কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩৩৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3392: اللہ عزوجل آسمان دنیا کے دروازے کھول دیتے ہیں پھر اپنے ہاتھ پھیلا کر فرماتے ہیں : کیا ہے کوئی بندہ مجھ سے سوال کرنے والا میں اس کو عطا کروں گا۔ اسی طرح (پروردگار فرماتے رہتے ہیں) حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ ابن عساکر عن ابن مسعود (رض)۔
3392- "إن الله عز وجل يفتح أبواب السماء الدنيا ثم يبسط يديه: ألا عبد يسألني، فأعطيه، فلا يزال كذلك حتى يسطع الفجر". "كر عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3393: رمضان میں اول و آخر تہائی رات گزرنے کے بعد ایک منادی نداء دیتا ہے : کیا ہے کوئی سائل اس کو عطا کیا جائے ؟ کیا ہے کوئی گناہوں کی بخشش چاہنے والا اس کے گناہ بخش دیے جائیں ؟ کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا اس کی توبہ قبول کی جائے۔ (شعب الایمان للبیہقی عن ابن عباس (رض)) ۔
3393- "إن في رمضان ينادي مناد بعد ثلث الليل الأول، وثلث الليل الآخر: ألا سائل يسأل فيعطى، ألا مستغفر يستغفر فيغفر له ألا تائب يتوب فيتوب الله عليه". "هب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3394: رات میں ایک ایسی گھڑی ہے اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پس پروردگار فرماتے ہیں : ہے کوئی سائل میں اس کو عطا کروں، ہے کوئی داعی میں اس کی دعا قبول کروں، ہے کوئی بخشش کا طلبگار میں اس کی بخشش قبول کروں۔

ایک مرتبہ حضرت داؤد (علیہ السلام) رات کے وقت نکلے اور فرمایا : رات کے وقت کوئی شخص اللہ سے کسی شے کا سوال نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کو وہ شے عطا فرماتے ہیں سوائے جادو گر اور عشر وصول کرنے والے کے۔ (مسند احمد، الکبیر للطبرانی عن عثمان بن ابی العاص)
3394- "إن في الليل ساعة تفتح فيها أبواب السماء فيقول: هل من سائل فأعطيه، هل من داع فأستجيب له، هل من مستغفر فأغفر له، وإن داود خرج ذات ليلة، فقال: لا يسأل الله الليلة أحد شيئا إلا أعطاه إياه، إلا ساحر أو عشار". "حم طب عن عثمان بن أبي العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3395: حضرت داؤد (علیہ السلام) رات کی ایک گھڑی میں اپنے اہل خانہ کو جگا دیتے اور فرماتے : اے آل داود، کھڑے ہو اور نماز پڑھو۔ اس گھڑی میں دعا قبول کی جاتی ہے۔ سوائے ساحر اور عشاء کی دعا کے۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر عن عثمان بن ابی العاص۔
3395- "إن داود كان يوقظ أهله ساعة من الليل يقول: يا آل داود قوموا فصلوا فإن هذه الساعة يستجاب فيها الدعاء إلا لساحر أو عشار". "ع كر عن عثمان بن أبي العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3396: داؤد (علیہ السلام) رات کی ایک گھڑی میں اپنے گھر والوں کو جگا دیتے تھے اور فرماتے تھے : اے آل داؤد ! کھڑے ہو کر نماز پڑھو اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتے ہیں سوائے جادو گر اور عشر وصول کرنے والے کے۔ (مسند احمد، مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی عن عثمان بن ابی العاص) ۔

فائدہ : عشر وصول کرنے والے بعض اوقات عوام پر ظلم کرتے ہیں۔ رشوت ستانی کے ساتھ کم زیادہ کرتے ہیں۔ ورنہ ناجائز بوجھ ڈالتے ہیں۔ اور اگر عدل کے ساتھ عشر وصول کیا جائے تب کوئی حرج نہیں جس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ تفصیل کے لیے کتب فقہ دیکھی جائیں۔

کلام : الضعیفۃ 1962:
3396- "كان لداود عليه السلام من الليل ساعة يوقظ فيها أهله يقول يا آل داود قوموا فصلوا فإن هذه الساعة يستجيب الله فيها الدعاء إلا لساحر أو عشار" 1. "حم ع طب عن عثمان بن أبي العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3397: ہر رات اللہ عزوجل آسمان دنیا پر نازل ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں : ہے کوئی دعا کرنے والا جس کی دعا میں قبول کروں۔ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا میں اس کی مغفرت کروں۔ الکبیر للطبرانی عن عثمان بن ابی العاص۔
3397- "إن الله عز وجل ينزل إلى السماء الدنيا في كل ليلة، فيقول: هل من داع فأستجيب له؟ هل من مستغفر فأغفر له؟ ". "طب عن عثمان بن أبي العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3398: اللہ عزوجل سماء عالی سے آسمان دنیا پر نازل ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں : کیا ہے کوئی سائل ؟ کیا ہے کوئی مغفرت کا خواہاں ؟ کیا ہے کوئی دعا مانگنے والا ؟ حتی کہ جب فجر طلوع ہوجاتی ہے تو اللہ عزوجل اوپر بلند ہوجاتے ہیں۔ الکبیر للطبرانی، البغوی عن ابی الخطاب (رض) ۔
3398- "إن الله عز وجل يهبط من السماء العليا إلى السماء الدنيا فيقول: هل من سائل؟ هل من مستغفر؟ هل من داع؟ حتى إذا طلع الفجر ارتفع". "طب والبغوي عن أبي الخطاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3399: جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور فرماتے ہیں : کون مجھے پکارتا ہے، میں اس کی دعا قبول کروں گا، کون مجھ سے استغفار کرتا ہے میں اس کی بخشش کروں گا، کون مجھ سے مصیبت کا چھٹکارا چاہتا ہے میں اس کی مصیبت دور کروں گا، کون مجھ سے رزق مانگتا ہے میں اس کو رزق عطا کروں گا۔
3399- "إذا بقي ثلث الليل، ينزل الله إلى سماء الدنيا، فيقول: من ذا الذي يدعوني أستجيب له؟ من ذا الذي يستغفرني أغفر له؟ من ذا الذي يستكشف الضر؟ أكشف عنه، من ذا الذي يسترزقني؟ أرزقه ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3400: جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور فرماتے ہیں : کون مجھے پکارتا ہے میں اس کی دعا قبول کروں گا، کون مجھ سے استغفار کرتا ہے میں اس کی بخشش کروں گا، کون مجھ سے مصیبت کا چھٹکارا چاہتا ہے میں اس کی مصیبت دور کروں گا، کون مجھ سے رزق مانگتا ہے میں اس کو رزق عطا کروں گا۔ حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ ابن النجار عن ابوہریرہ (رض)۔
3400- "إذا بقي ثلث الليل، ينزل الله إلى سماء الدنيا، فيقول: من ذا الذي يدعوني أستجيب له؟ من ذا الذي يستغفرني أغفر له؟ من ذا الذي يستكشف الضر؟ أكشف عنه، من ذا الذي يسترزقني؟ أرزقه حتى ينفجر الفجر". "ابن النجار عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3401: جب رات ایک تہائی باقی رہ جاتی ہے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : کون مجھ سے مصیبت کی خلاصی چاہتا ہے میں اس کی مصیبت ختم کروں گا، کون رزق کا سوال کرتا ہے میں اس کو رزق فراہم کروں گا، کون مجھ سے سوال کرتا ہے میں اس کو عطا کروں گا۔ (الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی عن ابوہریرہ (رض))
3401- "إذا بقي ثلث الليل، قال الله تبارك وتعالى: من ذا الذي يستكشف الضر أكشفه عنه، من ذا الذي يسترزقني أرزقه، من ذا الذي يسألني أعطيه". "طب هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3402: جب آخری تہائی رات باقی بچ جاتی ہے تو رحمن تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اپنا ہاتھ پھیلا کر ارشاد فرماتے ہیں : ہے کوئی دعا مانگنے والا میں اس کی دعا قبول کروں، ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اس کی توبہ قبول کروں، ہے کوئی بخشش کا طلبگار میں اس کی بخشش کروں۔ حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے تو پروردگار اپنے عرش پر مستوی ہوجاتے ہیں۔ البغوی من عبدالحمید بن سلمہ عن ابیہ عن جدہ۔
3402- "إذا بقي ثلث الليل الباقي نزل الرحمن تبارك وتعالى إلى سماء الدنيا، فبسط يده، ألا داع يدعوني فأستجيب له، ألا تائب يتوب فأتوب عليه، ألا مستغفر يستغفرني فأغفر له، حتى إذا طلع الفجر صعد على عرشه". "البغوي عن عبد الحميد بن سلمة عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا۔
3403: آخری رات اور فرض نمازوں کے بعد۔ (ترمذی حسن، نسائی، السنن لسعید بن منصور عن ابی امامہ (رض) ۔

فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون (سے وقت) دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب عنایت فرمایا۔
3403- "جوف الليل الآخر، ودبر الصلاة المكتوبات". "ت حسن ن ص عن أبي أمامة" قال: قيل يا رسول الله أي الدعاء أسمع قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3404: آخر رات کا پیٹ۔ " الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)) ۔

فائدہ : ایک شخص نے عرض کیا رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔

3405: آخر رات کا حصہ اور بہت کم اس کو (آباد) کرنے والے ہیں۔ (مسند احمد، نسائی، مسند ابی یعلی، ابن حبان الرویانی، السنن لسعید بن منصور عن ابن ذر (رض) )

حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : رات کے کس پہر کا قیام (بہتر اور) افضل ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
3404- "جوف الليل الآخر". "طب عن ابن عمر" أن رجلا قال يا رسول الله: أي الليل أجوب دعوة، قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3405: آخر رات کا حصہ اور بہت کم اس کو (آباد) کرنے والے ہیں۔ (مسند احمد، نسائی، مسند ابی یعلی، ابن حبان الرویانی، السنن لسعید بن منصور عن ابن ذر (رض) )

حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : رات کے کس پہر کا قیام (بہتر اور) افضل ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
3405- "جوف الليل الآخر وقليل فاعله". "حم ن ع حب والروياني ص عن أبي ذر قال سألت النبي صلى الله عليه وسلم: أي قيام الليل أفضل؟ قال فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3406: آخر رات کا حصہ پھر مقبول نماز ہے (یعنی تہجد) حتی کہ فرض نماز پڑھ لی جائے۔ اس کے بعد کوئی نماز نہیں حتی کہ سورج ایک نیزے یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہوجائے۔ پھر مقبول نماز ہے۔ (یعنی اشراق کے نوافل) حتی کہ ہر شئی کا سایہ ایک نیزے کے بقدر ہوجائے پھر کوئی نماز نہیں حتی کہ زوال شمس ہوجائے۔ پھر مقبول نماز ہے۔ (زوال کے نوافل) حتی کہ ہر شے کا سایہ ایک نیزے یا دو نیزے کے بقدر ہوجائے۔ پھر کوئی نماز نہیں۔ حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔ (الکبیر للطربانی عن ابی سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف عن ابیہ مسند احمد، الکبیر للطبرانی، عن مرۃ بن کعب البہزی)

فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ رات کے کس حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جواب مرحمت فرمایا کہ رات کے آخری حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے اس کے بعد تہجد کی نماز ہے فجر (کے فرض) سے پہلے تک۔ پھر اشراق کی نماز ہے اس کے بعد چاشت کی نماز ہے یہ زوال شمس سے پہلے کی دو نفل نمازیں ہیں جبکہ چاشت کی نماز کا حدیث میں ذکر نہیں۔ اس کے بعد زوال شمس ہے پھر زوال شمس کے نفل ہیں۔ یعنی رات کے آخری حصے میں اور دن کے ان اوقات میں نفل نمازیں ہیں اور ان کے بعد دعا قبول کی جاتی ہے۔
3406- "جوف الليل الآخر، ثم الصلاة مقبولة حتى يصلي الفجر ثم لا صلاة حتى تكون الشمس قدر رمح أو رمحين، ثم الصلاة مقبولة حتى يقوم الظل قيام الرمح، ثم لا صلاة حتى تزول الشمس، ثم الصلاة مقبولة حتى تكون الشمس قدر رمح أو رمحين، ثم لا صلاة حتى تغيب الشمس". "طب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه" قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الليل أسمع؟ قال فذكره "حم طب عن مرة بن كعب البهزي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3407: رات کے آخری حصے کا حکم، اس میں جس قدر ہوسکے نفل نماز پڑھو۔ بیشک اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں حتی کہ صبح کی نماز کا وقت ہوجائے۔ پھر (نفل سے) رک جا حتی کہ سورج طلوع ہوجائے۔ اور طلوع ہو کر ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہوجائے۔ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کفار اس کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ پھر (یہ اشراق کا وقت ہے) جو چاہے نماز پڑھے۔ یہ نماز بھی فرشتوں کی حضور کی ہے۔ حتی کہ عصر کی نماز پڑھی جائے۔ (اس کے درمیان سوائے زوال کے وقت کے سارا وقت نوافل کا ہے) ۔ پھر عصر کے بعد (نفل سے) رک جا حتی کہ سورج غروب ہوجائے کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ اور کفار سورج کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ ابو داؤد الکبیر للطبرانی مسدتدرک الحاکم عن عمرو بن عبسۃ۔

فائدہ : حضرت عمرو بن عبسہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! رات کا کون سا حصہ زیادہ دعا سنے جانے کے لائق ہے ؟ تو آپ نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔ (مستدرک میں امام حاکم نے یہ اضافہ نقل فرمایا ہے) پھر جب تو وضو کرے تو پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لے، کیونکہ جب تو ہاتھوں کو دھوئے گا تو تیرے (ہاتھوں کے) گناہ تیری انگلیوں کے پوروں سے نکل جائیں گے۔ پھر جب تو اپنا چہرہ دھوئے گا تو تیرے (چہرے کے) گناہ تیرے چہرے سے نکل جائیں گے۔ پھر جب تو کلی کرے گا اور ناک صاف کرے گا تو تیرے نتھنوں سے گناہ نکل جائیں گے پھر جب تو سر کا مسح کرے گا تو سر کے بالوں کے سروں سے گناہ نکل جائیں گے۔ اور جب تو پاؤں دھوئے گا تو پاؤں سے تیرے گناہ نکل جائیں گے۔ پس اگر تو اپنی جگہ بیٹھا رہے تو تیرے وضو کا ثواب رہے گا اور اگر تو اٹھ کر اپنے رب کو یاد کرے اور اس کی حمد وثناء کرے اور دل کی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے تو تو اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے گا گویا آج تیری ماں نے تجھے جنم دیا ہے۔
3407- "جوف الليل الآخر فصل ما شئت، فإن الصلاة مشهودة مكتوبة حتى يصلي الصبح، ثم اقصر حتى تطلع الشمس، فتطلع فترتفع قيس رمح أو رمحين، فإنها تطلع بين قرني شيطان، ويصلي لها الكفار ثم صل ما شئت فإن الصلاة مشهودة مكتوبة، حتى يعدل الرمح ظله ثم اقصر، فإن جهنم تسجر وتفتح أبوابها، فإذا زاغت الشمس فصل ما شئت، فإن الصلاة مشهودة حتى يصلي العصر، ثم اقصر حتى تغرب الشمس، فإنها تغرب بين قرني شيطان، ويصلي لها الكفار". "د طب ك عن عمرو بن عبسة" أنه قال يا رسول الله: أي الليل أسمع؟ قال فذكره، زاد "ك" "وإذا توضأت1 فاغسل يديك، فإنك إذا غسلت يديك خرجت خطاياك من أظفار أناملك، ثم إذا غسلت وجهك خرجت خطاياك من وجهك، ثم إذا مضمضت واستنثرت، خرجت خطاياك من مناخرك، ثم إذا غسلت يديك خرجت من ذراعيك، ثم إذا مسحت برأسك خرجت خطاياك من أطراف شعرك، ثم إذا غسلت رجليك خرجت خطاياك من رجليك، فإن ثبت في مجلسك كان ذلك حظا من وضوءك، وإذا قمت فذكرت ربك وحمدته وركعت ركعتين مقبلا عليهما من قلبك كنت من خطاياك كيوم ولدتك أمك".

__________

1 هذا في الأصل حديث مستقل فألحقناه بما قبله لأنه كذلك في مسند أحمد والسياق يقتضيه - ح
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3408: جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور فرماتے ہیں ! کیا میرے بندوں میں سے کوئی بندہ ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ کیا کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے ؟ جو مجھے یاد کرے میں اس کی بخشش کردوں گا۔ کیا کوئی رزق کی تنگی میں مبتلا ہے ؟ کیا کوئی مظلوم ہے ؟ جو مجھے یاد کرے، میں اس کی مدد کروں گا۔ کیا کوئی قیدی ہے ؟ میں اس کو رہا کروں گا۔ پس صبح تک یہ سماں بندھا رہتا ہے حتی کہ صبح ہوجاتی ہے پھر اللہ عزوجل اپنی کرسی پر بلند ہوجاتے ہیں۔ الکبیر للطبرانی عن عبادۃ بن الصامت۔
3408- "ينزل الله تبارك وتعالى إلى سماء الدنيا، حين يبقى ثلث الليل، فيقول: ألا عبد من عبادي يدعوني، فأستجيب له، ألا ظالم لنفسه يدعوني فأغفر له، ألا مقتر رزقه، ألا مظلوم يدعوني فأنصره ألا عان يدعوني فأفك عانه، فيكون كذلك حتى يصبح الصبح، ثم يعلوا عز وجل على كرسيه". "طب عن عبادة بن الصامت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3409: رات کی آخری تین گھڑیوں میں پروردگار عزوجل اترتے ہیں اور پہلی گھڑی میں کتاب (تقدیر) میں نظر فرماتے ہیں جو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں۔ دوسری گھڑی میں جنات عدن میں نظر فرماتے ہیں یہ وہ مسکن ہے جس میں رہنے والا انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ رہے گا۔ اس میں وہ نعمتیں ہیں جو کسی نے نہیں دیکھیں، نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گذرا۔ پھر پروردگار آخری گھڑی میں اترتے ہیں اور فرماتے ہیں : کوئی مغفرت چاہنے والا نہیں ہے میں اس کی مغفرت کروں۔ کوئی سائل نہیں ہے میں اس کا سوال پورا کروں۔ کوئی دعا مانگنے والا نہیں اس کی دعا قبول کروں۔ حتی کہ پھر فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ اور یہ خدا کا فرمان ہے :

وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا۔ الاسراء : 78 ۔

پس اللہ، رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ اس وقت جلوہ افروز ہوتے ہیں : (ابن جریر، ابن ابی حاتم، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ عن الدرداء (رض) )

کلام : المتناہیہ 21 ۔
3409- "ينزل الله تعالى في آخر ثلاث ساعات يبقين من الليل فينظر الله في الساعة الأولى منهن في الكتاب، الذي لا ينظر فيه غيره فيمحو ما يشاء ويثبت، ثم ينظر في الساعة الثانية جنات عدن، وهي مسكنه الذي يسكن لا يكون معه فيها أحد إلا الأنبياء والشهداء والصديقون، وفيها ما لم يره أحد، ولا خطر على قلب بشر، ثم يهبط آخر ساعة من الليل، فيقول: ألا مستغفر يستغفرني فأغفر له، ألا سائل يسألني فأعطيه، ألا داع يدعوني فأستجيب له، حتى يطلع الفجر، وذلك قوله: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوداً} فيشهده الله، وملائكة الليل والنهار". "ابن جرير وابن أبي حاتم طب وابن مردويه عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخری رات میں دعا
3410: جب رات کا آخری نصف یا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں : کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو عطا کروں گا۔ کون ہے جو مجھ سے اپنی مغفرت چاہے میں اس کی مغفرت کروں گا۔ (پروردگار یہ اعلان فرماتے رہتے ہیں) حتی کہ صبح کی سفیدی رونما ہوجاتی ہے اور قاری فجر کی نماز سے لوٹ آتا ہے۔ (ابن النجار عن ابوہریرہ (رض))
3410- "ينزل الله في كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى نصف الليل الآخر أو ثلث الليل الآخر، فيقول: من ذا الذي يدعوني فأستجيب له، من ذا الذي يسألني فأعطيه، من ذا الذي يستغفرني فأغفر له، حتى ينصدع الفجر وينصرف القارئ من صلاة الفجر". "ابن النجار عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچویں فصل۔۔۔ مختلف اوقات کی دعائیں۔

اس میں چار فروع ہیں۔

پہلی فرع۔۔۔ رنج و غم اور مصیبت کی دعاؤں کے بارے میں۔
3411: جب تم میں سے کسی کو کوئی غم یا تکلیف پہنچے تو وہ کہے : اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا۔ اللہ میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ الاوسط للطبرانی عن عائشۃ (رض)۔
الفصل الخامس في أدعية موقتة وفيه أربعة فروع

الفرع الأول في أدعية الهم والحزن والكرب

3411- "إذا أصاب أحدكم هم أو لأواء فليقل: الله الله ربي لا أشرك به شيئا". "طس عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: