কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৬১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35603 ۔۔۔ سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نماز میں ادھر ادھر نہیں متوجہ ہوتے تھے۔ (احمدفیہ)
35603- عن سهل بن سعد قال: كان أبو بكر لا يلتفت في صلاته. "حم فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35604 ۔۔۔ معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ دنیا ابوبکر (رض) کی طرف رخ نہیں کیا اور بکر نے دنیا کی طرف رخ نہیں کیا دنیا نے ابن خطاب کا رخ کیا تھا لیکن ابن خطاب نے دنیا کو من نہیں لگایا۔ (احمد)
35604- عن معاوية بن أبي سفيان قال: إن الدنيا لم ترد أبا بكر ولم يردها، وأرادت ابن الخطاب فلم يردها. "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35605 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے زمانہ اسلام میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا یہاں تک دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انھوں نے ار عثمان غنی (رض) نے اور جاہلیت ہی میں شراب کو حرام کرلیا تھا۔ (ابن ابی عاصم فی اسنہ)
35605- عن عائشة أن أبا بكر لم يقل شعرا في الإسلام قط حتى مات، وأنه قد كان حرم الخمر هو وعثمان في الجاهلية. "ابن أبي عاصم في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35606 ۔۔۔ زید بن علی بن حسین (رض) سے روایت ہے کہ میں نے آپ نے والد علی بن حسین (رض) سے سنا کہ وہ کہتے ہیں میں نے ابوالحشین بن علی (رض) سے سنا ہو کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر (رض) سے کہا اے ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے بہتر شخص کون ہے مجھ سے فرمایا تمہارے والد میں نے اپنے والد علی (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ فرمایا ابوبکر (رض) ہیں۔ (الدغولی ابن عساکر)
35606- عن زيد بن علي بن الحسين قال: سمعت أبي علي بن الحسين يقول: سمعت أبي الحسين بن علي يقول: قلت لأبي بكر: يا أبا بكر! من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال لي: أبوك، فسألت أبي عليا فقلت: من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر. "الدغولي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35607 ۔۔۔ ابوصالح غفاری (رض) سے روایت ہے بلکہ عمر بن خطاب (رض) مدینہ منورہ کے بعض اطراف میں ایک نابینا بڑھیا کی خدمت کرتے تھے رات اس کا پانی بھر اور اس کی ضروریات پوری کردینا لیکن جب بھی وہاں آئے تو دیکھتے کسی نے پہلے ہی آکر یہ کام پورا کردیا ہے کئی مرتبہ کوشش کی ان سے آگے کوئی نہ پڑھ خود کام کرے لیکن ایسانہ ہوسکا ایک مرتبہ تاک میں بیٹھے تاکہ معلوم ہوسکتے یہ خدمت کون انجام دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں جو یہ کام پورا کرجاتا ہیں حالانکہ اس وہ خلیفہ تھے عمر (رض) نے کہا اللہ کی قسم آپ ہی اس کا حقدار تھے ۔ (خطیب بغدادی)
35607- عن أبي صالح الغفاري أن عمر بن الخطاب كان يتعاهد عجوزا كبيرة عمياء في بعض حواشي المدينة من الليل فيستسقي لها ويقوم بأمرها، وكان إذا جاءها وجد غيره قد سبقه إليها فأصلح ما أرادت، فجاءها غير مرة فلا يسبق إليها، فرصده عمر فإذا هو بأبي بكر الصديق الذي يأتيها وهو خليفة، فقال عمر: أنت لعمري. "خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35608 ۔۔۔ مالک (رح) سے روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک شخص نے ابوبکر صدیق (رض) کو ایک ضرورت سے بلایا کہ ان کے ساتھ جلے تاکہ کہیں ایسانہ ہوعادی راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ پہ چلتے لگے ابوبکر (رض) نے پوچھا کہ اس راستہ پر کہاں جانا چاہتے ہیں بتایا اس راستہ پر کچھ لوگ ہیں ان کے سامنے سے گذرنے میں شرم آتی ہے ابوبکر (رض) نے فرمایا مجھے اے راستہ پرچلنے کی دعوت دے رہے ہو جس سے شرم ماتے ہو میں تمہارے ساتھ کہیں جاؤ گا اس کے ساتھ جان سے نکار کردیا۔ (الزبیر ابن نجار)
35608- عن مالك أن رجلا دعا أبا بكر الصديق في الجاهلية إلى حاجة له استصحبه أن لا يمر في طريق غير التي يمر فيها، فقال أبو بكر: أين تذهب عن هذه الطريق؟ قال: إن فيها ناسا نستحي منهم أن نمر عليهم، فقال أبو بكر: تدعوني إلى طريق تستحي منها! ما أنا بالذي أصاحبك فأبى أن يتبعه. "الزبير ابن بكار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35609 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے زمانہ جاہلیت میں شراب کو اپنے وپر حرام کرلیا چنانچہ انھوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اور اسلام کبھی شراب نہیں پیا اس کی وجہ یہ ہوئی ان کا شرابی پر گذر ہوا جو نشہ کی حالت میں تھا وہ پائخانہ میں ہاتھ مارکر اپنے منہ کے قریب کررہا تھا جب اس کی بو آتی اس سے اعراض کرتا ابوبکر (رض) نے فرمایا اس مسکین کو معلوم کیا کرتا ہے اس لیے شراب کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ (حلیة الاولیاء)
35609- عن عائشة قالت: حرم أبو بكر الخمر في الجاهلية فلم يشربها في جاهلية ولا إسلام؛ وذلك أنه مر برجل سكران يضع يده في العذرة ويدنيها من فيه فإذا وجد ريحها صدف عنها، فقال أبو بكر: إن هذا لا يدري ما يصنع، فحرمها. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی سخاوت
35610 ۔۔۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل میں یہ بات داخل ہے کہ انھوں کبھی ایک لمحہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کیا۔ (الاکائی)
35610- عن ابن شهاب قال: كان من فضائل أبي بكر الصديق أنه لم يكفر بالله ساعة. "اللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی سخاوت
35611 ۔۔۔ عر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اتفاق سے اس دن میرے پاس مال تھا میں نے اپنے دل میں کہا آج میں ابوبکر صدیق (رض) سے آگے بڑھ جاؤ گا چنانچہ میں ادھا مال لے کر حاضر ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے کہا ان کے لیے چھوڑ آیا ہوں پوچھا کتنا چھوڑ آئے ؟ میں نے کہا جتنے یہاں لایا اتنا گھر چھوڑ آباؤں ابوبکر (رض) نے اپنے پاس جو کچھ تھا سب لاکر حاضر کردیا پوچھا اے ابوبکر گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو عرض کیا ان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آباہوں اس نے وقت میں نے کہا میں ان سے کبھی سبقت نہیں کرسکتا۔ (الدارمی ابوداؤد ترمذی اور کہا پر حدیث حسن ہے وانساشی ابن ابی عاصم ابن شاہین فی السنہ حاکم حلیة الاولیا بیہقی ضیاء مقدسی)
35611- عن عمر: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما أن نتصدق ووافق ذلك مالا عندي، فقلت: اليوم أسبق أبا بكر إن سبقته يوما، فجئت بنصف مالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أبقيت لأهلك"؟ قلت، أبقيت لهم، قال: "ما أبقيت لهم"؟ قلت: مثله، وأتى أبو بكر بكل ما عنده، فقال: " يا أبا بكر! ما أبقيت لأهلك"؟ فقال: أبقيت لهم الله ورسوله. قلت: لا أسبقه إلى شيء أبدا. "الدارمي، د، ت وقال: حسن صحيح ، والشاشي وابن أبي عاصم وابن شاهين في السنة، ك، حل، ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی سخاوت
35612 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا ابوبکر ہمارے سردار ہیں ہم میں بہتر ہیں ہم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے محبوب ہیں (ترمذی نے نقل کرکے کہا یہ حدیث صحیح ہے غریب ہے۔ (ابن ابی عاصم ابن حة ان حاکم سعید بن منصور )
35612- عن عائشة عن عمر بن الخطاب قال: أبو بكر سيدنا وخيرنا وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ت وقال: هذا حديث صحيح غريب، وابن أبي عاصم، حب، ك، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی سخاوت
35613 ۔۔۔ محمد بن سیربن سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے عمر (رض) کا تذکرہ کیا گویا کہ انھوں نے عمر (رض) کو ابوبکر (رض) پر فوقیت دی اس کی عمر (رض) کو خبر پہنچی تو فرمایا واللہ ابو برک (رض) کی ایک رات عمر کے خاندان سے افضل ہے ابوبکر (رض) کا ایک دن خاندان عمر (رض) سے افضل ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غارنور کے لیے مکہ نکلے ان کے ساتھ ابوبکر (رض) تھے وہ کچھ دیر آگے چلتے کچھ دیر پیچھے یہاں تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ گئے پوچھا ابوبکر کیا وجہ ہے کچھ دیر مجھ سے آگے چلتے ہو کچھ دیر پیچھے عرض کیا یارسول اللہ تلاش کرنے والوں کا خیال ہوتا ہے پیچھے چلتاہوں ناک میں بیٹھنے والوں کا خیال ہوتا ہے آگے چلتاہوں پوچھا ابوبکر کیا تم چاہتے ہو کوئی حادثہ تمہیں پیش آئے مجھے پیش نہ آئے عرض کیا ہاں قسم ہے اس ذات جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے جو بھی حآدثہ پیش آئے وہ مجھے پیش آئے آپ کو کوئے تکلیف نہ پہنچے جب غارتک پہنچے تو ابوبکر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ٹھہر جائیں یہاں تک میں آپ کے لیے غار کو صاف کرلو خود غار میں داخل ہوئے اس کو صاف کیا جب اوپر گئے یاد آیا نیچے کا ایک سوراک صاف نہیں کیا پھر عرض کیا یارسول اللہ رک جائیں نیچے کا سوراخ بھی صاف کرلو داخل ہوئے اس کو بھی صاف کیا پھر عرض کیا اب اتریں اے اللہ کے رسول پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں اترے تو عمر (رض) نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے و قبضہ میں میری جان ہے یہ رات خاندان عمر کے اعمال سے افضل ہے۔ (حاکم ، بیہقی دلائل النبوة)
35613- عن محمد بن سيرين قال: ذكر رجال على عهد عمر فكأنهم فضلوا عمر على أبي بكر، فبلغ ذلك عمر فقال: والله لليلة من أبي بكر خير من آل عمر! وليوم من أبي بكر خير من آل عمر، لقد خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لينطلق إلى الغار ومعه أبو بكر فجعل يمشي ساعة بين يديه وساعة خلفه حتى فطن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا أبا بكر؟ ما لك تمشي ساعة بين يدي وساعة خلفي"؟ فقال: يا رسول الله! أذكر الطلب فأمشي خلفك ثم أذكر الرصد فأمشي بين يديك: فقال: "يا أبا بكر! لو كان شيء أحببت أن يكون بك دوني"؟ قال: نعم، والذي بعثك بالحق! ما كانت لتكون من ملمة إلا أن تكون بي دونك، فلما انتهينا إلى الغار قال أبو بكر: مكانك يا رسول الله حتى أستبرئ لك الغار فدخل واستبرأه حتى إذا كان في أعلاه ذكر أنه لم يستبرئ الجحرة فقال: مكانك يا رسول الله حتى استبرئ الجحرة فدخل واستبرأ ثم قال: انزل يا رسول الله! فنزل، قال عمر: والذي نفسي بيده! لتلك الليلة خير من آل عمر. "ك، ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی سخاوت
35614 ۔۔۔ ھزیل بن شرجمیل سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے زمامی اگر ابوبکر (رض) کے ایمان تم ان زمین والوں کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ان کا ایمان سب سے بڑھ جائے گا۔ (معاذ فی زیادات مسند مسد والحکم وحسن فی فضائل الصاحبہ استہ فی الدیمان بیہقی مشف الخفاء 2130)
35614- عن هزيل بن شرحبيل قال قال عمر بن الخطاب: لو وزن إيمان أبي بكر بإيمان أهل الأرض لرجح بهم. "معاذ في زيادات مسند مسدد والحكيم وحسنه في فضائل الصحابة، ورسته في الإيمان، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35615 ۔۔۔ خبہ بن محض عنزی سے روایت ہے کہ میں نے عمربن خطاب سے پوچھا آپ بہتر ہیں یا ابوبکر صدیق (رض) یہ سن کر عمر (رض) روپڑے پھر فرمایا اللہ کی قسم ابوبکر کی ایک رات اور ایک دن عمر اور عمر کے خاندان سے افضل ہے کیا میں تمہیں ان کی رات اور دن کے متعلق بیان کروں ؟ میں نے عرض کیا ضررور امیرالمومنین تو فرمایا اس رات تو وہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کے ارادہ سے نکلے آور ابوبکر (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے کبھی آگے چلتے کبھی پیچھے کبھی بائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ابوبکر ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے عرض کیا رسول اللہ بائیں ہوتاہوں کیونکہ آپ پرامن نہیں ہوتا ۔ اس رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انگلیوں کی سروں پر چلتے رہے یہاں تک انگلیاں گھس گئیں جب ابوبکر صدیق (رض) نے دیکھا کہ پاؤں کی انگلیاں گھس رہی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کندھے پر اٹھالیا بہت محنت مشقت برداشت کرکے غات کے منہ تک لے آیا وہاں اتار پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا آپ اس وقت داخل ہوں پہلے میں داخل ہو کر دیکھ لوں اگر اس کے اندر کوئی چیز ہوگی وہ میرے اوپر گرے گی داخل ہوا اس میں کوئی چیز نظر نہیں تو آپ کو اٹھاکراندر داخل کیا غار کے اندر ایک سوراخ تھا اس میں سانپ اور اژدھا تھے صدیق اکبر (رض) عن کو خوف ہوا ان میں سے کوئی چیز نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈس نہ لے ان سوراخ کے منہ میں پاؤں رکھدیا اب سانپ نے ڈسنا شروع کیا کاٹنا شروع کیا اور خون بہنے لگارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے لا تحزن اللہ مضا گھبرائیں نہیں ہمارے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوبکر پر سکون اور طمانیت اتارا یہ ابوبکر کی راہ اور ان کا دن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ک انتقال ہوا عرب قبائل مرتد ہوئے بعض نے کہا نماز پڑھیں گے زکوۃ نہیں دیں گے بعض نے کہا نہ نماز پڑھیں گے نہ زکوۃ دیں گے میں ان کے پاس آیا نصیحت کی طرف دھیان دینے بغیر اور کہا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ لوگوں کے ساتھ تالیف قلوب کا معاملہ کریں نرمی کریں تو مجھے جواب تم جاہلیت میں سخت گیر تھے اب اسلام میں کمزوری دیکھا نے ہو کس چیز میں تالیف کروں بنے ہوئے بالوں میں یا جھوٹا جادو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا وحی کا سلسلہ منتقع ہوگیا اللہ کی قسم اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ زکوۃ میں دی جانے والی ایک اسی کا بھی انکارکرے میں ان سے قتال کرونگاہم نے ان کے ساتھ ملکر قتال کیا اور ر واللہ وہ اس معاملہ میں حق پر تھے یہ ان کا دن ہے۔ (الدینوری فی المجالسة وابوالحسن ابن بشران فی فوائدہہ بیہقی فی الدلائل والاکانی فی السنہ)
35615- عن ضبة بن محصن العنزي قال قلت لعمر بن الخطاب: أنت خير من أبي بكر، فبكى وقال: والله: لليلة من أبي بكر ويوم خير من عمر عمر، هل لك أن أحدثك بليلته ويومه؟ قلت: نعم، يا أمير المؤمنين! قال: أما ليلته فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم هاربا من أهل مكة خرج ليلا فتبعه أبو بكر فجعل يمشي مرة أمامه ومرة خلفه ومرة عن يمينه ومرة عن يساره، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما هذا يا أبا بكر؟ ما أعرف هذا من فعلك"؟ فقال: يا رسول! أذكر الرصد فأكون أمامك، وأذكر الطلب فأكون خلفك ومرة عن يمينك ومرة عن يسارك، لا آمن عليك، فمشى رسول صلى الله عليه وسلم ليلته على أطراف أصابعه حتى حفيت رجلاه، فلما رآه أبو بكر قد حفيت رجلاه حمله على كاهله وجعل يشتد به حتى أتى به فم الغار فأنزله ثم قال: والذي بعثك بالحق! لا تدخله حتى أدخله، فإن كان فيه شيء نزل بي قبلك: فدخل فلم ير شيئا فحمله فأدخله، وكان في الغار خرق فيه حيات وأفاعي فخشي أبو بكر أن يخرج منهن شيء يؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم فألقمه قدمه فجعل يضربنه ويلسعنه الحيات والأفاعي وجعلت دموعه تنحدر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول له: " يا أبا بكر! لا تحزن إن الله معنا"، فأنزل الله سكينته طمأنينة لأبي بكر - فهذه ليلته. وأما يومه فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وارتدت العرب فقال بعضهم: نصلي ولا نزكي وقال بعضهم: لا نصلي ولا نزكي، فأتيته ولا آلو نصحا فقلت: يا خليفة رسول الله! تألف الناس وارفق بهم، فقال: جبار في الجاهلية خوار في الإسلام! فيما ذا أتألفهم أبشعر مفتعل أو سحر مفتري؟ قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وارتفع الوحي فوالله لو منعوني عقالا مما كانوا يعطون رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم عليه؟ فقاتلنا معه، وكان والله رشيد الأمر! فهذا يومه "الدينوري في المجالسة وأبو الحسن ابن بشران في فوائده، ق في الدلائل واللالكائي في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35616 ۔۔۔ سالم بن عبیدہ سے روایت ہے کہ اور وہ اہل صفہ میں سے تھے کہ عمر (رض) نے ابوبکر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا یہ تین فضائل کس کو حاصل ہیں (1) اذیقلو لصاحب یہ کون صحابی مرا د ہے (2) اذھما فی الغاریہ وہ کون ہیں لاتحزن اللہ معان (ابن ابی حاتم)
35616- عن سالم بن عبيد وكان من أهل الصفة قال: أخذ عمر بيد أبي بكر فقال له: من له هذه الثلاثة؟ إذ يقول لصاحبه - من صاحبه؟ إذ هما في الغار - من هما؟ لا تحزن إن الله معنا. "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35617 ۔۔۔ میمون سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عر میں بن خطاب (رض) سے کہا کہ میں نے آپ جیسا کسی کو نہیں دیکھا پوچھا تم نے ابوبکر (رض) کو دیکھا ہے بتایا نہیں تو فرمایا تم ہاں کہتے تو میں تمہیں درہ سے سزاء دیتا یعنی وہ مجھ سے بہتر تھے ۔ (ابن ابی شیبة)
35617- عن ميمون قال: قال رجل لعمر بن الخطاب: ما رأيت مثلك؛ قال: رأيت أبا بكر؟ قال: لا، قال: لو قلت: نعم إني رأيته، لأوجعتك ضربا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35618 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا جو کوئی مجھے صدیق اکبر (رض) پر فوقیت دے گا اس کو چالیس کوڑے لاؤنگا۔ (ابن ابی شیبہة)
35618- عن ابن عباس أن عمر قال: لا أسمع بأحد يفضلني على أبي بكر إلا جلدته أربعين. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35619 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے جنت میں ایسا مقام چاہتاہوں جہاں سے ابوبکر (رض) کی زیارت ہوسکے۔ (ابن ابی شیبة)
35619- عن الحسن قال: قال عمر: وددت أني في الجنة حيث أرى أبا بكر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35620 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار (یعنی بلال حبشی (رض)) کو آزاد لیا۔ (ابن سعدابن ابی شیبة بخاری حاکم خرائطحی سے مکادم اخلاق میں ابونعیم)
35620- عن عمر قال: أبو بكر سيدنا وأعتق سيدنا - يعني بلالا. "ابن سعد، ش، خ، ك والخرائطي في مكارم الأخلاق وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35621 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر (رض) نے بیان کیا کہ انھوں نے جب ابوبکر (رض) سے سابقہ کی کوشش کی اب بکر (رض) آگے پڑھ گئے ۔ (الدیلمی ابن عساکر)
35621- عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "حدثني عمر بن الخطاب أنه ما سابق أبا بكر إلى خير قط إلا سبقه به ". "الديلمي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35622 ۔۔۔ ابن ابی اجاء سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ آیا دیکھا کہ عمر (رض) ابوبکر (رض) کے سرکابوسہ لے رہے تھے ۔ (ابسن المسمعانی فی الذیل)
35622- عن أبي رجاء قال: قدمت المدينة فرأيت عمر يقبل رأس أبي بكر. "ابن السمعاني في الذيل".
তাহকীক: