কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২১৬৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21640 ۔۔۔ ابو کثیر زبیدی حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا آدمی کی گردن پر ایک آبلہ نکل جاتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے سینے پر اتر آتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے تو پہلو میں اتر آتا ہے پر نماز پڑھتا ہے ٹخنے پر اتر آتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے تو پاؤں کے انگوٹھے پر اتر آتا ہے پھر جب نماز پڑھتا ہے تو وہاں سے بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
21639- عن ابن مسعود قال: "الصلوات كفارات لما بعدهن، إن آدم خرجت به شأفة في إبهام رجله، ثم ارتفعت إلى أصل قدميه، ثم ارتفعت إلى ركبتيه، ثم ارتفعت إلى أصل حقويه، ثم ارتفعت إلى أصل عنقه، فقام فصلى فنزلت عن منكبيه، ثم صلى فنزلت إلى حقويه، ثم صلى فنزلت إلى ركبتيه، ثم صلى فنزلت إلى قدميه، ثم صلى فذهبت". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21641 ۔۔۔ عبدالرحمن بن یزید نقفل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود روزے کم رکھتے تھے جب ان سے اس کی وجہ سے دریافت کی گئی تو انھوں نے فرمایا جب میں روزے رکھتا ہوں تو مجھے کمزوری لاحق ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے نماز کے لیے طاقت مخدوش ہوجاتی ہے حالانکہ مجھے نماز روزے سے زیادہ محبوب ہے۔ رواہ عبدالرزاق )
21640- عن أبي كثير الزبيدي عن عبد الله بن عمرو قال: "خرجت في عنق آدم شأفة يعني بثرة، فصلى صلاة فانحدرت إلى صدره، ثم صلى صلاة فانحدرت إلى الحقو، ثم صلى صلاة فانحدرت إلى الكعب، ثم صلى صلاة فانحدرت إلى الإبهام، ثم صلى صلاة فذهبت". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21642 ۔۔۔ ابو وائل روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) (ابن مسعود) روزے قلیل رکھتے تھے جب ان سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا جب میں روزے رکھتا ہوں تو ضعف کی وجہ سے قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرسکتا ہوں حالانکہ تلاوت قرآن مجید مجھے روزے رکھنے سے زیادہ محبوب ہے (رواہ ابن جریر)
21641- عن عبد الرحمن بن يزيد أن عبد الله بن مسعود كان يقل الصوم، فقيل له فقال: "إني إذا صمت ضعفت عن الصلاة، والصلاة أحب إلي من الصوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21643 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا اپنی جملہ حاجات کو فرض نمازوں پر محمول کردو (رواہ عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ یعنی پہلے فرض نماز ادا کی جائیں پھر بقیہ کاموں کو وقت دیا جائے ۔ حدیث کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نمازیں پڑھو تمہاری حالات اللہ تعالیٰ پوری کرے گا ۔
21642- عن أبي وائل قال: كان عبد الله يقل الصوم فقيل له فقال: "إني إذا صمت ضعفت عن قراءة القرآن، وقراءة القرآن أحب إلي من الصوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
1044 2 ۔۔۔ ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا نمازیں درمیانی وقفوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21643- عن ابن مسعود قال: "احملوا حوائجكم على المكتوبة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21645 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں جو شخص چاہتا ہو کہ قیامت کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں مسلمان بن کر حاضر ہو وہ ان نمازوں کو ایسی جگہ ادا کرنے کا اہتام کرے جہاں اذان ہوتی ہو (یعنی مسجد میں) چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایسی سنتیں جاری کی ہیں جو سراسر ہدایت ہیں انھیں میں سے یہ جماعت کی نماز بھی ہے اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو گے جیسا کہ فلاں شخص پڑھتا ہے تو تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو چھوڑنے والے ہو کے سمجھ لو اگر تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو چھوڑنے والے ہوگئے تو گمراہ ہوجاؤ گے اور جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اس کے بعد مسجد کی طرف جائے تو ہر ہر قدم پر ایک ایک نیکی لکھی جائے گی اور ایک ایک درجہ بلند ہوتا جائے گا اور ایک ایک خطا معاف ہوگی ہم تو اپنا حال دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہو وہ تو جماعت سے رہ جاتا تھا اور نہ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں عام منافقوں کو بھی جماعت چھوڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی یا کوئی سخت بیمار ہو ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے درمیان گھسٹتا ہوا جاسکتا تھان وہ بھی صف کے درمیان کھڑا کردیا جاتا تھا (عبدالرزاق والترغیب الدرالمنثور) فائدہ :۔۔۔ سنت کی دو قسمیں ہیں اول سنت ھدی جس کے ترک پر عتاب ہو جیسے جماعت اذان وغیرہ اور دوم سنت زائد جس کے ترک پر متاب نہ ہو جیسے لباس اور طعام وغیرہ ۔
21644- عن أبي وائل قال: قال عبد الله بن مسعود: "الصلوات كفارات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21646 ۔۔۔ ام فروہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے افضل ترین عمل کون سا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اول وقت میں نماز پڑھنا (رواہ عبدالرزاق)
21645- عن ابن مسعود قال: "من سره أن يلقى الله غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات المكتوبات حيث ينادى بهن، فإنهن من سنن الهدى، وإن الله قد شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى، ولعمري ما أخال أحدكم إلا وقد اتخذ مسجدا في بيته، ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم، ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم لقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق معلوم نفاقه، ولقد رأيت الرجل يهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف، فما من رجل يتطهر فيحسن الطهور فيخطو خطوة يعمد إلى مسجد من مساجد الله إلا كتب الله له بها حسنة ورفعه بها درجة وحط عنه بها خطيئة حتى إن كنا لنقارب في الخطا". "عب ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21647 ۔۔۔ حضرت ابو درادء (رض) فرماتے ہیں جس کی نماز نہیں اس کا ایمان نہیں اور جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ۔ (رواہ ابن جریر)
21646- "مسند أم فروة" قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الأعمال أفضل؟ قال: "الصلاة في أول وقتها". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21648 ۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ کا ارادہ کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے لیے شہادت کی دعا کریں آپ (رض) نے فرمایا : یا اللہ انھیں (مجاہدین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کو سلامتی میں رکھ (ایک روایت میں ہے یا اللہ انھیں ثابت قدم رکھ اللہ مال غنیمت سے انھیں مالا مال کر دے ) چنانچہ ہم نے غزوہ کیا اور صحیح سلامت مال غنیمت لے کر واپس لوٹے ایک مرتبہ پھر آپ نے فرمایا : یا اللہ انھیں ایک غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرے لیے اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعا کیجئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ انھیں صحیح سلامت رکھ (ایک روایت میں ہے یا اللہ انھیں ثابت قدم رکھ اللہ مال غنیمت سے انھیں مالا مال کر دے) چنانچہ (اس بار بھی) ہم نے غزوہ کیا اور صحیح سلامت مال غنیمت لے کر لوٹے (کچھ عرصہ بعد) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا ، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قبل ازیں دو مرتبہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضری دے چکا ہوں اور آپ سے سوال کرچکا ہوں کہ اللہ جل شانہ سے میرے لیے شہادت کی دعا کریں۔ مگر آپ یہی فرماتے رہے کہ یا اللہ انھیں سلامتی میں رکھ اور انھیں مال غنیمت عطا کر یا رسول اللہ (اب کی بار) میرے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ سے شہادت کی دعا کر دیجئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یا اللہ انھیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطا فرما ۔ چنانچہ ہم نے غزوہ کیا اور مال غنیمت لے کر کامیاب وکامران واپس ہوئے ۔ اس کے بعد میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ مجھے ایک ایسا عمل بتا دیجئے جسے میں اپنا لوں اور مجھے اللہ اس کے ذریعے بھرپور نفع عطا فرمائے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم روزہ رکھا کرو ، بلاشبہ روزے جیسا کوئی عمل نہیں ، اس کے بعد میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے مجھے ایک عمل کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے اللہ عزوجل اس سے مجھے ضرور نفع پہنچائے گا نیز مجھے ایک اور عمل بتادیں ممکن ہے اللہ جل شانہ مجھے س کا بھی بھرپور نفع عطا فرمائے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سمجھ لو تم جو سجدہ بھی کرتے ہو اللہ جل شانہ تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک خطاء معاف فرماتا ہے۔ (ابو یعلی والحاکم فی المستدرک)
21647- عن أبي الدرداء قال: "لا إيمان لمن لا صلاة له، ولا صلاة لمن لا وضوء له". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21649 ۔۔۔ امام شعبی روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے نماز میں دو دو رکعتیں فرض کی گئی تھی چنانچہ جب بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منوہ تشریف لائے تو سوائے مغرب کی نماز کے ہر دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کردیا (مصنف ابن ابی شیبہ)
21648- عن أبي أمامة قال: أنشأ رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوا فأتيته فقلت: "يا رسول الله ادع الله لي بالشهادة، فقال: اللهم سلمهم - وفي لفظ: ثبتهم وغنمهم - فغزونا وسلمنا وغنمنا، ثم أنشأ رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوا فأتيته فقلت: ادع الله لي بالشهادة، قال: اللهم سلمهم - وفي لفظ: ثبتهم وغنمهم - فغزونا فسلمنا وغنمنا، ثم انشأ رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوا ثالثا فأتيته فقلت: يا رسول الله إني قد أتيتك مرتين أسألك أن تدعو الله لي بالشهادة فقلت: "اللهم سلمهم وغنمهم"، يا رسول الله فادع الله لي بالشهادة فقال: "اللهم سلمهم وغنمهم"، فغزونا فسلمنا وغنمنا، ثم أتيته بعد ذلك فقلت: يا رسول الله مرني بعمل آخذه عنك فينفعني الله به فقال: "عليك بالصوم فإنه لا مثل له"، ثم أتيته بعد ذلك فقلت: يا رسول الله إنك أمرتني بأمر أرجو أن يكون الله قد نفعني به، فمرني بأمر آخر فعسى الله أن ينفعني به، قال: "اعلم أنك لا تسجد لله سجدة إلا رفع الله لك بها درجة أو حط - وفي لفظ: وحط عنك بها خطيئة". "ع ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21650 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ عام طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت ہوتی کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے غلاموں کے معاملہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرو حتی کہ یہی کلمات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک میں دب کر رہ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک تکلم نہیں کرسکتی تھی ۔ (رواہ ابن جریر)
21649- عن الشعبي قال: "أول ما فرضت الصلاة فرضت ركعتين ركعتين، فلما أتى النبي صلى الله عليه وسلم المدينة زاد مع كل ركعتين ركعتين إلا المغرب". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21651 ۔۔۔ زہرہی روایت کرتے ہیں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے تھے ہم خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں چنانچہ جب ہم فرض نماز پڑھ لیتے ہیں تو یہ نماز ما قبل کے گناہوں کا کفاہ بن جاتی ہے ہم پھر اپنی جانوں پر زیادتی کرتے ہیں اور پھر جب نماز پڑھتے ہیں تو وہ ماقبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ (راوہ عبدالرزاق)
21650- عن أم سلمة قالت: "كانت عامة وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم "الصلاة الصلاة وما ملكت أيمانكم، حتى جعل يلجلجها في صدره وما يفيض بها لسانه". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21652 ۔۔۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں خبردار نماز سراسر بھلائی کی چیز ہے جو چاہے کم پڑھے اور جو چاہے زیادہ پڑھے خبردار نماز میں تین تہائیاں ہیں ایک تہائی وضو ایک تہائی رکوع اور ایک تہائی سجدہ (سعید بن منصور فی سننہ)
21651- عن الزهري عن أبي موسى الأشعري قال: "نحرق على أنفسنا، فإذا صلينا المكتوبة كفرت الصلاة ما قبلها، ثم نحرق على أنفسنا فإذا صلينا كفرت الصلاة ما قبلها". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
21653 ۔۔۔ ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رات گزارتا تھا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کے لیے پانی اور دوسری حاجت کی کوئی چیز لا کردیتا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اٹھتے اور یہ کلمات کہتے ۔ (سبحان ربی وبحمدہ سبحان ربی وبحمدہ سبحان وبحمدہ الھوی سبحان رب العالمین سبحان رب العالمین الھوی)
21652- عن الحسن قال: "ألا إن الصلاة خير موضوع فمن شاء استقل ومن شاء استكثر، ألا إن الصلاة ثلاثة أثلاث: ثلث وضؤوه، وثلث ركوعه، وثلث سجوده". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
حرف ص ۔۔۔ کتاب الصلوۃ :
قسم افعال :
باب اول ۔۔۔ نماز کی فضیلت اور وجوب کے بیان میں :
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کیا تمہاری کوئی حاجت ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جنت میں آپ کی رفاقت کا خواستگار ہوں فرمایا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری بس یہی حاجت ہے۔ ارشاد فرمایا : کثرت سجود سے میری مدد کرتے رہو ۔ (یعنی کثرت کے ساتھ نماز پڑھتے رہو جنت میں میری رفاقت مل جائے گی )
21653- "مسند ربيعة بن كعب الأسلمي" كنت أبيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته بوضوئه وبحاجته، فكان يقوم من الليل فيقول: "سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده، سبحان ربي وبحمده الهوى، سبحان رب العالمين، سبحان رب العالمين الهوى"، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "هل لك من حاجة "؟ فقلت يا رسول الله مرافقتك في الجنة، قال: "أو غير ذلك"؟ قلت: يا رسول الله هي حاجتي، قال: " فأعني على نفسك بكثرة السجود". "ابن زنجويه"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے ترک پر ترھیب :
21654 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے کسی نے پوچھا ! اے امیر المومنین اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا جو آدمی نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے (عبدالرزاق ابن عساکر فی تاریخہ والبیھقی فی شعب الایمان)
21654- عن علي أنه قيل له: "يا أمير المؤمنين ما ترى في امرئ لا يصلي؟ قال: من لم يصل فهو كافر". "عب كر في تاريخه هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم :۔۔۔ نماز کے احکام ارکان مفسدات اور مکملات کے بیان میں فصل ۔۔۔ نماز کی شروط کے بارے میں نماز کی جامع شروط قبلہ وغیرہ :
21655 ۔۔۔ (مسند عمارہ بن اوس) عمارہ بن اوس (رض) فرماتے ہیں ہم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور ہم حالت رکوع میں تھے وہ آدمی بولا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا ہے اور انھیں کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا تم بھی کعبہ کی طرف رخ کرلو چنانچہ ہمارا امام بحالت رکوع کعبہ کی طرف مڑ گیا اور مقتدیوں نے بھی کعبہ کی طرف منہ پھیرلیا چنانچہ ہم نے یہ نماز آدھی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی اور آدھی کعبہ اللہ کی طرف ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21655- "مسند عمارة بن أوس" كنا نصلي إلى بيت المقدس إذ أتانا آت وإمامنا راكع، ونحن ركوع فقال: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أنزل عليه قرآن، وقد أمر أن يستقبل الكعبة ألا فاستقبلوها فانحرف إمامنا وهو راكع وانحرف القوم حتى استقبلوا الكعبة، فصلينا بعض تلك الصلاة إلى بيت المقدس وبعضها إلى الكعبة". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم :۔۔۔ نماز کے احکام ارکان مفسدات اور مکملات کے بیان میں فصل ۔۔۔ نماز کی شروط کے بارے میں نماز کی جامع شروط قبلہ وغیرہ :
21656 ۔۔۔ یہ حدیث مسند رفاعہ بن رافع رازقی کی مسانید میں سے ہے) وہ فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور ہلکی سی نماز پڑھی اس نے پوری طرح رکوع کیا اور نہ ہی سجدہ کیا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے کن اکھیوں سے دیکھتے رہے حالانکہ اس آدمی کو پتہ تک نہیں چلا اور جب نماز سے فارغ ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا سلام کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا اور ارشاد فرمایا نماز لوٹاؤ بلاشبہ تم نے نماز نہیں پڑھی اس آدمی نے عرض کیا یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان جائیں قسم اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے میں نے اپنے جیسی کوشش کرلی ہے مجھے نماز بتلائیے اور سکھلا دیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح سے وضو کرلو پھر قبلہ رو کھڑے ہو کر تکبیر کہو پھر قرآن پڑھو اور پھر اطمینان سے رکوع کرو ، پھر رکوع سے اعتدال کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر اوپر اٹھ کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کرو پھر اوپر اٹھ جاؤ اور یوں اپنی نماز پوری کرلو تم نے اپنی نماز میں جو بھی کوتاہی کی تو اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ (عبدالرزاق وابن ابی شیبہ)
21656- "مسند رفاعة بن أبي رافع الزرقي" "كنا جلوسا مع النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعها ولا سجودها ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ولا يشعر فصلى، ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد عليه السلام فقال: "أعد فإنك لم تصل"، فقال: أي رسول الله بأبي أنت وأمي والذي أنزل عليك الكتاب لقد اجتهدت وحرصت فأرني وعلمني قال: "إذا أردت أن تصلي فأحسن وضوءك، ثم استقبل القبلة فكبر، ثم اقرأ ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع فإذا أتممت على هذا صلاتك فقد أتممت، وما نقصت من هذا فإنما تنقصه من نفسك". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم :۔۔۔ نماز کے احکام ارکان مفسدات اور مکملات کے بیان میں فصل ۔۔۔ نماز کی شروط کے بارے میں نماز کی جامع شروط قبلہ وغیرہ :
21657 ۔۔۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب تم قبلہ کی طرف منہ کرلو تو تکبیر کہو پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے بعد جس سورت کی چاہو قرات کرو جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ لو اور پیٹھ کو سیدھا رکھو اور تسلی کے ساتھ رکوع کرو جب کھڑے ہو تو سیدھے کھڑے ہوجاؤ یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر آجائیں ۔ جب سجدہ کرو تو تمکین کے ساتھ سجدہ کرو اور جب اوپر اٹھو تو بائیں پاؤں پر بیٹھ جاؤ پھر ہر رکعت اور سجدہ میں اسی طرح کرو ۔ (مصنف بن ابی شیبہ احمد بن حنبل وابن حبان)
21657- "أيضا" إذا استقبلت القبلة فكبر، ثم اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت فإذا ركعت فاجعل راحتيك على ركبتيك، وامدد ظهرك، ومكن لركوعك، فإذا رفعت رأسك، فأقم صلبك حتى ترجع العظام إلى مفاصلها، فإذا سجدت فمكن سجودك، فإذا جلست فاجلس على فخذك اليسرى، ثم اصنع كذلك في كل ركعة وسجدة. "ش حم حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم :۔۔۔ نماز کے احکام ارکان مفسدات اور مکملات کے بیان میں فصل ۔۔۔ نماز کی شروط کے بارے میں نماز کی جامع شروط قبلہ وغیرہ :
21658 ۔۔۔ مسند علی ہے کہ معبد بن صخر قرشی کہتے ہیں میں نے ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی اور میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ساتھ کھڑا تھا چنانچہ جب سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی لی پھر آیت پڑھی ۔ ” ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ وہ اپنے فعل پر اصرار نہیں کرتے انھیں علم بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے پاس پانی لایا گیا انھوں نے وضو کیا اور پھر نماز پڑھی ۔ (الترقفی فی جزہ ، ترقفی عباس بن عبداللہ ثقہ حافظ (متوفی 267)
21658- "مسند علي" عن معبد بن صخر القرشي قال: "صليت خلف عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب إلى جنبي فانصرف وهو يقول: صليت بغير وضوء ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون، فأتى المطهرة فتوضأ ثم صلى". "الترقفي في جزئه".
তাহকীক: