحسن الثناء على الله، وصل علي وأحسن، وعلى سائر النبيين، واستغفر الله للمؤمنين والمؤمنات، ولإخوانك الذين سبقوك بالإيمان، ثم قل في آخر ذلك: اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني، وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني، وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني، اللهم بديع السموات والأرض، ذا الجلال والإكرام، والعزة التي لا ترام، أسألك يا الله يا رحمن، بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني، وارزقني أن أطلبهعلى النحو الذي يرضيك عني، اللهم بديع السموات والأرض، ذا الجلال والإكرام، والعزة التي لا ترام، أسألك يا الله يا رحمن بجلالك ونور وجهك، أن تنور بكتابك بصري وأن تطلق به لساني، وأن تفرج به عن قلبي، وأن تشرح به صدري وأن تعمل به بدني2، فإنه لا يعينني على الحق غيرك ولا يؤتيه إلا أنت، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، يا أبا الحسن تفعل ذلك ثلاث جمع أو خمسا أو سبعابإذن الله، والذي بعثني بالحق4 ما أخطأ مؤمنا قط". "ت حسن غريب طب وابن السني في عمل اليوم والليلة ك وتعقب عن ابن عباس" وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فتعقب وقال الذهبي: هذا حديث منكر شاذ أخاف لا يكون مصنوعا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب

دعا کے بارے میں۔ اس کی چھ فصلیں ہیں۔

پہلی فصل۔۔۔ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3113: " دعا ہی عبادت ہے "۔ مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، الادب للبخاری، ترمذی، ابو داود، نسائی ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک بروایت نعمان (رض) بن بشیر، مسند ابی یعلی، بروایت براء (رض) ۔

فائدہ : عبادت سے مقصود خدا کے سامنے انتہائی درجہ کا تذلل اور خشوع و خضوع ہے جو دعا میں بدرجہ اتم حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ خدا مانگنے سے خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے۔
3113- "الدعاء هو العبادة". "حم ش خد 4 حب ك عن النعمان ابن بشير" "ع عن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3114:۔۔۔ " دعا عبادت کا مغز ہے " (ابن ماجہ، ترمذی بروایت انس (رض))

کلام :۔۔۔ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے احادیث القصاص 44 ۔ ضعیف الترمذی : 669 ۔ ضعیف الجامع 3003 ۔ المشتہر 178 ۔ نصیحۃ الداعیہ 21 ۔
3114- "الدعاء مخ العبادة". "هـ –1" "ت –2عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3115: " عبادات میں سب سے اشرف عبادت دعا ہے "۔ البخاری فی الادب بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
3115- "أشرف العبادة الدعاء". "خدعن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3116: " دعا رحمت (الہی) کی چابی ہے، وضو نماز کی چابی ہے اور نماز جنت کی چابی "۔ الفردوس للدیلمی بروایت ابن عباس (رض)۔

کلام : روایت ضعیف ہے 3004:
3116- "الدعاء مفتاح الرحمة، والوضوء مفتاح الصلاة، والصلاة مفتاح الجنة". "فر عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3117: " دعاء مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ " مسند ابی یعلی، مستدرک بروایت علی (رض)۔

کلام : روایت ضعیف اور محل نظر ہے۔ دیکھئے الاتقان 777، تبییض الصحیفۃ 2 ۔ ذخیرۃ الحفاظ 2901 ۔ ضعیف الجامع 3001 ۔ الضعیفۃ 179 ۔ نصیحۃ الداعیہ 21 ۔
3117- "الدعاء سلاح المؤمن، وعماد الدين، ونور السموات والأرض". "ع ك عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3118: " دعاء قضا کو بھی ٹال دیتی ہے۔ نیکی رزق میں زیادتی کا سبب بنتی ہے اور بندہ اپنے گناہ کے سبب سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے " مستدرک الحاکم بروایت ثوبان (رض) ۔

کلام : ۔۔۔ اسنی المطالب 673 ۔ المشتہر 178 ۔ ضعیف الجامع 3006 ۔
3118- "الدعاء يرد القضاء، وإن البر يزيد في الرزق، فإن العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه". "ك عن ثوبان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3119: " دعا اللہ کے لشکروں میں سے ایک مسلح لشکر ہے جو قضاء کو ٹال دیتا ہے باوجود اس کے حتمی ہونے کے " ابن عساکر بروایت نمیر بن اوس مرسلا۔

کلام : ۔۔۔ دیکھئے روایت کا ضعف : الاتقان 780 ۔ ضعیف الجامع 3000 ۔ الضعیفۃ 1899 ۔
3119- "الدعاء جند من أجناد الله مجندة يرد القضاء، بعد أن يبرم". "ابن عساكر عن نمير بن أوس مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3120: " دعا کثرت سے کرو کیونکہ قضائے مبرم کو بھی ٹال دیتی ہے " ابو الشیخ بروایت انس (رض)۔

فائدہ : قضاء سے مراد تقدیر اور تقدیر ہے دو قسموں پر منحصر ہے تدیر معلق اور تقدیر مبرم۔ تقدیر معلق کسی بھی کام کے ساتھ معلق ہوتی ہے مثلا بندہ اگر خیر کا کام کرے گا تو اس کے لیے یہ بھلائی ہے ورنہ یہ برائی۔ اور تقدیر مبرم حتمی تقدیر کہلاتی ہے یعنی فلاں مصیبت بندہ پر پہنچ کر رہے گی۔ تو دعا تقدیر معلق تو کیا تقدیر مبرم کو بھی ٹال دیتی ہے۔ لیکن کوئی شے خدا کے علم سے باہر نہیں ہے۔

کلام : ضعیف الجامع 1102 ۔
3120- "أكثر من الدعاء، فإن الدعاء يرد القضاء المبرم". "أبو الشيخ عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3121: " دعا بلاء و مصیبت کو دفعہ کردیتی ہے " ابو الشیخ فی الثواب بروایت ابوہریرہ (رض)۔

کلام : ضعیف الجامع 3005 ۔ النواضح 743 ۔
3121- "الدعاء يرد البلاء". "أبو الشيخ في الثواب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3122: " دعا نازل شدہ مصیبت اور غیر نازل شدہ مصیبت دونوں میں سود مند ہے۔ پس اے اللہ کے بندو ! تم پر دعا لازم ہے "۔ مستدرک الحاکم بروایت ابن عمر (رض)۔
3122- "الدعاء ينفع مما نزل، ومما لم ينزل، فعليكم عباد الله بالدعاء". "ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3123: " کوئی حذر (احتیاط) قدر (تقدیر) سے نہیں بچا سکتی۔ لیکن دعا نازل شدہ اور غیر نازل شدہ دونوں مصیبتوں سے نفع دیتی ہے۔ پس اے بندگان خدا دعا کو چمٹ جاؤ "۔ مسند احمد، مسند ابی یعلی، الکبیر بروایت معاذ (رض)۔

کلام : ۔۔۔ دیکھئے ضعیف حدیث : الشذرۃ 426 ۔ ضعیف الجامع 4785 ۔ المقاصد الحسنۃ 486 ۔
3123- "لن ينفع حذر من قدر، ولكن الدعاء ينفع مما نزل، ومما لم ينزل، فعليكم بالدعاء عباد الله". "حم ع طب عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3124: " اللہ تعالیٰ رحیم، زندہ اور کریم ہے وہ حیا کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف دونوں ہاتھ اٹھائے اور وہ ان کو خالی لوٹا دے، اور ان میں کچھ خیر نہ ڈالے " مستدرک بروایت انس (رض)۔
3124- "إن الله رحيم حي كريم، يستحيي من عبده أن يرفع إليه يديه، ثم لا يضع فيهما خيرا". "ك عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3125: " اللہ تعالیٰ اس شخص پر غصہ ہوتے ہیں جو اللہ سے سوال نہ کرے اور یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ (کیونکہ باقی سب مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں) ۔ فردوس بروایت ابوہریرہ (رض) ۔

کلام : ضعیف الجامع 1747 ۔
3125- "إن الله يغضب على من لا يسأل، ولا يفعل ذلك أحد غيره" "فر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3126: " جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ پاک اس پر غضب ناک ہوتے ہیں " ترمذی بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
3126- "إنه من لم يسأل الله يغضب عليه"عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3127: " اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو مجھ سے دعا نہیں کرتا میں اس پر ناراض ہوتا ہوں " المواعظ للعسکری بروایت ابوہریرہ (رض)۔

کلام : ضعیف الجامع 4055 ۔
3127- "قال الله تعالى: من لا يدعوني أغضب عليه". "العسكري في المواعظ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں۔
3128: تمہارا پروردگار زندہ اور کریم ہے وہ حیا کرتا ہے کہ بندہ اس کے آگے ہاتھ پھیلائے اور وہ ان کو خالی لوٹا دے۔ ابو داؤد ابن ماجہ بروایت سلمان (رض)۔

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 1111
3128- "إن ربكم حيي كريم، يستحيي أن يبسط العبد يديه إليه فيردهما صفرا". "د هـ عن سلمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کا آخرت کے لیے ذخیرہ ہونا۔
3129: کوئی شخص دعا نہیں کرتا مگر وہ قبول کی جاتی ہے یا تو دنیا میں ہی جلد اس کو مقصود عطا کردیا جاتا ہے یا وہ دعا آخرت کے لیے ذخیرہ کرلی جاتی ہے یا اس کے گناہوں میں بقدر دعا کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ جب تک کہ وہ گناہ کی دعا نہ کرلے اور قطع رحمی کی دعا نہ کرلے اور جلدی نہ کرے کہ کہے میں نے تو پروردگار سے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی۔ ترمذی کتاب الدعوات بروایت ابوہریرہ (رض)۔
3129- "ما من رجل يدعو بدعاء إلا استجيب له، فأما أن يعجل له في الدنيا، وإما أن يدخر في الآخرة، وإما أن يكفر عنه من ذنوبه بقدر ما دعا، ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم أو يستعجل يقول: دعوت ربي فما استجاب لي". "ت عن أبي هريرة". كتاب الدعوات برقم/3602/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کا آخرت کے لیے ذخیرہ ہونا۔
3130: جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لیے رحمت کے سب دروازے کھل گئے اور اللہ عزوجل سے اس سے اچھی کوئی دعا نہیں مانگی گئی۔ کہ کوئی اس سے عاقبت کی دعا کرے۔ دعا پیش آمدہ اور غیر پیش آمدہ دونوں مصیبتوں کے لیے نفع دہ ہے۔ پس اے بندگان خدا تم پر دعا لازمی ہے۔ ترمذی مستدرک بروایت ابن عمر (رض)۔

کلام : ضعیف الجامع 5720 ۔
3130- "من فتح له منكم باب الدعاء فتحت له أبواب الرحمة، وما سئل الله شيئا أحب إليه من أن يسأل العافية، إن الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل، فعليكم عباد الله بالدعاء". "ت ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کا آخرت کے لیے ذخیرہ ہونا۔
3131: بندہ پر جب دعا کھول دی جائے تو وہ اپنے پروردگار سے دعا کرے کیونکہ پروردگار اس کو قبول فرماتا ہے۔ ترمذی بروایت ابن عمر (رض)، الحکیم بروایت انس (رض)۔
3131- "إذا فتح على العبد الدعاء فليدع ربه، فإن الله يستجيب له". "ت عن ابن عمر" "الحكيم عن أنس".
tahqiq

তাহকীক: