কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৮০৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٨٠۔۔۔ ابن سابط سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن طلحہ کو چابی کپڑے کے پیچھے سے دی۔ (ابن ابی شیبہ، ابن ماجہ)
38080- عن ابن سابط أن النبي صلى الله عليه وسلم ناول عثمان بن طلحة المفتاح من وراء الثوب."ش، هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٨١۔۔۔ زھری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن طلحہ کو چابی دیتے ہوئے فرمایا : عثمان ! اسے چھپا کر رکھنا، حضرت عثمان ہجرت کے لیے نکلے، اور شیبہ کو اپنا نائب بناگئے تو انھوں نے بیت اللہ کو ڈھانپ رکھا (رواہ ابن عساکر
38081- عن الزهري أن النبي صلى الله عليه وسلم دفع المفتاح إلى عثمان بن طلحة وقال: "يا عثمان! غيبوه"، فخرج عثمان إلى الهجرة وخلف شيبة فحجب البيت."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٨٢۔۔۔ (مسند علی) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : میرا کعبہ میں اس مال کو چھوڑنا (اس لیے ہے) تاکہ میں اسے (حسب ضرورت) لے کر اللہ تعالیٰ اور بھلائی کی راہ میں تقسیم کروں، حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیٹھے ان کی بات سن کر رہے تھے، آپ نے فرمایا : ابن ابی طالب آپ کی کیا رائے ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر آپ میری حوصلہ افزائی کریں تو میں ایسا ہی کروں گا، تو حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا : کیا آپ اسے ہم پر خرچ کریں گے، جب کہ اس کا مالک آخری زمانہ میں ایک شخص ہوگا، جس کا رنگ گندمی سا اور وہ لمبا ہوگا، پھر حضرت عمر نے اپنی تقریر جاری رکھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا کہ آپ کو کعبہ کے گڑھے سے ستر ہزار سونے کی اوقیہ ملی تھیں جو بیت اللہ میں ہدیہ کی جاتی تھیں، اور علی بن ابی طالب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اگر آپ اس مال سے اپنی جنگوں میں امداد حاصل کرلیں تو بہتر ہے، لیکن آپ نے اسے نہیں چھیڑا، پھر حضرت ابوبکر (رض) سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے بھی اسے نہیں چھیڑا۔ (رواہ الازرقی)
38082- "مسند علي" عن ابن عباس قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن تركي هذا المال في الكعبة لآخذه فأقسمه في سبيل الله وفي سبيل الخير، وعلي بن أبي طالب يسمع ما يقول فقال: ما تقول يا ابن أبي طالب؟ بالله لئن شجعتني عليه لأفعلن! فقال علي: أتجعله فينا وصاحبه رجل يأتي في آخر الزمان ضرب آدم طويل، فمضى عمر وذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم وجد في الجب الذي كان في الكعبة سبعين ألف أوقية من ذهب مما كان يهدى إلى البيت وأن علي بن طالب قال: يا رسول الله! لو استعنت بهذا المال على حربك! فلم يحركه، ثم ذكر لأبي بكر فلم يحركه."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٨٣۔۔۔ خالد بن عرعرۃ سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) نے فرمایا : جو چاہو مجھ سے پوچھو ! لیکن صرف نفع یا نقصان کی چیز کے متعلق پوچھو ! یہ ہوائیں ہیں، وہ کہنے لگا : بوجھ اٹھانے والی کیا ہیں ؟ فرمایا : یہ بادل ہیں، وہ کہنے لگا : نرمی سے چلنے والی کیا ہیں ؟ فرمایا : یہ کشتیاں ہیں، وہ کہنے لگا : حکم سے تقسیم کرنے والے کون ہیں ؟ فرمایا : یہ فرشتے ہیں، وہ کہنے لگا : چل کر پیچھے ہٹ جانے والے کون ہیں ؟ فرمایا : یہ ستارے ہیں، وہ کہنے لگا : اونچی چھت سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آسمان، وہ کہنے لگا : آبادگھر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آسمان میں ایک گھر ہے جسے ضراح کہا جاتا ہے وہ بلندی میں کعبہ کے بالکل سامنے ہے آسمان میں اس کی عزت و حرمت ایسی ہی ہے جیسے زمین میں بیت اللہ کی عزت و حرمت ہے اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں جن کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی۔

وہ شخص کہنے لگا : امیر المومنین ! مجھے اس گھر کے بارے میں بتائیں ! فرمایا : یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا، فرمایا اس سے پہلے بھی دنیا میں گھر تھے اور نوح (علیہ السلام) ان گھروں میں رہتے تھے، لیکن یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا ، فرمایا : اس سے پہلے بھی دنیا میں گھر تھے اور نوح (علیہ السلام) ان گھروں میں رہتے تھے، لیکن یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا اور اس میں برکت رکھی گئی اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا سامان رکھا گیا۔ وہ کہنے لگا : مجھے اس کی تعمیر کے متعلق بتائیں ! فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے لیے گھر بناؤ۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گھبرا گئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک ہوا بھیجی جسے سکینہ ، اور خجوج کہا جاتا ہے اس کی دو آنکھیں اور ایک سر تھا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ جب وہ سکینہ چلے تو چلیں، اور جہاں ٹھہرے تو ٹھہر جائیں، پھر وہ چلتے چلتے بیت اللہ کی جگہ تک جاپہنچی اور اس پر حوض کے باقی ماندہ پانی کی طرح منڈلانے لگی اور وہ بیت المعمور کی سیدھ میں تھی، جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک نہیں لوٹیں گے، پھر حضرت ابراہیم واسمعیل (علیہما السلام) اس کی تعمیر کرنے لگے، روزانہ ایک دیوار بناتے، جب دھوپ تیز ہوجاتی تو پہاڑ کے سائے میں آجاتے، جب (مخصوص) پتھر رکھنے کی باری آئی تو حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے فرمایا : میرے پاس ایسا پتھر لاؤج سے میں لوگوں کے لیے نشانی کے طور پر رکھو، حضرت اسماعیل نے وادی کا رخ کیا اور ایک پتھر اٹھالائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے چھوٹا سمجھ کر پھینک دیا، اور فرمایا کوئی اور پتھر لاؤ، حضرت اسماعیل (پتھر لینے) چلے گئے اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم علیہ کے پاس حجر اسود لے کر اترے، اور اسماعیل (علیہ السلام) بھی آگئے، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : میرے پاس وہ آچکا جس نے مجھے تمہارے پتھر کے لیے نہیں چھوڑا، (یعنی تم پتھر پھینک دو اس کی جگہ حجر اسود لگانا ہے) پھر آپ نے بیت اللہ بنایا، اور یہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے رہے اور وہاں نمازیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے اور ان کا زمانہ ختم ہوگیا، پھر بیت اللہ گرگیا۔

بعد میں عمالقہ نے اس کی تعمیر کی وہ بھی اس کا طواف کرنے لگے یہاں تک کہ وہ بھی مرگئے اور ختم ہوگئے، خانہ کعبہ گرگیا، پھر قریش نے اس کی تعمیر کی، جب حجر اسود رکھنے کا موقعہ آیا تو ان میں اختلاف ہوگیا، تو وہ کہنے لگے : جو سب سے پہلے دروازے سے آئے گا (وہ حجر اسود رکھے گا) تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، لوگ کہنے لگے ! امین آگیا، آپ نے کپڑا بچھایا اور پتھر اس کے درمیان میں رکھ کر قریش کے سرداروں سے فرمایا : کہ ہر شخص کپڑے کا ایک گوشہ پکڑلے (انہوں نے اوپر اٹھایا) آپ نے اپنے ہاتھ سے پتھر رکھا۔ (الحارث وابن راھویہ والصابونی فی المائتین، بیھقی وروی بعضہ الازرقی، حاکم)
38083- عن خالد بن عرعرة قال قال: سلوني عما شئتم! ولا تسألني إلا عما ينفع أو يضر، فقال رجل: يا أمير المؤمنين! ما {وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوا} قال: ويحك! ألم أقل لك: لا تسأل إلا عما ينفع أو يضر؟ تلك الرياح، قال: فما {الْحَامِلاتِ وِقْراً} ؟ قال: هي السحاب، قال: فما {الْجَارِيَاتِ يُسْراً} ؟ قال: تلك السفن، قال: {الْمُقَسِّمَاتِ أَمْراً} ؟ قال: تلك الملائكة، قال: فما {الْجَوَارِ الْكُنَّسِ} ؟ قال: تلك الكواكب، قال: فما {وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ} ؟ قال: السماء، قال: فما {الْبَيْتِ الْمَعْمُور} ؟ قال: بيت في السماء يقال له: الضراح، وهو بحيال الكعبة من فوقها، حرمته في السماء كحرمة البيت في الأرض، يصلي فيه كل يوم سبعون ألفا من الملائكة فلا يعودون فيه أبدا. قال رجل: يا أمير المؤمنين! أخبرني عن هذا البيت، قال: هو أول بيت وضع للناس، قال: كانت البيوت قبله وقد كان نوح يسكن البيوت ولكنه أول بيت وضع للناس مباركا وهدى للعالمين، قال: فأخبرني عن بنائه، قال: أوحى الله تعالى إلى إبراهيم عليه السلام أن ابن لي بيتا، فضاق إبراهيم ذرعا، فأرسل الله إليه ريحا يقال لها السكينة ويقال لها الحجوج، لها عينان ورأس، وأوحى الله تعالى إلى إبراهيم أن يسير إذا سارت ويقيل إذا قالت، فسارت حتى انتهت إلى موضع البيت فتطوفت عليه مثل الجحفة1 وهي بإزاء البيت المعمور، يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون فيه إلى يوم القيامة، فجعل إبراهيم وإسماعيل يبنيانه كل يوم ساقا، فإذا اشتد عليهما الحر استظلا في ظل الجبل، فلما بلغ موضع الحجر قال إبراهيم لإسماعيل ائتني بحجر أضعه يكون علما للناس، فاستقبل إسماعيل الوادي وجاء بحجر، فاستصغره إبراهيم ورمى به وقال: جئني بغيره، فذهب إسماعيل وهبط جبريل على إبراهيم بالحجر الأسود وجاء إسماعيل فقال إبراهيم: قد جاءني من لم يكلني فيه إلى حجرك، فبنى البيت وجعل يطوفون حوله ويصلون حتى ماتوا وانقرضوا فتهدم البيت، فبنته العمالقة فكانوا يطوفون به حتى ماتوا وانقرضوا فتهدم البيت، فبنته قريش فلما بلغوا موضع الحجر اختلفوا في وضعه فقالوا: أول من يطلع من الباب، فطلع النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: قد طلع الأمين، فبسط ثوبا ووضع الحجر وسطه وأمر بطون قريش فأخذ كل بطن منهم بناحية من الثوب، ووضعه بيده صلى الله عليه وسلم. "الحارث وابن راهويه والصابوني في المائتين، هب، وروى بعضه الأزرقي، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں اور اسامہ بن زید قریش کے بتوں کے پاس جاتے اور انھیں خراب کردیتے صبح یہ لوگ کہتے پھرتے ہمارے حاجت رواؤں سے یہ کس نے ایسا سلوک کیا ہے چنانچہ وہ آتے اور انھیں دودھ اور پانی سے دھوتے۔ (ابن راھویہ وھو صحیح)
38084- عن علي قال: كنت انطلق أنا وأسامة بن زيد إلى أصنام قريش نلطخها، فيصبحون فيقولون: من فعل هذا بآلهتنا؟ فينطلقون إليها ويغسلونها باللبن والماء."ابن راهويه، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٨٥۔۔۔ (مسند عمر) عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو دیکھا کہ حرم کی گھاس کاٹ رہا ہے آپ نے فرمایا : کیا تجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے ؟ اس نے اپنی ضرورت کا شکوہ کیا تو آپ کا دل نرم پڑگیا اور اسے کچھ (دراہم ) دینے کا حکم دیا۔ (سعید بن منصور)
38085- "مسند عمر" عن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يحتش في الحرم فقال: أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن هذا، فشكا إليه الحاجة، فرق له وأمر له بشيء."ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٨٦۔۔۔ حضرت عمر اور ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان دونوں نے مکہ کے حمام کے بارے میں بکری کا فیصلہ کیا۔ (رواہ عبدالرزاق)
38086- عن عمر وابن عباس أنهما حكما في حمام مكة بشاة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٨٧۔۔۔ عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منیٰ میں لوگوں سے خطاب کررہے تھے آپ نے پہاڑ پر ایک شخص کو دیکھا جو درخت کاٹ رہا تھا، آپ نے اسے بلایا، اور فرمایا : کیا تمہیں علم نہیں کہ مکہ کانہ درخت کاٹا جائے نہ خلال کے لیے اس کی شاخ توڑی جائے، اس نے کہا : کیوں نہیں لیکن مجھے اس کام پر ایک کمزور اونٹ نے مجبور کیا ہے آپ نے اسے ایک اونٹ پر سوار کرکے فرمایا : دوبارہ ایسا نہ کرنا، اور اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا (سعید بن ابی عروبۃ فی المناسک، بیھقی
38087- عن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب كان يخطب الناس بمنى فرأى رجلا على جبل يعضد شجرا فدعاه فقال: أما علمت أن مكة لا يعضد شجرها ولا يختلى خلالها؟ قال بلى ولكن حملني على ذلك بعير نضو1، فحمله على بعير وقال: لا تعد، ولم يجعل عليه شيئا."سعيد بن أبي عروبة في المناسك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٨٨۔۔۔ نافع بن عبدالحارث سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) مکہ آئے اور دارالندوۃ میں جمعہ کے روز داخل ہوئے اور وہاں سے جلد مسجد کی طرف جانے کا ارادہ کیا آپ نے بیت اللہ کے کھونٹے پر اپنی چادر رکھی اس پر کوئی کبوتر آ بیٹھا آپ نے اسے اڑایا پھر وہ اس پر بیٹھا تو ایک سانپ نے اس پر جھپٹا مارا اور اسے مارڈالا، آپ نے جب جمعہ کی نماز پڑھ لی تو میں اور حضرت عثمان بن عفان (رض) آپ کے پاس آئے، آپ نے فرمایا : میرے بارے آج فیصلہ کرو جو کچھ میں نے کیا ہے ! میں اس گھر میں داخل ہوا اور مسجد جلدی جانے کا ارادہ کیا اور میں نے اپنی چادر اس کھونٹے پڑ ڈال دی، اس پر کوئی کبوتر بیٹھا میں نے خدشہ محسوس کیا کہ کہیں اسے اپنی بیٹ سے خراب نہ کردے، وہ دوسرے کھونٹے پر جا بیٹھا اسے ایک سانپ نے جھپٹ کر مارڈالا، میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے اسے اس کی محفوظ جگہ سے اڑایا ہے اور جس جگہ وہ بیٹھا وہاں اس کی موت تھی، میں (نافع بن عبدالحارث) نے حضرت عثمان (رض) سے کہا : سفید رنگ کی بکری جس کے دانت نکل آئے ہوں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے اس کا ہم امیر المومنین کے لیے ضمان کے طور پر فیصلہ کردیں ؟ حضرت عثمان نے فرمایا : میری بھی یہی رائے ہے تو حضرت عمر (رض) نے اس کا حکم دے دیا۔ (الشافعی، بیھقی)
38088- عن نافع بن عبد الحارث قال: قدم عمر بن الخطاب مكة فدخل دار الندوة في يوم الجمعة وأراد أن يستقرب منها الرواح إلى المسجد فألقى رداءه على واقف في البيت، فوقع عليه طير من هذا الحمام فأطاره، فوقع عليه، فانتهزته1 حية فقتلته، فلما صلى الجمعة دخلت عليه أنا وعثمان بن عفان فقال: احكما علي في شيء صنعته اليوم، إني دخلت هذه الدار وأردت أن أستقرب منها الرواح إلى المسجد فألقيت ردائي على هذا الواقف، فوقع عليه طير من هذا الحمام، فخشيت أن يلطخه بسلحه فأطرته عنه، فوقع على هذا الواقف الآخر، فانتهزته حية فقتلته، فوجدت في نفسي أن أطرته من منزلة كان فيها آمنا إلى موقع كان فيه حتفه. فقلت لعثمان رضي الله عنه: كيف ترى في عنز ثنية عفراء نحكم بها على أمير المؤمنين؟ قال: أرى ذلك، فأمر بها عمر."الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٨٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر مجھے حرم میں (اپنے والد) خطاب کا قاتل بھی مل جائے تو جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائے میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔ (عبدبن حمید وابن المنذر والازرقی)
38089- عن عمر قال: لو وجدت في الحرم قاتل الخطاب ما مسسته حتى يخرج منه."عبد بن حميد وابن المنذر والأزرقي". أما علمت أن مكة لا يعضد شجرها ولا يختلى خلاها؟ قال: بلى ولكن حملني بعير لي نضوء، فحمله على بعير وقال: لا تعد."سعيد ابن أبي عروبة في المناسك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٠۔۔۔ (اسی طرح) عبید بن عمیر اللیثی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے آپ نے پہاڑ پر ایک شخص کو درخت کاٹتے دیکھا اسے بلا بھیجا، فرمایا : کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حرم کا نہ درخت کا ٹاجاتا ہے اور نہ خلال کے لیے اس کی شاخ توڑی جاتی ہے ؟ وہ بولا : کیوں نہیں، لیکن مجھے اس کام پر ایک کمزور اونٹ نے مجبور کیا ہے آپ نے اسے ایک اونٹ کا بوجھ دے کر فرمایا دوبارہ ایسے نہ کرنا۔ (سعید بن ابی عروبہ فی المناسک)
38090- "أيضا" عن عبيد بن عمير الليثي أن عمر بن الخطاب كان يخطب بمنى فرأى رجلا على جبل يعضد شجرا فدعاه فقال:أما علمت أن مكة لا يعضد شجرها ولا يختلى خلاها؟ قال: بلى ولكن حملني بعير لي نضوء، فحمله على بعير وقال: لا تعد."سعيد ابن أبي عروبة في المناسك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩١۔۔۔ (اسی طرح) عبید بن عمیر سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو حرم کا درخت کاٹتے دیکھ لیا، فرمایا : کیا کررہے ہو ؟ وہ بولا : میرے پاس خرچ نہیں ہے، حضرت عمر نے فرمایا : یہ تو حرام ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے ، وہ کہنے لگا : میں تنگدست ہوں میرے پاس خرچ نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے اسے خرچہ دیا اور اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا۔ (عبید اللہ بن محمد بن حفص العیشی فی حدیثہ)
38091- "أيضا" عن عبيد بن عمير قال: رأى عمر بن الخطاب رجلا يقطع شجرا من أشجار الحرم فقال: ما تصنع؟ قال: ليست معي نفقة فقال عمر: إن هذا حرام حرمه الله ورسوله بمكة! فقال: إني معسر وليست معي نفقة، فأعطاه ولم يصنع به شيئا."عبيد الله بن محمد بن حفص العيشي في حديثه"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٢۔۔۔ (اسی طرح) عطاء سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو حرم کا درخت اپنے اونٹ پر بیٹھے کاٹتے دیکھا، اس سے فرمایا : اللہ کے بندے ! یہ اللہ کا حرم ہے تمہارے لیے یہاں ایسا کرنا مناسب نہیں، وہ شخص کہنے لگا : امیر المومنین ! مجھے علم نہیں تھا، آپ خاموش ہوگئے۔ (سفیان بن عیینہ فی جامعہ والازرقی)
38092- "أيضا" عن عطاء أن عمر بن الخطاب أبصر رجلا يعضد من شجر الحرم على بعير له في الحرم فقال له: يا عبد الله! إن هذا حرم الله لا ينبغي لك أن تصنع فيه هذا! فقال الرجل: فإني لم أعلم يا أمير المؤمنين، فسكت عنه."سفيان بن عيينة في جامعه والأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٣۔۔۔ (اسی طرح) زھری عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کرتے ہیں : کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دکھانے کے لیے حرم کے پتھر نصب کئے، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک کہ جب قصی کا زمانہ آیا تو انھوں نے ان کی تجدید کی، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور آیا آپ نے فتح مکہ کے سال تمیم بن اسد خزاعی (رض) کو بھیجا، انھوں نے ان پتھروں کی تجدید کی، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا دور آیا تو آپ نے قریش کے چار افراد بھیجے، جو دیہات میں رہتے تھے انھوں نے حرم کے پتھروں کو نئے پتھروں میں تبدیل کرکے نصب کیا، ان میں مخرمہ بن نوفل سعید بن یربوع المخزومی، حویطب بن عبدالعزی اور ازھر بن عبدعوف الزھری شامل ہیں۔ (رواہ الازرقی)
38093- "أيضا" عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن إبراهيم عليه السلام نصب أنصاب الحرم يريه جبريل عليه السلام، ثم لم تحرك حتى كان قصي فجددها، ثم لم تحرك حتى كان رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث عام الفتح تميم بن أسد الخزاعي فجددها، ثم لم تحرك حتى كان عمر بن الخطاب فبعث أربعة من قريش كانوا يبدون في بواديها فجددوا أنصاب الحرم، منهم مخرمة بن نوفل وأبو هو سعيد بن يربوع المخرومي وحويطب بن عبد العزى وأزهر بن عبد عوف الزهري."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٤۔۔۔ (اسی طرح) حسن بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جن لوگوں کو حرم کے پتھروں کی تجدید کے لیے بھیجا تھا آپ نے انھیں حکم دیا کہ وہ دیکھیں جو وادی حرم میں پڑتی ہے تو وہاں پتھر رکھ دیں اور اس پر نشان لگا کر اسے حرم کا حصہ بنادیں، اور جو وادی حل میں پڑتی ہے اسے حل کا حصہ بنادیں۔

فرماتے ہیں : جب حضرت عثمان بن عفان (رض) کا دور آیا تو آپ نے حج کے لیے قافلہ بھیجا، اور عبدالرحمن ابن عوف کو روانہ فرما کرا نہیں حرم کے پتھروں کی تجدید کا حکم دیا، عبدالرحمن (رض) نے قریش کا ایک گروہ روانہ فرمایا، جن میں حویطب بن عبدالعزی، عبدالرحمن بن ازھر شامل تھے، سعید بن یربوع کی نظر حضرت عمر کی خلافت کے آخری دور میں ختم ہوچکی تھی اور مخرمۃ بن نوفل کی نظر بھی حضرت عثمان کے دور خلافت میں چلی گئی تھی، یہ حضرات ہر سال حرم کے پتھروں کی تجدید کرتے تھے، جب حضرت معاویہ (رض) خلیفہ بنے تو آپ نے مکہ کے گورنر کو خط لکھا کہ وہ حرم کے پتھروں کی تجدید کرے۔ (رواہ الازرقی)
38094- "أيضا" عن الحسن بن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه قال: لما أن بعث عمر بن الخطاب النفر الذين بعثهم في تجديد أنصاب الحرم أمرهم أن ينظروا إلى كل واد يصب في الحرم فنصبوا عليه وأعلموه وجعلوه حرما، وإلى كل واد يصب في الحل فجعلوه حلا، قال: ولما ولي عثمان بن عفان بعث على الحج فبعث عبد الرحمن ابن عوف وأمره أن يجدد أنصاب الحرم، فبعث عبد الرحمن نفرا من قريش منهم حويطب بن عبد العزى وعبد الرحمن بن أزهر وكان سعيد بن يربوع قد ذهب بصره في آخر خلافة عمر وذهب بصر مخرمة بن نوفل في خلافة عثمان فكانوا يجددون أنصاب الحرم في كل سنة، فلما ولي معاوية كتب إلى والي مكة فأمره بتجديدها."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٥۔۔۔ (اسی طرح) عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو دیکھا جو حرم کا درخت کاٹ کر اپنے اونٹ کو کھلا رہا تھا، آپ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے آؤ ! چنانچہ اسے لایا گیا، فرمایا : اللہ کے بندے ! کیا تجھے علم نہیں کہ مکہ حرام ہے نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بدکایا جائے، اور نہ اس کا لقطہ اٹھایا جائے ہاں جو اس کی تشہیر کرے ؟ وہ کہنے لگا : امیر المومنین ! مجھے اس کام پر صرف اس کمزور اونٹ نے برانگیختہ کیا ہے جسے میں چارکھلارہا ہوں مجھے خدشہ تھا کہ یہ مجھے منزل تک نہیں پہنچائے گا، میرے پاس نہ توشہ ہے اور نہ خرچ، آپ کا دل نرم پڑگیا باوجودیکہ آپ نے اسے سزادینے کا ارادہ کرلیا تھا پھر آپ نے اس کے لیے صدقہ کے ایک اونٹ کا حکم دیا جو آٹے سے لدا ہوا تھا، وہ اسے عطا کردیا، اور فرمایا : پھر ہرگز حرم کا کوئی درخت کاٹنے کے لیے نہ لوٹنا ! (فی المداراۃ)
38095- "أيضا" عن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يقطع من شجر الحرم ويعلفه بعيرا له فقال: علي بالرجل،فأتي به، فقال: يا عبد الله! أما علمت أن مكة حرام لا يعتضد عضاها ولا ينفر صيدها ولا تحل لقطتها إلا لمعرف؟ فقال: يا أمير المؤمنين! والله ما حملني ذلك إلا أن أعلف نضوا لي فخشيت أن لا يبلغني وما معي من زاد ولا نفقة، فرق له بعد ما هم به وأمر له ببعير من إبل الصدقة موقرا طحينا فأعطاه إياه وقال: لا تعودن تقطع من شجر الحرم شيئا."في المداواة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٦۔۔۔ عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے حرم کے پتھر جبرائیل (علیہ السلام) کے بتانے پر نصب کئے، پھر اسماعیل (علیہ السلام) نے اس کی تجدید کی، پھر قصی نے ان کی تجدید کی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تجدید کرائی، عبید اللہ فرماتے ہیں : جب عمر بن خطاب (رض) کا دور آیا، آپ نے قریش کے چار افراد بھیجے، جن میں مخرمہ بن نوفل، سعید بن یربوع، حویطب بن عبدالعزی اور ازھر بن عبد عوف شامل تھے انھوں نے حرم کے پتھر نصب کئے۔ (رواہ ابن عساکر)
38096- عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس أن إبراهيم عليه الصلاة والسلام أول من نصب أنصاب الحرم يريه جبريل عليه السلام موضعها، ثم جددها إسماعيل، ثم جددها قصي، ثم جددها رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عبيد الله: فلما كان عمر بن الخطاب بعث أربعة نفر من قريش: مخرمة بن نوفل وسعيد بن يربوع وحويطب بن عبد العزى وأزهر بن عبد عوف، فنصبوا أنصاب الحرم."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٧۔۔۔ عمروبن عبدالرحمن بن عوف اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فتح مکہ کے دن آیا اور آپ مقام (ابراہیم) میں بیٹھے تھے اس نے آپ کو سلام کیا اور کہنے لگا : اللہ کے نبی ! میں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے لیے مکہ فتح کردیا تو میں ضرور بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، اور یہاں قریش میں ایک شخص جو شام کا رہنے والا ہے مجھے ملا ہے جو آتے جاتے میرا حافظ ہوگا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، یہیں نماز پڑھ لو، پھر اس نے چوتھی مرتبہ اپنی بات دہرائی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس میں نماز پڑھو، اس ذات کی قسم ! جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے اگر تم نے یہاں نماز پڑھ لی تو تمہاری بیت المقدس میں پڑھی جانے والی نماز کے عوض ادا ہوجائے گی۔ (عبدالرزاق وقال ابن جریج، اخبرت ان ذلک الرجل سوید بن سوید)
38097- عن عمرو بن عبد الرحمن بن عوف عن رجال من الأنصار من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفتح والنبي صلى الله عليه وسلم في مجلس من المقام فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا نبي الله! إني نذرت إن فتح الله للنبي صلى الله عليه وسلم وللمؤمنين مكة لأصلين في بيت المقدس وإني وجدت رجلا من أهل الشام ههنا في قريش خفيرا مقبلا معي ومدبرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ههنا فصل،" ثم قال الرابعة مقالته فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "فاذهب فصل فيه، فوالذي بعث محمدا بالحق! لو صليت ههنا لقضي ذلك عنك صلاة في بيت المقدس". "عب، وقال ابن جريج: أخبرت أن ذلك الرجل سويد ابن سويد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حرم کے پتھر رکھنے کی جگہ بتائی تو آپ نے وہ پتھر رکھ دئیے پھر قصی بن کلاب نے ان کی تجدید کی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تجدید کی۔ (رواہ ابن عساکر)
38098- عن ابن عباس أن جبريل أرى إبراهيم عليه السلام موضع أنصاب الحرم فنصبها، ثم جددها قصى بن كلاب، ثم جددها رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حرم “
٣٨٠٩٩۔۔۔ مرہ ھمدانی سے روایت ہے فرمایا : میں مسجد (حرام) کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھتا تھا ایک شخص عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگا : میں بھی ان کے پاس تھا بتائیں ایک شخص اس مسجد میں ہر ستون کے پاس نماز پڑھتا ہے اپنی نماز پوری کرنے تک وہ یہی کرتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
38099- عن مرة الهمداني قال: كنت أصلي عند كل سارية في المسجد ركعتين فجاء رجل إلى عبد الله وأنا عنده فقال: أرأيت رجلا يصلي في هذا المسجد عند كل سارية ما برح حتى يقضي صلاته."عب".
tahqiq

তাহকীক: