কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯৫৪৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٤۔۔ کافر ایک یادوفرسخ تک قیامت کے روز اپنی زبان گھسیٹے گا لوگ اسے روندیں گے (ھناد الترمذی، بیھقی عن ابن عمر)
کلام :۔۔۔ ضعیف الترمذی ٤٨٤، ضعیف الجامع ١٥١٨
کلام :۔۔۔ ضعیف الترمذی ٤٨٤، ضعیف الجامع ١٥١٨
39534- "إن الكافر ليسحب لسانه يوم القيامة الفرسخ والفرسخين يتوطؤه الناس." هناد، ت، هب - عن ابن عمر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৪৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٥۔۔۔ قیامت کے روز کافر دوفرسخ اپنی زبان گھسیٹے گا لوگ اسے روندیں گے۔ (مسند احمد عن ابن عمر)
39535- "إن الكافر ليجر لسانه يوم القيامة وراءه قدر فرسخين يتوطؤه الناس." حم عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৪৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٦۔۔۔ جہنم میں کافر کے بیٹھے کی جگہ تین دن کی مسافت ہوگی اس کی ہر داڑھ اھد جیسی اور ان کی ران ورقان۔ (پہاڑ) جیسی اور گوشت ہڈی کے علاوہ اس کی کھال چالیس گزہوگی۔ (مسند احمد ابویعلی حاکم عن ابی سعید)
39536- "مقعد الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام، وكل ضرس له مثل أحد، وفخذه مثل ورقان، وجلده سوى لحمه وعظمه أربعون ذراعا." حم، ع، ك عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٧۔۔۔ کافر کی نشست گاہ تین کی مسافت ہے اور اس کی داڑھ احد جتنی ہوگی۔ (الخطیب عن ابوہریرہ )
39537- "مقعد الكافر مسيرة ثلاثة أيام، وضرسه مثل أحد." الخطيب - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٨۔۔۔ جہنمی جہنم میں بڑھ جائیں گے یہاں تک کہ ان کی کان کی لو سے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد ستر گز موٹی ہوگی اور ان کی داڑھ احد جیسی ہوگی۔ (مسند احمد عن ابی عمر)
کلام :۔۔۔ الضعیفۃ ١٤٢٣
کلام :۔۔۔ الضعیفۃ ١٤٢٣
39538- "يعظم أهل النار في النار حتى أن بين شحمة أذن أحدهم إلى عاتقه مسيرة سبعمائة عام، وإن غلظ جلده سبعون ذراعا وإن ضرسه مثل أحد." حم - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٣٩۔۔۔ اگر کسی (جہنمی) شخص کو نکال کر مشرق میں ٹھہرایا جائے اور ایک شخص مغرب میں کھڑا کیا جائے تو یہ دنیا کا شخص اس کی بدبو سے مرجائے۔ (الدیلمی عن ابی سعید)
39539- "لو أخرج رجل من أهل النار ثم أقيم بالمشرق وأقيم رجل بالمغرب لمات ذلك الرجل من نتن ريحه." الديلمي - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٠۔۔۔ اگر اس مسجد میں (ایک طرف) لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ ہوتے اور اس میں ایک جہنمی ہو اور وہ سانس لے اور اس کی سانس انھیں پہنچ جائے تو مسجد اور مسجد کے لوگ جل جائیں۔ (ابویعلی بیھقی فی البعث عن ابوہریرہ )
39540- "لو كان في هذا المسجد مائة ألف أو يزيدون وفيه رجل من أهل النار فتنفس فأصابهم نفسه لاحترق المسجد ومن فيه." ع، ق في البعث - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤١۔۔۔ جہنمی لوگوں کو خارش ہوجائے گی تو وہ کھ جائیں گے یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں ظاہر ہوجائیں گی وہ کہیں گے : ہمیں یہ خارش کیوں ہوئی ؟ کہا جائے گا : ایمان والوں کو تکلیف دینے کی وجہ سے ۔ (الدیلمی عن انس)
39541- "يسلط الجرب على أهل النار فيحكون حتى تبدو عظامهم فيقولون: بم سلط علينا ذلك؟ فيقال: بإيذائكم أهل الإيمان." الديلمي - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٢۔۔۔ جہنمیوں میں ماتم پھیل جائے گا تو وہ اتناروئیں گے کہ آنسو ختم ہوجائیں گے پھر وہ خون کے آنسوروئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر گڑھے پڑجائیں گے جن میں اگر کشتیاں چلائی جائیں تو چل پڑیں۔ (ھناد عن انس)
39542- "يلقى البكاء على أهل النار فيبكون حتى تنفد الدموع ثم يبكون الدماء حتى أنه ليصير في وجوههم أخدود لو أرسلت فيها السفن لجرت." هناد - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٣۔۔۔ اللہ کی قسم ! جو جہنم میں جائیں گے وہ کئی سال گزرنے کے بعد نکلیں گے اور وہاں کا سال اسی سال سے زیادہ ہے اور سال تین سو ساٹھ یوم کا ہوتا ہے اور ہر دن تمہاری گنتی کے مطابق سال بھرکا ہے۔ (الدیلمی عن ابن عمر)
39543- "والله لا يخرج من النار من دخلها حتى يكونوا فيها أحقابا والحقب بضع وثمانون سنة، والسنة ثلاثمائة وستون يوما، كل يوم كألف سنة مما تعدون." الديلمي - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٤۔۔۔ قیامت کے روز کافر کے لیے پچاس ہزار سال ک کی مقدار مقرر کی جائے گی جیسا کہ اس نے دنیا میں کوئی عمل نہیں کیا، اور کافر جہنم کو دیکھے گا توا سے لگے گا کہ چالیس سال کی مسافت سے وہ اس میں کرنے والا ہے۔ (مسند احمد، ابویعلی ابن حبان حاکم ، سعید بن منصورعن ابی سعید)
39544- "ينصب للكافر يوم القيامة مقدار خمسين ألف سنة كما لم يعمل في الدنيا، وإن الكافر ليرى جهنم ويظن أنها مواقعته من مسيرة أربعين سنة." حم، ع، حب، ك، ص - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٥۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب والا وہ جہنمی ہے جس کے آگ کے دو جوتے ہوں گے جن سے اس کا دماغ یوں کھولے گا جیسے باندی اس کے کان اٹکارے اس کی ڈاڑھیں انگارے اس کے آبروآگ کی لپیٹ دونوں طرف کی آنتیں قدموں کی راہ سے نکلیں گئی اور باقی ان تھوڑے دانوں کی طرح ہوں گے جو زیادہ ابلتے پانی میں ہوں۔ (ھناد عن عبید بن عمیر مرسلا)
39545- "إن أدنى أهل النار عذابا لرجل عليه نعلان من نار يغلى منهما دماغه كأنه مرجل، مسامعه جمر، وأضراسه جمر، وأشفاره لهب النار، تخرج أحشاء جنبيه من قدميه، وسائرهم كالحب القليل في الماء الكثير فهو يفور." هناد - عن عبيد بن عمير مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٦۔۔۔ آگ کسی جہنمی کے ٹخنوں تک تو کسی کے گھنٹوں تک کسی کی کمر تک اور کسی کی بنڈلی تک ہوگی۔ (طبرانی فی الکبیر حاکم عن سمرۃ)
39546- "إن من أهل النار من تأخذه النار إلى كعبيه، ومنهم من تأخذه إلى ركبتيه، ومنهم من تأخذه إلى حقويه، ومنهم من تأخذه إلى ترقوته." طب، ك - عن سمرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٧۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھولے گا اور کوئی گھٹنوں تک کوئی کانوں تک کوئی سینے تک اور کوئی آگ میں ڈوبا ہوگا۔ (مسند احمد عبدبن حمید وابن فیع حاکم سعید بن منصور عن ابی سعید)
39547- "أهون أهل النار عذابا رجل في رجليه نعلان من نار يغلي منهما دماغه، ومنهم من هو في النار إلى كعبيه مع إجراء العذاب، ومنهم من هو في النار إلى ركبتيه مع إجراء العذاب، ومنهم من هو في النار إلى أذنيه مع إجراء العذاب، ومنهم من هو في النار إلى صدره مع إجراء العذاب،ومنهم من قد اغتمر في النار." حم وعبد بن حميد وابن منيع، ك، ص - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٤٨۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب الاوہ جہنمی ہوگا جس کے دوجوتے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ )
39548- "أهون أهل النار عذابا عليه نعلان فيغلي منها دماغه." حم - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے ذیل میں ۔۔۔ ازالاکمال
٣٩٥٤٩۔۔۔ شفاعت تو میری امت کے لوگوں کے لیے ہوگی جنہوں نے کبیرہ گناہ اور (بغیر توبہ) مرگئے ان میں سے کوئی تو جہنم کے پہلے دروازے میں ہوں گے نہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے نہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی نہ انھیں طوق پہنائے جائیں گے اور نہ شیاطین کے ساتھ جکڑے جائیں گے اور نہ انھیں گرزوں سے مارا جانے کا اور نہ وہ (جہنم کے) طبقات میں چیخیں گے ان میں سے کوئی تو گھڑی بھر رو کر نکال لیا جائے گا اور کوئی مہنہ بھر کر نکالا جائے گا اور کوئی سال کا عرصہ رہ کر نکالا جائے گا اور سب سے زیادہ عرصہ رہنے والا وہ ہوگا وج دنیا کی طرف رہا جب سے وہ پیدا کی گئی اور فنا ہونے تک تو یہ سات ہزار سال ہیں پھر اللہ تعالیٰ جب مومن (ذات وصفات میں اللہ تعالیٰ کو اکیلا ماننے والوں ) کو نکالنے کا ارادہ کرے گا تو دوسرے مذاہب والوں کے دلوں میں ڈالے ھا وہ ان سے کہیں گے : ہم اور تم دونوں اکٹھے دنیا میں رہے تم ایمان لائے ہم نے کفر کیا تم نے تصدیق کی ہم نے تکذیب کی تم نے اقرار کرتے رہے لیکن تمہیں اس کا فائدہ ہوا ؟ آج ہم اور تم سب اس میں برابر ہیں جیسا تمہیں عذاب ہوتا ہے تمہیں بھی ہورہا ہے اور جیسے تم ہمیشہ رہوگے ہم بھی رہیں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ ایسے ناراض ہوں گے کہ ایسے بھی ناراض نہیں ہوئے اور نہ کبھی ناراض ہوں گے چنانچہ توحید والوں کو نکال کر ایک چشمہ پر لائے گے جو جنت وپل صراط کے درمیان ہوگا جس کا نام نہر حیات ہے (وہاں) ان پر پانی چھڑکا جائے گا جس سے وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگتا ہے جو سائے کے قریب ہوگا وہ منبر ہوگا اور جو دھوپ میں ہوگا وہ زرد ہوگا وہ جنت میں داخل ہوں گے ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا آگ سے اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ صرف ایک آدمی رہ جائے گا جوان کے بعد ہزار سال اس میں رہے گا پھر وہ پکارے گا : اے رحم کرنے والے گا : اے احسان کرنے والے ! اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجے تاکہ اسے نکال لائے چنانچہ وہ اس کی تلاش میں ستر سال غوطہ لگائے لیکن اسے نہ لاسکا واپس آکر کہے گا : آپ نے مجھے اپنے بندو کو جہنم سے نکالنے کا حکم دیا اور میں نے اسے ستر سال سے تلاش کیا لیکن میں اسے نہ پاسکا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ وہ فلاں وادی میں فلانی چٹان کے نیچے ہے اسے نکال لاؤ چنانچہ وہ اسے نکال کر لائے گا اور اسے جنت میں داخل کردے گا۔ (الحکیم عن ابوہریرہ )
39549- "إنما الشفاعة يوم القيامة لمن عمل الكبائر من أمتي ثم ماتوا عليها، فمنهم في الباب الأول من جهنم لا تسود وجوهم ولا تزرق أعينهم ولا يغلون بالأغلال ولا يقرنون مع الشياطين ولا يضربون بالمقامع ولا يصرخون في الأدراك، منهم من يمكث فيها ساعة ثم يخرج، ومنهم من يمكث فيها شهرا ثم يخرج ومنهم من يمكث فيها سنة ثم يخرج، وأطولهم مكثا فيها مثل الدنيا يوم خلقت إلى يوم أفنيت وذلك سبعة آلاف سنة، ثم إن الله إذا أراد أن يخرج الموحدين منها قذف في قلوب أهل الأديان فقالوا لهم: كنا نحن وأنتم جميعا في الدنيا فآمنتم وكفرنا وصدقتم وكذبنا وأقررتم وجحدنا فما أغنى ذلك عنكم! نحن وأنتم اليوم فيها جميعا سواء تعذبون كما نعذب وتخلدون كما نخلد، فيغضب الله عند ذلك غضبا لم يغضبه من شيء فيما مضى ولا يغضب من شيء فيما بقى فيخرج أهل التوحيد منها إلى عين بين الجنة والصراط يقال لها "نهر الحياة" فيرش عليهم من الماء فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، فما يلي الظل منها اخضر وما يلي الشمس منها أصفر، يدخلون الجنة يكتب في جباههم "عتقاء الله من النار" إلا رجلا واحدا فإنه يمكث فيها بعدهم ألف سنة ثم ينادي: "يا حنان يا منان"! فيبعث الله إليه ملكا ليخرجه فيخوض في النار في طلبه سبعين عاما لا يقدر عليه ثم يرجع فيقول: إنك أمرتني أن أخرج عبدك فلانا من النار وإني طلبته منذ سبعين سنة فلم أقدر عليه! فيقول الله تعالى: انطلق فهو في وادي كذا وكذا تحت صخرة فأخرجه، فيخرجه منها فيدخله الجنة." الحكيم - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے ذیل میں ۔۔۔ ازالاکمال
٣٩٥٥٠۔۔۔ میں نے ایک خواب دیکاھ جو سچ ہے اسے سمجھو ! میرے پاس ایک شخص آیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پیچھے چلا کر ایک لمبے خوفناک پہاڑ پر لے گیا اور مجھ سے کہا : اس پر چڑھو ! میں نے کہا : میں نہیں چڑھ سکتا اس نے کہا : میں آپ کی مدد کرتا ہوں تو جیسے ہی میں نے اپنا قدم چڑھنے کے لیے سیڑھی پر رکھا تو ہم پہاڑ کی درمیانی جگہ میں پہنچ گئے پم چلتے گئے اچانک ہمیں ایسے مرد عورتیں نظر آئے جن کی باچھیں پھٹی ہوئی ہیں میں نے کہا یہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ویسا کرتے نہ تھے پھر ہم چلے یہاں تک ہمیں ایسے مرد وخواتین نظر آئے جن کی آنکھوں اور کانوں میں سلائیاں پھری گئی ہیں میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ لوگ ان دیکھی اور ان سنی باتوں کا دعویٰ کیا کرتے تھے پھر ہم چکے تو ہمیں ایسی عورتیں نظر آئیں جو اپنی ایڑیوں کے بل لٹکی ہوئی تھیں ان کے سر سیدھے تھے سانپ ان کے پستانوں پر ڈس رہے تھے میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ تو اس نے کہا : یہ وہ ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر ہم چلے تو ایڑیوں کے بل لٹکے ہوئے ان کے سر سیدھے ہیں جو تھوڑا پانی اور کیچڑ چاٹ رہے ہیں میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ تو اس نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے اور روزہ کے وقت سے پہلے افطار کرلیتے تھے، پھر ہم چلے تو ہمیں ایسے مرد و خواتین نظر آئیں جن کی صورت بےحد بری اور ان کا لباس بڑا برا ہے ان سے سخت بدبو آرہی ہے جیسے بیت الخلا کی بدبو ہوتی ہے میں نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا : یہ زانی مرد اور عورتیں ہیں پھر ہم چلے تو ہمیں مردے نظر آئے جو بہت زیادہ پھولے اور بدبودار ہیں ، میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ یہ کافروں کے مردے ہیں پھر ہم چلے تو ہمیں ایک دھواں دکھائی دیا اور ایک ھونک کی سی آواز سنائی دی میں نے کہا : یہ کیا ہے، کہا : یہ جہنم ہے اسے چھوڑو پھر پہلے تو ہمیں دوختوں کے سائے تلے کچھ مرد سوئے نظر آئے میں نے کہا : یہ کون ہیں کہا : یہ مسلمانوں کے مردے ہیں۔
پھر ہم چلے تو ہمیں آٹھ نوجوان لڑکے اور حوریں دونہروں کے مابین کھیلتی نظر آئیں میں نے ککہا : یہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : مسلمانوں کے بچے ہی پھر ہم چلے تو ہمیں بہت خوبصورت مرداچھے لباس اور اچھی خوشبو والے نظر آئے جیسے ان کے چہرے ورق ہیں میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ صدیقین شہداء اور صالحین ہیں پھر ہم چلے تو ہمیں تین آدمی شراب پیتے اور گاتے نظر آئے میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ زیدبن حارثہ جعفر بن ابی طالب عبداللہ بن رواحہ ہیں تو میں ان کی جانب مڑا تو وہ کہنے لگے : ہم آپ پر فدا پھر میں نے سر اٹھایا تو عرش کے نیچے تین آدمی تھے میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ آپ کے جدامجد ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ (طبرانی فی البکر حاکم بیھقی فی عذاب القبر سعید بن مھصور عن ابی امامۃ)
پھر ہم چلے تو ہمیں آٹھ نوجوان لڑکے اور حوریں دونہروں کے مابین کھیلتی نظر آئیں میں نے ککہا : یہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : مسلمانوں کے بچے ہی پھر ہم چلے تو ہمیں بہت خوبصورت مرداچھے لباس اور اچھی خوشبو والے نظر آئے جیسے ان کے چہرے ورق ہیں میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ صدیقین شہداء اور صالحین ہیں پھر ہم چلے تو ہمیں تین آدمی شراب پیتے اور گاتے نظر آئے میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ زیدبن حارثہ جعفر بن ابی طالب عبداللہ بن رواحہ ہیں تو میں ان کی جانب مڑا تو وہ کہنے لگے : ہم آپ پر فدا پھر میں نے سر اٹھایا تو عرش کے نیچے تین آدمی تھے میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ آپ کے جدامجد ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ (طبرانی فی البکر حاکم بیھقی فی عذاب القبر سعید بن مھصور عن ابی امامۃ)
39550- "إني رأيت رؤيا هي حق فاعقلوها، أتاني رجل فأخذ بيدي فاستتبعني حتى أتى بي جبلا طويلا وعرا فقال لي: ارقه! فقلت: لا أستطيع، فقال: إني سأسهله لك، فجعلت كما رقيت قدمي وضعتها على درجة حتى استوينا على سواء الجبل فانطلقنا فإذا نحن برجال ونساء مشققة أشداقهم فقلت: من هؤلاء؟ فقال: هؤلاء الذين يقولون ما لا يفعلون، ثم انطلقنا فإذا نحن برجال ونساء مسمرة أعينهم وآذانهم، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يرون أعينهم ما لا يرون ويسمعون آذانهم ما لا يسمعون، ثم انطلقنا وإذا نحن بنساء معلقات بعراقيبهن مصوبة رؤسهن ينهش ثديهن الحيات قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يمنعون أولادهن من ألبانهن، ثم انطلقنا فإذا نحن برجال ونساء معلقات بعراقيبهن مصوبة رؤسهن يلحسن من ماء قليل وحمأ، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يصومون ويفطرون قبل تحلة صومهم، ثم انطلقنا وإذا نحن برجال ونساء أقبح شيء منظرا وأقبحه لبوسا وأنتنه ريحا كأنما ريحهم المراحيض، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الزانون والزناة، ثم انطلقنا فإذا نحن بموتى أشد شيء انتفاخا وأنتنه ريحا، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء موتى الكفار، ثم انطلقنا فإذا نحن نرى دخانا ونسمع عواء، قلت: ما هذا؟ قال: هذه جهنم فدعها، ثم انطلقنا فإذا نحن برجال نيام تحت ظلال الشجر، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء موتى المسلمين، ثم انطلقنا فإذا نحن بغلمان وجواري يلعبون بين نهرين، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذرية المؤمنين، ثم انطلقنا فإذا نحن برجال أحسن شيء وجها وأحسنه لبوسا وأطيبه ريحا كأن وجوههم القراطيس، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الصديقون والشهداء والصالحون، ثم انطلقنا فإذا نحن بثلاثة نفر يشربون خمرا ويغنون، قلت: ما هؤلاء؟ قال: ذاك زيد بن حارثة وجعفر وابن رواحة فملت قبلهم فقالوا: فدنا لك فدنا لك! ثم رفعت رأسي فإذا ثلاثة نفر تحت العرش، قلت: ما هؤلاء؟ قال: ذاك أبوك إبراهيم وموسى وعيسى وهم ينتظرونك." طب، ك، ق في عذاب القبر، ص - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے ذیل میں ۔۔۔ ازالاکمال
٣٩٥٥١۔۔۔ میری امت کے موجدین کو ان کے ایمان کے نقصان وکمی وجہ سے جہنم کا عذاب ہوگا۔ (حاکم فی تاریخہ عن انس)
39551- "الموحدون من أمتي يعذبون في النار على نقصان إيمانهم." ك في تاريخه - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے ذیل میں ۔۔۔ ازالاکمال
٣٩٥٥٢۔۔۔ گناہ گاروں کو ان کے ایمان کی کمی وجہ سے جہنم کا عذاب ہوگا۔ (حاکم فی تاریخہ عن انس)
39552- "يعذب المذنبون في النار على قدر نقصان إيمانهم." ك في تاريخه - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے ذیل میں ۔۔۔ ازالاکمال
٣٩٥٥٣۔۔۔ قیامت کے روز پاگل زمان فترت (دونیبوں کا درمیانی زمانہ) فوت ہونے والے اور بچپن میں مرنے والے کو لایا جائے گا پاگل کہے گا : میرے رب ! اگر آپ مجھے عقل عطا کرتے تو جسے آپ نے عقل دی وہ مجھ جیسا سعادت مند نہ ہوتا اور زمانہ فترت میں فوت ہونے والا کہے گا : میرے رب ! اگر میرے پاس تیرا وعدہ (توحید و رسالت) آتا جو جس کے پاس آیا وہ مجھ سے زیادہ تیرے عہد میں نیک بخت نہ ہوتا اور بچپن میں ہلاک ہونے ولاک ہے گا : میرے رب ! اگر تو مجھے وہ دیتا جو آپ نے عمر والے کو دی تو وہ اپنی عمر میں مجھ سے زیادہ سعادت مندنہ ہوتا۔
تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں تمہیں ایک کام کا حکم دینے لگاہوں کیا تم میری بات مانوگے وہ عرض کریں گے : میری عزت کی قسم ! جی ہاں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ ! جہنم میں داخل ہوجاؤ ! وہ اگر داخل ہوجائے تو انھیں کوئی نقصان نہ پہنچاتی تو ان کی جانب آگ کے شعلے نکلیں گے وہ سمجھیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کو ختم کردیں گے اللہ تعالیٰ انھیں حکم دے گا وہ جلدی سے واپس آجائیں گے ؟ کہیں گے : ہمارے رب ! ہم داخل ہونا چاہتے تھے تو ہمارے اوپر شعلے نکلنا شروع ہوگئے اس لیے ہم نکل آئے ہم سمجھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق کو ہلاک کردیں گے اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ حکم دے گا پھر وہ اسی طرح واپس آجائیں گے اور اسی طرح کی بات کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تمہاری پیدائش سے پہلے مجھے علم تھا جو کچھ تم کروگے اپنے علم کے مطابق میں نے تمہیں پیدا کیا اور میرے علم کی طرف تم لوٹوگے اے جہنم ! انھیں سمیٹ ! چنانچہ جہنم انھیں پکڑلے گی۔ (الحکیم طبرانی حلیۃ الاولیاء عن معاذبن جبل)
کلام :۔۔۔ المتناھیۃ ١٥٤٠
تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں تمہیں ایک کام کا حکم دینے لگاہوں کیا تم میری بات مانوگے وہ عرض کریں گے : میری عزت کی قسم ! جی ہاں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ ! جہنم میں داخل ہوجاؤ ! وہ اگر داخل ہوجائے تو انھیں کوئی نقصان نہ پہنچاتی تو ان کی جانب آگ کے شعلے نکلیں گے وہ سمجھیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کو ختم کردیں گے اللہ تعالیٰ انھیں حکم دے گا وہ جلدی سے واپس آجائیں گے ؟ کہیں گے : ہمارے رب ! ہم داخل ہونا چاہتے تھے تو ہمارے اوپر شعلے نکلنا شروع ہوگئے اس لیے ہم نکل آئے ہم سمجھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق کو ہلاک کردیں گے اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ حکم دے گا پھر وہ اسی طرح واپس آجائیں گے اور اسی طرح کی بات کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تمہاری پیدائش سے پہلے مجھے علم تھا جو کچھ تم کروگے اپنے علم کے مطابق میں نے تمہیں پیدا کیا اور میرے علم کی طرف تم لوٹوگے اے جہنم ! انھیں سمیٹ ! چنانچہ جہنم انھیں پکڑلے گی۔ (الحکیم طبرانی حلیۃ الاولیاء عن معاذبن جبل)
کلام :۔۔۔ المتناھیۃ ١٥٤٠
39553- "يؤتى يوم القيامة بالممسوخ عقلا وبالهالك في الفترة وبالهالك صغيرا، فيقول الممسوخ عقلا: يا رب! لو آتيتني عقلا ما كان ما آتيته عقلا بأسعد بعقله مني، ويقول الهالك في الفترة: لو أتاني منك عهد ما كان من أتاه منك عهد بأسعد بعهدك مني، ويقول الهالك صغيرا: يا رب لو آتيتني عمرا ما كان من آتيته عمرا بأسعد بعمره مني، فيقول الرب سبحانه: إني آمركم بأمر أفتطيعوني؟فيقولون: نعم وعزتك! فيقول: اذهبوا فادخلوا النار، ولو دخلوها ما ضرهم، فتخرج عليهم قوابس 1يظنون أنها قد أهلكت ما خلق الله عز وجل من شيء فيأمرهم فيرجعون سراعا يقولون: خرجنا يا رب وعزتك نريد دخولها فخرجت علينا قوابس ظننا أنها قد أهلكت ما خلق الله عز وجل من شيء، فيأمرهم الثانية فيرجعون كذلك فيقولون مثل قولهم فيقول الله عز وجل سبحانه: قبل أن تخلقوا علمت ما أنتم عاملون وعلى علمي خلقتكم وإلى علمي تصيرون ضميهم، فتأخذهم النار". "الحكيم، طب، حل - عن معاذ بن جبل".
তাহকীক: