কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৬৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35623 ۔۔۔ زیادہ بن علاقہ سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ (یعنی عمر (رض)) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امت میں سب سے افضل ہیں عمر (رض) نے اس کو دورہ سے مارنا شروع کیا دوسرے نے جھوٹ بولا ہے ابوبکر تو مجھ سے میرے باپ سے تجھ تیری باپ سے بہتر ہے۔ (خشیمہ فی فضائل الصحابہ)
35623- عن زياد بن علاقة قال: رأى عمر رجلا يقول: إن هذا لخير الأمة بعد نبيها، فجعل عمر يضرب الرجل بالدرة ويقول: كذب الآخر، لأبو بكر خير مني ومن أبي ومنك ومن أبيك. "خيشمة في فضائل الصحابة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35624 ۔۔۔ یحی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ابوبکر (رض) کے فضائل ذکر کیا ان کے مناقب ذکر کرنا شرو ع کیا پھر فرمایا یہ ہمارے سردار ہیں اور بلال (رض) بھی ابوبکر (رض) کی نیکیوں میں سے ہیں۔ (ابونعیم)
35624- عن يحيى بن سعيد قال: ذكر عمر بن الخطاب فضل أبي بكر الصديق فجعل يصف مناقبه ثم قال: وهذا سيدنا وبلال حسنة من حسنات أبي بكر. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات
35625 ۔۔۔ حسن بن ابی رجاء عطاری سے روایت ہے کہ میں مدنیہ آیا لوگ جمع تھے تو درمیان میں ایک شخص دوسرے شخص کے سرکابوسہ لے رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں تجھ پر فداہوں اگر آپ نہ ہوتے ہم ہلاک ہوجانے میں نے لوگوں سے پوچھا یہ بوسہ لینے والا کون اور جس کا بوسہ لیاجارہا ہے وہ کون ؟ تو بتایا یہ عمر (رض) ابوبکر (رض) کے سرکابوسہ لے رہے ہیں اس مرتدین اور مانعین زکوۃ سے قرال کر سراہائے ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
35625- عن الحسن عن أبي رجاء العطاردي قال: أتيت المدينة فإذا الناس مجتمعون وإذا في وسطهم رجل يقبل رأس رجل ويقول: أنا فداؤك؟ لولا أنت هلكنا، فقلت: من المقبل ومن المقبل؟ قال: ذاك عمر بن الخطاب يقبل رأس أبي بكر في قتال أهل الردة الذين منعوا الزكاة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تمنا
35626 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت میری تمناتو یہ ہے کہ کاش میں ابوبکر (رض) کے سینہ کا ایک بال ہوتا۔ مسد
35626- عن عمر قال: وددت أني شعرة في صدر أبي بكر. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تمنا
35627 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر (رض) ہیں جو میری موجودگی کے اس کے خلاف کہے وہ بہتان باندھے والاہوگا اور اس پر بہتان باندھنے کی سزاء ہوگی۔ (الدلکائی)
35627- عن عمر قال: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر فمن قال غير هذا بعد مقامي هذا فهو مفتر وعليه ما على المفتري. "اللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تمنا
35628 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے کچھ جاسوس تھے لوگو میں تو وہ خبر لے کر آئے کہ ایک قوم کا اجتماع ہوا اس میں انھوں نے عمر (رض) کو ابوبکر (رض) ہر فوقیت دی ہے ناراض ہوئے اور ان کو بلوایا جب ان کو لایا گیا تو فرمایا یہ قوم کے بدترین لوگ اے قبیلہ کے بدترین اے گھوڑوں کے سردار لوگوں نے پوچھا اے امیر المومنین آپ ایساکیوں فرما رہے ہیں ؟ ہم سے کیا غلطی ہوگئی تین مرتبہ یہ الفاظ ان کو سنائے اس کے بعد فرمایا تم نے مجھ اور ابوبکر (رض) میں کیوں فرق کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میری توبہبنی خواہش ہے کہ جنت میں وہ مقام لے جہاں سید ورتک اببکر (رض) کی زیارت ہوسکے۔ (اسد بن موسیٰ فی فضائل الشخین)
35628- عن الحسن قال: كان لعمر عيون على الناس فأتوه فأخبروه أن قوما اجتمعوا ففضلوه على أبي بكر، فغضب وأرسل إليهم فأتي بهم فقال: يا شر قوم! يا شر حي! يا سيد الحصان! فقالوا: يا أمير المؤمنين! لم تقول لنا هذا؟ ما شأننا؟ فأعاد ذلك عليهم ثلاث مرات ثم قال بعد: لم فرقتم بيني وبين أبي بكر الصديق؟ فوالذي نفسي بيده؟ لوددت أني من الجنة حيث أرى فيها أبا بكر مد البصر. "أسد بن موسى في فضائل الشيخين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تمنا
35629 ۔۔۔ جبربن نضیر سے روایت ہے کہ ایک جماعت نے عمربن خطاب (رض) سے کہا کہ واللہ ہم نے کسی شخص کو آپ سے زیادہ انصاف کرنے والا زیادہ حق گو اور منافقین پر آپ سے زیادہ سخت نہیں دیکھا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے بہتر ہیں عوف بن مالک نے کہا واللہ تم نے جھوٹ بولا ہے واللہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان سے بہتر شخص کو دیکھا ہے پوچھا کون ہے اے عوف ؟ بتایا ابوبکر (رض) عمر (رض) نے فرمایا عوف نے سچ بولا تم نے جھوٹ بولا اللہ کی قسم ابوبکر مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور میں اپنے گھروالوں کے اونٹ سے زیاد ہ بھٹکا ہوا ۔ ابونعیم فی فضائل الصحابہ ابن کثیر نے کہا اس کی سند صحیح ہے
35629- عن جبير بن نفير أن نفرا قالوا لعمر بن الخطاب: والله! ما رأينا رجلا أقضى بالقسط ولا أقول بالحق ولا أشد على المنافقين منك يا أمير المؤمنين! فأنت خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عوف بن مالك: كذبتم، والله! لقد رأينا خيرا منه بعد النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من هو يا عوف؟ فقال: أبو بكر، فقال عمر: صدق عوف وكذبتم، والله! لقد كان أبو بكر أطيب من ريح المسك وأنا أضل من بعير أهلي. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، قال ابن كثير: إسناده صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تمنا
35630 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماراجس سے وہ بہیوش ہوگئے ابوبکر (رض) آگے بڑھے فرمایا سبحان قسم ایک ایسے شخص کو قتل کرتے وہ جو کہا تا ہے میرا رب اللہ ہے لوگوں نے پوچھا پر کون ہے بتایا گیا ابن ابی قحافہ مجنون ہے۔ (ابویعلی ابن ماجر)
35630- عن جابر قال: ضرب المشركون رسول الله صلى الله عليه وسلم مرة حتى غشي عليه، فجاء أبو بكر فقال: سبحان الله! أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله؟ فقالوا: من هذا؟ قيل: ابن أبي قحافة المجنون. "ع، هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35631 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوالدرداء کو دیکھا کہ دوابوبکر (رض) سے آگے چل رہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم ایسے شخص سے آگے چلتے ہو جس سے بہتر شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا اس کے بعد ابوالدرداء کو کبھی ابوبکر (رض) کے آگے چلتے نہیں دیکھا گیا۔ (اسراج)
35631- عن جابر قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا الدرداء يمشي أمام أبي بكر فقال له: " أتمشي قدام رجل ما طلعت الشمس على أحد منكم أفضل منه! " فما رئي أبو الدرداء بعد ذلك إلا خلف أبي بكر. "السراج".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35632 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی آپ (رض) کا نام صدیق رکھا۔ (ابونعیم فی المعرفہ)
35632- عن علي قال: إن الله هو الذي سمى أبا بكر على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم "صديقا". "أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35633 ۔۔۔ (ایضا) ابی یحییٰ سے روایت ہے کہ میں نے علی کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ابوبکر (رض) کا نام صدیق رکھا۔ (طبرانی حاکم وابو طالب ایساری فی فضائل الصدیق وابو الحسن البغدادی فی فضائل ابی بکر وعمر (رض))
35633- "أيضا" عن أبي يحيى قال: سمعت عليا يحلف بالله: الله أنزل اسم أبي بكر من السماء "الصديق". "طب، ك وأبو طالب اليساري في فضائل الصديق وأبو الحسن البغدادي في فضائل أبي بكر وعمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35634 ۔۔۔ شعبی (رض) سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) نے کہا کہ مجھے رب تعالیٰ سے شرم آتی ہے کہ ابوبکر (رض) کی مخالفت کروں ۔ (العشاری)
35634- عن الشعبي قال: قال علي بن أبي طالب: إني لأستحي من ربي أن أخالف أبا بكر. "العشاري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35635 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) ہم میں حدیث کے لحاظ سے سب سے افضل ہیں۔ (العشاری)
35635- عن علي قال: أبو بكر أفضلنا حديثا. "العشاري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35636 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ میں ابوبکر (رض) کی نیکیوں میں سے ایک ہوں ۔ (العشاری)
35636- عن علي قال: وهل أنا إلا حسنة من حسنات أبي بكر. "العشاري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35637 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک صالح شخص نے خواب دیکھا کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر بیٹھ گئے ، اور عمر (رض) کے ابوبکر (رض) کے ساتھ اور عثمان (رض) عمرر ضی اللہ عنہ کے ساتھ جابر (رض) نے کہا جب ہم کھڑے ہوئے تو ہم نے کہا رجل صالح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور یہ سب کے آپ کے بعد خلفاء ہیں۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)
35637- عن جابر قال: رأى رجل صالح ليلة كأن أبا بكر نيط برسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نيط عمر بأبي بكر ثم نيط عثمان بعمر، قال جابر: فلما قمنا قلنا: الرجل الصالح رسول الله صلى الله عليه وسلم وهؤلاء ولاة الأمر من بعده. "نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35638 ۔۔۔ ابوعبدالرحمن ازدی سے روایت ہے کہ جب اونٹ ہلاک ہوگیا عاشر (رض) کھڑی ہوئی اور گفتگو کی کہ اے لوگو میرا تم پر ماں ہونے کا حق ہے نصیحت کا حق ہے ک ہ مجھ پر وہی تہمت رکھ سکتا ہے جو اپنے رب کا نافرمان ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا ان کا سر میرے گود میں تھا اور میں جنت میں ان کی ازواج میں سے ایک ہوں۔ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مومنین اور منافقین میں فرق کیا میری وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے پاک مٹی پر تیمم کی اجازت دی میرا والد اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا شخص ہیں اور سب سے پہلے آپ کا نام صدیق رکھا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے اور ان کی گردن پر امامت کی ذمہ داری ڈالی گئی پھر دین کی اسی مضطرب ہوئی انھوں نے سیدھاسالم راستہ تمہارے لیے نکالا اس طرح نفاق دب گیا اور روت کا جوش ٹھنڈا ہوگیا اور یہودی کی جلائی ہوئی اگ بجھ گئی تم اس وقت ٹکٹکی باندھ کر دشمن کا انتظار کررہے تھے تم دور کی آواز کو قراب کی سنتے تھے شکیزہ کس دئیے گئے تھے اور خوب مشقت برداشت کی اور دین کو عام کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور نفاق کی کھوپڑی پر مشرکین کی لڑائی کی آگ جلائی وہ اسلام کی مدد میں بیدار اور جاہلوں سے عفودرگذر کرنے والے۔ (الزبیر بن بکار)
35638- عن أبي عبد الرحمن الأزدي قال: لما انقضى الجمل قامت عائشة فتكلمت فقالت: أيها الناس! إن لي عليكم حرمة الأمومة وحق الموعظة لا يتهمني إلا من عصى ربه، قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري وأنا إحدى نسائه في الجنة، ادخرني ربي وخصني من كل بضاعة، وبي ميز مؤمنكم من منافقكم، وبي رخص لكم في صعيد الأقراء، وأبي رابع أربعة من المسلمين وأول من سمي "صديقا"، قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنه راض، فتطوقه واهق الإمامة، ثم اضطرب حبل الدين فأخذ بطرفيه ورشق لكم أسلمه، فرقد النفاق وغاض نبغ الردة وأطفأ ما حشت يهود، وأنتم حينئذ جحظ 2 تنتظرون العدوة وتستمعون الصيحة قراب النأى، وأوذم 3 السقاء وامتاح 4 من المهواة 5 واجتهر دفن الرواء 6 فقبضه الله وأطفأ على هامة النفاق مذكيا نار الحرب للمشركين يقظان في نصرة الإسلام صفوحا عن الجاهلين. "الزبير بن بكار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35639 ۔۔۔ عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا آپ گولوگوں میں محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ (رض) پوچھا مرؤں میں فرمایا ان کے والد سے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر ابوعبیدہ ۔ (رواہ ابن عساکر)
35639- عن عمرو بن العاص قال: قيل: يا رسول الله! أي الناس أحب إليك؟ قال: "عائشة"، فقال: من الرجال؟ قال: "أبوها"، قال: ثم من؟ قال: "ثم أبو عبيدة". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل
35640 ۔۔۔ عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دارلسلاسل بھیجا تو لشکر کے شرکاء نے آگ جلانے کی اجازت مانگی رات کے وقت ان کو منع کردیا انھوں نے ابوبکر (رض) سے بات کی کر عمروبن عاص سے اس سلسلہ میں بات کریں تو انھوں نے فرمایا جی عمرو بن عاص نے پیغام بھیجا ہے کہ لشکر میں سے جو بھی رات کے وقت آگ جلانے گا اس کو آگ میں ڈالا یا جائے گا پھر دشمن سے مقابلہ ہوا اس میں دشمن کو شکست ہوئی مجاہدین دشمن کا تعاقب کرنا چہا تومنع کردیا جب لشکر واپس آیا تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی تو عمروبن عاص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے آگ جلانے کی اجازت میں اس لیے تامل ہوا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ یہاں آگ جلائیں اور دشمن کو ہماری قلت تعداد کا علم ہوجائے اور تعاقب سے اس لیے روکائیں ایسانہ ہو یہ تعاقب کرتے ہوئے آگے بڑھ ان کے تاک میں لگے ہوئے لوگ سمجھے سے حملہ اور ہوجائیں فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رویاتوں ان کی تعرین کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا لوگوں میں آپ کو محبوب کون ہے ؟ پوجھاکیوں پوچھئے ہو بتایا تاکہ جس سے آپ محبت فرماتے ہیں میں بھی محبت کروں فرمایا عائشہ (رض) پوچھا مردوں میں کون ؟ فرمایا ابوبکر (رض)۔ (ابویعلی ابن عسارکر)
35640- عن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه إلى دار السلاسل فسأله أصحابه أن يأذن لهم أن يوقدوا نارا ليلا فمنعهم، فكلموا أبا بكر أن يكلمه في ذلك، فقال: قد أرسلوا إلي لا يوقد أحد منهم نارا إلا ألقيته فيها، فلقوا العدو فهزمهم، فأرادوا أن يتبعوهم فمنعهم، فلما انصرف ذلك الجيش للنبي صلى الله عليه وسلم شكوه إليه، فقال: يا رسول الله! إني كرهت أن آذن لهم أن يوقدوا نارا فيرى عدوهم قلتهم، وكرهت أن يتبعوهم فيكون لهم مدد فيعطفوا عليهم، قال: فأحمد رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره، قال: فقال: يا رسول الله من أحب الناس إليك؟ قال: "لم"؟ قال: "لأحب من تحب"، قال: عائشة، قال: من الرجال؟ قال: "أبو بكر". "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35641 ۔۔۔ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ مجھے تمہارے نبی کی وفات سے پانچ دن پہلے ساتھ رہنے کا موقع ملا میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر نبی کا اپنی امت میں ایک خلیل ہوتا ہے اور میرا خلیل تم میں ابوبکر بن ابی قحافہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کو اپنا خلیل بنایا ہے تم سے پہلے لوگوں نے انبیاء اور صلحاء کی قبروں کو سجدہ گا بنایا ہے میں تمہیں اس سے روکتا ہوں تین مرتبہ فرمایا پھر ان پر بیہوشی طاری ہوئی جب ہوش میں آیا تو فرمایا اپنے محلو کہ غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو خود کھائے ہو ان کو بھی کھلاؤ جو خود پہنتے ہو ان کو بھی پہناؤ اور ان کے ساتھ نرم گفتگو کرو۔ (ابوسعید ابن لا عرابی فی معجمہ والشاشی ابن کثیر (رض) نے کہا غریب ہے اور سند ضعیف ہے)
35641- عن كعب بن مالك قال: عهدي بنبيكم قبل وفاته بخمس ليال فسمعته يقول: لم يكن نبي إلا وله خليل من أمته وإن خليلي منكم أبو بكر بن أبي قحافة، وإن الله اتخذ صاحبكم خليلا، وإن من كان قبلكم اتخذوا قبور أنبيائهم وصلحائهم مساجد، ألا وإني أنهاكم عن ذلك - ثلاث مرار. ثم أغمي عليه فأفاق فقال: اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم، أطعموهم مما تأكلون، وألبسوهم مما تلبسون، وألينوا لهم في القول. "أبو سعيد بن الأعرابي في معجمه والشاشي، قال ابن كثير: غريب ضعيف الإسناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35642 ۔۔۔ زہری ایوب بن بشیر بن اکال سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر مختلف کنوں کا سات مشکیزہ پانی بہادو تاکہ میں لوگوں کے پاس نکل کر ایک عہد نامہ لکھو اور آپ سرپرپٹی باندھ کر نکلے یہاں تک منبر پر تشریف لے آئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا دینار ہنے یا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود نعمت کو اختیار کرنے کے درمیان انھوں جو اللہ تعالیٰ کے پاس نعمت ہے اس کو اختیار کیا کسی کو سمجھ نہ آیا سوائے ابوبکر (رض) کے وہ روپڑے اور عرض کیا ہم اپنے ماں باپ اور اولاد کو آپ پر قربان کرتے ہیں آپ اپنی جگہ قائم رہیں لوگوں میں میرے نزدیک سب سے افضل صحبت اور ہاتھ کے مال کے اعتبار سے ابن ا بی قحافہ ہیں دیکھو یہ دروازے جو مسجد کی طرف کھلے ہوئے ہیں ان سب کو بندکرو سوائے ابوبکر (رض) کے دروازہ کے کیونکہ مجھے اس پر نور نظر آیا (طبرانی فی الاوسط ابن عساکر اور کہا یہ دھم ہے کیونکہ معاویہ (رض) نے یہ حدیث روایت نہیں کی بلکہ زہری ایوب بن نعمان جو معاویہ (رض) کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت کی ہے تو انھوں نے بنو معاویہ کو معاملہ سمجھ لیا تو انھوں نے حدثنی کو سمعت سے بدل دیا اور معاویہ کو ابی سفیان کی طرف منسوب کررہا۔
35642- عن الزهري عن أيوب بن بشير بن أكال قال: سمعت معاوية بن أبي سفيان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صبوا علي من سبع قرب من آبار شتى حتى أخرج إلى الناس وأعهد إليهم، فخرج عاصبا رأسه حتى صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إن عبدا من عباد الله خير بين الدنيا وبين ما عند الله فاختار ما عند الله"، فلم يلقنها إلا أبو بكر فبكى وقال: نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأبنائنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " على رسلك أفضل الناس عندي في الصحبة وذات اليد ابن أبي قحافة، انظروا هذه الأبواب الشوارع في المسجد فسدوها إلا ما كان من باب أبي بكر فإني رأيت عليه نورا". "طس، كر وقال: هذا وهم فإن معاوية لم يرو هذا الحديث، وإنما رواه الزهري عن أيوب ابن النعمان أحد بني معاوية مرسلا، فظن "أحد بني" معاوية "حدثني" معاوية فغير حدثني بسمعت ونسب معاوية إلى أبي سفيان".
তাহকীক: