কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২১৬১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21621 ۔۔۔ ابو ملیح (رح) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو منبر پر کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس آدمی کا کوئی اسلام نہیں جو نماز نہیں پڑھتا ۔ (ابن سعد)
21619- عن نافع أن عمر بن الخطاب كتب إلى عماله: "إن أهم أمركم عندي الصلاة فمن حفظها أو حافظ عليها حفظ دينه، ومن ضيعها فهو لما سواها أضيع، ثم كتب: إن صلاة الظهر إذا كان الفيء ذراعا إلى أن يكون ظل أحدكم مثله، والعصر والشمس بيضاء نقية قدر ما يسير الراكب فرسخين أو ثلاثة، والمغرب إذا غربت الشمس، والعشاء إذا غاب الشفق إلى ثلث الليل، فمن نام فلا نامت عينه، فمن نام فلا نامت عينه، فمن نام فلا نامت عينه، والصبح، والنجوم بادية مشتبكة، فمن نام فلا نامت عينه". "مالك، عب، هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21621 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : نماز بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے اور جو آدمی لگا تار دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے بالآخر اس کے لیے دروازہ کھول ہی دیا جاتا ہے۔ (دیلمی فی مسند الفردوس)
21620- عن أبي المليح قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول على المنبر: "لا إسلام لمن لم يصل". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21622 ۔۔۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے آزاد کردہ غلام حارث کہتے ہیں : ایک دن سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں موذن آگیا آپ (رض) نے ایک برتن میں پانی منگوایا وہ برتن تقریبا ایک مد کے برابر تھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یونہی وضو فرماتے دیکھا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا تھا جس نے میری طرح وضو کیا اور پھر نماز ظہر ادا کی اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے وہ تمام گناہ معاف فرما دے گا جو صبح سے لے کر ظہر تک اس سے صادر ہوئے ہوں ، پھر عصر کی نماز پڑھی تو ظہر تا عصر جو گناہ صادر ہوئے جو وہ معاف فرما دے گا پھر عشاء کی نماز پڑھی تو عشا تک جتنے گناہ صادر ہوئے معاف فرما دے گا ، پھر وہ ممکن ہے رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزارے اور اگر صبح کو اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھی تو عشاء سے صبح تک جو گناہ اس سے صادر ہوئے وہ بھی معاف فرما دے گا ، یہ سب نیکیاں ہیں جو برائیوں کو ختم کردیتی ہیں پھر کسی نے پوچھا اے عثمان ! باقی نیکیاں کیا ہی ؟ فرمایا ! وہ ” لا الہ الا اللہ و سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ مسند امام احمد والمدنی والبزار ومسند ابی یعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان و سعید بن منصور) ۔
21621- عن عمر قال: "إن المصلي ليقرع باب الملك، وإنه من يدم قرع الباب يوشك أن يفتح له". "الديلمي في مسند الفردوس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21623 ۔۔۔ حمران کہتے ہیں میں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے وضو کے لیے پانی رکھتا تھا چنانچہ ایسا دن کوئی نہیں آیا جس میں پانی کا قطرہ نہ بہایا ہو ۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز سے واپس لوٹ رہے تھے (مسعر کہتے ہیں عصر کی نماز تھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ تمہیں کچھ بتاؤں یا خاموش رہوں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر کوئی بھلائی کی بات ہے تو ہمیں ضرور بتا دیجئے ۔ بصورت دیگر اللہ اور اس کا رسول بہتر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس مسلمان نے بھی حکم خداوندی کے مطابق طہارت کا اہتمام کیا اور پھر پنجگانہ نماز ادا کی تو پانچوں نمازیں درمیانی اوقات میں صادر ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائیں گی ۔ (مسلم نسائی ابن ماجہ وابن حبان)
21622- عن الحارث مولى عثمان قال: "جلس عثمان يوما وجلسنا معه فجاء المؤذن فدعا بماء في إناء أنه سيكون فيه مد، فتوضأ" ثم قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ وضوئي هذا،" ثم قال: "من توضأ وضوئي هذا، ثم قام فصلى صلاة الظهر غفر الله له ما كان بينها وبين الصبح، ثم صلى العصر غفر الله له ما كان بينها وبين صلاة الظهر، ثم صلى المغرب غفر الله له ما كان بينها وبين صلاة العصر، ثم صلى العشاء غفر الله له ما بينها وبين صلاة المغرب، ثم لعله أن يبيت فيتمرغ ليلته، ثم إن قام فتوضأ وصلى الصبح غفر الله له ما بينها وبين صلاة العشاء، وهن الحسنات يذهبن السيئات، قيل: فالباقيات الصالحات يا عثمان؟ " قال: "هن لا إله إلا الله وسبحان الله والحمد لله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله". "حم والعدني والبزار، ع وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه هب، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21624 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ بتاؤ اگر کسی شخص کے دروازے پر ایک نہر جاری ہو جس میں وہ پانچ مرتبہ روزانہ غسل کرتا ہو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہی حال نماز کا ہے بلاشبہ نماز بھی گناہوں کو اس طرح ختم کردیتی ہے جس طرح یہ پانی میل کو ختم کردیتا ہے۔ (احمد بن حنبل وابن ماجہ والشاشی وابن یعلی والبیھقی فی الشعب و سعید بن منصور فی سننہ)
21623- عن حمران قال: "كنت أضع لعثمان طهوره، فما أتى عليه يوم إلا وهو يفيض عليه نطفة،" فقال عثمان: "حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عند انصرافنا من صلاتنا هذه" - قال مسعر: "أراها العصر" - فقال:ما أدري أحدثكم بشيء أو أسكت؟ فقلنا: يا رسول الله إن كان خيرا فحدثنا وإن كان غير ذلك فالله ورسوله أعلم، فقال: "ما من مسلم يتطهر فيتم الطهور الذي كتب الله عليه فيصلي هذه الصلوات الخمس إلا كانت كفارات لما بينهن". "م ن هـ حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21625 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے منقول ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری کلام یہ تھا : نماز کی حفاظت کرتے رہو ، نماز کی حفاظت کرتے رہو اور اپنے غلاموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (احمدبن حنبل فی مسندہ والبخاری فی الادب ، ابو داؤد ، ابن ماجہ وابن جریر “۔ اور ابن جریر نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ابو یعلی فی مسندہ بخاری و مسلم و سعید بن منصور فی سننہ)
21624- عن عثمان قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أرأيتم لو أن بفناء أحدكم نهرا يجري يغتسل فيه كل يوم خمس مرات ما كان يبقى من درنه "؟ قالوا: لا شيء،" قال: "فإن الصلاة تذهب الذنوب كما يذهب هذا الماء الدرن". "حم هـ والشاشي ع هب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21626 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے تھے ، اچانک ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا بلاشبہ مجھ سے ایک گناہ صادر ہوگیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ پھیرلیا ، چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے وہ آدمی پھر کھڑا ہوا اور اپنی بات دہرائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے ہمارے ساتھ یہ نماز نہیں پڑھی اور اس نماز کے لیے اچھی طرح سے طہارت کا اہتمام نہیں کیا ؟ وہ آدمی بولا جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! پس یہ نماز تمہارے گناہ کا کفارہ ہے۔ (الطبرا فی انی الاوسط)
21625- عن علي قال: "كان آخر كلام النبي صلى الله عليه وسلم: "الصلاة الصلاة واتقوا الله فيما ملكت أيمانكم". "حم خ في الأدب، د هـ وابن جرير وصححه ع ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21627 ۔۔۔ طلحہ بن نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک و جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک میں (خزاں زدہ) ایک ٹہنی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ٹہنی ہلائی اور اس سے پتے چھڑنے لگے ، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کی مثال کیسی ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کی جملہ خطائیں اس کے سر پر رکھ دی جاتی ہیں جب وہ سجدہ میں جاتا ہے اس سے گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جس طرح پتے اس ٹہنی سے ۔ (ابن زنجویہ)
21626- عن علي قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ننتظر الصلاة، فقام رجل" فقال: "إني أصبت ذنبا، فأعرض عنه، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قام الرجل وأعاد القول،" فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أليس قد صليت معنا هذه الصلاة، وأحسنت لها الطهور؟ " قال: "بلى،" قال: "فإنها كفارة ذنبك". "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21628 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک نوجوان حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور اپنی حوائج کو پوشیدہ رکھتا ۔ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم مجھ سے کسی حاجت کا سوال کرتے ہو ؟ نوجوان نے عرض کیا اللہ تبارک وتعالیٰ سے میرے لیے جنت کی دعا فرما دیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور پھر فرمایا : جی ہاں لیکن نماز کا کثرت سے اہتمام کرو ۔ (مسلم ، الطبرانی فی الکبیر)
21627- عن طلحة بن نافع قال: "حدثني أنس بن مالك وجابر ابن عبد الله قالا: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وبيده قضيب، فضرب به، فجعل ورقه يتناثر" فقال: " هل تدرون ما مثل هذا؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم" قال: "إن مثل هذا مثل أحدكم إذا قام إلى صلاته جعلت خطاياه فوق رأسه، فإذا خر ساجدا تناثرت عنه كما يتناثر ورق هذا العذق". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21629 ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ نماز کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے چلے جا رہے تھے (اس پر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایسا اس لیے کررہا ہوں تاکہ نماز کی طلب میں اٹھائے جانے والے قدموں کی تعداد بڑھ جائے ۔ (مسلم الطبرانی فی الکبیر، وذخیرۃ الحفاظ رقم 610)
21628- عن جابر بن سمرة قال: "كان شاب يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، ويخف في حوائجه"، فقال: "تسألني حاجة؟ " قال: "ادع الله لي بالجنة، فرفع رأسه وتنفس" وقال: "نعم ولكن بكثرة السجود". "م طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21630 ۔۔۔ سائب بن خباب نقل کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے فرمایا ! آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے چنانچہ جب کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس کی جملہ خطائیں اس پر ڈال دی جاتی ہیں ، جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے بدلہ میں گناہ مٹا دیتے ہیں (عبدالرزاق فی مصنفہ)
21629- عن زيد بن ثابت قال: "أقيمت الصلاة فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا معه فقارب، بين الخطا" وقال: "إنما جعلت هذا ليكثر عدد خطاي في طلب الصلاة". "م طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21631 ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) نقل کرتے ہیں کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز کے لیے جا رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے جا رہے تھے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے میں ایسا کیوں کررہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا جب تک آدمی نماز کی طلب میں ہوتا ہے وہ مسلسل نماز کے حکم میں ہوتا ہے (الطبرانی فی الکبیر)
21630- عن السائب بن خباب عن زيد بن ثابت قال: "صلاة الرجل في بيته نور وإذا قام الرجل إلى الصلاة علقت خطاياه فوقه فلا يسجد سجدة إلا كفر الله عنه بها خطيئته". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21632 ۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : جب کوئی بندہ اچھی طرح سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے اور قبلہ رو ہو کر اللہ تعالیٰ سے مناجات شروع کردیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے حتی کہ بندہ ہی نماز سے فارغ ہوجاتا ہے یا دائیں بائیں توجہ کرلیتا ہے۔ (یعنی سلام پھیر لیتا ہے یا نماز میں کہیں اور متوجہ ہوجاتا ہے) ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21631- عن زيد بن ثابت قال: "كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نريد الصلاة، فكان يقارب الخطا،" فقال: "أتدرون لم أقارب الخطا؟ " قلت: "الله ورسوله أعلم،" فقال: "لا يزال العبد في صلاة ما دام في طلب الصلاة". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21633 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل کہتے ہیں میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے چنانچہ جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین “ اللہ تبارک وتعالیٰ جواب دیتے ہیں ، میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی چنانچہ یہ میرے لیے ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ اس کے لیے ہے۔ (البیہقی فی کتاب القراء ہ فی اللصلوۃ)
21632- عن حذيفة قال: "إن العبد إذا توضأ فأحسن وضوءه، ثم قام إلى الصلاة استقبله الله بوجهه يناجيه، فلم يصرفه عنه حتى يكون هو الذي ينصرف أو يلتفت يمينا أو شمالا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21634 ۔۔۔ سعید بن جبیر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا : جب کوئی بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس کی جملہ خطائیں اس کے سر پر رکھ دی جاتی ہیں ، چنانچہ جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو گناہ اس سے گر کر اس طرح بکھر جاتے ہیں جس طرح کھجور کے درخت سے خوشے دائیں بائیں گر کر بکھر جاتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
21633- عن جابر قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله عز وجل يقول: قسمت الصلاة بيني وبين عبدي، فإذا قال: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} " قال: مجدني عبدي، فهذا لي وله ما بقي". "ق في كتاب القراءة في الصلاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21635 ۔۔۔ ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : جب آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے جملہ گناہ جمع کرکے اس کے سر پر رکھ دیئے جاتے ہیں ، جب وہ سجدہ کرتا ہے تو درخت کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں۔ (ابن زنجویہ) فائدہ : ۔۔۔ اس مضمون کی جملہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ نماز سے صغائر مٹ جاتے ہیں اور کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے ۔
21634- عن سعيد بن جبير قال: قال سلمان الفارسي: "إن العبد إذا قام إلى الصلاة وضعت خطاياه على رأسه، فلا يفرغ من صلاته حتى تتفرق عنه كما تتفرق عذوق النخلة تساقط يمينا وشمالا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21636 ۔۔۔ طارق بن شہاب سے منقول ہے کہ انھوں نے حضرت سلمان (رض) کے پاس رات گزاری تاکہ رات کو ان کی عبادت و ریاضت دیکھ سکیں چنانچہ سلمان (رض) اٹھے اور آخر رات تک نماز میں مشغول رہے تاہم جس قدر طارق بن شہاب کا گمان تھا ان کی عبادت کو یوں نہ پایا چنانچہ سلمان (رض) سے اس کا تذکرہ کیا گیا انھوں نے فرمایا نماز پنجگانہ پر پابندی کرو بلاشبہ پانچ نمازیں ان فراموشیوں کے لیے کفارہ ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ صادر نہ ہو ، چنانچہ لوگ جب شام کرتے ہیں تو تین قسموں میں بٹ جاتے ہیں اول : وہ جن کے لیے رات بھلائی بن جاتی ہے اور ان پر وبال جان نہیں بنتی ۔ دوم : وہ جن کے لیے وبال جان بن جاتی ہے اور ان کے حق میں بھلائی کا پیغام نہیں لاتی ۔ سوم : وہ جن کے لیے نہ وبال جان ہے اور نہ ہی ان کے حق میں بھلائی ہے ، چنانچہ وہ آدمی جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت سمجھ کر رات بھر عبادت ونماز میں مصروف رہتا ہے رات اس کے حق میں سراسر بھلائی ہے اور اس پر وبال جان نہیں ، اور وہ آدمی جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت سمجھ کہ بحر عصیانمیں محو سفر ہوجاتا ہے تو ہر رات اس پر نری وبال جان ہے اور اس میں اس کے لیے ذرہ بھی بھلائی کا نام ونشان نہیں اور وہ آدمی جو عشاء کی نماز پڑھ کر (صبح تک) سوتا رہا تو یہ رات اس کے لیے نہ بھلائی کا پیغام لائی اور نہ ہی اس پر کچھ وبال جان ہے دکھلاوے سے بچو عمل میں خلوص و دوام پیدا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21635- عن أبي وائل قال: قال سلمان: "إذا صلى العبد اجتمعت خطاياه فوق رأسه، فإذا سجد تحاتت كما يتحات ورق الشجر". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21637 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں جو مسلمان بھی کسی جگہ یا پتھروں سے بنی ہوئی کسی مسجد میں جاتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو وہاں کی زمین کہتی ہے تو نے مجھ پر خالص اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے نماز پڑھی ہے میں قیامت کے دن تیرے لیے گواہی دوں گی ۔ (رواہ ابن عساکر)
21636- عن طارق بن شهاب أنه بات عند سلمان ينظر اجتهاده فقام يصلي من آخر الليل، فكأنه لم ير الذي كان يظن فذكر له ذلك، فقال سلمان: "حافظوا على الصلوات الخمس، فإنهن كفارات لهذه الجراحات ما لم يصب المقتلة فإذا أمسى الناس كانوا على ثلاث منازل: فمنهم من له ولا عليه، ومنهم من عليه ولا له ومنهم من لا له ولا عليه، فرجل اغتنم ظلمة الليلة وغفلة الناس فقام يصلي حتى أصبح فذلك له ولا عليه، ورجل اغتنم غفلة الناس وظلمة الليل فركب رأسه في المعاصي، فذلك عليه ولا له، ورجل صلى العشاء ونام فذلك لا له ولا عليه، فإياك والحقحقة وعليك بالقصد وداوم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21638 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : نمازیں کوتاہیوں کا کفارہ ہیں بلاشبہ آدمی کے پاؤں کے انگوٹھے پر آبلہ نکل آتا ہے پھر آگے بڑھتا ہوا ٹخنے تک پہنچ جاتا ہے، پھر گھٹنوں تک پہنچ جاتا ہے ، پھر پہلو تک پہنچ جاتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہوا گردن تک پہنچ جاتا ہے چنانچہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو گردن سے کاندھوں پر اتر آتا ہے پھر پہلو پر اتر آتا ہے وہاں سے گھٹنوں پر اتراتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے تو قدموں پر اتر آتا ہے اور پھر جب نماز پڑھتا ہے تو بدن سے بالکل الگ ہوجاتا ہے۔ (راوہ ابن عساکر) فائدہ :۔۔۔ حدیث میں گناہ کو آبلہ سے تشبیہ دی گئی ہے چنانچہ جب آدمی نماز نہیں پڑھتا تو وہ بتدریج آگے بڑھتا رہتا ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
21637- عن ابن عمر قال: "الصلاة حسنة لا أبالي من شاركني فيها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :

حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :

قسم افعال :

باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21639 ۔۔۔
21638- عن ابن عمرو قال: "ما من مسلم يأتي زيارة من الأرض أو مسجدا بني بأحجاره فصلى فيه إلا قالت الأرض: صلى لله في أرضه وأشهد لك يوم تلقاه". "كر".
tahqiq

তাহকীক: