কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৮১১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨١٠٠۔۔۔ زہری سے روایت ہے فرمایا : جس نے کسی کو حرم میں قتل کیا تو اسے حرم میں قتل کیا جائے گا اور جس نے حل میں قتل کیا اور پھر حرم میں داخل ہوگیا تو اسے حل کی طرف نکال کر قتل کیا جائے گا، یہی طریقہ ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
38100- عن الزهري قال: من قتل في الحرم قتل في الحرم ومن قتل في الحل ثم دخل الحرم أخرج إلى الحل وقتل، تلك السنة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨١٠١۔۔۔ محمد بن الاسود بن خلف اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حرم کے پتھر نصب کرنے کا حکم دیا۔ (البزار، طبرانی فی الکبیر)
38101- عن محمد بن الأسود بن خلف عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره أن يجدد أنصاب الحرم."البزار، طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٢۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ مقام (ابراہیم) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرے والد کے زمانہ میں بیت اللہ سے ملا ہوا تھا،پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اسے جدا کردیا (بیھقی، سفیان ابن عینیہ فی جامعہ
38102- عن عائشة أن المقام كان في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم وزمان أبي ملصقا بالبيت، ثم أخره عمر بن الخطاب."ق، سفيان ابن عيينة في جامعه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٣۔۔۔ حبیب بن ابی الاشرس سے روایت ہے فرمایا : ام نہشل کا سیلاب حضرت عمر (رض) کے بندھ باندھنے سے پہلے بالائی مکہ میں ہوتا تھا اس نے مقام ابراہیم کو بہادیا پھر پتہ نہ چلا کہ وہ کس مقام پر تھا ، جب حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو آپ نے پوچھا : اس کی جگہ کون جانتا ہے ؟ مطلب بن ابی وداعۃ نے کہا : امیر المومنین ! میں جانتا ہوں، میں نے اس کا اندازہ اور پیمائش مقاط (مضبوط بٹی ہوئی رسی سے) سے کی ہے اور مجھے اس کے بارے میں اندیشہ تھا حجر اسود سے یہاں تک اور رکن سے اس تک اور کعبہ کے سامنے، آپ نے فرمایا : وہ میرے پاس لے آؤ ! چنانچہ وہ لائے اور اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا، اور حضرت عمر (رض) نے اس کے پاس بندھ باندھ دیا۔

سفیان فرماتے ہیں یہی بات ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ مقام ابراہیم بیت اللہ کے دامن میں تھا، اب وہ جس جگہ ہے وہی اس کی جگہ ہے اور لوگ جو کہتے ہیں : کہ وہاں اس کی جگہ تھی ، تو صحیح نہیں۔ (رواہ الازرقی
38103- عن حبيب بن أبي الأشرس قال: كان سيل أم نهشل قبل أن يعمل عمر الردم بأعلى مكة فاحتمل المقام من مكانه فلم يدر أين موضعه، فلما قدم عمر بن الخطاب سأل: من يعلم موضعه؟ قال المطلب بن أبي وداعة: أنا يا أمير المؤمنين، قد كنت قدرته وذرعته بمقاط وتخوفت عليه هذا، من الحجر إليه ومن الركن إليه ومن وجه الكعبة، فقال: ائت به، فجاء به فوضعه في موضعه، وعمل عمر الردم عند ذلك. قال سفيان: فذلك الذي حدثنا هشام بن عروة عن أبيه أن المقام كان عند سفع البيت، فأما موضعه الذي هو موضعه فموضعه الآن، وأما ما يقول الناس: إنه كان هنالك موضعه، فلا."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٤۔۔۔ کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابی وداعۃ سہمی اپنے والد کے پاس سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ سیلاب مسجد حرام میں حضرت عمر (رض) کے بالائی بندھ باندھنے سے باب بنی شیبہ کبیر سے داخل ہوتے تھے، تو سیلاب کبھی مقام ابراہیم کو اپنی جگہ سے بلند کردیتے اور کبھی کعبہ کے سامنے لے آتے، یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے دور میں ام نہشل سیلا آیا، اور مقام ابراہیم کو اس کی جگہ سے بہا کرلے گیا اور وہ مکہ کے نچلے مقام میں ملا، پھر اسے لا کر کعبہ کے پردوں سے باندھ دیا گیا اور اس کے متعلق حضرت عمر (رض) کو لکھا گیا، آپ رمضان کے مہینہ میں گھبرائے ہوئے آئے، اس کا نشان مٹ چکا تھا سیلاب نے اسے مٹادیا تھا، حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو بلایا، آپ نے فرمایا : میں اس بندے کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جسے اس مقام ابراہیم کا علم ہے ! تو مطلب بن ابی وداعۃ نے کہا : امیر المومنین ! مجھے اس کا علم ہے، مجھے اس کا خدشہ تھا تو میں نے رکن کی جگہ سے اس کی جگہ تک کو ناپ لیا، اور اس کی جگہ سے حجر اسود تک اور اس کی جگہ سے زمزم تک کو مقاط (مضبوط بٹی ہوئی رسی) سے ماپ لیا تھا وہ میرے پاس گھر میں ہے، حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : میرے پاس بیٹھو اور مقام ابراہیم منگوانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ آپ کے پاس بیٹھ گئے اور مقام ابراہیم لایا گیا، اسے لمبائی میں رکھا گیا تو اسے اس کی جگہ تک برابر پایا، آپ نے لوگوں سے پوچھا اور ان سے مشورہ لیا، لوگوں نے کہا : ہاں ! یہی اس کی جگہ ہے جب حضرت عمر (رض) نے اسے اچھی طرح جانچ لیا اور آپ کے نزدیک وہ ثابت ہوگیا تو اسے نصب کرنے کا حکم دے دیا، اور مقام ابراہیم کے نیچے ایک عمارت بناکر اسے موڑدیا تو وہ آج تک اپنی رسی کی جگہ پر ہے۔ (رواہ الازرقی)
38104- عن كثير بن كثير بن المطلب بن أبي وداعة السهمي عن أبيه عن جده قال: كانت السيول تدخل المسجد الحرام من باب بني شيبة الكبير قبل أن يردم عمر الردم الأعلى، فكانت السيول ربما رفعت المقام عن موضعه وربما نحته إلى وجه الكعبة، حتى جاء سيل أم نهشل في خلافة عمر بن الخطاب فاحتمل المقام من موضعه هذا وذهب به حتى وجد بأسفل مكة، فأتي به فربط إلى أستار الكعبة وكتب في ذلك إلى عمر، فأقبل فزعا في شهر رمضان وقد عفا موضعه وعفاه السيل، فدعا عمر بالناس فقال: أنشد الله عبدا عنده علم في هذا المقام! فقال المطلب بن أبي وداعة: أنا يا أمير المؤمنين عندى ذلك، فكنت أخشى عليه هذا، فأخذت قدره من موضع الركن إلى موضعه ومن موضعه إلى باب الحجر ومن موضعه إلى زمزم بمقاط وهو عندي في البيت، فقال له عمر: فاجلس عندي وأرسل إليه، فجلس عنده فأرسل فأتى بها، فمدها فوجدها مستوية إلى موضعه هذا، فسأل الناس وشاورهم، فقالوا: نعم هذا موضعه، فلما استثبت ذلك عمر وحق عنده أمر به، فأعلم ببناء تحت المقام ثم حوله، فهو في مكانه هذا إلى اليوم."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٥۔۔۔ ابن ابی ملیکۃ سے روایت ہے فرمایا : کہ مقام ابراہیم جس جگہ آج ہے یہی اس کی جگہ زمانہ جاہلیت، عہد نبوی اور صدیقی دور میں تھی البتہ دور فاروق میں سیلاب اسے بہاکر کعبہ کے سامنے لے گیا، پھر حضرت عمر (رض) نے لوگوں کی موجودگی میں اسے پیمائش کرکے واپس رکھا۔ (رواہ الازرقی)
38105- عن ابن أبي مليكة قال: موضع المقام هو هذا الذي به اليوم وهو موضعه في الجاهلية وفي عهد النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر إلا أن السيل ذهب به في خلافة عمر فجعل في وجه الكعبة، حتى قدر عمر فرده بمحضر الناس."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٦۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کس شخص کو مقام ابراہیم کی جگہ کا علم ہے ؟ حضرت ابو وداعہ بن ھبیرہ سہمی نے فرمایا : امیر المومنین ! مجھے اس کا علم ہے، میں نے اسے دروازے تک، رکن حجر اسود تک اور رکن اسود تک اور زمزم تک ماپا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : (مقام ابراہیم) لاؤ چنانچہ اپ نے اسے جس جگہ وہ آج ہے ابو وداعۃ (رض) کی پیمائش کے مطابق اپنی جگہ واپس رکھ دیا۔ (رواہ ابن سعد)
38106- عن مجاهد قال: قال عمر بن الخطاب: من له علم بموضع المقام حيث كان؟ فقال أبو وداعة بن هيبرة السهمي: عندي يا أمير المؤمنين، قدرته إلى الباب وقدرته إلى الركن الحجر وقدرته إلى الركن الأسود وقدرته إلى زمزم، فقال عمر: هاته، فأخذه عمر فرده إلى موضعه اليوم للمقدار الذي جاء به أبو وداعة."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٧۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جب آپ مقام ابراہیم کے پاس پہنچے تو عرض کیا : یہ ہمارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کی جگہ ہے جہاں وہ نماز پڑھتے تھے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ہاں، عرض کیا : کیا ہم اسے نماز کی جگہ نہ بنالیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کردی : مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
38107- عن مجاهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان آخذا بيد عمر فلما انتهى إلى المقام قال: هذا مقام أبينا إبراهيم مصلى؟ فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم"، قال: أفلا تتخذه مصلى؟ فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} ." ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٨۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالیں۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
38108- عن مجاهد قال: قال عمر بن الخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم: لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى."ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم (علیہ السلام)
٣٨١٠٩۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ مقام ابراہیم بیت اللہ سے جڑا ہوا تھا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے بیت اللہ سے جدا کردیں تاکہ لوگ اس کے پاس نماز پڑھا کریں، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کردی، مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو ! (ابن ابی داؤد)
38109- عن مجاهد قال: كان المقام إلى لزق البيت فقال عمر ابن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله لو نحيته من البيت ليصلى إليه الناس! ففعل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} ." ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٠۔۔۔ (مسند عمر) ابن المعزی سے روایت ہے فرمایا : ہم لوگ ابن عینیہ کے پاس تھے کہ ایک شخص آکر کہنے لگا : ابومحمد ! کیا آپ لوگ یہ یقین نہیں کرتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ آب زمزم ہر بیماری کے لیے شفا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں، تو وہ کہنے لگا : میں نے اسے پیا ہے تاکہ آپ مجھے دو سو احادیث سنائیں، انھوں نے فرمایا : بیٹھو ! پھر اسے دو سو احادیث سنائیں، (ابن المعزی) فرماتے ہیں : میں نے ابن عینیہ کو فرماتے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے اللہ ! میں اسے قیامت کی پیاس کے لیے پیتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
38110- "مسند عمر" عن ابن المعزى قال: كنا عند ابن عيينة فجاء رجل فقال: يا أبا محمد! ألستم تزعمون أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ماء زمزم لما شرب له"، قال: بلى، قال: فإني قد شربته لتحدثني بمائتي حديث، قال: اقعد، فحدثه بها، قال: وسمعت ابن عيينة يقول: قال عمر بن الخطاب: اللهم! إني أشربه لظمأ يوم القيامة."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے (چچا) عباس سے کہا : ہمارے لیے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجابہ (کعبہ پر غلاف چڑھانے کی خدمت) طلب کریں، آپ نے فرمایا : میں تمہیں اس سے بہتر خدمت عطاکروں گا اور وہ سقایہ (پانی پلانے) کی خدمت ہے نہ تم اس کے لیے مصیبت بنو اور نہ وہ تمہارے لئے۔ (ابن سعد، ابن راھویہ وابن من یع والبزار، ابویعلی وابن جریر وصححہ، حاکم، سعید بن منصور)
38111- عن علي قال: قلت للعباس: سل لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الحجابة، فقال: "أعطيكم ما هو خير لكم منها السقاية، لا ترزوكم ولا ترزونها". "ابن سعد، وابن راهويه وابن منيع والبزار، ع وابن جرير وصححه، ك، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٢۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آب زمزم کا ایک ڈول اس میں سے نکال کر کھڑے ہو کرپیا۔ (ابن عدی، خطیب فی المتفق)
38112- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم شرب من زمزم من دلو منها وهو قائم."عد، خط في المتفق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : اپنا ڈول اس چشمہ کی طرف بھرنے کے لیے رکھ جو بیت اللہ یارکن کے قریب ہے کیونکہ وہ جنت کی نہر ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38113- عن ابن عباس قال: ضع دلوك من قبل العين التي تلي البيت أو الركن، فإنها من عيون الجنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٤۔۔۔ معمر سے روایت ہے فرمایا : کہ ایک شخص زمزم کے کنوئیں میں گر کر مرگیا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے چشمے بند کرکے اسے خالی کرنے کا حکم دیا، کسی نے کہا : اس میں ایک سوت ہمارے قابو سے باہر ہے آپ نے فرمایا : وہ جنت کی نہر ہے پھر آپ نے انھیں ریشم واون کی منقش چادر عنایت کی جس سے اس کا منہ بند کردیا پھر اس کا پانی نکالا گیا، یہاں تک کہ اس میں کسی قسم کی بدبو باقی نہ رہی۔ (رواہ عبدالرزاق)
38114- عن معمر قال: سقط رجل في زمزم فمات فيها، فأمر ابن عباس أن تسد عيونها وتنزح، قيل له: إن فيها عينا قد غلبتنا، قال: إنها من الجنة، فأعطاهم مطرفا من خز فحشوه فيها، ثم نزح ماؤها حتى لم يبق فيها نتن."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٥۔۔۔ ام معبد سے روایت ہے فرمایا : میرے خیمہ کے قریب سے سہیل زہیر کا غلام گزرا جس کے پاس پانی کے دومشکیزے تھے، میں نے اس سے کہا : وہ کہنے لگا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے آقا زہیر کو خط بھیجا ہے جس میں وہ ان سے آب زمزم طلب فرما رہے ہیں اور میں اس لیے جلدی چل رہا ہوں تاکہ مشکیزے خشک نہ ہوجائیں۔ (الفاکھی فی تاریخ مکۃ)
38115- عن أم معبد قال: مر بي بخيمتي غلام سهيل أزيهر ومعه قربتا ماء، فقلت: ما هذا؟ قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم كتب إلى مولاي زهير يستهديه ماء زمزم فأنا أعجل السير لكي لا تنشف القرب."الفاكهي في تاريخ مكة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٦۔۔۔ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عکرمہ (رح) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس دن بیت اللہ کا طواف کیا آپ حضرت عباس (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : ہمیں پانی پلائیے ! حضرت عباس نے فرمایا : کہ ہمیں بھی وہ پانی پلائیے جو آپ لوگوں کو پلاتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے آپ کو پانی پلایا۔ آپ نے اپنی پیشانی پر چھڑکا، پھر اور پانی منگوایا اور اس میں ملا کر پیا، پھر اور پانی منگوایا اور اسے ملا کر نوش فرمایا، اور یہ پانی مشکیزوں میں تھا۔ (رواہ عبدالرزاق)
38116- عن عكرمة مولى ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم يوم طاف بالبيت أتى عباسا فقال: "اسقونا"، فقال العباس: ألا نسقيك يا رسول الله من شراب صنعناه في البيت؟ فإن هذا الشراب قد لوثته الأيدي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اسقونا مما تسقون الناس"، فسقوه فرش بين عينيه، فدعا بماء فصبه عليه ثم شرب، ثم دعا بماء أيضا فصبه عليه ثم شرب وكان ذلك الشراب في الأسقية."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” زمزم “
٣٨١١٧۔۔۔ عبداللہ بن زریر غافقی سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو زمزم کی حدیث بیان کرتے سنا فرمایا : ایک دفعہ عبدالمطلب حجر میں سوئے تھے انھوں نے خواب میں دیکھا کوئی ان سے کہہ رہا ہے : برہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : برہ کیا ؟ پھر خواب ختم ہوگیا، یہاں تک کہ جب اگلا دن ہوا آپ اپنی اسی جگہ سوئے تو پھر خواب میں ان سے کوئی کہہ رہا ہے، مصونہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : مصونہ کیا ہے ؟ پھر خواب ختم ہوگیا، پھر جب اگلا دن ہوا تو آپ نے اپنی اسی جگہ سوئے تو خواب میں کوئی ان سے کہہ رہا ہے طیبہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : طیبہ کیا ہے ؟ پھر ختم ہوگیا، جب اگلا دن ہوا تو آپ اپنی اسی جگہ آئے اور سوگئے خواب میں کوئی دن سے کہہ رہا : زمزم کھودو ! انھوں نے کہا : زمزم کیا ہے ؟ اس نے کہا : جو نہ خشک ہوگا اور نہ اس کی مذمت ہوگی، پھر اس نے اس کی جگہ بتائی، آپ اٹھے اور کھودنے لگے یہاں تک کہ اس کا سراغ لگالیا، قریش کہنے لگے : عبدالمطلب یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : زمزم کھودنے کا حکم دیا گیا، جب وہ ظاہر ہوگیا اور لوگوں نے اسے مقام طتی میں اسی دیکھ لیا تو کہنے لگے : عبدالمطلب ! اس میں تمہارے ساتھ ہمارا حق بھی ہے، یہ ہمارے باپ اسماعیل کا راز ہے، آپ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے کیسے ہے ؟ مجھے تم سے علیحدہ اس کے ساتھ خصوصیت دی گئی ہے، وہ کہنے لگے : ہم تمہارے ساتھ مقدمہ لڑیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے : وہ کہنے لگے : ہمارے اور تمہارے درمین بنی سعد بن ھذیم کی کاہن عورت حاکم ہوگئی، جو شام کے بالائی حصہ میں رہتی ہے عبدالمطلب بنی امیہ کے کچھ لوگوں کے ہمراہ چل پڑے ، اور قریش کے ہر قبیلہ سے کچھ لوگ روانہ ہوئے، اس وقت حجازوشام کے درمیان والی زمین بےآب وگیارہ تھی چلتے چلتے یہ لوگ ان علاقوں کے کسی میدان میں پہنچے تو عبدالمطلب اور ان کے ساتھیوں کا پانی ختم ہوگیا اور انھوں نے مرنے کا یقین کرلیا، پھر لوگوں سے پانی مانگا، وہ کہنے لگے : ہم تم لوگوں کو پانی نہیں سے سکتے، ہمیں بھی تمہارے مصیبت کا ڈر ہے۔

عبدالمطلب نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ انھوں نے کہا : ہماری رائے آپ کی رائے کے تابع ہے، آپ نے کہا : میری رائے تو یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنی قبر کھودلے، جب بھی تم میں سے کوئی مرجائے گا تو اسے اس کے ساتھ دفن کردیں گے یہاں تک کہ آخری شخص کو اس کا ساتھی دفن کردے گا، تو ایک آدمی کا نقصان تم سب کے نقصان سے کم ہے، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا، پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم نے اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالا ہے اب ہم سفر نہیں کریں گے، ہم یہیں (پانی) تلاش کریں گے شاید اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی وجہ سے سیراب کردے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : چلو ! وہ اور آپ چل پڑے، جب آپ اپنی اونٹنی پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر اٹھی تو اس کے پیر کے نیچے سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا، جس کا پانی میٹھا تھا، آپ نے اپنی اونٹنی بٹھادی آپ کی ساتھیوں نے بھی اپنی اونٹیاں بیٹھا دیں، پانی پیا اور خوب سیراب ہوگئے، پھر (سفر کے ) ساتھیوں کو بلایا، آؤ پانی پی لو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانی دیا ہے، چنانچہ وہ آئے اور خود بھی پیا اور جانوروں کو سیراب کیا، پھر (خود ہی) کہنے لگے : عبدالمطلب ! اللہ کی قسم ! تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا جس ذات نے تمہیں اس صحرا میں پانی دیا ہے اسی نے تمہیں زمزم سے سیراب کیا ہے، چلو وہ چشمہ تمہارا ہی ہے ہم تم سے نہیں جھگڑیں گے۔ (ابن اسحاق فی المبتداء والازرقی، بیھقی فی الدلائل)
38117- عن عبد الله بن زرير الغافقي قال: سمعت علي بن أبي طالب وهو يحدث حديث زمزم قال: بينا عبد المطلب نائم في الحجر أتي فقيل له: احفر برة، فقال: وما برة؟ ثم ذهب عنه، حتى إذا كان الغد نام في مضجعه ذلك إذا كان الغد عاد فنام في مضجعه فأتى فقيل له: احفر المصونة، قال: وما المصونة، ثم ذهب عنه، حتى إذا كان الغد عاد فنام في مضجعه ذلك فأتى فقيل له: احفر طيبة، فقال: وما طيبة؟ ثم ذهب عنه، فلما كان الغد عاد لمضجعه فنام فيه فأتى فقيل له: احفر زمزم، فقال: وما زمزم؟ فقال: لا تنزف ولا تذم، ثم نعت له موضعها، فقام يحفر حتى نعت له، فقالت له قريش: ما هذا يا عبد المطلب؟ فقال: أمرت بحفر زمزم فلما كشف عنه وبصروا بالطي قالوا: يا عبد المطلب! إن لنا حقا فيها معك! إنها لسر أبينا إسماعيل، فقال: ما هي لكم، لقد خصصت بها دونكم، قالوا: تحاكمنا؟ قال: نعم، قالوا: بيننا وبينك كاهنة بني سعد بن هذيم، وكانت بأشراف الشام، فركب عبد المطلب في نفر من بني أمية، وركب من كل بطن من أفناء قريش نفر، وكانت الأرض إذ ذاك مفاوز فيما بين الحجاز والشام، حتى إذا كانوا بمفازة من تلك البلاد فني ماء عبد المطلب وأصحابه حتى أيقنوا بالهلكة، ثم اسقوا القوم، فقالوا: ما نستطيع أن نسقيكم وإنا نخاف مثل الذي أصابكم، فقال عبد المطلب لأصحابه: ماذا ترون؟ قالوا ما رأينا إلا تبع لرأيك، قال: فإني أرى أن يحفر كل رجل منكم حفرته، فكلما مات رجل منكم دفعه أصحابه في حفرته حتى يكون آخركم يدفعه صاحبه، فضيعة رجل أهون من ضيعة جميعكم ففعلوا، ثم قال: والله! إن ألقانا بأيدينا للموت ولا نضرب في الأرض ونبتغي لعل الله عز وجل أن يسقينا لعجز فقال لأصحابه: ارتحلوا، فارتحلوا وارتحل، فلما جلس على ناقته فانبعثت به انفجرت عين تحت خفها بماء عذب، فأناخ وأناخ أصحابه، فشربوا واستقوا وأسقوا، ثم دعوا أصحابه: هلموا إلى الماء فقد سقانا الله، فجاؤا واستقوا وسقوا، ثم قالوا: يا عبد المطلب! قد والله قضى لك! إن الذي سقاك الماء بهذه الفلاة لهو الذي سقاك زمزم، انطلق فهي لك فما نحن بمخاصميك."ابن إسحاق في المبتدأ والأزرقي، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سقایہ۔۔۔ حاجیوں کو آب زمزم پلانے کی خدمت
٣٨١١٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ سقایہ پر تشریف لائے اور فرمایا : ہمیں پانی پلاؤ، تو ابن عباس نے ان سے کہا : کیا ہم آپ کو ستو والا پانی نہ پلائیں ؟ کیونکہ اس پانی سے لوگ پیتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں سے لوگ پیتے ہیں مجھے بھی وہیں سے پلاؤ۔ (رزین)
38118- عن ابن عباس قال: طاف النبي صلى الله عليه وسلم بالبيت ثم أتى السقاية فقال: اسقوني، فقال له ابن عباس: ألا نخوض لك سويقا؟ فإن هذا يتناول منه الناس، قال: "اسقوني مما يشرب منه الناس". "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سقایہ۔۔۔ حاجیوں کو آب زمزم پلانے کی خدمت
٣٨١١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے وہ حدیث جو آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں مروی ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (طواف کرکے) واپس آئے آپ نے زمزم کے پانی کا ڈول منگوایا، اس سے وضو کرکے فرمایا : اے عبدالمطلب کی اولاد ! اپنے سقایہ سے رکے رہو، اگر ایسی بات نہ ہوتی کہ تم اس پر غالب آجاؤ گے تو یہ تمہارے ساتھ

ختم ہوجاتا۔ (رواہ الازرقی)
38119- عن علي في حديث حدث به عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا بسجل من ماء زمزم فتوضأ ثم قال: "انزعوا عن سقايتكم يا بني عبد المطلب! ولولا أن تغلبوا عليها لنزعت معكم". "الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক: