কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৮৫৪১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٢٩۔۔۔ یہ قیامت کی علامت ہے کہ کمینہ ولد کمینہ دنیا کا مالک بن جائے، وہ مومن سب سے افضل ہے جو دوکریموں میں ہو۔ (العسکری فی الامثال عن عمر درجالہ ثقات)
38529- "إن من أشراط الساعة أن يغلب على الدنيا لكع بن لكع، وأفضل الناس مؤمن بين كريمين." العسكري في الأمثال - عن عمر، ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٠۔۔۔ جب تک دنیا کمینے بن کمینے کی نہیں ہوجاتی ختم نہیں ہوگی۔ (سند احمد، ابن ابی شیبہ، طبرانی فی الکبیر عن ابی بردۃ بن نیار، نعیم بن حماد فی الفتن عن ابی بکر بن حزم مرسلاً )
38530- "لا تذهب الدنيا حتى تكون للكع بن لكع." حم، ش، طب عن أبي بردة بن نيار، نعيم بن حماد في الفتن - عن أبي بكر بن حزم مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣١۔۔۔ رات دن ختم نہیں ہوں گے یہاں تک کہ کمینہ بن کمینہ دنیا کا نیک بخت ترین انسان بن جائے۔ (طبرانی فی الاوسط، سعید بن منصور عن انس)
38531- "لا تذهب الأيام والليالي حتى يكون أسعد الناس بالدنيا لكع بن لكع." طس، ص - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٢۔۔۔ جب تک کمینے ولد کمینے کے لیے دنیا نہیں ہوجاتی ختم ہوگی۔ (طبرانی فی الکبیر عن انس)
38532- "لا ينقضي الدنيا حتى تكون للكع بن لكع." طب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٣۔۔۔ عنقریب کمینہ بن کمینہ دنیا کا نیک بخت ترین انسان ہوگا، اور اس دن سب سے افضل مومن وہ ہوگا جو دوپسندیدہ چیزوں کے درمیان ہوگا۔ (العسکری فی الامثال والدیلمی عن ابی ذروسندہ حسن)
38533- "يوشك أن يكون أسعد الناس في الدنيا لكع بن لكع،وأفضل الناس يومئذ مؤمن بين كريمين." العسكري في الأمثال والديلمي - عن أبي ذر، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٤۔۔۔ یہ قیامت کی علامت ہے کہ آباد جگہیں غیر آباد ہوں اور غیر آباد، آباد ہونے لگیں، اور لڑائی قربانی بن جائے، اور آدمی اپنی امانت سے ایسے رگڑ کھائے جیسے اونٹ درخت سے اپنا بدن رگڑتا ہے۔ (البغوی وابن عساکر عن عروۃ بن محمد بن عطیۃ عن ابیہ)
38534- "إن من أشراط الساعة إخراب العامر وإعمار الخراب. وأن يكون الغزو فداء وأن يتمرس الرجل بأمانته كما يتمرس البعير بالشجرة." البغوي وابن عساكر - عن عروة بن محمد بن عطية - عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٥۔۔۔ یہ علامات قیامت کی ان علامتوں میں سے ہیں جو اس سے پہلے ہوں گی، آدمی گھر سے نکلے گا تو جونہی لوٹے گا تو اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے بتادے گا کہ اس کے گھروالوں نے اس کے بعد کیا کیا۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ )
38535- " إنها أمارات من أمارات بين يدي الساعة قد أوشك الرجل أن يخرج فلا يرجع حتى تحدثه نعلاه وسوطه ما أحدث أهله بعده." حم - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٦۔۔۔ شام کی جانب زمین چالیس سالوں میں ویران ہوگی۔ (ابن عساکر عن عوف بن مالک)
38536- "تخرب الأرض قبل الشام بأربعين سنة." كر - عن عوف بن مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٧۔۔۔ مدینہ تین باربھونچال میں آئے گا پھر وہاں سے ہر منافق اور کافر نکل جائے گا۔ (طبرانی عن انس)
38537- "ترجف المدينة ثلاث رجفات فيخرج منها كل منافق وكافر." طب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٨۔۔۔ قیامت کے قریب کثرت غش طاری ہوگی، آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا : آج صبح کیسے غشی طاری ہوئی ؟ لوگ کہیں گے فلاں بےہوش ہوا اور فلاں پر غشی طاری ہوئی۔ (مسند احمد، ابوالشیخ فی العظمۃ، حاکم عن ابی سعید)
38538- "تكثر الصواعق عند اقتراب الساعة حتى يأتي الرجل القوم فيقول: من صعق تلكم الغداة؟ فيقولون: صعق فلان وفلان." حم وأبو الشيخ في العظمة، ك - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٣٩۔۔۔ اے امت ! تم میں چھ چیزیں پائی جائیں گی، تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات، ان میں سے ایک ہے۔ مال کی بہتات ہوگی یہاں کہ آدمی کو دس ہزار دئیے جائیں گے پھر بھی وہ انھیں لینے میں ناراض ہوگا۔ یہ دو ہوئیں۔ اور ایسا فتنہ جو ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوجائے گا۔ تین۔ اور موت جیسے بکریوں کا قصاص دیا جاتا ہے چار، اور تم میں اور رومیوں میں صلح ہوگی وہ تمہارے لیے نوماہ عورت کے حمل کی مقدار تک جمع کریں گے پھر تم سے بدعہدی میں پہل کریں گے پانچ، اور شہر کی فتح، چھ، کسی نے عرض کیا کون سا شہر ؟ فرمایا : قسطنطنیہ۔ (مسند احمد، عن ابن عمرو)
38539- ست فيكم أيتها الأمة! موت نبيكم - واحدة، ويفيض المال فيكم حتى أن الرجل ليعطى عشرة آلاف فيظل يتسخطها - ثنتان، وفتنة تدخل بيت كل رجل منكم - ثلاث، وموت كقعاص الغنم - أربع، وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر ليجمعون لكم تسعة أشهر كقدر حمل المرأة ثم يكونون أولى بالغدر منكم - خمس، وفتح مدينة - ست، قيل: أي مدينة؟ قال: قسطنطينية." حم - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٠۔۔۔ اے عوف ! قیامت سے پہلے چھ چیزیں یاد رکھنا، سب سے پہلے میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر تم لوگوں میں ایسی بیماری ظاہر ہوگی، جس سے تمہارے بچے اور تم خودشہید ہوگے اور اس کے ذریعہ تمہارے مال پاک کئے جائیں گے، پھر تم میں مال اتنا ہوگا کہ آدمی کو سو دینار دئیے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض ہوگا۔ اور ایسا فتنہ جو تم میں برپا ہوگا ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوگا، پھر تم میں اور رومیوں میں صلح ہوگی اور وہی بدعہدی کریں گے اس کے بعد وہ اسی جھنڈے لے کر نکلیں گے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہوں گے۔ طبرانی نے یہ الفاظ مزید روایت کئے ہیں : اس دن مسلمانوں کا لشکر اس زمین میں ہوگا جسے نشیبی کہا جاتا ہے وہ دمشق نامی ملک میں ہوگی۔۔۔ (ابن ماجہ، طبرانی، حاکم ونعیم بن حمادفی الفتن عن عوف ابن مالک الاشجعی، حاکم عن ابوہریرہ )
38540- "يا عوف! احفظ خلالا ستا بين يدي الساعة: إحداهن موتي، ثم فتح بيت المقدس، ثم داء يظهر فيكم يستشهد به ذراريكم وأنفسكم ويزكى به أموالكم، ثم تكون الأموال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا، وفتنة تكون بينكم لا يبقى بيت مسلم إلا دخلته، ثم يكون بينكم وبين بني الأصفر هدنة فيغدرون فيسيرون في ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر ألفا. زاد طب: فسطاط المسلمين يومئذ في أرض يقال لها الغوطة في مدينة يقال لها دمشق. هـ، طب، ك، ونعيم بن حماد في الفتن - عن عوف ابن مالك الأشجعي، ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤١۔۔۔ مسلمان جابیہ نامی زمین میں سکون کے لیے ٹھہریں گے جہاں ان کے مال ومویشی بکثرت ہوں گے، پھر ان پر ایک خارش پھوڑے کی مانند بھیجی جائے گی جس میں ان کے اعمال پاکیزہ اور ان کے بدن شہید ہوں گے۔ ابویعلی وابن عساکر عن ابی امامۃ عن معاذ)
38541- "ينزل المسلمون أرضا يقال لها "الجابية" فتكثر بها أموالهم ودوابهم، فيبعث عليهم جرب كالدمل تزكو فيه أعمالهم ويستشهد فيه أبدانهم. " ع وابن عساكر - عن أبي أمامة عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٢۔۔۔ جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتا دیتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے، تو یہ اس کی علامت ہے اور جب ننگے پیر بدن کے لوگ سردار بن جائیں تو یہ اس کی علامت ہے اور چرواہے جب اونچی عمارتیں بنانے لگیں تو یہ اس کی علامت ہے ان پانچ غیب کی چیزوں میں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، بیشک اللہ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے۔

مسند احمد، بخاری، مسلم، ابن ماجہ عن ابوہریرہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : قیامت کب قائم ہوگی ؟ تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔ (مسلم، ابوداؤد نسائی عن عمر، نسائی عن ابوہریرہ وابی ذرمعا، حلیۃ الاولیاء عن انس)
38542- ما المسؤل عنها بأعلم من السائل، وسأخبرك عن أشراطها: "إذا ولدت الأمة ربتها فذاك من أشراطها، وإذا كانت الحفاة العراة رؤس الناس فذاك من أشراطها، وإذا تطاول رعاة البهم في البنيان فذاك من أشراطها، في خمس من الغيب لا يعلمهن إلا الله {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ} الآية. "حم، خ، م، هـ- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل: متى الساعة؟ قال - فذكره، م، د، ن - عن عمر، ن - عن أبي هريرة وأبي ذر معا، حل - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٣۔۔۔ اسے (قیامت) اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور اس کے وقت کو صرف اللہ ہی ظاہر کرے، البتہ میں تمہیں اس کی شرطوں اور اس سے پہلے پیش آنے والی باتوں کے متعلق بتا دیتا ہوں : اس سے پہلے فتنے اور ھرج ہوگا، کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ھرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ حبشی زبان میں قتل ہے، اور لوگوں میں اجنبیت ڈال دی جائے گی کوئی (کسی کو) نہیں پہچانے گا، لوگوں کے دل خشک ہوجائیں گے اور بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جنہیں کسی نیکی کا پتہ ہوگا اور نہ کسی برائی کی پہچان۔ (طبرانی فی الکبیر وابن مردویہ عن ابی موسیٰ )
38543- "لا يعلمها إلا الله ولا يجليها لوقتها إلا هو ولكن سأحدثكم بمشاريطها وما بين يديها، ألا! إن بين يديها فتنا وهرجا، قيل: يا رسول الله ما الهرج؟ قال: هو بلسان الحبشة القتل، وأن يلقى بين الناس التناكر فلا يعرف أحد، وتحف قلوب الناس، ويبقى رجرجة1 لا تعرف معروفا ولا تنكر منكرا. " طب وابن مردويه - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٤۔۔۔ اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اس کے وقت کو صرف وہی ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتا دیتا ہوں اور جو کچھ اس سے پہلے پیش آئے گا۔ اس سے پہلے فتنہ اور ھرج ہوگا، لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں فتنے کا پتہ تو چل گیا ھرج کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : حبشی زبان میں قتل کو کہتے ہیں، اور لوگوں میں اجنبیت ڈال دی جائے گی کوئی پہچانا نہ جائے گا۔ (مسند احمد ، سعیدبن منصور عن حذیفہ فرماتے ہیں : کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے بارے میں پوچھا آپ نے یہ ارشاد فرمایا اور حدیث ذکر کی۔ )
38544- "علمها عند ربي لا يجليها لوقتها إلا هو ولكن سأخبركم بمشاريطها وما يكون بين يديها: إن بين يديها فتنة وهرجا، قالوا: يا رسول الله! الفتنة قد عرفناها فالهرج ما هو؟ قال: بلسان الحبشة القتل، ويلقى بين الناس التناكر فلا يكاد أحد أن يعرف أحدا." حم، ص - عن حذيفة، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الساعة قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٥۔۔۔ جب تک ھرج کی کثرت نہیں ہوتی قیامت قائم نہیں ہوگی، کسی نے عرض کیا : ھرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : قتل۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابی موسیٰ )
38545- "لا تقوم الساعة حتى يكثر الهرج، قيل: وما الهرج؟ قال: القتل." حل - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٦۔۔۔ قیامت سے پہلے ھرج ہوگا، لوگوں نے عرض کیا : ھرج کیا ہے آپ نے فرمایا : قتل وہ کفار کا قتل ہونا نہیں ہے بلکہ میری امت ایک دوسرے کو قتل کرے گی۔ یہاں تک کہ آدمی اپنے بھائی سے ملے گا تو اسے بھی مارڈالے گا، اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور بےکار لوگ رہ جائیں گے وہ سمجھیں گے کہ ہم کسی دین پر ہیں جب کہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، طبرانی ابن عساکر عن ابی موسیٰ )
38546- "إن بين يدي الساعة الهرج، قيل: وما الهرج؟ قال: القتل، وما هو قتل الكفار ولكن قتل الأمة بعضها بعضا حتى أن الرجل يلقى أخاه فيقتله، ينتزع عقول أهل ذلك الزمان ويخلف له هباء من الناس، يحسب أكثرهم أنهم على شيء وليسوا على شيء." حم، هـ، طب وابن عساكر - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٧۔۔۔ جب تک آدمی اپنے کو قتل نہیں کرلیتا قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (حاکم فی تاریخہ عن ابی موسیٰ )
38547- "لا تقوم الساعة حتى يقتل الرجل أخاه." ك في تاريخه عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٥٤٨۔۔۔ جب تک عرب کی زمین نہری اور شاداب نہیں ہوجاتی قیامت قائم نہیں ہوگی، سوار مکہ اور عراق کے درمیان چلے گا اسے سوائے راستہ بھول جانے کے اور کسی چیز کا ڈر نہیں ہوگا، یہاں تک کہ ھرج بکثرت ہوگا، لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! حرج کیا ہے ؟ فرمایا : قتل۔ (مسند احمد، عن ابوہریرہ )
38548- "لا تقوم الساعة حتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا، وحتى يسير الراكب بين العراق ومكة لا يخاف إلا ضلال الطريق، وحتى يكثر الهرج، قالوا: وما الهرج يا رسول الله؟ قال: القتل." حم - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: