কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৭৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22799 ۔۔۔ ابن جریج اور ابراہیم بن یزید کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے اذان سنی اور پھر اس کا جواب نہ دیا (یعنی چل کر باجماعت نماز کے لیے مسجد میں نہ آیا) تو اس کی نماز نہیں ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ البتہ کسی بیماری یا عذر کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہیں ہوسکا تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الاثار 20 اور ذخیرۃ الحفاظ 5362 ۔
22799- عن ابن جريج وإبراهيم بن يزيد أن عليا وابن عباس قالا: من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له، قال ابن عباس: "إلا من علة أو عذر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22800 ۔۔۔ ابو حسان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مسجد کے پڑوسی کی نماز (کامل) نہیں ہوتی مگر مسجد ہی میں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے پوچھا گیا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : جو اذان کی آواز سنے ۔ (رواہ عبدالرزاق، والبیہقی) کلام : ۔۔۔ حدیث کا اول حصہ ثابت ہے اور دوسرا حصہ جو سوال ہے وہ غیر ثابت ہے۔ ملاحظہ کیجئے المالفان 12329 سنی المطالب 1811 ۔
22800- عن أبي حسان عن أبيه عن علي قال: "لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد، قيل لعلي: ومن جار المسجد؟ " قال: "من سمع النداء". "عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22801 ۔۔۔ حارث روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مسجد کے پڑوسیوں میں سے جس نے اذان کی آواز سنی اور اس نے جواب نہ دیا (یعنی چل کر مسجد نہ پہنچا) حالانکہ وہ تندرست تھا اور اسے کوئی شرعی عذر بھی نہیں تھا تو اس کی نماز (گھر میں) نہیں ہوتی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22801- عن الحارث عن علي قال: "من سمع النداء من جيران المسجد فلم يجب وهو صحيح من غير عذر فلا صلاة له". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22802 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ عشاء کی نماز سے پیچھے رہ گئے (یعنی جماعت میں حاضر نہ ہو سکے) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم لوگ جماعت سے پیچھے کیوں رہ گئے ؟ ان لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا اور خاموش رہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے تو تکرار تک نوبت آگئی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اذان سنی اور پھر مسجد میں حاضر نہ ہوا اس کی نماز نہیں الا یہ کہ وہ بیمار ہو ۔ (رواہ ابن النجار)
22802- عن جابر قال: "تخلف قوم عن صلاة العشاء الآخرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما خلفكم"، فسكتوا، فأعاد عليهم، فقالوا: يا رسول الله يقع بيننا لحاء 1 وكلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا صلاة لمن سمع النداء ولم يأته إلا من علة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22803 ۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں ! رات کی تاریکیوں میں مسجدوں کی طرف چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نور تام سے نوازیں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)
22803- عن أبي الدرداء قال: "ليعقبن الله المشائين إلى المساجد في الظلم نورا تاما يوم القيامة". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22804 ۔۔۔ ام درداء (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ ابو درداء (رض) غصہ کی حالت میں گھر میں داخل ہوئے میں نے ان سے پوچھا : آپ غصہ میں کیوں ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : بخدا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر میں سیصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں یہی بات پہنچائی ہے کہ وہ سب مل کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
22804- عن أم الدرداء قالت: دخل علي أبو الدرداء وهو غضبان فقلت له: ما أغضبك؟ فقال: والله ما أعرف منهم من أمر محمد صلى الله عليه وسلم شيئا غير أنهم يصلون جميعا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22805 ۔۔۔ ” مسند احمد سعید “۔ ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ قبیلہ بنو سلمہ نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ ہمارے گھر مسجد سے دور ہیں اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ” ونکتب ما قدموا واثارھم “ ‘۔ ہم ان کے قدموں کے نشانات بھی لکھتے ہیں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے گھروں میں رہو چونکہ تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22805- "مسند أبي سعيد" اشتكت بنو سلمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد منازلهم من المسجد فأنزل الله {وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} فقال النبي صلى الله عليه وسلم: عليكم منازلكم فإنها تكتب آثاركم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22806 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ابن ام مکتوم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نابینا ہوں میرا گھر بھی مسجد سے (قدرے) دور ہے اور مجھے کوئی راہبر بھی دستیاب نہیں جو مجھے ہمہ وقت مسجد میں لایا کرے کیا میرے لیے رخصت ہے (کہ میں جماعت میں حاضر نہ ہوا کروں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں اذان سنائی دیتی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ پھر میں تمہارے لیے رخصت کی کوئی گنجائش نہیں پاتا ۔ (رواہ البزار)
22806- عن أبي هريرة قال: "جاء ابن مكتوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني ضرير البصر شاسع الدار وليس لي قائد يلازمني فهل تجد لي من رخصة؟ فقال: أيبلغك النداء؟ " قال: "نعم" قال: "ما أجد لك رخصة". "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22807 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ابن ام مکتوم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ! میں نابینا ہوں میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور مجھے مسجد میں لانے والا بھی کوئی نہیں جو ہر وقت میرے ساتھ چمٹا رہے کیا میرے لیے رخصت ہے کہ میں مسجد میں نہ آیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ۔ (ابن ابی شیبۃ ، عن ابوہریرہ (رض))
22807- "أيضا" جاء ابن أم مكتوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني رجل ضرير شاسع الدار، وليس لي قائد يلازمني فلي رخصة أن لا آتي المسجد؟ قال: "لا". "ش عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22808 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں جس نے اذان کی آواز سنی اور پھر مسجد میں حاضر نہ ہوا تو وہ خیر بھلائی کی توقع نہ رکھے اور نہ ہی اس سے خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22808- عن عائشة قالت: من سمع النداء فلم يجب فلم يرد خيرا ولم يرد به. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22809 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں : جسے ہم عشاء اور فجر کی نماز میں گم پاتے تو اس کے بارے میں ہمیں بدگمانی ہونے لگتی تھی (کہ کہیں یہ منافق نہ ہو) ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
22809- عن ابن عمر قال: "كنا من فقدناه من صلاة العشاء والفجر أسأنا به الظن". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22810 ۔۔۔ عطاء کہتے ہیں : مجھے باجماعت نماز میں حاضر ہونا دن کے روزہ اور رات کے قیام سے زیادہ محبوب ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور فی سننہ)
22810- عن عطاء قال: "شهود صلاة في جماعة أحب إلي من صيام يوم وقيام ليلة". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22811 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب نماز مکمل کی تو مسجد والوں کو قلیل سمجھ کر فرمایا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فلاں حاضر ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ، حتی کہ تین آدمیوں کے متعلق دریافت کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا یہاں فلاں آدمی موجود ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا جی ہاں ، پھر ایک اور آدمی کے متعلق پوچھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ھاں وہ بھی موجود ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ منافقین پر فجر اور عشاء کی نماز بہت گراں گزرتی ہے۔ اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ ان میں کیا ہے لامحالہ تم ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ، جان لو دو آدمیوں کی نماز اکیلے آدمی کی نماز سے افضل ہوتی ہے اور تین آدمیوں کی باجماعت نماز دو آدمیوں کی نماز سے افضل ہے : آدمی جتنے زیادہ ہوں گے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں۔ (رواہ الضیاء المقدسی فی المختارہ و ابن ابی شیبۃ)
22811- عن أبي قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الغداة فلما قضى الصلاة رأى من أهل المسجد قلة قال: "شاهد فلان؟ " قلنا: "نعم حتى عد ثلاثة نفر" - وفي لفظ - قال: "أها هنا فلان؟ " قالوا: نعم، ثم سأل عن آخر فقالوا: نعم، فقال: إنه ليس من صلاة أثقل على المنافقين من صلاة العشاء الآخرة، ومن صلاة الفجر، ولو تعلمون ما فيه لابتدرتموه واعلموا أن صلاة الرجل مع الرجل أفضل من صلاته وحده، وأن صلاة الرجل مع ثلاثة أفضل من رجلين وما كان أكثر فهو أحب إلى الله". "ض، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22812 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی تھا جو مسجد سے کافی دور تھا ، اور اس کی کوئی نماز بھی جماعت سے خطا نہیں ہوتی تھی اس سے کہا گیا اگر تم سواری کے لیے کوئی گدھا خریدلوجو اندھیرے اور گرمی میں تمہارے کام آئے ۔ اس نے جواب دیا : مجھے پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو میں چاہتا ہوں کہ مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم بھی لکھے جائیں اور واپسی کے قدم بھی لکھے جائیں ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سب کچھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے لیے جمع کردیا ہے۔ مرواہ الامام احمد بن حنبل ومسلم والدارمی وابوعوانۃ وابن خزیمہ وابن حبان فی صحیحہ)
22812- "أيضا" كان رجل لا أعلم رجلا أبعد من المسجد منه، وكان لا تخطئه صلاة فقيل له: لو اشتريت حمارا تركبه في الظلماء وفي الرمضاء؟ قال: "ما يسرني أن منزلي إلى جنب المسجد أني أريد أن يكتب لي ممشاي إلى المسجد ورجوعي إلى أهلي" فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد جمع الله لك ذلك كله". "حم، م، والدارمي، وأبو عوانة، وابن خزيمة، حب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22813 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) روایت کرتے ہیں انصار کا ایک آدمی تھا جس کا گھر مدینہ میں سب سے زیادہ دور تھا ، اس کی کوئی بھی نماز جماعت سے خطا نہیں ہوتی تھی اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتا تھا میں نے اس سے کہا : اے فلاں آدمی تو کوئی گدھا خرید لے جو تمہیں سخت گرم سنگریزوں اور حشرات الارض سے بچائے گا ، اس نے کہا : بخدا مجھے پسند نہیں کہ میرا گھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے پہلو میں ہو اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سوار ہو کر حاضر ہوا کروں ( میں تو پیدل چل کر آؤں گا گو کہ کتنا ہی فاصلے پر ہوں) میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا ۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی بات کہی اور یہ بھی کہا کہ مجھے ایسا کرنے میں اجر وثواب کی امید ہے۔ اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس اجر وثواب کا ارادہ تم نے کیا ہے وہ تمہیں مل کر رہے گا ۔ (رواہ الطبرانی ومسلم وابن ماجہ)
22813- "أيضا" كان رجل من الأنصار بيته أقصى بيت في المدينة، فكان لا تخطئه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوجعت له، فقلت له: يا فلان لو أنك اشتريت حمارا يقيك من الرمضاء ويقيك من هوام الأرض؟ قال: "أما والله ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه وسلم فحملت به حملا أتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فدعاه" فقال له: "مثل ذلك، وذكر أنه يرجو في أثره الأجر،" فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "إن لك ما احتسبت". "ط م هـ"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22814 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کی ہی روایت ہے کہ ایک آدمی تھا میں نہیں جانتا کہ اہل مدینہ میں اس کے گھر سے کسی اور کا گھر مسجد نبوی سے اتنا زیادہ دور ہو جتنا کہ اس کا تھا چنانچہ اس کی کوئی نماز بھی مسجد سے خطا نہیں ہوتی تھی ، میں نے اس سے کہا : اگر تم کوئی گدھا خریدو جس پر تم گرمی اور تاریکی میں سوار ہولیا کرو ؟ وہ بولا ! مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو ابی (رض) کہتے ہیں میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کردی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلا کر پوچھا : اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا ارادہ ہے کہ میرا مسجد کی طرف جانا (یعنی اٹھنے والے قدم) بھی لکھے جائیں اور اہل خانہ کی طرف واپسی بھی لکھی جائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں یہ سب عطا کردیا ہے اور تم نے جس اجر وثواب کا ارادہ کیا ہے وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں عطا کرے ۔ (رواہ ابو داؤد ، فی کتاب الصلوۃ)
22814- "أيضا" كان رجل لا أعلم أحدا من الناس ممن يصلي القبلة من أهل المدينة أبعد منزلا من المسجد من ذلك الرجل، وكان لا تخطئه صلاة في المسجد، فقلت: لو اشتريت حمارا تركبه في الرمضاء والظلمة؟ فقال: ما أحب أن منزلي إلى جنب المسجد، فنمى 3 الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك، فقال: أردت يا رسول الله أن يكتب لي إقبالي إلى المسجد ورجوعي إلى أهلي إذا رجعت فقال: أعطاك الله ذلك كله انطاك؟؟ الله ما احتسبت كله أجمع. "د"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22815 ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ میرا ایک چچا زاد بھائی تھی اور اس کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میں نے اس سے کہا : اگر تم مسجد کے قریب گھر بنا لو یا کوئی گدھا خرید لو ؟ اس نے کہا : مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے ساتھ جڑا ہو۔ حضرت ابی (رض) کہتے ہیں : میں جب سے اسلام لایاہوں ایسا سخت کلمہ میں نے نہیں سنا ۔ چنانچہ وہ مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں کا ذکر کررہا تھا ، میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ ان سے کہہ دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اس کے لیے ہر قدم کے بدلہ میں جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے ایک درجہ ہے۔ (رواہ الحمیدی)
22815- "أيضا" كان لي ابن عم شاسع الدار، فقلت له: لو اتخذت بيتا قريبا من المسجد أو حمارا؟ فقال: ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه وسلم فما سمعت منه كلمة منذ أسلمت كانت أشد علي منها، فإذا هو يذكر الخطا فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك كله، فقال: إن له بكل خطوة يخطوها إلى المسجد درجة. "الحميدي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22816 ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا : کیا فلاں شخص حاضر ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا نہیں فرمایا : کیا فلاں شخص حاضر ہے ؟ عرض کیا : نہیں ارشاد فرمایا : یہ دو نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر بہت گراں ہوتی ہیں کاش ! اگر انھیں معلوم ہوتا کہ ان دو نمازوں کا (جماعت کے ساتھ ادا کرنے میں) کتنا زیادہ اجر وثواب ہے تو وہ ضرور ان نمازوں میں حاضر ہوتے گو کہ انھیں گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ چل کر آنا ہوتا ۔ بلاشبہ پہلی صف فرشتوں کی صف کے مانند ہوتی ہے۔ اور اگر تمہیں اس کی فضیلت معلوم ہوجائے تم ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ بلاشبہ دو آدمیوں کی باجماعت نماز تنہا آدمی کی نماز سے بدرجہا افضل ہے اور تین آدمیوں کی (باجماعت) نماز دو آدمیوں کی (باجماعت) نماز سے افضل ہے۔ الغرض جتنے بھی لوگ (جماعت) میں زیادہ ہوں گے اتنے ہی زیادہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (رواہ الطبرانی وعبد بن حمید والدارمی ، وابو داؤد ، والنسائی وابن ماجہ ، وابو یعلی وابن خزیمہ وابن حبان والدارقطنی فی الافراد والحاکم فی المستدرک والبیہقی والضیاء المقدسی فی المختارہ)
22816- عن أبي بن كعب قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما الصبح فقال: أشاهد فلان؟ قالوا: لا،" قال: "أشاهد فلان؟ قالوا، لا" قال: "إن هاتين الصلاتين أثقل الصلوات على المنافقين ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا على الركب، فإن الصف الأول على مثل صف الملائكة، ولو علمتم ما فضيلته لابتدرتموه وإن صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاته وحده، وصلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل، وما كثر فهو أحب إلى الله عز وجل". "ط حم وعبد بن حميد والدارمي د، ن هـ ع وابن خزيمة حب قط في الأفراد، ك ق ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22817 ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے ایک حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا فلاں اور فلاں شخص حاضر ہیں ؟ حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین آدمیوں کا نام لیا اور وہ تینوں اپنے اپنے گھروں پر تھے اور نماز میں حاضر نہیں ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ فجر اور عشاء کی نمازیں منافقین پر بہت گراں گزرتی ہیں کاش اگر انھیں معلوم ہوتا کہ ان نمازوں کی کتنی زیادہ فضیلت ہے تو ان نمازوں میں ضرور ہوتے گو کہ انھیں گھٹنوں کے بل کیوں نہ چل کر آنا پڑتا ، جان لو ! تمہاری ایک آدمی کے ساتھ (باجماعت) نماز تمہارے تنہا نماز پڑھنے سے بدرجہا افضل ہے ؟ اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے تم جتنے زیادہ ہو گے اتنے ہی زیادہ تم اللہ تبارک وتعالیٰ کو محبوب ہوں گے بلاشبہ پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہوتی ہے۔ کاش اگر تمہیں پہلی صف کی فضیلت معلوم ہوتی تم ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے چوبیس (24) یا پچیس (25) گناہ زیادہ افضل ہے۔ (رواہ الرویانی وابن عساکر و سعید بن المنصور)
22817- عن أبي بن كعب قال: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بنا صلاة الفجر، فلما سلم أقبل على القوم بوجهه فقال: أشاهد فلان أشاهد فلان؟ حتى دعا بثلاثة كلهم في منازلهم لم يحضروا الصلاة فقال: إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة الفجر والعشاء، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا، واعلم أن صلاتك مع رجل أفضل من صلاتك وحدك، وإن صلاتك مع رجلين أفضل من صلاتك مع رجل، وما أكثرتم فهو أحب إلى الله ألا وإن الصف المقدم على مثل صف الملائكة، ولو تعلمون فضيلته لابتدرتموه، ألا وإن صلاة الجماعة تفضل على صلاة الرجل وحده أربعا وعشرين أو خمسا وعشرين". "الروياني كر ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے انتظار میں بیٹھنے کی فضیلت :
22818 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب تک وہ نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے وہ نماز کے حکم میں ہوتا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
22818- عن عمر قال: "ليعلم أحدكم أنه في صلاة ما دام ينتظر الصلاة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: