কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২১৫৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوۃ الاستخارہ من الإکمال
21540 ۔۔۔ امابعد ! آج رات مجھے تمہاری حالت کا ڈر نہ تھا بلکہ میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں تم پر رات کی (یہ) نماز فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز ہوجاؤ ۔ (مسلم حضرت عائشۃ صدیقہ (رض))
21539- يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك عز وجل فيه سبع مرات ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه. "ابن السني في عمل اليوم والليلة عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی نماز :
21541 ۔۔۔ اے لوگو ! تمہارا یہ طریقہ مسلسل ایسا رہا (کہ تم تراویح مسجد میں پابندی کے ساتھ پڑھتے رہے) حتی کہ میں نے گمان کیا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہوجائے ، لہٰذا تم یہ نماز اپنے اپنے گھروں میں پڑھو۔ بیشک آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے سوائے فرض نماز کے (ابوداؤد عن زید بن ثابت (رض))
21540- أما بعد فإنه لم يخف علي شأنكم الليلة، ولكني خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها. "م عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی نماز :
21542 ۔۔۔ میں نے دیکھا جو تم نے کیا لیکن مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف یہ بات مانع رہی کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہوجائے اور یہ رمضان میں ہے۔ (مؤطا امام مالک ، النسائی حضرت عائشۃ صدیقہ (رض))
21541- أيها الناس ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت أن سيكتب عليكم فعليكم بالصلاة في بيوتكم، فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة.
"د عن زيد بن ثابت"
"د عن زيد بن ثابت"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی نماز :
21543 ۔۔۔ تمہارا یہ طریقہ چلتا رہا حتی کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ ہوجائے اور اگر تم پر یہ نماز فرض ہوگئی تو تم اس کو ادا نہ کر سکوگے ۔ پس اے لوگو ! اپنے اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھا کرو ۔ کیونکہ آدمی کی افضل ترین نماز اس کے گھر ہی میں ہوتی ہے سوائے فرض نماز کے (مسند احمد ، البخاری ، مسلم ، النسائی عن زید بن ثابت (رض))
21542- قد رأيت الذي صنعتم، فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن يفرض عليكم، وذلك في رمضان. "مالك، ن عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی نماز :
1044 2 ۔۔۔ میں نے تمہارا طریقہ دیکھ لیا پس میں اس لیے تمہارے پاس نہ آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے ۔ (مؤطا مالک ، البخاری ، مسلم ، ابن داؤد حضرت عائشۃ صدیقہ (رض))
21543- ما زال بكم الذي رأيت من صنيعكم حتى خشيت أن يكتب عليكم، ولو كتب عليكم ما قمتم به، فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة. "حم ق ن عن زيد بن ثابت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
21545 ۔۔۔ میں نے تمہارا طریقہ دیکھا اور جان لیا پس تم اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھا کرو بیشک آدمی کی افضل ترین نماز اس کے اپنے گھر میں ہوتی ہے سوائے فرض نماز کے ۔ (ابن حبان عن زید بن ثابت (رض))
21544- قد رأيت الذي صنعتم، فلم يمنعني من الخروج إلا أني خشيت أن يفرض عليكم. "مالك خ م د عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
21546 ۔۔۔ اے عباس ! اے چچا ! کیا میں تجھے ایک عطیہ نہ کروں ؟ میں تجھے ایک خیر نہ دوں ؟ کیا میں آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو دس فضیلتیں نہ دوں ؟ جب آپ اس پر عمل کرلیں گے تو اللہ پاک آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دے گا ، پرانے نئے بھول کر کیے ہوئے ، جان بوجھ کر کیے ہوئے ، چھوٹے ، بڑے ، خفیہ اور اعلانیہ ہر طرح کے گناہ بخش دے گا ، یہ دس کلمات ہیں تو چار رکعات نماز پڑھ ہر رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور کوئی سورت پڑھ ، جب پہلی رکعت میں قرات سے فارغ ہوجائے تو کھڑے کھڑے ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر “۔ پندرہ مرتبہ پڑھ ، پھر رکوع کر ، اور رکوع میں (تسبیح کے بعد) یہی کلمات دس مرتبہ پڑھو، پھر سر اٹھا کر جب کھڑا ہو تو (ربنا لک الحمد کے بعد) دس بار پھر کہہ، پھر سجدے میں جا کر (سجدے کی تسبیح کے بعد) دس بار پڑھ ، پھر سجدہ سے اٹھ کر دس بار پڑھ ، پھر سجدے میں جا کر دس بار پھر پڑھ، پھر بیٹھ کر دس بار پڑھ، یہ ایک رکعت میں پچھتر کی تعداد ہوگئی ، اس طرح چاروں رکعات میں پڑھ ۔ گر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں گے یا ریت کے ذرات کے برابر ہوں گے تب بھی اللہ تیرے سب گناہ بخش دے گا ۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو ہر روز ایک بار یہ نماز پڑھ لیا کر ، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ہر جمعہ میں ایک بار پڑھ لیا کر ، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ہر مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کر اور اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ہر سال میں ایک بار پڑھ لیا کر اور اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھ لے ۔ (ابو داؤد ، النسائی ، ابن ماجہ وابن خزیمہ ، مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض))
21545- قد عرفت الذي رأيت من صنيعكم، فصلوا أيها الناس في بيوتكم، فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة. "حب عن زيد بن ثابت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوۃ التسبیح :
21547 ۔۔۔ اے چچا ! کیا میں آپ کو صلہ نہ دوں ؟ میں آپ کو خیر کی چیز نہ دوں ؟ میں آپ کو ایک نفع دہ چیز نہ دوں ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے چچا ! چار رکعات پڑھ ، ہر رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور کوئی سورت پڑھ، جب قرات پوری ہوجائے تو پندرہ بار اللہ اکبر والحمد للہ و سبحان ولا الہ الا اللہ “۔ پندرہ بار پڑھ رکوع کرنے سے قبل ، پھر رکوع کر اور سر اٹھانے سے قبل دس بار پڑھ ، پھر سر اٹھا اور سجدہ کرنے سے قبل دس بار پڑھ ، پھر سجدہ کر اور دس بار پڑھ پھر سر اٹھا اور دس بار پڑھ ، پھر سجدہ کر اور دس بار پڑھ ، پھر سر اٹھا اور کھڑا ہونے سے قبل دس بار پڑھ ، یہ ہر رکعت میں پچھتر تسبیحات ہوئیں اور چار رکعت میں تین سو کی تعداد ہوجائے گی ۔ پس اگر تیرے گناہ ریت کے ذرات سے زیادہ ہوں گے تب بھی اللہ ان کو بخش دے گا ، اگر تو ہر روز یہ نماز نہیں پڑھ سکتا تو ہر ماہ میں ایک بار پڑھ لیا کر اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو ہر سال میں ایک بار ضرور پڑھ لیا کر۔ (الترمذی ، ابن ماجہ عن ابی رافع)
21546- يا عباس يا عماه ألا أعطيك ألا أمنحك ألا أحبوك ألا أفعل بك عشر خصال؟ إذا أنت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك أوله وآخره، قديمه وحديثه، خطأه وعمده، صغيره وكبيره، سره وعلانيته، عشر خصال أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة، فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة، ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا، ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا، ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا، ثم تسجد فتقولها عشرا، ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا، فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات، فلو كانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك، إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرة فافعل، فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة، فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة، فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة، فإن لم تفعل ففي عمرك مرة. "د ن هـ وابن خزيمة ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوۃ التسبیح :
21548 ۔۔۔ اے چچا ! کیا میں تجھے ایک صلہ نہ دوں ؟ کیا میں تجھے ایک خیر نہ دوں ؟ کیا میں تجھے ایک نفع مندشے نہ دوں ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چار رکعات پڑھ ۔ ہر رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور کوئی سورت پڑھ۔ پھر قرات کے بعد پندرہ بار پڑھ : اللہ اکبر والحمد للہ و سبحان اللہ ولا الہ الا اللہ “۔ رکوع سے قبل پھر رکوع کر اور دس بار پڑھ سر اٹھانے سے قبل ، پھر سر اٹھا اور دس بار پڑھ سجدہ کرنے سے قبل ، پھر سجدہ کر اور سر اٹھانے سے قبل دس بار پڑھ ۔ پھر سر اٹھا اور دس بار پڑھ ، پھر سجدہ کر اور دس بار پڑھ ، پھر سر اٹھا اور کھڑا ہونے سے قبل بیٹھ کر دس بار پڑھ ، یہ رکعت میں پچھتر کی تعداد ہوگئی اور چار رکعات میں تین سو کی تعداد ہوگئی ۔ گر تیرے گناہ ریت کے ذرات سے زیادہ یا فرمایا سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں گے اللہ پاک اس کو بخش دے گا ، پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نماز ہر روز کون پڑھ سکتا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اگر ہر روز نہیں پڑھ سکتا تو ہر جمعہ میں ایک بار پڑھا کر ، اگر یہ بھی کرسکتا تو ہر ماہ میں ایک بار پڑھا کر اور اگر اس کی بھی ہمت نہیں کرسکتا تو ہر سال میں ایک بار پڑھ لیا کر ۔ (الترمذی غریب ، ابن ماجہ ، الکبیر للطبرانی عن ابی رافع) کلام : ۔۔۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کرکے غلطی کی ہے ، امام ابن عساکر نے اس کو عن ابی رافع عن العباس کے طریق سے نقل کیا اور فرمایا یہ حضرت ابو رافع (رض) کی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کردہ حدیث ہے۔
21547- يا عم ألا أصلك ألا أحبوك ألا أنفعك؟ قال: بلى يا رسول الله قال: فصل يا عم أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة، فإذا انقضت القراءة فقل: الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع، ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك، ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد، ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك، ثم ارفع رأسك فقلها عشرا، ثم اسجد فقلها عشرا، ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم، فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاثة مائة في أربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل رمل عالج غفرها الله لك، إن لم تستطع أن تصليها في كل يوم فصلها في كل جمعة، فإن لم تستطع فصلها في كل شهر، فإن لم تستطع فصلها في كل سنة.
"ت هـ عن أبي رافع".
"ت هـ عن أبي رافع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
21549 ۔۔۔ اے غلام ! کیا میں تجھے ایک چیز نہ بخشوں ؟ کیا میں تجھے ایک عطیہ نہ کروں ؟ کیا میں تجھے ایک خیر کی شے نہ دوں ؟ تو ہر روز دن یا رات میں چار رکعات پڑھ، اس میں سورة فاتحہ اور سورة پڑھ ، پھر پندرہ بار ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر “۔ پڑھ پھر رکوع کر اور دس بار یہی کلمات پڑھ ، پھر سر اٹھا کر دس بار یہ کلمات پڑھ ، اسی طرح ہر رکعت میں پڑھ ، پھر تشہد کے بعد اور سلام پھیرنے سے قبل یہ دعاکر : للہم انی اسالک توفیق اھل الھدی و اعمال اھل الیقین ومناصحۃ اھل التوبۃ وعزم اھل الصبر وجد اھل الخشیۃ وطلبۃ اھل الرغبۃ وتعبد اھل الورع وعرفان اھل العلم ، حتی اخافک ، اللہم انی اسالک مخافۃ تحجزنی بھا عن معاصیک وحتی اعمل بطاعتک عملا استحق بہ رضاک وحتی اناصحک فی التوبۃ خوفا منک وحتی اخلص لک النصیحۃ حبالک ، وحتی اتوکل علیک فی الامور ، وحسن الظن بک ، سبحان خالق النور۔ پس جب اے ابن عباس ! تو نے یہ کرلیا تو اللہ پاک تیرے گناہ معاف کر دے گا چھوٹے اور بڑے ، پرانے اور نئے ، خفیہ اور اعلانیہ ، جان بوجھ کر کیے ہوئے اور جو بھول چوک سے سرزد ہوئے ، سب گناہ معاف کر دے گا ۔ ترجمہ دعا : ۔۔۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اہل ہدایت کی توفیق کا ، اہل یقین کے اعمال کا ، اہل توبہ کی سچائی کا ، اہل صبر کے عزم کا ، اہل خشیت کی کوشش اور محنت کا ، اہل رغبت کی طلب کا ، متقیوں کی عبادت کا ، اہل علم کے عرفان کا تاکہ میں آپ سے خوف کرنے لگوں ۔ اے اللہ ! میں آپ سے ایسے خوف کا سوال کرتا ہوں ، جو مجھے آپ کی نافرمانیوں سے روک دے ، نیز تاکہ میں آپ کی اطاعت کرنے لگوں جس سے آپ کی رضا مجھے حاصل ہوجائے ، نیز تاکہ میں سچی توبہ کروں آپ سے ڈرتے ہوئے تاکہ آپ سے محبت کرتے ہوئے آپ کی سچی لگن اور نصیحت حاصل کروں ، نیز تاکہ امور میں آپ پر پورا بھروسہ کرنے لگوں اور تجھ سے اچھا گمان رکھنے لگوں اے نور والے ! ” حلیۃ الاولیاء عن ابن عباس (رض))
21548- يا عم ألا أصلك ألا أحبوك ألا أنفعك؟ قال: بلى يا رسول الله قال: فصل أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل: الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع، ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك، ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد، ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك، ثم ارفع رأسك فقلها عشرا، ثم اسجد فقلها عشرا، ثمن ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة، وهي ثلاث مائة في أربع ركعات، فلو كانت ذنوبك مثل رمل عالج - وفي لفظ: مثل زبد البحر - غفرها الله لك، قال: يا رسول الله ومن يستطيع ذلك أن يقولها في كل يوم؟ قال: إن لم تستطع أن تصليها في كل يوم فصلها في كل جمعة، فإن لم تستطع فصلها في كل شهر، فإن لم تستطع فصلها في كل سنة. "ت: غريب هـ طب عن أبي رافع. وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فأخطأ؛ وأخرجه ابن عساكر من طريق أخرى عن أبي رافع عن العباس، وقال: إنما هو من رواية أبي رافع عن النبي صلى الله عليه وسلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
21550 ۔۔۔ جب سورج گرہن ہوجائے تو قریب ترین فرض نماز جو پڑھی ایسی ہی ایک اور نماز بھی پڑھ لو۔ (الکبیر للطبرانی عن النعمان بن بشیر)
21549- يا غلام ألا أحبوك ألا أنحلك ألا أعطيك؟ أربع تصليهن في كل يوم وليلة فتقرأ أم القرآن وسورة، ثم تقول: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة، ثم تركع فتقولها عشرا ثم ترفع فتقولها عشرا، ثم تفعل في صلاتك كلها مثل ذلك، فإذا فرغت قلت بعد التشهد وقبل التسليم: اللهم إني أسألك توفيق أهل الهدى وأعمال أهل اليقين، ومناصحة أهل التوبة، وعزم أهل الصبر، وجد أهل الخشية، وطلبة أهل الرغبة، وتعبد أهل الورع، وعرفان أهل العلم، حتى أخافك: اللهم إني أسألك مخافة تحجزني بها عن معاصيك وحتى أعمل بطاعتك عملا أستحق به رضاك، وحتى أناصحك في التوبة خوفا منك، وحتى أخلص لك النصيحة حبا لك، وحتى أتوكل عليك في الأمور، وحسن الظن بك، سبحان خالق النور، فإذا فعلت ذلك يا ابن عباس غفر الله لك ذنوبك صغيرها وكبيرها وقديمها وحديثها وسرها وعلانيتها وعمدها وخطأها. "حل عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21551 ۔۔۔ سورج اور چاند اللہ کی آیتوں (نشانیوں) میں سے دو آیات (نشانیاں) ہیں ، یہ کس کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ۔ جب تم ایسا معاملہ دیکھو تو اللہ کو پکارو ، اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھو، لا الہ الا اللہ لا الہ اللہ “۔ کہو اور صدقہ خیرات کرو ، اے امت محمد ! اللہ کی قسم اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ، اے اللہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ۔ (مؤطا امام مالک ، مسند احمد ، البخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، النساء حضرت عائشۃ صدیقہ (رض))
21550- إذا كسفت الشمس فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة.
"طب عن النعمان بن بشير".
"طب عن النعمان بن بشير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21552 ۔۔۔ شمس وقمر کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ، بلکہ یہ خدا کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں اور اللہ پاک اپنی مخلوق میں جیسا چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ، اللہ پاک جب کسی مخلوق پر تجلی ظاہر کرتے ہیں تو وہ اللہ کے آگے خشوع و خضوع کرتی ہے ، پس ان میں جو کچھ رونما ہو تم نماز میں مصروف ہوجاؤ حتی کہ وہ گرہن سے کھل جائیں یا اللہ پاک کوئی امر پیدا کردیں ۔ (النسائی عن قبیصۃ الھلالی)
21551- إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله وكبروا وهللوا، وتصدقوا، يا أمة محمد والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته، يا أمة محمد والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا، ولبكيتم كثيرا، اللهم هل بلغت. "مالك حم ق د ن عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21553 ۔۔۔ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے ، شمس وقمر اہل ارض کے کسی عظیم شخص کے انتقال کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں ، درحقیقت یہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں خدا کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں اور اللہ پاک اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے پس ان دونوں میں جو بھی گرہن ہوجائے تو نماز میں مصروف ہوجاؤ حتی کہ گرہن کھل جائے یا اللہ پاک کوئی اور معاملہ رونما فرما دے ۔ (النسائی عن النعمان بن بشیر)
21552- إن الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولكنهما خلقان من خلقه، وإن الله يحدث في خلقه ما شاء، وإن الله عز وجل إذا تجلى لشيء من خلقه يخشع له فأيهما حدث فصلوا حتى ينجلي أو يحدث الله أمرا. "ن عن قبيصة الهلالي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21554 ۔۔۔ لوگ گمان کرتے ہیں کہ سورج اور چاند اہل زمین کے کسی عظیم شخص کے انتقال کی بناء پر گرہن ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ سورج اور چاند کسی کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے ۔ بلکہ یہ دونوں خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ پاک اپنی مخلوق میں سے جس پر ظاہر ہوتے ہیں وہ اس کے لیے خشوع کرتی ہے (اور جھک جاتی ہے) پس جب تم ایسی صورت حال دیکھو تو قریب ترین فرض نماز جو پڑھی ہو ایسی ہی (رکعت والی) نماز اور (باجماعت) پڑھو، (النسائی ، ابن ماجہ عن النعمابن بشیر)
21553- إن أهل الجاهلية كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينخسفان إلا لموت عظيم من عظماء أهل الأرض، وإن الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما خليقتان من خلقه، يحدث الله في خلقه ما شاء، فأيهما انخسف فصلوا حتى ينجلي أو يحدث الله أمرا. "ن عن النعمان بن بشير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21555 ۔۔۔ یہ نشانیاں جو اللہ پاک بھیجتا ہے کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے متغیر نہیں ہوتیں بلکہ اللہ پاک ان کو متغیر کردیتا ہے بندوں کو ڈرانے کے لیے ۔ پس جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو ذکر اللہ اور دعاواستغفار کی طرف لپکو ۔ (النسائی ، البخاری ، مسلم عن ابی موسیٰ (رض))
21554- إن ناسا يزعمون أن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم من العظماء، وليس كذلك، إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات الله، إن الله إذا بدا لشيء من خلقه خشع له، فإذا رأيتم ذلك فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة. "ن هـ عن النعمان بن بشير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21556 ۔۔۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی حتی کہ اگر میں ہاتھ بڑھاتا تو اس کے پھل حاصل کرلیتا اور مجھ پر جہنم پیش کی گئی حتی کہ میں اس پر پھونک مار رہا تھا تاکہ اس کی گرمی تم کو نہ جھلسا دے ۔ میں نے جہنم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ کے چور کو دیکھا ، نیز بستی وعدع کا ایک شخص جہنم میں دیکھا ایک سلائی کی چوری کی وجہ سے جہنم میں تھا ، جب اس کو پکڑا جاتا تھا تو وہ کہتا تھا یہ ڈنڈے کا کام ہے۔ (اس میں اٹک گئی ہے) نیز میں نے جہنم میں ایک لمبی حبشی عورت کو دیکھا جس نے ایک بلی کو باندھا تھا مگر اس کو کھلایا پلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود گھوم پھر کر زمین کا گھاس کھا لیتی حتی کہ وہ مرگئی ۔ بیشک یہ شمس وقمر کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ، بلکہ یہ اللہ کی دونشانیاں ہیں ، پس ان میں سے جب بھی کوئی گرہن ہوجائے تو اللہ عزوجل کے ذکر کی طرف دوڑو ۔ (النسائی عن ابن عمرو (رض))
21555- إن هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن الله يرسلها يخوف بها عباده، فإذا رأيتم منها شيئا فافزعوا إلى ذكر الله ودعائه واستغفاره. "ق ن عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21557 ۔۔۔ مجھ ر جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا ۔ جنت اس قدر قریب کی گئی کہ میں ہاتھ بڑھا کر اس کے پھل کا خوشہ لے سکتا تھا مگر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا اور مجھ پر جہنم پیش کی گئی حتی کہ میں اس سے پیچھے ہٹتا رہا کہ کہیں وہ مجھے ڈھانپ نہ لے ۔ میں نے جہنم میں ایک حمیری سیاہ فام طویل عورت دیکھی جو ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا تھی ، اس نے بلی کو باندھ لیا تھا اس کو کھلاتی تھی اور نہ پلاتی تھی اور نہ اس کو کھلا چھوڑتی تھی تاکہ وہ زمین کا گھانس پھونس کھا لیتی ۔ میں نے جہنم میں ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا جو جہنم میں اپنی آنتوں کو کھینچتا پھر رہا تھا ۔ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ شمس وقمر کسی عظیم شخص کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ اللہ کی دو نشانیوں ہیں جو اللہ تمہیں دکھا رہا ہے پس جب یہ گرہن ہوں تو نماز پڑھو جب تک کہ ان کا گرہن ختم نہ ہوجائے ، مسلم عن جابر (رض))
21556- عرضت علي الجنة حتى لو مددت يدي تناولت من قطوفها، وعرضت علي النار فجعلت أنفخ خشية أن يغشاكم حرها، ورأيت فيها سارق بدنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورأيت فيها أخا بني دعدع سارق الحجيج فإذا فطن له قال: هذا عمل المحجن، ورأيت فيها امرأة طويلة سوداء تعذب في هرة ربطتها فلم تطعمها، ولم تسقها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت، وإن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فإذا انكسفت إحداهما فاسعوا إلى ذكر الله عز وجل. "ن عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21558 ۔۔۔ اے لوگو ! شمس وقمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ دونوں کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ، جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو نماز میں مشغول ہوجاؤ جب تک کہ گرہن ختم نہ ہو ، تم سے جس چیز کا بھی وعدہ کیا جاتا ہے اس کو آج میں نے اپنی نماز میں دیکھ لیا ہے ، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتا دیکھا تھا تب میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تھی تو میں اس خوف سے پیچھے ہٹتا تھا کہ اس کی لپٹ مجھے نہ جھلسا دے ۔ حتی کہ میں پکار اٹھا اے پروردگار ! اور میں ان میں تھا پھر میں نے ایک ڈنڈے والے کو دیکھا جو حاجیوں کا مال اپنے ڈنڈے سے کھینچ لیتا تھا اگر اس کی حرکت پکڑی جاتی تو کہتا کہ میرے ڈنڈے میں پھنس گیا تھا اور اگر کسی کو پتہ نہ چلتا تو وہ مال لے اڑتا تھا ، نیز میں نے جہنم میں ایک بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھا اور اس کو کھلایا نہ پلایا اور نہ اس کو کھلا چھوڑا کہ وہ گھاس پھونس کھا لیتی حتی کہ وہ بھوک سے مرگئی ، میرے پاس جنت لائی گئی اور یہ وہ وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے دیکھا تھا حتی کہ میں اپنی جگہ کھڑا ہوا اور اوپر اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا تاکہ جنت سے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم بھی ان کو دیکھو لیکن پھر خیال آیا کہ ایسا نہ کروں (مسند احمد ، مسلم عن جابر (رض))
21557- إنه عرضت علي الجنة والنار فقربت مني الجنة حتى لقد تناولت منها قطفا فقصرت يدي عنه، وعرضت علي النار فجعلت أتأخر منه أن تغشاني ورأيت فيها امرأة حميرية سوداء طويلة تعذب
في هرة لها ربطتها فلم تطعمها، ولم تسقها، ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ورأيت فيها أبا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في النار، وإنهم كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم، وإنهما آيتان من آيات الله يريكموها، فإذا خسفا فصلوا حتى تنجلي. "م عن جابر".
في هرة لها ربطتها فلم تطعمها، ولم تسقها، ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ورأيت فيها أبا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في النار، وإنهم كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم، وإنهما آيتان من آيات الله يريكموها، فإذا خسفا فصلوا حتى تنجلي. "م عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن ، چاند گرہن اور سخت ہوا چلتے وقت کی نماز :
21559 ۔۔۔ شمس وقمر کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ پاک ان کے ساتھ بندوں کو ڈراتا ہے ، پس جب تم ایسا دیکھو تو نماز اور دعا میں مشغول ہوجاؤ جب تک کہ یہ کھل نہ جائیں ۔ (البخاری ، النسائی عن ابی بکرۃ البخاری ، مسلم ، النسائی ، ابن ماجہ عن ابی مسعود (رض) ، البخاری ، مسلم النسائی عن ابن عمر (رض) ، البخاری ، مسلم عن المغیرۃ)
21558- يا أيها الناس إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، وإنهما لا ينكسفان لموت بشر، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فصلوا حتى تنجلي، إنه ليس من شيء توعدونه إلا وقد رأيته في صلاتي هذه، ولقد جيء بالنار حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها حتى قلت: يا رب وأنا فيهم ورأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار كان يسرق الحاج بمحجنه فإن فطن له قال: إنما تعلق بمحجني، وإن غفل عنه ذهب به حتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها، ولم تتركها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا، وجيء بالجنة، فذلك حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي، فمددت يدي، وأنا أريد أن أتناول من ثمرها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل. "حم م عن جابر".
তাহকীক: