কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২১৭১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استقبال قبلہ :
21721 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ مہینے نماز پڑھی پھر اس کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آگیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21719- عن سليمان التيمي قال: "سمعت أنس بن مالك يقول: ما بقي أحد ممن صلى القبلتين غيري". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استقبال قبلہ :
21722 ۔۔۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ معبد بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میرے بھائی عبداللہ بن کعب نے حدیث سنائی کہ میرے والد صاحب حضرت کعب بن مالک (رض) ان حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ہیں جو بیعت عقبہ میں شریک تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ، چنانچہ حضرت کعب (رض) کہتے ہیں ہم اپنی قوم کے چند مشرکین حاجیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ہم نماز پڑھ چکے ہمارے ساتھ براء بن معرور تھے جو ہمارے بڑے اور سردار تھے براء کہنے لگے : اے لوگو ! مجھے گوارا نہیں کہ میں کعبہ کی طرف پشت کرکے نماز پڑھوں ہم نے کہا : ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو شام کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں ہم ان کی مخالفت نہیں کرسکتے ، براء نے کہا میں تو کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھوں گا ہم نے کہا : لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے چنانچہ جب نماز کا وقت ہوتا ہم شام کی طرف منہ کرکے پڑھتے براء کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے حتی کہ ہم مکہ پہنچ گئے ، ہم انھیں اس پر برا بھلا کہتے جب ہم مکہ پہنچے تو کہنے لگے اے بھتیجے ! ہمارے ساتھ چلو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا چاہتے ہیں تاکہ ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کریں تمہاری مخالفت کی وجہ سے بخدا اس مسئلہ کے بارے میں میرے دل میں تردد پیدا ہوچکا ہے ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں پہنچانتے تھے اور نہ ہی اس سے پہلے ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا چنانچہ ہم مسجد میں داخل ہوئے حضرت عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے سلام کیا اور پھر ان کے پاس بیٹھ گئے براء بن معرور بولے اے اللہ کے نبی میں اس سفر پر نکلا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائی ہے میں سمجھتا ہوں کہ بیت اللہ کی طرف پیٹھ کرکے نماز نہ پڑھوں لہٰذا میں نے بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لی ہے حالانکہ میرے رفقائے سفر نے میری مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے میرے دل میں کچھ تردد پیدا ہوگیا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میری اس رائے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایک قبلہ کے پابند ہو کاش تم اسی پر صبر کرلیتے ۔ چنانچہ براء (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبلہ کی طرف رجوع کرلیا اور ہمارے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی حتی کہ مرتے دم تک ان کے گھر والے یہی سمجھتے رہے کہ براء کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں تھی چونکہ براء (رض) کو ہم ان کے گھر والوں کی بنسبت زیادہ جانتے ہیں ، پھر ہم حج کے لیے نکل پڑے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے درمیانی ایام تشریق کے دن عقبہ کا وعدہ کرلیا چنانچہ جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہم اکٹھے ہو کر رات کے وقت گھاٹی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتظار میں بیٹھ گئے تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت عباس (رض) بھی تھے حضرت عباس (رض) نے کچھ باتیں کیں ہم نے کہا ! تم نے جو کچھ کہا ہے وہ ہم نے سن لیا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جیسے آپ چاہیں اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے ہم سے وعدہ لے لیں ، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلام شروع کیا ، قرآن مجید کی تلاوت کی اور اسلام کی طرف بھر پور ترغیب دی ۔ پھر فرمایا میں تم سے اس شرط پر بیعت لوں گا کہ تم لوگ مجھے اس امر سے روکو گے جس سے تم اپنی عورتوں اور بچوں کو روکتے ہو براء بن معرور (رض) فورا اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک ہاتھ پکڑ لیا اور کہا جی ہاں ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے ہم ضرور آپ کو اس امر سے روکیں گے جس سے ہم اپنی عورتوں کو روکتے ہیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم سے بیعت لیجئے بخدا ہم جنگجو لوگ ہیں ، ہماری جمعیت ہے ہماری پاس طاقت ہے اور یہ سب چیزیں ہمیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی ہیں اتنے میں شور مچ گیا اور براء (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفت و شنید کرتے رہے سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر براء بن معرور (رض) نے بیعت کی پھر لوگ یکے بعد دیگرے بیعت کرتے رہے ۔ (رواہ ابو نعیم) کلام : ۔۔۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ محمد بن ابی جہم کو ابن محمد بن عثمان ابن ابی شیبہ نے غرباء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں ذکر کیا ۔
21720- عن البراء قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيت المقدس ستة عشر شهرا حتى نزلت الآية التي في البقرة {وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} فنزلت بعد ما صلى النبي صلى الله عليه وسلم، فانطلق رجل من القوم فمر بناس من الأنصار وهم يصلون، فحدثهم الحديث فولوا وجوههم قبل البيت". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استقبال قبلہ :
21723 ۔۔۔ ابراہیم بن ابی عبلہ کی روایت ہے کہ میں نے ابی بن ام حرام انصاری کے والد سے ملاقات کی انھوں نے مجھے بتایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو قبلوں (بیت اللہ بیت المقدس) کی طرف نماز پڑھ چکا ہوں اس وقت میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غباری رنگ کی ایک چادر دیکھی تھی ۔ (احمد بن حنبل ابن مندہ ابن عساکر)
21721- عن ابن عباس قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى بيت المقدس ستة عشر شهرا، ثم حولت القبلة بعد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استقبال قبلہ :
21724 ۔۔۔ ابو عالیہ ریاحی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا کہ جب سورج زائل ہوجائے تو اس وقت ظہر کی نماز پڑھو عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب کی طرف مائل ہوجائے اور ابھی صاف اور واضح ہو ۔ جب سورج غروب ہوجائے مغرب پڑھ لو اور جب شفق غروب ہوجائے عشاء پڑھو ۔ کہا جاتا ہے کہ آدھی رات تک درک ہے اور اس کے بعد تفریط ہے صبح کی نماز پڑھو جب کہ ستارے واضح ہوں اور آسمان پر جال پھیلائے ہوں اور فجر میں قرات طویل کرو جان لو کہ دو نمازوں کو بلاعذر جمع کرکے پڑھنا کبیر گناہ ہے۔ (عبدالرزاق ابن ابی شیبہ) یہ صحیح حدیث ہے۔
21722- عن ابن إسحاق حدثني معبد بن كعب بن مالك أن أخاه عبد الله بن كعب حدثه أن أباه كعب بن مالك وكان ممن شهد العقبة وبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم بها، قال: "خرجنا في حجاج قومنا من المشركين، وقد صلينا وفقهنا ومعنا البراء بن معرور كبيرنا وسيدنا، قال البراء لنا: يا هؤلاء قد رأيت أن لا أدع هذه البنية مني بظهر يعني الكعبة، وأن أصلي إليها، فقلنا: والله ما بلغنا أن نبينا صلى الله عليه وسلم يصلي إلا إلى الشام، وما نريد أن نخالفه، فقال: إني لمصل لها، قلنا له: لكنا لا نفعل، فكنا إذا حضرت الصلاة صلينا إلى الشام، وصلى إلى الكعبة حتى قدمنا مكة، وقد كنا عبنا عليه ما صنع وأبى إلا الإقامة عليه، فلما قدمنا مكة قال: يا ابن أخي انطلق بنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أسأله عما صنعت في سفري هذا، فإنه والله قد وقع في نفسي منه شيء لما رأيت من خلافكم إياي فيه فخرجنا نسأل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكنا لا نعرفه، ولم نره قبل ذلك فدخلنا المسجد، فإذا العباس جالس ورسول الله صلى الله عليه وسلم معه جالس فسلمنا، ثم جلسنا إليه فقال البراء بن معرور: يا نبي الله إني خرجت في سفري هذا وقد هداني الله عز وجل للإسلام، فرأيت أن لا أجعل هذه البنية مني بظهر، فصليت إليها وقد خالفني أصحابي في ذلك حتى وقع في نفسي من ذلك فما ترى يا رسول الله؟ قال: لقد كنت على قبلة لو صبرت عليها، فرجع البراء إلى قبلة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وصلى معنا إلى الشام قال وأهله يزعمون أنه صلى إلى الكعبة حتى مات، وليس ذلك كما قالوا نحن أعلم به منهم، وخرجنا إلى الحج فواعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم العقبة من أوسط أيام التشريق، فلما فرغنا من الحج اجتمعنا تلك الليلة بالشعب ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء وجاء معه العباس فتكلم العباس فقلنا له: قد سمعنا ما قلت، فتكلم يا رسول الله فخذ لنفسك ولربك ما أحببت، فتكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فتلا القرآن ودعا إلى الإسلام ورغب في الإسلام، وقال: أبايعكم على أن تمنعوني مما

تمنعون منه نساءكم وأبناءكم، فأخذ البراء بن معرور بيده، ثم قال: نعم والذي بعثك بالحق لنمنعنك مما نمنع منه أزرنا، فبايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فنحن والله أهل الحروب وأهل الحلقة ورثناها كابرا عن كابر، قال فاعترض القول - والبراء يكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم - أبو الهيثم بن التيهان حليف بني عبد الأشهل - وكان أول من ضرب على يد رسول الله صلى الله عليه وسلم البراء بن معرور، ثم تتابع القوم". "أبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استقبال قبلہ :
21725 ۔۔۔ ابو مہاجر کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا کہ ظہر کی نماز پڑھو جب سورج زائل ہوجائے عصر کی نماز پڑھ جب کہ سورج صاف واضح ہو مغرب کی نماز پڑھو ، جب سورج غروب ہوجائے عشاء کی نماز شفق کے غروب ہونے سے آدھی رات تک پڑھ لو بلاشبہ یہی سنت ہے فجر کی نماز پڑھو جبکہ تاریکی قدرے باقی ہو اور فجر میں قرات طویل کرو ۔ (حارث)
21723- عن إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي أنه لقي أبا أبي بن أم حرام الأنصاري فأخبره "أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم القبلتين ورأى عليه كساء خزا أغبر". "حم وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21726 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا کہ جب سورج زائل ہوجائے ظہر کی نماز پڑھ لو عصر کی نماز پڑھو کہ سورج ابھی صاف واضح ہو اور زردی میں ابھی تبدیل نہ ہوا ہو ۔ سورج غروب ہوتے ہی مغرب پڑھ لو اور عشاء کو سونے تک پڑھا کرو ، فجر پڑھو کہ ابھی ستارے دمک رہے ہوں اور فجر میں طوال مفصل سے سورتیں پڑھو۔ (مالک عبدالرزاق)
21724- عن أبي العالية الرياحي أن عمر بن الخطاب كتب إلى أبي موسى الأشعري "أن صل الظهر إذا زالت الشمس عن بطن السماء، وصل العصر إذا تصوبت الشمس وهي بيضاء نقية، وصل المغرب إذا وجبت الشمس وصل العشاء إذا غاب الشفق أي حين شئت، فكان يقال إلى نصف الليل درك وما بعد ذلك تفريط، وصل الصبح والنجوم بادية مشتبكة، وأطل القراءة، واعلم أن جمعا بين الصلاتين من غير عذر من الكبائر". "عب ش: وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21727 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت فجر کی نماز پڑھتے جب روشنی آسمان میں پھیل جاتی سورج جب زائل ہوجاتا ظاہر پڑھ لیتے عصر کی نماز پڑھتے کہ سورج ابھی صاف واضح ہوتا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب روزہ دار کو شک ہوجائے کہ افطار کرے یا نہیں ۔ (سعید بن منصور)
21725- عن أبي مهاجر قال: "كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري أن صل الظهر حين تزول الشمس، والعصر والشمس حية بيضاء نقية، وصل المغرب حين تغيب الشمس، وصل العشاء حين يغيب الشفق إلى نصف الليل الأول، فإن ذلك سنة، والفجر بسواد أو بغلس وأطل القراءة". "الحارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21728 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سایہ شراک (تسمے) کی مثل ہوجاتا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس وقت عصر کی نماز پڑھائی ، جب سایہ دو مثل ہوگیا ، پھر جب سورج غروب ہوگیا تو ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب کہ ایک تہائی رات گزر چکی تھی پھر اسفار (صبح کی روشنی) میں ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21726- عن عمر "أنه كتب إلى أبي موسى الأشعري أن صل الظهر إذا زاغت الشمس، والعصر والشمس بيضاء نقية قبل أن يدخلها صفرة، والمغرب إذا غربت الشمس، وأخر العشاء ما لم تنم وصل الصبح والنجوم بادية واقرأ فيهما بسورتين طويلتين من المفصل". "مالك عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21729 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ظہر اپنے نام کی طرح ہے چنانچہ کہتے ہیں ظہرۃ ، یعنی دوپہر کا وقت عصر کی نماز کا وقت سورج کے سفید واضح ہوتے ہوئے میں ہے مغرب کا وقت اپنے نام کی طرح ہے چنانچہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور پھر ہم ایک میل کے فاصلہ پر اپنے گھروں کو واپس آجاتے ہم اپنے تیروں کے نشانات دیکھ لیتے تھے عشاء کی نماز جلدی پڑھ لیتے اور کبھی تاخیر کے ساتھ فجر اپنے نام کی طرح ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز غلس (قدرے تاریکی) میں پڑھتے ۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ)
21727- عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الفجر حتى يتفشى النور في السماء، والظهر حين تزول الشمس، والعصر والشمس بيضاء نقية، والمغرب حين يتمار الصائم أفطر أم لم يفطر". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21730 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اوقات صلوۃ کے بارے میں سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پس کچھ دیر کے بعد بلال (رض) نے نماز کے لیے اقامت کہی بلال (رض) نے پھر عصر کی نماز کے لیے اذان دی ہمارا خیال ہے کہ آدمی کا سایہ اس سے طویل ہوچکا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور بلال (رض) نے اقامت کہی پھر سورج غروب ہوتے ہی جس وقت کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے بلال (رض) نے مغرب کی اذان دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور بلال (رض) نے اقامت کہی ، پھر دن کی تاریکی یعنی شفق غروب ہونے کے بعد بلال (رض) نے عشاء کی اذان دی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور نماز پڑھی ، پھر کل بلال (رض) نے سورج زائل ہونے کے بعد اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز موخر کی حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ آدمی کا سایہ ایک مثل ہوچکا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور نماز پڑھی پھر بلال (رض) نے عصر کی اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کو مؤخر کیا حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ سایہ دو مثل ہوچکا ہے پھر اقامت ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی پھر بلال (رض) نے مغرب کی اذان دی اور آپ نے نماز مغرب ادا نہیں کی ۔ حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ شفق غروب ہوچکی ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا اور نماز پڑھی گئی ۔ پھر بلال (رض) نے عشاء کی اذان دی جب کہ شفق غروب ہوچکا تھا ہم سو گئے پھر اٹھے اور پھر سو گئے الغرض کئی بار ایسا ہوا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ارشاد فرمایا لوگوں نے نماز پڑھ لی اور گہری نیند سو گئے بلاشبہ جب سے تم لوگ نماز کی انتظار میں ہو تو تم نماز کے حکم میں ہو اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اس وقت تک نماز کو موخر کرتا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدھی رات کے لگ بھگ عشاء کی نماز پڑھی پھر بلال (رض) نے فجر کی اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسفار روشنی پھیل جانے تک نماز کو موخر کیا حتی کہ تیر انداز تیر کے نشانے کو دیکھ سکتا تھا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : وہ آدمی کہاں ہے جس نے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا تھا ؟ وہ آدمی بولا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ ) سعید بن منصور)
21728- عن جابر قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر حين كان الظل مثل الشراك، ثم صلى بنا العصر حين كان الظل مثله، ومثل الشراك ثم صلى بنا المغرب حين غابت الشمس، ثم صلى بنا العشاء حين ذهب ثلث الليل، ثم صلى بنا الفجر فأسفر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21731 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب کہ سورج زائل ہوچکا ہوتا عصر کی نماز پڑھتے کہ سورج ابھی صاف ستھر ہوتا مغرب پڑھتے جب کہ سورج غروب ہوچکا ہوتا اور عشاء کبھی جلدی پڑھ لیتے اور کبھی تاخیر سے پڑھتے چنانچہ لوگ جمع ہوجاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور جب لوگ تاخیر کرتے تو نماز بھی موخر کرتے اور صبح کی نماز تاریکی میں پڑھ لیتے ۔ (الضیاء المقدسی)
21729- وعنه قال: "الظهر كاسمها يقول بالظهيرة، والعصر والشمس بيضاء حية، والمغرب كاسمها، كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب، ثم نأتي منازلنا على قدر ميل، فنرى مواقع نبلنا وكان يعجل بالعشاء ويؤخر، والفجر كاسمها وكان يغلس بها". "عب، ش: وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21732 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل امین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے سورج زائل ہوچکا تھا جبرائیل امین بولے کھڑے ہو اور ظہر کی نماز پڑھیے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی پھر جبرائیل آئے اور سایہ ایک مثل ہوچکا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کھڑے ہو اور نماز پڑھیے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھی پھر شفق غروب ہونے پر آئے اور کہا نماز پڑھیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز پڑھی ۔ جبرائیل (علیہ السلام) پھر طلوع فجر کے وقت آئے اور کہا نماز پڑھیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھی جبرائیل (علیہ السلام) پھر دوسرے دن تشریف لائے اور اس وقت ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا ، کہا نماز پڑھیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی ، جبرائیل (علیہ السلام) پھر آئے جب کہ سایہ ہر چیز کا دو مثل ہوچکا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : نماز پڑھیے ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی جبرائیل (علیہ السلام) پھر آئے جب کہ سورج غروب ہوچکا تھا اور رات داخل ہوچکی تھی کہ نماز پڑھیے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھی پھر جبرائیل (علیہ السلام) آئے جب کہ تہائی رات گزر چکی تھی ، کہا : نماز پڑھیے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز پڑھی ، جبرائیل (علیہ السلام) پھر آئے جب کہ صبح کی سفیدی اچھی طرح پھیل چکی تھی ، کہا : نماز پڑھیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یہ آپ سے پہلے تمام انبیاء کی نماز ہے پس اسی کا التزام کیجئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21730- وعنه "أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فسأله عن وقت الصلاة فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأذن بلال بصلاة الظهر حين زالت الشمس فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأقام الصلاة فصلى، ثم أذن بلال بالعصر حين ظننا أن ظل الرجل قد كان أطول منه، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقام الصلاة، ثم أذن بلال بالمغرب حين غابت الشمس وأفطر الصائم، فأمره فأقام الصلاة، ثم أذن بلال بالعشاء وهي العتمة حين ذهب بياض النهار وهو الشفق فيما يرى، فأمره فأقام الصلاة فصلى، ثم أذن بلال بالفجر حين تبين الفجر، فأمره فأقام الصلاة فصلى، ثم أذن بلال الغد بصلاة الظهر حين دلكت الشمس، فأخرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى ظننا أن ظل الرجل قد صار مثله، فأمره فأقام الصلاة فصلى، ثم أذن بالعصر فأخرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى ظننا أن ظل الرجل قد صار مثليه، فأقام الصلاة فصلى، ثم أذن بالمغرب فأخرها حتى كاد يذهب بياض النهار وهو الشفق فيما يرى، فأمره فأقام الصلاة ثم أذن بالعشاء وهي العتمة حين ذهب بياض النهار فنمنا، ثم قمنا مرارا ثم خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن الناس قد صلوا ورقدوا، وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة، ولولا أن أشق على أمتي لأخرت الصلاة إلى هذا الحين، ثم صلى قريبا من نصف الليل أو قبل أن ينتصف الليل، ثم أذن بلال بالفجر فأخرها رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أسفر الصبح، ورأى الرامي موقع نبله، ثم صلى ثم التفت إلى الناس فقال: أين سائلي عن وقت الصلاة؟ فقال: ها أنا ذا يا رسول الله، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما بين هذين الوقتين وقت الصلاة". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21733 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت عصر تک ہوتا ہے عصر کا مغرب تک مغرب کا عشاء تک اور عشاء کا صبح تک ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21731- عن جابر قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر حين تزول الشمس، والعصر والشمس بيضاء نقية حية، والمغرب حين تجب الشمس، والعشاء ربما عجل، وربما أخر إذا اجتمع الناس عجل، وإذا تأخروا أخر والصبح كان يصليها بغلس". "ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21734 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع کی روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھو ، جب سایہ ایک مثل ہوجائے عصر کی نماز سایہ دو مثل ہونے پر پڑھو جب سورج غروب ہوجائے مغرب پڑھ لو عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے پر پڑھ لو پھر اگر نصف رات تک سو جاؤ تو اللہ کرے تمہاری آنکھ نہ سونے پائے اور صبح کی نماز غلس (تاریکی) میں پڑھ لو (رواہ عبدالرزاق)
21732- عن ابن عباس "أتى جبريل رسول الله صلى الله عليه وسلم حين زاغت الشمس فقال له: قم فصل، فصلى الظهر، ثم جاء حين كان ظل كل شيء مثله، فقال له: قم فصل، فصلى العصر، ثم جاء حين غابت الشمس ودخل الليل فقال له: قم فصل، فصلى المغرب، ثم جاء حين غاب الشفق فقال له: قم فصل، فصلى العشاء، ثم جاء حين أضاء الفجر فقال له: قم فصل، فصلى الفجر، ثم جاءه الغد حين كان ظل كل شيء مثله، فقال له: قم فصل فصلى الظهر، ثم جاءه حين كان ظل كل شيء مثليه فقال له: قم فصل فصلى العصر، ثم جاءه حين غابت الشمس ودخل الليل فقال له: قم فصل، فصلى المغرب، ثم جاءه حين ذهب ثلث الليل، فقال له: قم فصل، فصلى العشاء، ثم جاءه حين أسفر فقال له: قم فصل فصلى الفجر ثم قال له: هذه صلاة النبيين قبلك فالزم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21735 ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کچھ جواب نہ دیا ۔ پھر بلال (رض) کو حکم دیا جب کہ فجر کی پو پھوٹ چکی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی جب کہ کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ سورج زائل ہوچکا اور یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ابھی زائل نہیں ہوا حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخوبی جانتے تھے ۔ پھر بلال (رض) کو حکم دیا اور عصر کی نماز پڑھی سورج ابھی تک بلند تھا ۔ پھر حکم دیا اور مغرب کی نماز پڑھی سورج غروب ہوچکا تھا ۔ پھر بلال (رض) کو حکم دیا اور عشاء کی نماز پڑھی جب کہ شفق غائب ہوچکا تھا دوسرے دن فجر کی نماز پڑھی جب کہ کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ سورج طلوع ہوچکا ہے اور یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ابھی طلوع نہیں ہوا ، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوب جانتے ہیں۔ پھر ظہر کی نماز پڑھی جب کہ عصر کا وقت قریب ہوچکا تھا ۔ پھر عصر کی نماز پڑھی آدمی کہہ سکتا تھا کہ سورج سرخ ہوچکا ہے اور مغرب کی نماز شفق کے غروب ہونے سے قبل پڑھی اور عشاء کی نماز تہائی رات ہونے پر پڑھی پھر فرمایا ! کہاں ہے سائل ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21733- عن ابن عباس قال: "وقت الظهر إلى العصر، والعصر إلى المغرب، والمغرب إلى العشاء، والعشاء إلى الصبح". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21736 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ، نماز اس وقت تک فوت نہیں ہوتی جب تک کہ دوسری نماز کی اذان نہ دی جائے ۔ (سعید ابن منصور)
21734- عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة "أنه سأل أبا هريرة عن وقت الصلاة، فقال أبو هريرة: أنا أخبرك؛ صل الظهر إذا كان ظلك مثلك، والعصر إذا كان ظلك مثليك، والمغرب إذا غربت الشمس، والعشاء ما بينك وبين ثلث الليل، فإن نمت إلى نصف الليل فلا نامت عيناك، وصل الصبح بغلس". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نماز کے اوقات کے بیان میں :
21737 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ظہر اور عصر کے درمیان وقت ہے عصر اور مغرب کے درمیان بھی وقت ہے اور مغرب اور عشاء کے درمیان بھی وقت ہے۔ (سعید بن منصور) فائدہ : ۔۔۔ حدیث میں نمازوں کے درمیان بیان کیے گئے وقت سے مراد خالی وقت ہے جس کا شمار نہ پہلے کی نماز میں ہوتا ہے اور نہ بعد کی نماز میں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
21735- عن أبي موسى الأشعري "أن سائلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن مواقيت الصلاة فلم يرد عليه شيئا، ثم أمر بلالا فأقام حين انشق الفجر فصلى، ثم أمره فأقام الصلاة والقائل يقول: قد زالت الشمس أو لم تزل وهو كان أعلم منهم، ثم أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة، وأمره فأقام المغرب حين وقعت الشمس وأمره فأقام العشاء عند سقوط الشفق، ثم صلى الفجر من الغد، والقائل يقول: قد طلعت الشمس أو لم تطلع وهو كان أعلم منهم، وصلى الظهر قريبا من وقت العصر بالأمس، وصلى العصر والقائل يقول: قد احمرت الشمس، وصلى المغرب قبل أن يغيب الشفق، وصلى العشاء ثلث الليل الأول، قال: "أين السائل عن الوقت؟ ما بين هذين الوقتين وقت". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزید اوقات کے متعلق :
21738 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہر دو نمازوں کے درمیان ایک وقت ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21736- عن ابن عباس قال: "لا تفوت الصلاة حتى ينادى بالأخرى". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزید اوقات کے متعلق :
21739 ۔۔۔ حضرت مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : رات کی نماز کے مشابہ تر نماز دوپہر کی نماز ہے۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ چونکہ رات کو تہجد کی نماز کے لیے اٹھنا بہت مشقت طلب عمل ہے اسی طرح دوپہر کو جب کہ سخت گرمی ہوتی ہے اس وقت بھی نماز کے لیے اٹھنا مشقت طلب عمل ہے تب حدیث میں ظہر کی نماز کو تہجد کی نماز کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
21737- عن ابن عباس قال: "ما بين الظهر والعصر وقت، وما بين العصر والمغرب وقت، وما بين المغرب والعشاء وقت". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزید اوقات کے متعلق :
21740 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں : ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہم کہنے لگے زوال کا وقت ہوچکا یا نہیں پھر اس حال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی اور کوچ کر گئے ۔ (سعید بن منصور)
21738- عن ابن عباس قال: "بين كل صلاتين وقت". "ش".
tahqiq

তাহকীক: